اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِى السِّلْمِ كَآفَّةً ۖ وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ۭ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ ﴿208﴾ فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَيِّنٰتُ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ ﴿209﴾ هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيَهُمُ اللّٰهُ فِيْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰٓئِكَةُ وَقُضِيَ الْاَمْرُ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ﴿210﴾ سَلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۤءِيْلَ كَمْ اٰتَيْنٰهُمْ مِّنْ اٰيَةٍۢ بَيِّنَةٍ ۭ وَمَنْ يُّبَدِّلْ نِعْمَةَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ ﴿211﴾
زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا وَيَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۘ وَالَّذِيْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ۭ وَاللّٰهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ﴿212﴾ كَانَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً ۖ فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِيّٖنَ مُبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ ۪ وَاَنْزَلَ مَعَهُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِيْمَا اخْتَلَفُوْا فِيْهِ ۭ
وَمَا اخْتَلَفَ فِیہِ إِلَّا الَّذِینَ أُوتُوہُ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْہُمُ الْبَیِّنَاتُ بَغْیًا بَیْنَہُمْ ۖ فَہَدَى اللہُ الَّذِینَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِیہِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِہِ ۗ وَاللہُ یَہْدِی مَن یَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِیمٍ
۲۱۳
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ہمارا جو سبق تھا، آج کا جو سبق ہے وہ تو سَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ سے شروع ہو رہا ہے۔ لیکن جو کل ایک آیت گزری ہے، وہ جو بہت زیادہ اہم ہے آج کل کے حالات کے لحاظ سے، اور آج چونکہ جوڑ ہے، تو اس لیے اس کو دوبارہ بھی اس کو بیان کیا جاتا ہے مختصراً۔ تاکہ یہاں بھی اس کا فائدہ ہو۔
اصل میں قرآن شریف جو ہے، یہ تو اللہ کا کلام ہے۔ اور اللہ کا کلام ہر مرحلے پہ مدد کرتا ہے، ہر مرحلے میں ہم اس سے ماشاء اللہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ آج کل جو افرا تفری کا دور ہے، بہت ساری ایسی چیزوں پر زور دیا جاتا ہے جس پر اتنا زور نہیں دیا گیا اور بہت ساری ایسی چیزوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جن پر زور دینا چاہیے۔ تو اس افراط تفریط کے دور میں قرآن پاک سے مدد لینا بہت ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا جو کلام ہے اس میں اتنا اعتدال ہے کہ اگر ایک وقت میں جہنم کا ذکر ہو رہا ہے تو ساتھ ہی جنت کا ذکر ہو رہا ہے۔ اگر ایک ہی وقت میں اچھے لوگوں کا ذکر ہو رہا ہے تو ساتھ ہی برے لوگوں کا بھی ذکر ہو رہا ہے۔ اگر ایک ہی وقت میں اچھی صفات کا ذکر ہو رہا ہے تو ساتھ ہی بری صفات کا بھی ذکر ہو رہا ہے۔ گویا کہ بالکل ہر ایک چیز کا مطلب ساتھ ساتھ ہی تدارک کیا جاتا ہے اگر کوئی غلطی وغیرہ کسی کو لگتی ہے۔ افراط، تفریط سے بچاتا ہے۔
اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ، اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ یقین جانو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ﴿208﴾
اب دیکھ لیں اس وقت صورتحال کیا ہے، فرض کرتا ہوں۔ کچھ لوگوں نے عبادات کو دین سمجھا ہے۔ آگے کوئی بات نہیں۔ معاملات کی کوئی پرواہ نہیں ہے، معاملات میں چاہے کیسے ہی کیوں نہ ہوں۔ جب عبادات آ جائیں، بلکہ بعض لوگوں نے تو سنت لباس کو ہی دین سمجھا ہوا ہے کہ سنت لباس پہن لیا، ماشاءاللہ بزرگ مشہور ہو گئے، تسبیحات میں آ گئے۔ اب سب کچھ ٹھیک ہے چاہے وہ اس کے معاملات کتنے ہی گندے کیوں نہ ہوں۔ کسی سے وعدہ کر لے پورا نہ کرے۔ دھوکہ دہی، جھوٹ، فریب۔ یہ ساری چیزیں... یہ تو پھر ہماری اس تسبیح کو اور نماز کو بدنام کرنے والی چیزیں ہیں۔ تو اگر یہ چیزیں ساتھ نہ ہوں، معاملات ٹھیک نہ ہوں، معاشرت ٹھیک نہ ہو، تو اس سے تو ہمارے دین کی یہ جو بنیادی چیزیں ہیں بدنام ہو جائیں گی۔
صحیح بات ہے میں عرض کرتا ہوں کہ راجہ بازار میں آپ جائیں... یہ بہت شرم کی بات ہے لیکن کیا... کیا کریں؟ جس کے ہاتھ میں تسبیح ہے، داڑھی ہے، وہ زیادہ آپ کو کاٹے گا۔ اب مجھے بتاؤ کہ اس سے نتیجہ کیا ہوگا؟ نتیجہ بہت خطرناک ہے۔ پہلے وقت میں مسلمانوں کو دیکھ کر لوگ اسلام لاتے تھے۔ اس وقت مسلمانوں کو دیکھ کر لوگ اسلام سے رک رہے ہیں۔ تو یہ صورتحال ہے۔
تو اس وجہ سے یہ آیت اب دیکھو ہماری مدد کر رہی ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوْا فِي السِّلْمِ كَافَّةً۔
اے ایمان والو اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔ اور شیطان کے نقشِ قدم پہ نہ چلو۔
عقائد صحیح ہونے چاہئیں، عبادات صحیح ہونے چاہئیں، معاملات صحیح ہونے چاہئیں، معاشرت صحیح ہونی چاہیے، اخلاق صحیح ہونے چاہئیں۔ اور اگر یہ صحیح نہیں ہیں، تو اپنی کمی سامنے رکھنی چاہیے کہ مجھ میں یہ کمی ہے۔ مثلاً اگر معاملات صحیح نہیں ہیں تو کم از کم جان تو لے نا کہ مجھ میں معاملات کی گڑبڑ ہے۔ مجھ میں کمی ہے۔ کم از کم نماز پڑھ کر بزرگ بننے کا دعویٰ تو نہ کرے۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟
حضرت عمر رضي الله عنه نے کسی سے پوچھا کہ فلاں آدمی کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا جی اچھا آدمی ہے۔ انہوں نے کہا آپ نے ان کے ساتھ کوئی لین دین کی ہے؟ نہیں! کوئی سفر اس کے ساتھ کیا ہے؟ نہیں! پھر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں اچھا آدمی ہے؟ آپ نے اس کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہوگا۔
دیکھو ذرا غور فرماؤ... کیا فرمایا؟ آپ نے اس کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہوگا۔ یہ اصل میں بنیادی بات ہے۔ اور آج کل دیکھو نا یہ مسئلہ کتنا زیادہ حاوی ہے۔ آپ اندازہ کر لیں، اچھا خاصا دیندار ہوگا لیکن جس وقت شادی ہوگی، دین رخصت! دین کا پھر کوئبی پتہ نہیں لگے گا۔ یعنی اچھے اچھے شریف لوگ، ان کے ہاں اگر بیٹا ہو جائے تو وہ ڈھوم کو بلاتے ہیں اور ڈبہ ڈبہ کیا... خدا کے بندو! تم کیسے اپنے آپ کو دیندار سمجھتے ہو؟
یہ اصل میں ہماری کمزوریاں ہیں۔ اپنی کمزوریوں کو مان لو تو ترقی شروع ہو جائے گی۔ تو سب سے پہلے ہمیں اس کو دیکھنا ہے کہ اللہ پاک نے ہم سے کیا فرمایا ہے۔ اللہ پاک نے فرمایا اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔ ایک تو یہ والی بات ہے، یاد رکھیے۔
اب اسلام کو پھیلانے کے لیے اور اسلام کو فروغ دینے کے لیے جو ذرائع ہیں، جو شعبہ جات ہیں، وہ کئی ہیں۔ اور ہر ایک اپنے اپنے لحاظ سے اہم ہے۔ مثلاً دعوت و تبلیغ ہے، تعلیم و تدریس ہے، تصنیف و تالیف ہے، جہاد ہے، دینی سیاست ہے... بلکہ حتیٰ کہ صحیح طریقے سے تجارت ہے۔ یہ ساری چیزیں فرضِ کفایہ ہیں۔ یہ ساری چیزیں فرضِ کفایہ ہیں۔ اس وقت آپ دیکھیں South Africa میں... مسلمانوں کو جو عزت حاصل ہے، وہ اس لیے ہے کہ وہ تجارت پہ حاوی ہیں۔ ٹھیک ہے مطلب اس سے ان کو دین کو فائدہ ہے۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کو ان تمام چیزوں کو دیکھنا پڑے گا۔ جتنے فرضِ کفایہ ہیں، ان کا خیال رکھنا پڑے گا۔ اب کوئی دعوت و تبلیغ میں ہے، سبحان اللہ! اگر کوئی تعلیم و تدریس میں ہے، سبحان اللہ! اگر کوئی سیاست میں ہے، صحیح سیاست میں ہے، دینی سیاست میں ہے اور صحیح... سبحان اللہ! کوئی جہاد میں ہے تو سبحان اللہ! اگر کوئی صحیح معنی میں تجارت کر رہا ہے، سبحان اللہ! یہ ساری باتیں اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔ ان میں کوئی بھی ہم نہیں چھوڑ سکتے۔ جیسے پانچ چھ دروازے ہوں، اور پانچ چھ دروازوں پہ گارڈ موجود ہوں۔ اور ایک گارڈ گر جائے، مر جائے، کوئی حادثہ ہو جائے۔ کیا خیال ہے باقی گارڈ کیا کریں گے؟ اس دروازے کے بارے میں؟ چھوڑ دیں گے اس کو؟ چھوڑو! بلکہ فوراً اس کا انتظام کریں گے کہ یہاں پر کوئی آ جائے، بلکہ نہیں تو خود اس کا انتظام سنبھال لیں گے۔
تو اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں کسی بھی شعبے کو کمزور نہیں کرنا۔ مجھے خوب یاد ہے حاجی عبدالوہاب صاحب رحمة الله عليه یہ رائیونڈ میں تھے ہم۔ ایک عرب طالب علم نے حفظ کیا تھا۔ اس پہ ایک تقریب سی ہو گئی تھی، حضرت اس میں بیان فرما رہے تھے۔ تو حضرت نے فرمایا: یہ مدرسے ہمارے ہیں، یہ خانقاہیں ہمارے ہیں اور یہ سارے دینی کام ہمارے ہیں۔ اگر ہم نے علم حاصل کرنا چھوڑ دیا، مدرسے بند ہو گئے، تو ہم تو پھر جہالت ہی پھیلائیں گے۔ یہ حضرت کے الفاظ ہیں۔ ہم تو پھر جہالت ہی پھیلائیں گے۔ اور اگر خانقاہیں بند ہو گئیں تو پھر اخلاص کہاں سے ملے گا؟
اب صورتحال کیا ہے؟ اب صورتحال ہے کہ جہاں کوئی دین کا کام ہو تو دیکھیں، کہتے ہیں ہمارے ساتھ نکلتا کیوں نہیں؟ خدا کے بندو ہر چیز کا اپنا اپنا ضرورت ہے۔ مجھے خوب یاد ہے میرا شیر گڑھ میں ہماری تشکیل تھی۔ امیر صاحب ادھر صوابی کے علاقے کے تھے۔ بڑے اچھے آدمی تھے، نیک آدمی تھے۔ مجھے ساتھ ساتھ لے جاتے تھے۔ تو خصوصی گشت پہ اکثر جاتے تھے ساتھ۔ تو وہاں پر ایک بہت بڑے بزرگ تھے، شیخ بھی تھے، عالِم بھی تھے۔ تو ان کے ہاں دعا کے لیے جا رہے تھے۔ یہ ہمارا طریقہ تھا کہ تبلیغی جماعت کا کہ ایسے بزرگ ہوتے ہیں ان سے دعا کے لیے جاتے تھے۔ کچھ ہدیہ وغیرہ بھی لے جاتے تھے۔ تو ہم نے اس طرح کچھ انتظام کیا تھا اور جا رہے تھے۔ اور راستے میں مجھ سے کہتے ہیں: شبیر! یاد رکھو، دل میں بھی ان کو دعوت دینے کی نیت نہیں کرنا۔ دل میں بھی ان کو دعوت دینے کی نیت نہ کرنا۔ خدانخواستہ... (دیکھیں یہ ان کے الفاظ ہیں)۔ ہماری چکنی چپڑی باتوں سے، اگر وہ اپنا کام چھوڑ کر ہمارے پاس آ گیا، اور دین کے کام کو نقصان پہنچا اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ یہ بات ہے تقریباً 1971، 72 کی۔ ٹھیک ہے نا؟ اب پلوں کے ساتھ نیچے پانی بہت گزر گیا ہے۔ حالات تبدیل ہو گئے ہیں۔
اب علماء کو دعوت دینے کی نیت کی جاتی ہے، مشائخ کو دعوت دینے کی نیت کی جاتی ہے۔ اور اگر وہ دعوت قبول نہیں کرتے، ان کے بارے میں برے خیالات دل میں لاتے ہیں۔ یہ غلط بات ہے۔ یہ غلط بات ہے۔ یہ دین کو نقصان پہنچانے والی بات ہے۔ کبھی بھی اس طرح نہیں سوچنا چاہیے۔ میں اگر مدرسے میں بیٹھا ہوں، خانقاہ کے بارے میں برا نہ سمجھوں۔ جو جہاد کر رہے ہیں ان کے بارے میں برا نہ سمجھوں۔ جو کسی اور دین کے کام میں لگے ہیں ان کے بارے میں برا نہ... ان کے لیے دعائیں کروں۔ وہ ہماری ضرورت ہے۔ چاہے کوئی بھی دین کا کام ہو۔ آپس میں متحد، دل جڑے ہوئے۔ ایک دوسرے کے لیے دعائیں کرتے ہوئے۔ پھر اپنا کام کیے جاؤ، جس پر بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کو لگایا ہوا ہے۔ تشکیل تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے... ایک طبعی تشکیل ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے۔ اور ایک ہماری تشکیل ہوتی ہے کہ ہم کہتے ہیں تم یہ کام کرو۔ بھئی ہماری تشکیل اچھی ہے یا اللہ کی تشکیل اچھی ہے؟ اللہ کی تشکیل اچھی ہے۔ اللہ پاک نے میری طبیعت اگر خانقاہ کے لیے بنائی ہے، سبحان اللہ! پھر آپ کون ہوتے ہیں اس کو چیلنج کرنے والے؟ اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کی تبلیغ کے لیے بنائی ہوئی ہے، تو کون ہوتا ہے اس کو چیلنج کرنے والا؟ بس ٹھیک ہے، جو طبیعت اللہ تعالیٰ نے کسی کی بنائی ہوئی ہے، دین کے کام سارے دین کے کام ہیں۔ ہر دینی کام اہم ہے۔ لہٰذا جس کی تشکیل جس طرف ہو گئی ہے، یہ مِن جَانِبِ اللّٰه تقسیم ہے اور اس کو مان لینا چاہیے۔
تو یہ آیت ہمیں ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے، کہ ہم کبھی بھی کسی بھی دینی کام کے بارے میں کم نہ سوچیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
ابھی چونکہ وہ آیت تو الحمدللہ گزر گئی، تو ابھی میں اپنے آج کے سبق پہ آتا ہوں۔
بنی اسرائیل سے پوچھو، ہم نے ان کو کتنی ساری کھلی نشانیاں دی تھیں! اور جس شخص کے پاس اللہ کی نعمت آچکی ہو، پھر وہ اس کو بدل ڈالے، تو (اسے یاد رکھنا چاہئے کہ) اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے ﴿211﴾
اصل میں تورات بنی اسرائیل کو دی گئی تھی۔ انجیل... انہوں نے اس میں تحریف کر دی۔ اور باتوں کو آگے پیچھے کیا اپنے دنیاوی مفادات کے مطابق کر لیا۔ تو یہ بہت سخت بات ہے۔ بہت سخت بات ہے۔ کبھی بھی اس طرح نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ تو اللہ کے عذاب کو دعوت دینے والی بات ہے۔
زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا وَيَسْخَرُونَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا ۘ وَالَّذِينَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ وَاللهُ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍجن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، ان کے لئے دُنیوی زندگی بڑی دلکش بنادی گئی ہے، اور وہ اہل ایمان کا مذاق اُڑاتے ہیں، حالانکہ جنہوں نے تقویٰ اختیار کیا ہے وہ قیامت کے دن ان سے کہیں بلند ہوں گے۔ اور اللہ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔ ﴿212﴾
یہ فقرہ دراصل کفار کے اس باطل دعوے کا جواب ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ ہمیں خوب رزق دے رہا ہے اس لئے یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ ہمارے عقائد اور اعمال سے ناراض نہیں ہے۔ جواب یہ دیا گیا ہے کہ دُنیا میں رزق کی فراوانی کسی کے حق پر ہونے کی دلیل نہیں۔ دُنیوی رزق کے لئے اللہ کے نزدیک الگ معیار مقرر ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق دے دیتا ہے، خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔
ایک بات میں عرض کرنا چاہتا ہوں، یہ اس پہ بہت ضروری ہے۔ افراط تفریط وہی جو میں نے بات کی افراط تفریط ہمارے ہاں ہے۔ کفار محنت کر رہے ہیں۔ محنت کر رہے ہیں دنیاوی اسباب میں۔ تو اس محنت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا جو سنتِ عادیہ ہے، کہ جو جس چیز کی محنت کرتا ہے، اس کو وہ چیز دیتا ہے۔ جو جس چیز کی محنت کرتا ہے، اس کو وہ چیز دیتا ہے۔ میں آپ کو ایک واقعہ سناؤں آپ نے پڑھا ہوگا کتابوں میں، سائنس کی کتابوں میں، یہ کیمسٹری کی کتابوں میں ہے کہ جو ریسرچ کر رہا تھا، کوئی Benzene ring پہ۔ تو Equation solve نہیں ہو رہا تھا، کسی طریقے سے solve نہیں ہو رہا تھا۔ تو اس نے خواب دیکھا... دیکھو کافر ہے۔ کافر ہے! خواب دیکھا، خواب میں دیکھتا ہے کہ سانپ نے اپنی دم کو منہ میں لیا ہوا ہے۔ تو اس سے اس کا ذہن چلا گیا کہ میں نے Ring structure ابھی try نہیں کیا۔ میں ساری چیزیں کر رہا ہوں لیکن Ring structure میں نے try نہیں کیا۔ Ring... تو اس نے Hydrocarbons کا جو Ring بنایا نا، تو اس سے وہ سارے Equation solve ہو گئے، اور اس نے دریافت کر لیا Benzene ring۔ کیوں ڈاکٹر صاحب ایسے ہی ہے نا؟ Benzene ring دریافت کیا۔
اب دیکھو محنت کون کر رہا تھا؟ ایک کافر تھا۔ جب اس کی محنت سنتِ عادیہ کے مطابق منظور ہوئی تو اللہ نے اسی کو ہی ذریعہ بنایا اس علم کے لیے۔ اور اس کو خواب کے ذریعے سے دے دیا۔ تو اس سے پتہ چلا کہ یہ جو Technical developments ہیں، Research ہے، یہ بھی مِن جَانِبِ اللّٰه ان کو دیا جاتا ہے جو اس پہ کام کرتے ہیں۔ اب اگر ہم سمجھتے ہیں کہ بھئی چونکہ ہم میں ایمان ہے، تو ہمیں مفت میں یہ ساری چیزیں مل جائیں، یہ اللہ پاک کی سنتِ عادیہ کے خلاف ہے۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ اس کے لیے ایسی ہی محنت کرنی پڑے گی۔ وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم (الانفال: 60)۔ "ان کے لیے گھوڑے تیار رکھو، جتنا تم کر سکتے ہو"۔ تو اس کا مطلب اس کے لیے کوشش آپ کو خود کرنی پڑے گی۔ اب Atom bomb کے لیے Research اگر امریکہ کر رہا ہے اور وہ مجھے مل جائے... تو بھئی تم بھی Research کرو تمہارے ہاتھ بندھے ہوئے تو نہیں ہیں۔ تم بھی کرو!
تو اس کا مطلب ہے کہ مسلمان ہونے پہ ہمیں غرّہ نہ ہو کہ ہمیں دنیا کی چیزیں بھی مفت میں ملیں گی۔ نہیں! وہ اللہ کا اپنا نظام ہے۔ ٹھیک ہے نا؟ اور کافر یہ نہ کہے کہ ہم اس وجہ سے حق پر ہیں کہ ہمیں... ہمارے پاس اسباب... بھئی وہ حق والی بات اور ہے اور یہ دنیاوی تقاضوں کی بات اور ہے۔ وہ بھی غلطی پر ہیں اگر وہ کہتے ہیں کہ ہم مالدار ہیں اور ہمارے پاس وسائل بہت ہیں لہٰذا ہم حق پر ہیں، تو حق کی علامت یہ نہیں ہے۔ دوسری طرف مسلمان حق پر ہیں، ایمان کے لحاظ سے، لیکن اگر وہ اس کسی چیز کی محنت نہیں کر رہے تو ضروری نہیں کہ ان کو وہ چیز دی جائے۔ ہاں اگر اللہ تعالیٰ کسی خاص وجہ سے کوئی چیز دینا چاہتا ہے، وہ ایک علیحدہ بات ہے، جیسے معجزے اور کرامات ہوتے ہیں۔ وہ ہر ایک کے لیے نہیں ہوتے۔ لہٰذا ہمیں وہی صحیح طریقہ، اسباب کو اختیار کرنا چاہیے اور پھر اس پر بہمیں تحقیق کر کے اسی کے مطابق Development کرنی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: اسلام میں کامل داخلہ اور دین کے مختلف شعبوں کا احتراممتبادل عنوان: معاملات کی اہمیت اور دنیاوی اسباب و محنت کی حقیقت
اہم موضوعات:
قرآنی آیت 'ادخلوا فی السلم کافۃ' کی تفسیر اور اسلام میں مکمل داخل ہونے کا حکم۔
صرف عبادات کو دین سمجھنے کی نفی اور معاملات، معاشرت اور اخلاق کی درستگی پر زور۔
حضرت عمر رضي الله عنه کا واقعہ: کسی شخص کے نیک ہونے کا معیار صرف نماز نہیں بلکہ لین دین اور معاملات ہیں۔
دین کے مختلف شعبوں (دعوت و تبلیغ، تعلیم و تدریس، جہاد، دینی سیاست، اور تجارت) کی اہمیت اور یہ سب فرضِ کفایہ ہیں۔
حاجی عبدالوہاب صاحب رحمة الله عليه کا حوالہ: مدارس اور خانقاہوں کی اہمیت اور باہمی احترام۔
اپنی اور دوسروں کی تشکیل (تبلیغ، تصوف یا تعلیم) پر تنقید کے بجائے اللہ کی تقسیم پر راضی رہنا۔
دنیاوی محنت اور اللہ کی سنتِ عادیہ: غیر مسلم سائنسدان (Benzene ring کی دریافت) کی مثال کہ جو محنت کرے گا، اللہ اسے نتیجہ دے گا۔
مسلمانوں کو دنیاوی اسباب (سائنس، ٹیکنالوجی اور تحقیق) میں محنت کرنے کی ترغیب۔
خلاصہ:اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے سورۃ البقرہ کی آیات کی روشنی میں مسلمانوں کو دین میں پورے کا پورا داخل ہونے کی تلقین کی ہے۔ آپ نے واضح کیا کہ محض ظاہری عبادات یا وضع قطع دین کا مکمل حصہ نہیں، بلکہ معاملات اور اخلاق کی درستگی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے دین کے مختلف شعبوں جیسے تبلیغ، تدریس، جہاد اور تصوف کو فرضِ کفایہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ہر شعبہ اہم ہے اور کسی ایک شعبے سے وابستہ افراد کو دوسرے شعبوں کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔ مزید برآں، آپ نے واضح کیا کہ دنیاوی علوم، ٹیکنالوجی اور سائنس میں ترقی کے لیے اللہ کی سنتِ عادیہ کے مطابق محنت شرط ہے۔ کافروں کی محنت پر انہیں دنیاوی اسباب کا ملنا ان کے حق پر ہونے کی دلیل نہیں، اور مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ محض اپنے ایمان پر بھروسہ کر کے اسباب کو ترک نہ کریں بلکہ جدید تحقیق اور محنت میں بھی اپنا حصہ ڈالیں۔