آزمائشیں، نصرتِ خداوندی اور مسلمانوں کا یقین

درس 80، پارہ 2، سورۃ البقرۃ، آیات 213، 214

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• انسانی تاریخ اور انبیائے کرام کی بعثت کا مقصد۔

• حق اور باطل کا فرق اور کتابِ الٰہی میں ضد کی بنیاد پر اختلاف۔

• مسلمانوں پر آنے والی آزمائشیں اور سابقہ امتوں کے حالات کا تقابل۔

• پریشانیوں میں تادیب (نصیحت) اور تسلی کا پہلو۔

• شرعی اختیاری مجاہدہ (جیسے روزے) اور غیر اختیاری مجاہدہ (جیسے تکالیف اور جنگیں)۔

• دورِ حاضر کے مسلمانوں (افغانستان، چیچنیا، شام، برما) کے مصائب اور ان کی جدوجہد۔

• اللہ تعالیٰ کے ہاں وقت (Timing dimensions) کا مختلف تصور۔

• باطل طاقتوں پر حق کی فتح اور اللہ کی مدد کے قریب ہونے کا عملی مشاہدہ۔

• اللہ سے عافیت اور سلامتی کی دعا۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ


كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً ۖ فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِيّٖنَ مُبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ ۪ وَاَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيْمَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ ۭوَمَا اخْتَلَفَ فِیہِ إِلَّا الَّذِینَ أُوتُوہُ مِن بَعْدِ مَا جَآءَتْہُمُ الْبَیِّنَاتُ بَغْیًا بَیْنَہُمْ ۖ فَہَدَى اللہُ الَّذِینَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِیہِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِہٖ ۗ وَاللہُ یَہْدِیٓ مَن یَشَآءُ إِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیمٍ ۝۲۱۳ أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُوا الْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَأْتِکُم مَّثَلُ الَّذِینَ خَلَوْا مِن قَبْلِکُم ۖ مَّسَّتْہُمُ الْبَأْسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلْزِلُوا حَتّٰى یَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَہٗ مَتٰى نَصْرُ اللہِ ۗ أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللہِ قَرِیبٌ ۝۲۱۴

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ

(شروع میں) سارے انسان ایک ہی دین کے پیرو تھے۔ پھر (جب ان میں اختلاف ہوا تو) اللہ نے نبی بھیجے جو (حق والوں کو) خوشخبری سناتے، اور (باطل والوں کو) ڈراتے تھے، اور ان کے ساتھ حق پر مشتمل کتاب نازل کی، تاکہ وہ لوگوں کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے جن میں ان کا اختلاف تھا۔

(افسوس کی بات یہ ہے کہ) کسی اور نے نہیں بلکہ خود انہوں نے جن کو کتاب دی گئی تھی، روشن دلائل آجانے کے بعد بھی، صرف باہمی ضد کی وجہ سے اسی (کتاب) میں اختلاف نکال لیا۔ پھر جو لوگ ایمان لائے اللہ نے اپنے حکم سے حق کی ان باتوں میں راہِ راست تک پہنچایا جن میں انہوں نے اختلاف کیا تھا، اور اللہ جسے چاہتا ہے راہِ راست تک پہنچا دیتا ہے۔ (213) (مسلمانو!) کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں (یونہی) داخل ہو جاؤ گے، حالانکہ ابھی تمہیں اس جیسے حالات پیش نہیں آئے جیسے اُن لوگوں کو پیش آئے تھے جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں۔ ان پر سختیاں اور تکلیفیں آئیں، اور انہیں ہلا ڈالا گیا، یہاں تک کہ رسول اور ان کے ایمان والے ساتھی بول اُٹھے کہ ”اللہ کی مدد کب آئے گی؟“، یاد رکھو! اللہ کی مدد نزدیک ہے۔ (214)

بب

اللہ اکبر! اس میں اگرچہ ایک تادیب بھی ہے، لیکن ایک تسلی بھی ہے۔ تادیب یہ ہے کہ جو لوگ یہ جو پریشانیاں اور مشکلات مسلمانوں پہ آ جاتی ہیں، تو گھبرا جاتے ہیں اور بعض دفعہ زبان سے ایسے الفاظ نکل جاتے ہیں جو نہیں نکلنے چاہئیں۔ تو ان کے لیے تادیب کی گئی ہے کہ یہ تو مسلمانوں کے لیے چلا ہوا راستہ ہے، یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے جو تمہارے ساتھ ہو رہی ہے، بلکہ گزشتہ امتوں کے ساتھ بھی ہوئی تھی۔

اگر میں اس کو اس کے ساتھ ملا دوں سمجھنے کے لیے کہ جیسے اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ

اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے (رمضان شریف) کے، جس طرح تم سے پچھلوں کے اوپر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم تقویٰ حاصل کرو۔

تو اس میں ایک اختیاری مجاہدہ ہے اور وہ شرعی مجاہدہ ہے۔ اختیاری، شرعی مجاہدہ۔ یعنی اللہ جل شانہ نے ہمارے لیے اس شرعی مجاہدے کے اندر خیر رکھا ہے تاکہ ہم تقویٰ حاصل کر لیں۔ اور یہ اختیاری مجاہدہ صرف ہمارے اوپر نہیں ہے بلکہ گزشتہ امتوں پر بھی تھا۔ تسلی کے لیے مطلب یہ بتایا کہ صرف تمہارے لیے نہیں۔ اور یہ جو یہاں پر بیان کیا گیا ہے، یہ غیر اختیاری مجاہدہ ہے۔ یعنی گویا کہ تم پر جو یہ غیر اختیاری مجاہدہ آیا ہے، یہ صرف تم پر نہیں آیا بلکہ تم سے پہلے جو امتیں گزری ہیں، ان پر بھی یہ شدائد اور تکالیف آئی ہیں، اور اس حد تک آئی ہیں... یہاں اس کا ذکر اس انداز میں ہو رہا ہے کہ حالانکہ ابھی تمہیں اس جیسے حالات پیش نہیں آئے جیسے ان لوگوں کو پیش آئے تھے جو تم سے پہلے ہو گزرے ہیں، ان پر سختیاں اور تکلیفیں آئیں، انہیں ہلا ڈالا گیا، یہاں تک کہ رسول اور ان کے ایمان والے ساتھی بول اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟

اور پھر تسلی ہے: یاد رکھو! اللہ کی مدد قریب ہے۔ یعنی یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ تمہیں بے یار و مددگار چھوڑا جائے گا، بلکہ تمہاری مدد کی جائے گی۔ اب اگر ہم ذرا مسلمانوں کے آج کل کے احوال کے لحاظ سے دیکھیں، تو مسلمانوں کے بعض حصوں پر، جیسے چیچینیا ہے اور افغانستان ہے، شام ہے یا برما ہے، تو وہ جو وہاں کی تکالیف ہیں، وہ چونکہ ہم نے دیکھی نہیں تو ہم تو آرام سے بیٹھے ہیں، لیکن وہ جو ان کے اوپر تکالیف آئی ہیں تو... ان کے ساتھ اس قسم کے واقعات مطلب ہوئے ہیں۔ ان کے سامنے ان کے بچوں کو ذبح کرنا، بچوں کے سامنے ان کے بڑوں کو ذبح کرنا اور پتا نہیں کیا کیا مصائب اور تکالیف، یہ ان کے اوپر آئے۔ اور افغانستان میں چالیس سال تک مسلمان برسرِ پیکار رہے اور اپنے دفاع میں جو کچھ ان سے ہو سکتا تھا، کرتے رہے۔

تو یہ معاملہ اس کے لحاظ سے تھا، آیت کے پہلے حصے کے لحاظ سے کہ تم پر ایسی تکلیفیں جو آئی ہیں تو صرف تم پہ نہیں آئیں، اس سے پہلے کی بھی آئی تھیں۔ لیکن یاد رکھو! اللہ کی مدد نزدیک ہے۔ وہ انسان اس کو محسوس نہیں کر سکتا کہ اللہ کی مدد نزدیک ہے، کیونکہ جو تکلیف ہوتی ہے لمبی محسوس ہوتی ہے۔ جبکہ راحت لمبی نہیں ہوتی، وہ کم محسوس ہوتی ہے۔ تو یہاں پر جو ہے نا مطلب، یعنی اللہ پاک نے یہ جو فرمایا تھا، یاد رکھو اللہ کی مدد نزدیک ہے، تو اگر یہ چالیس سال پہلے افغانستان والوں کو یہ بات بتا دی جاتی کہ اللہ کی مدد نزدیک ہے اور چالیس سال تک وہ رگڑا مسلسل کھاتے رہے، تو ان کے، بعض لوگوں کی زبانوں سے یہ بات نکل سکتی تھی نا کہ مطلب وہ کب آئے گی؟

لیکن اصل میں اللہ جل شانہ کے لیے جو Timing dimensions ہیں وہ مختلف ہیں۔ جو چیز ہم دور سمجھتے ہیں، اللہ تعالیٰ کے لیے تو نزدیک ہوتی ہے کیونکہ اللہ کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ ہونا ہے اس طرح۔ تو اس وجہ سے اس کے لیے تو مشکل نہیں ہوتا... اس کے لیے تو یہ مسئلہ نہیں ہوتا کہ... وہ تو، وہ تو جان رہا ہے! اور جو اللہ والے ہوتے ہیں، وہ بھی اللہ کے ساتھ تعلق کی وجہ سے جان رہے ہوتے ہیں۔ لہٰذا وہ مطمئن ہوتے ہیں۔ تو اس وجہ سے جیسے ملا عمر صاحب نے کہا تھا کہ:

آئیں گے اپنی مرضی سے لیکن جائیں گے ہماری مرضی سے۔

اب یہ بات ان کی زبان سے نکلوائی گئی، تو اللہ پاک نے دکھا دیا کہ ایسا ہی ہوا! یعنی کبھی مجھے بتاؤ کہ کبھی کوئی تصور کر سکتا ہے کوئی دشمن آ کے زبردستی قبضہ کر لے، پھر وہ آپ سے پوچھے کہ میں جاؤں؟ تو اس وقت تو یہ بات بالکل ایک بڑھک محسوس ہوتی ہوگی۔ لیکن اب پوری Planning ان سے پوچھ پوچھ کے کی گئی ہے یا نہیں کی گئی؟ مطلب ہر چیز میں اس طرح اور اس طرح معاہدات ہو رہے ہیں، یہ نہیں کریں گے آپ، اور یہ نہیں کریں گے اور یہ نہیں کریں گے یہ ساری باتیں اللہ پاک نے دکھا دیں! اور یہ بھی کوئی کمزور ملک نہیں، بہت ہی طاقتور ملک ہے، اور اس کے ساتھ بہت سارے طاقتور ملک اور۔

تو اللہ پاک نے دکھا دیا، تو آگاہ ہو جاؤ کہ اللہ کی مدد... یاد رکھو کہ اللہ کی مدد نزدیک ہے۔ تکالیف آ سکتی ہیں، مشکلات آ سکتی ہیں، لیکن اللہ کی مدد نزدیک ہے۔ اللہ پاک ہم سب کی ہر قسم کی تکالیف اور مشکلات سے حفاظت فرمائے کیونکہ ہم کمزور ہیں، اور اللہ پاک ہمارے ساتھ عافیت والا معاملہ فرمائے۔ عافیت کے ساتھ ایمان پر قائم رکھے، سلامتی کے ساتھ دین کے اعمال کی توفیق عطا فرما دے، اور قبولیتِ تامہ عطا فرمائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔


آزمائشیں، نصرتِ خداوندی اور مسلمانوں کا یقین - درسِ قرآن