الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
یَسْأَلُونَکَ مَاذَا یُنفِقُونَ ۖ قُلْ مَا أَنفَقْتُم مِّنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَالْأَقْرَبِینَ وَالْیَتَامٰى وَالْمَسَاکِینِ وَابْنِ السَّبِیلِ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَیْرٍ فَإِنَّ اللہَ بِہِ عَلِیمٌ ۲۱۵
کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ وَہُوَ کُرْہٌ لَّکُمْ ۖ وَعَسٰى أَن تَکْرَہُوا شَیْئًا وَہُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ ۖ وَعَسٰى أَن تُحِبُّوا شَیْئًا وَہُوَ شَرٌّ لَّکُمْ ۗ وَاللہُ یَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ ۲۱۶
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ وہ (اللہ کی خوشنودی کے لئے) کیا خرچ کریں؟ آپ کہہ دیجیے کہ جو مال بھی تم خرچ کرو وہ والدین، قریبی رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لئے ہونا چاہئے۔ اور تم بھلائی کا جو کام بھی کرو، اللہ اُس سے پوری طرح باخبر ہے۔ (215)
یہاں پر اللہ جل شانہ نے جو ترتیب بتائی ہے، اور ان کو آپس میں جوڑا ہے، اس میں بڑی حکمت ہے۔
فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِيْنَ وَالْيَتَامٰى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ
ایک تو اس میں واؤ ہے۔ یعنی واؤ گویا کہ جوڑنے والے عطف ہے، یہ بھی، یہ بھی، یہ بھی، یہ بھی۔ اور دوسرا ترتیب، پہلے والدین، پھر قریبی رشتہ دار، پھر یتیم، پھر مساکین، پھر راستے کے مسافر۔
یعنی گویا کہ یوں کہہ سکتے ہیں، اگر والدین میں کسی کو ضرورت ہو، تو پھر تو ان کا حق زیادہ ہے۔ اس کے بعد جو رشتہ داروں میں کسی کو ضرورت ہو، ان کا حق ہے پھر۔ پھر یتیموں میں، پھر مسکینوں میں، پھر راستے کے مسافروں۔
اب دیکھ لیں بظاہر رشتہ داروں سے یتیم زیادہ مجبور اور بے آسرا نظر آتے ہیں۔ لیکن اصل میں بات یہ ہے کہ یتیم تو سب کے لیے ہیں نا، مطلب جتنے بھی لوگ ہیں، وہ سب یعنی ان کی وہ ہو سکتی ہے۔ اگر وہ چاہیں تو، کیونکہ سب کے لیے یہ آیت ہے۔
لیکن جو اقربین ہیں وہ تو صرف ان کے ہوں گے، جن کے ہیں۔ تو ہر ایک کے اپنے اپنے اقربین جو بھی رشتہ دار ہیں۔ ان سے اگلے، ان سے آگے ان کے والدین۔ مطلب والدین بہت قریب ہیں، بہت Limited ہیں۔ اب مثال کے طور پر میرے والدین، تو میرے بھائیوں کے، بہن بھائیوں کے والدین ہوں گے، باقیوں کے تو نہیں ہیں۔ تو لہٰذا اگرچہ ہمارے بہت قریب ہیں، لیکن باقیوں سے دور ہیں۔ تو ان پر ان کا حق نہیں بنتا، ہمارے اوپر ان کا حق زیادہ بنتا ہے۔ پھر اس طرح ہمارے رشتہ دار تو ایک Set زیادہ بڑا ہو گیا۔ تو مطلب ہم لوگ اپنے رشتہ داروں کو اگر دیکھیں، تو رشتہ داروں میں بھی قریب والے بھی ہوتے ہیں، دور والے بھی ہوتے ہیں۔ تو اسی ترتیب سے معاملہ جائے گا۔ مثلاً بہن بھائیوں میں اگر ہو، تو پھر ان کا حق زیادہ ہوگا۔ اس طریقے سے پھر معاملہ چچاؤں، Couzins اور ان تمام تک جائے گا۔
تو یہ سب باتیں ہمیں میراث میں سکھائی گئی ہیں۔ میراث میں جو ترتیب ہے، الْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ والی بات ہے۔ اس کے لحاظ سے ہم اس کو یعنی وہ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ جو چیز ترتیب بنی ہوئی ہے رشتہ داروں کی، ان کے بارے میں ہم کر سکتے ہیں۔
تو دوسرے لوگوں سے وہ دور ہیں، ہم لوگوں کے قریب ہیں۔ تو اس طریقے پر، پھر مسکین ہیں، تو مسکین ذرا جنرل مسکین ہوتے ہیں، یتیم ذرا، ان کی ایک مزید کمزوری ہوتی ہے۔ پھر راستے کے مسافر۔ تو ایک خاص، زبردست ترتیب ہے جو کہ اس میں بتائی گئی ہے، اور اس میں سارے مطلب شامل بھی ہیں۔
اب یہ بات ہے کہ میں، گویا کہ ضروری نہیں کہ سارا والدین کو ہی دوں، اگر میرے پاس اتنا نہیں ہے اور ان کا عذر زیادہ ہے تو پھر تو میں سارا بھی دے سکتا ہوں۔ لیکن مطلب یہ ہے کہ اگر زیادہ ہے تو پھر ان کو دوں، پھر اس کے بعد ان کو، پھر ان کو، یعنی سب کا میں وہ اس ترتیب سے حق ادا کر سکتا ہوں۔ یہ اصل میں معاملہ پھر ذرا زیادہ Detail میں چلا جاتا ہے۔ لیکن اللہ پاک فرماتے ہیں "اور تم بھلائی کا جو کام بھی کرو وہ اس سے پوری طرح باخبر ہے"۔
آگے جو آیتِ کریمہ ہے:
كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ وَهُوَ كُرْهٌ لَّكُمْ
تمہارے اوپر جو قتال ہے یعنی Fighting، وہ تمہارے اوپر فرض کی گئی یعنی جن حالات میں ہوتی ہے، جہاد جس وقت فرض ہوتا ہے۔ اور وہ تمہیں وہ ناپسند ہے۔
وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ
بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جن کو تم پسند نہیں کرتے، مگر تمہارے لیے اس میں خیر ہوتا ہے۔
وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ
اور بہت ساری ایسی چیزیں ہیں جن کو تم پسند کرتے ہو، لیکن ان میں تمہارے لیے شر ہوتا ہے۔
فیصلہ کس پر ہوگا؟
وَاللهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
اللہ پاک جانتے ہیں اور تم نہیں جانتے۔
یہ اس آیت کا میری زندگی کے ساتھ ایک عجیب تعلق بھی ہے۔ وہ اس طرح تھا کہ جب میں نے Engineering میں نے مکمل کر لی، تو Engineering میں First Division with Honors تھا تو اس میں مطلب میرے لیے ہر طرف Chances تھے۔ لیکن میں اپنے شیخ کے پاس رہنا چاہتا تھا۔ لہٰذا میں نے کہا کہ میں کسی اور جگہ نہیں جاتا ہوں، میں صرف حضرت کے ساتھ رہوں گا۔ خیر اس کے لیے Possible صورت یہ تھی کہ میں Engineering College میں وہاں Apply کروں، بطور Faculty member کے۔ اور اس میں میرے Chance بھی بہت Bright تھا کیونکہ میری Third Position تھی میرٹ لسٹ کے لحاظ سے۔ اور چار پوستین تھیں، اور جو فیصلہ کرنے والے تھے، وہ بہت Honest تھے۔ تو مطلب میرے لیے کوئی اس میں اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ تو میں نے وہی Apply کیا، کسی اور جگہ Apply نہیں کیا۔ اللہ پاک کا اپنا ایک نظام ہے۔ وہ حرکت میں آ گیا۔
اور دو پوسٹیں گر گئیں، عین انٹرویو سے کچھ پہلے۔ چار پوسٹیں نہیں رہیں، دو رہیں۔ تو میرٹ پر جو دو تھے، وہ ہو گئے اور میرا رہ گیا۔ اور کسی سے شکوہ گلہ کی صورت بھی نہیں تھی۔ لیکن اس وقت Vacancies ساری باقی Full ہو چکی تھیں۔ مطلب ظاہر ہے Apply لوگوں نے کیے ہوئے تھے اور بس۔ تو اس وجہ سے With a First Division with Honors degree، میں بے روزگار تھا آٹھ ساڑھے آٹھ مہینے۔
تو وہ ایک اچھا خاصا Tough Time اس لیے تھا کہ لوگوں نے چہ مگوئیاں شروع کیں، کہ بغیر رشوت کے کام نہیں ہو سکتا، اور بھائی یہ دیکھو نا یہ رشوت نہیں دیتا تو... اس کے ساتھ یہ مسئلہ ہے اور یہ... والدین کو بھی پریشان کیا، ظاہر ہے مجھے بھی... ایک Tension والی بات تھی۔ کہ یہ کیا، یہ بس صورتحال ہے۔ تو میں نے ایک دن قرآن پاک کھولا، میں نے کہا دیکھو میرے لیے اس وقت کیا حکم ہے، میں کیا کروں؟ مسئلہ کیا ہے؟ تو اس آیت پر نظر پڑی۔
كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ پر بھی نظر نہیں پڑی تھی۔
ڈائریکٹ عَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ
شاید صفحہ ایسا ہوگا، وَاللهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ۔ تو میں نے کہا، سبحان اللہ! یہ تو بالکل، صحیح، مطلب سامنے جواب ہے۔ تو میں مطمئن ہو گیا۔ میں نے کہا اب جو کچھ ہے، بس اللہ پاک کے پاس ہے، ٹھیک ہے کوئی مسئلہ نہیں۔
اور اس کے کچھ ہی دنوں کے بعد مجھے ایک بے روزگار آدمی، میرا Class fellow تھے، اس نے مجھے کہا کہ میں نے فلاں سے بات کر لی ہے، اور اس کے فلاں کے ساتھ وہ ہے رسائی ہے، آپ جا کر ادھر پہنچ جائیں، وہ آپ کے لیے کچھ کر لے گا۔
اچھا تو میں سیدھا چلا گیا پنڈی میں آ گیا، ان سے ملا تو انہوں نے مجھے باقاعدہ ایک صحیح لفافے میں ایک سفارش لیٹر Post کر کے پرنٹ کر کے مجھے دیا۔ میں اس کو Heavy Rebuild Factory جو اس وقت کہتے تھے نا، وہاں پر لے گیا اور... Apply کیا... اور کل انٹرویو تھا۔
تو ظاہر ہے، یہ تو بغیر سفارش کے ہو نہیں سکتا تھا، کیونکہ ساری چیزیں مطلب Submit ہو چکی تھیں، Call letters issue ہو گئے تھے، Dates طے ہو گیا تھا تو اس میں، مطلب میں Normally تو نہیں Enter کر سکتا تھا۔ تو بس اسی سفارش پہ میں پہنچ گیا۔ جب پہنچ گیا تو مجھے انٹرویو کے لیے انہوں نے Letter دے دیا، اور میرا نام قلم سے شامل کر دیا لسٹ میں۔
تو اگلے دن میں چلا گیا، I was selected. تو مطلب ہے کہ وہ بات اللہ پاک نے بس پوری کی۔ پھر میں سوچنے لگا کہ اس میں کیا حکمت تھی؟
مطلب نہیں دے رہے تھے تو نہیں دے رہے تھے! مطلب ایسا تھا کہ میرے، یعنی جہاں سو فیصد میرا Chance ہوتا تھا، وہاں کھڑکی بند ہو جاتی تھی بالکل یعنی جیسے HMC میں، انٹرویو میرا ہو گیا اور Call letter issue ہونے والے تھے کہ Ban لگ گیا۔ اگلے دن Ban لگ گیا، Call letter کے وقت۔ تو اس طرح کے واقعات مطلب ہوتے تھے۔
تو میں نے کہا، ضرور اوپر سے وہی مسئلہ ہے، یعنی وہ، کوئی حکمت ہے، تو اس وجہ سے میں کچھ نہیں کر سکتا۔ تو خیر جس وقت اللہ پاک کا شکر ہے، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ، Joining دی، تو پھر میں سوچنے لگا کہ آخر ہوا کیا ہے؟
تو پھر اس آیت پر میں نے غور کیا تو پتہ چلا کہ اگر تم Direct آ جاتے نا، تو شاید تمہیں اس پر یہ ہوتا کہ تمہارے نمبر اتنے زیادہ تھے اس لیے آ گئے۔ تو تمہارا نمبروں پہ ایک یقین بن جاتا۔ اور دوسری طرف، اللہ پاک نے جب دینا تھا تو ایک بے روزگار آدمی کی سفارش سے دلوایا۔ جو اس کے بعد بھی دس سال بے روزگار رہا۔
تو دیا کس کے ذریعے سے؟ اور نہیں دیا تو کس ذریعے سے نہیں دیا، تو یہ ساری باتیں لگتی ایسی ہیں کہ میرا یقین بنایا جا رہا تھا۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ، اس میں حکمت، کیونکہ اگر میری نظر ان چیزوں پہ ہوتی تو پھر میں ایک Materialist بن سکتا تھا۔ لیکن اللہ پاک نے مجھے... وہ چیز تو دلوائی! اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ! بڑی اچھی زندگی گزری، اللہ کا شکر ہے، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ! میری یعنی Service life it was very good, it was a good experience.
تو لیکن یہ کہ ابتدائی، اس حال میں کوئی جھٹکے وٹکے جو لگے، تو اس میں بڑا Message تھا۔ تو اس وجہ سے میں اس آیت کا جب بھی میں پڑھتا ہوں، تو مجھے چیزیں یاد آ جاتی ہیں: وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ وَعَسَىٰ أَن تُحِبُّوا شَيْئًا وَهُوَ شَرٌّ لَّكُمْ ۗ وَاللهُ يَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ۔
یہ لوگوں کی اللہ پاک نے طبیعتیں بنائی ہیں مختلف۔ یعنی نفسیاتی طبیعتیں بھی ہوتی ہیں اور ویسے بھی یعنی طبی لحاظ سے بھی طبیعتیں ہوتی ہیں۔ تو اس میں بھی اللہ کی حکمت ہوتی ہے۔ جو طبیعتیں لوگوں کی بنائی گئی ہوتی ہیں، وہ اگر دوسرے طبیعت پہ چلے جائیں تو مسائل ہو سکتے ہیں۔ تو اس کے لیے اللہ پاک نے ایک نظام بنایا ہوتا ہے۔ اب دیکھو ہر طبقے کے اندر ولی اللہ موجود ہے۔ ہر طبقے کے اندر، ہر طبیعت کے اندر موجود ہے۔ ہر علاقے کے اندر موجود ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یعنی یہ ایک ہمارے لیے Message ہے کہ In Every condition، ہر شخص اللہ پاک کا قریبی ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اللہ کے قوانین سب کے لیے یکساں ہیں۔ تو یہ مطلب ایک بات ہم لے سکتے ہیں کہ اگر کوئی عمل کرنا چاہے تو اس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہے، وہ کر سکتا ہے عمل۔