درسِ قرآن

درس نمبر 78: سورۃ البقرہ، آیت نمبر 208 تا 210

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِى السِّلْمِ كَآفَّةً ۖ وَلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ ۭ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ ﴿208﴾ فَاِنْ زَلَلْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْكُمُ الْبَيِّنٰتُ فَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ ﴿209﴾ هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيَهُمُ اللّٰهُ فِيْ ظُلَلٍ مِّنَ الْغَمَامِ وَالْمَلٰٓئِكَةُ وَقُضِيَ الْاَمْرُ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ﴿210﴾


اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ، اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ یقین جانو وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ﴿208﴾ پھر جو روشن دلائل تمہارے پاس آچکے ہیں، اگر تم ان کے بعد بھی (راہِ راست سے) پھسل گئے تو یاد رکھو کہ اللہ اقتدار میں بھی کامل ہے، حکمت میں بھی کامل۔

اصل میں یہ وہ آیتِ کریمہ ہے جس میں اللہ جل شانہٗ، ایمان اور اسلام کا جو Concept ہے، وہ بہت واضح طور پر سمجھا دیتے ہیں۔ دیکھو یہاں پر ابتداء کی گئی ہے "يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا" سے۔ اے ایمان والو! یعنی یہ ایمان لا چکے ہیں، ایمان ان کو پہلے سے حاصل ہو چکا ہے، ان لوگوں سے بات ہو رہی ہے۔ پھر ان سے فرمایا گیا "اُدْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً"، اسلام کے اندر پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔ تو اس کا مطلب ہے کہ اسلام کے اندر پورے کے پورے داخل ہونا، ایمان کے بعد ہے۔ لیکن اس کی تفصیل الگ ہے۔ یہ والی بات، تفصیل اس کی یہ ہے کہ آپ ﷺ سے جبرائیل علیہ السلام نے سب کے سامنے سوالیہ انداز میں پوچھا کہ ایمان کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے ایمان کی تعریف ایمان کے شعبوں کے ذریعے سے کی۔ اللہ پر ایمان ہے، فرشتوں پر اور اس کے بارے میں ارشاد فرمایا۔ پھر اب جبرائیل علیہ السلام نے پوچھا اسلام کیا ہے؟ پھر اسلام کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ کلمہ کا، کہ شرک نہ کرو اور نماز پڑھو، روزے رکھو، یہ جو اعمال ہیں ان کے بارے میں فرمایا۔

تو اس کا مطلب ہے ایمان تو گویا کہ یوں سمجھ لیجیے ماننا ہے، اور تصدیق کرنا ہے دل سے، کہ اقرار باللسان و تصدیق بالقلب، ایمان تو یہ ہے۔ لیکن اسلام جو ہے نا وہ پھر اس کے ایمان کے تقاضوں پر عمل کرنا ہے۔ اور ایمان کے تقاضے بتا دیے گئے اس حدیثبب شریف میں کہ وہ یہ ہیں۔ تو اب اس کے اندر اسلام میں جتنے تقاضے بیان کیے گئے ہیں، اس میں یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کچھ کو لے لیں اور کچھ کو نہ لیں۔ مثلاً عبادات کر لیں، معاملات چھوڑ دیں۔ عبادات و معاملات لے لیں، معاشرت چھوڑ دیں۔ ان تینوں کو لے لیں، اخلاق کا خیال نہ رکھیں۔ یعنی اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جانا، پھر اسلام کے جو فروع ہے، پورے کا پورا، اس میں کسی سے بھی انکار نہ کرنا۔ جو شعبے ہیں مختلف، مثلاً دعوت و تبلیغ بھی ایک شعبہ ہے۔ تزکیۂ نفس بھی ایک شعبہ ہے۔ تعلیم و تدریس یہ بھی ایک شعبہ ہے۔ جہاد، یہ بھی ایک شعبہ ہے۔ ملکی سیاست جو شرعی قوانین کا نفاذ کے لیے راستہ بنائے، وہ بھی ایک شعبہ ہے۔

اب کسی ایک شعبے میں میں کام کروں، اور باقی شعبوں سے صرفِ نظر کروں، ان کو کم سمجھوں، ان کے بارے میں میرے خیالات کمزور ہوں، بلکہ آج کل تو بعض دفعہ تو مخالفت کی جاتی ہے، إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ یہ بہت بدقسمتی کی بات ہے کہ دین کے کسی شعبے کی اعلانیہ مخالفت ہو، اعلانیہ مخالفت، یہ تو فسق تک انسان کو پہنچا دیتا ہے۔ تو یہ مطلب ہے کہ پورے کا پورا دین، اس کو صحیح سمجھا جائے اور پورے کے پورے دین پر عمل کیا جائے، اور پورے کے پورے دین کو... ماشاءاللہ جو لوگ پہنچا رہے ہیں لوگوں تک، ان کی قدر کی جائے۔

ایک دفعہ میں سخاکوٹ گیا تھا۔ جو میرے میزبان تھے، ان کو پتہ تھا، مجھے پتہ نہیں تھا، ایک وکیل صاحب بھی آئے تھے بیان میں۔ تو ہمارے ہاں Question Answer کا موقع تو ہوتا ہے، Question Answer Session ہو گیا تو اس وکیل نے جب سوالات شروع کیے، تو مجھے میزبان نے بعد میں کہا کہ میں ڈر گیا، میں نے کہا یہ تو سب کو پھنساتے ہیں، کہیں شاہ صاحب کو نہ پھنسا لیں۔ مجھ سے اس نے پوچھا، آپ کا تبلیغی جماعت کے بارے میں کیا خیال ہے؟ چونکہ میں تو تزکیہ کے بارے میں باتیں کر رہا تھا نا، تو ظاہر ہے تھوڑا سا تو اس نے کہا کہ آپ کا تبلیغی جماعت کے بارے میں کیا خیال ہے؟ میں نے کہا بہت اچھا خیال ہے، بہت اچھا کام کر رہے ہیں، اللہ ان کو اور بھی مزید توفیقات سے نوازے اور ہر جگہ دین پہنچانے کے لیے ان کی کوششیں کارفرما ہو جائیں۔

میں نے کہا ہاں البتہ ایک بات میں آپ سے عرض کروں گا، کہ یہ ایک شعبہ ہے، صرف ایک شعبہ نہیں ہے، بلکہ شعبوں میں سے ایک شعبہ ہے۔ لہٰذا اس کی قدر ضرور کریں لیکن باقی شعبوں کی ناقدری نہ کریں۔ پھر میں نے اس کو مثال دی۔ میں نے کہا وباء آ گئی، کسی جگہ وباء آ گئی۔ وباء کو دور کرنے کے لیے، اس کا مقابلہ کرنے کے لیے جو ڈاکٹر تھے، وہ ناکافی تھے۔ ظاہر ہے ڈاکٹر تھوڑے ہوتے ہیں، وباء بہت زیادہ ہوتی ہے۔ تو ڈاکٹروں نے سوچا کہ ہمارے سے کنٹرول تو نہیں ہو سکتا، تو کمپوڈروں کو بھی ساتھ ملا دیا، ڈسپنسروں کو بھی ساتھ ملا دیا، ان کو بھی طریقے بتا دیے بھئی یہ Symptoms جن میں ہوں تو پھر ان کو یہ دوائیاں، یہ گولیاں یہ دے دی جائیں۔ ان کو بھی ساتھ کر دیا، وباء اس سے بھی کنٹرول نہیں ہوا۔ پھر انہوں نے کہا جی شہر کے اندر جو ہوشیار لوگ ہیں، ان کو دس دس دن کی ٹرینگ ان باتوں کی دی جائے اور ان کو بھی یہ بتا دیا جائے طریقہ کہ یہ Symptoms ہوں تو ان کو یہ دوائیاں دو۔ تو چونکہ وہ بہت سارے تعداد میں ہو گئے نا، یعنی دس دس دن کی ٹرینگ لینے والے، تو وباء Control ہو گیا۔

اب اگر وہ دس دس دن کی ٹرینگ لینے والے کہیں، دیکھو نا نہ ڈاکٹروں سے کنٹرول ہوا، نہ ڈسپنسروں سے کنٹرول ہوا، ہم نے کنٹرول کر لیا، آپ اس Statement کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ جائز ہے یا ناجائز ہے؟ کہتے ہیں ناجائز ہے۔ میں نے کہا بس آپ سمجھ گئے۔ کیونکہ اگر ان دس دن کی ٹرینگ ان کو ڈسپنسر نہ دیتے، اور سپیشلسٹ ڈاکٹر ڈاکٹروں کو وہ ساری چیزیں نہ بتاتے، تو یہ کام نہیں ہو سکتا تھا، یہ دس دن کی Training کی کوئی حیثیت نہ ہوتی، یہ فائدہ نہ ہوتا۔ تو میں نے کہا اس طرح تبلیغ کا کام جو ہے، یہ سارے... ان کی مثال خون کی طرح ہے۔ خون کا کام یہ ہے کہ جسم کے جو جو حصے جو کام کر رہے ہیں، اس کو سارے جسم کے جہاں جہاں اس کی ضرورت ہے، وہاں تک پہنچا دے۔ تو خون تو بہت اہم ہے، لیکن صرف خون پڑا ہو، تو وہ جسم تو نہیں ہے۔ وہ تو کچھ بھی نہیں ہے۔ لیکن خون کی ضرورت تو ہے۔ تو میں نے کہا مثال یہی ہے، اس کی خون کی طرح ہے۔ کہتے ہیں بالکل آپ نے صحیح کہا، میں بالکل مانتا ہوں۔ تو میرے میزبان نے کہا کہ ہماری جان میں جان آ گئی، الحمدللہ، اللہ کا شکر ہے کہ اس کو بات سمجھ آ گئی۔

تو مقصد یہ ہے کہ یہ جو باتیں ہیں، آج کل بہت زیادہ ہو رہی ہیں۔ کوئی جہاد کی مخالفت کر رہا ہے، تو کوئی علماء کو حقارت سے دیکھ رہے ہیں، بھئی ان بیچاروں کو ابھی دین کا، ابھی پتہ نہیں چلا ہے، ابھی بس... ان پہ حقیقت ابھی نہیں کھلی، کیا کریں؟ صوفیاء کے بارے میں کہتے ہیں، یہ تو ویسے ہی بیٹھے ہوئے ہیں، لوگوں کا وقت ضائع کر رہے ہیں، لوگوں کو بٹھاتے ہیں، کھڑے ہونے کا وقت ہے، لوگوں کو بٹھاتے ہیں... مطلب اس طرح کی Comments میں نے خود سنے ہیں۔ تو یہ غلط بات ہے، یہ غلط بات ہے۔ "يَآ أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً"، یہ آیت... اس کے اوپر دال ہے، کہ پورے کے پورے دین میں داخل ہو جاؤ۔

پھر ایک صاحب سے میں نے کہا، میں نے کہا آپ کا جو چھ نمبر ہے، کیا اس میں پورا دین آ جاتا ہے؟ کہتے ہیں "نہیں"۔ میں نے کہا تبلیغی جماعت میں جتنا بھی وقت لگاؤ گے، تو کیا چھ نمبروں سے زیادہ سیکھو گے؟ کہتے ہیں نہیں۔ تو میں نے کہا باقی دین موجود ہے نا، وہ تو کہیں اور سیکھو گے نا؟ تو میں نے کہا ان کی قدر کرو گے یا نہیں کرو گے؟ آخر وہ بھی تو اس کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں نا۔ میں نے کہا جن سے آپ نے باقی دین سیکھنا ہے، تو یہ... مطلب آپ کو ان کی قدر کرنی پڑے گی، آخر وہ اسی لیے بیٹھے ہوئے۔ اس طرح علم سیکھنے سے تو کام نہیں بنتا، علم Implement کرنے، اس پر عمل کرنے سے کام بنتا ہے، اور عمل کرنے میں دو رکاوٹیں ہیں، قرآن پاک بتاتا ہے، ایک شیطان ہے اور ایک نفس ہے۔ اب اس شیطان کے چکر سے نکالنا اور نفس کا علاج کرنا، یہ جو شعبہ ہے یہ کتنا قیمتی ہو گا جس پہ آپ کو عمل کی توفیق ہوتی ہے؟ میں نے کہا آخر مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی کہیں بنے ہوئے تھے، اور مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ بھی کہیں بنے ہوئے تھے، حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ بھی کہیں بنے ہوئے تھے، ان جگہوں کو خانقاہیں کہتے ہیں۔ یہ آپ کو جو اتنا بڑا فائدہ ہوا مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ سے، تو کس لیے ہوا؟ اس لیے ہوا کہ وہ خانقاہوں سے بن کے آئے تھے۔ تو میں نے کہا آپ اسی چیز کی مخالفت کر لیں جو آپ کا محسن ہے۔

تو بس یہی اصل میں بنیادی باتیں ہیں۔ تو یہ اب... یہ جب مجھے... میں آیت پڑھتا ہوں تو مجھے یہ ساری باتیں یاد آ جاتی ہیں۔ "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ"۔ اس میں ایک اور بات بھی ہے، جو ایسا نہیں کرتا وہ شیطان کے نقشِ قدم پر چلتا ہے۔ اللہ پاک نے فوراً اس کے بعد کیا فرمایا؟ "وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ" اور شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو۔ "إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ" بے شک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ یقین جانیے شیطان سے زیادہ دشمنی کھلا کسی اور کی نہیں ہے، لیکن شیطان کے جال میں... آ جاتے ہیں لوگ۔ شیطان کے جال میں لوگ آ جاتے ہیں۔ وجہ کیا ہے؟ وہ ہمارے اندر کی جو چھپی باتیں ہیں، نفس کے جو تقاضے ہیں، ان کو ہم سے زیادہ جانتا ہے۔ لہٰذا وہ انہی کو استعمال کر کے وسوسہ کی صورت میں ہمارے دل میں Inject کرتے ہیں، نتیجتاً ہمارا دل ان سے متاثر ہو جاتا ہے، پھر وہ کام کر لیتے ہیں جو شیطان چاہتا ہے۔ تو ہمیں اس طرح نہیں کرنا چاہیے، اللہ ہمیں ہماری حفاظت فرمائے۔ یاکریم، یاکریم، یاکریم... یہ بہت اہم بات تھی۔

"پھر جو روشن دلائل تمہارے پاس آ چکے ہیں، اگر تم ان کے بعد بھی راہِ راست سے پھسل گئے، تو یاد رکھو کہ اللہ اقتدار میں بھی کامل ہے، حکمت میں بھی کامل۔"

ان دو صفتوں کے ساتھ ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ چونکہ اس کا اقتدار کامل ہے، اس لیے وہ کسی وقت بھی تمہاری بدعملی کی سزا دے سکتا ہے۔ لیکن چونکہ اس کی حکمت بھی کامل ہے، اس لیے وہ اپنی حکمت سے طے کرتا ہے کہ اس کو کب اور کتنی سزا دینی ہے۔ لہٰذا اگر ایسے کافر کو فوری طور سے عذاب میں پکڑے نہیں جا رہے، تو اس سے یہ سمجھ بیٹھنا حماقت ہے کہ وہ سزا سے ہمیشہ کے لیے بچ گیا۔ اب دیکھیں حکمت کو دیکھیں۔ حکمت، اللہ تعالیٰ کبھی کبھی ان چیزوں کو ظاہر فرماتا ہے، پتہ چل جاتا ہے عام لوگوں کو بھی۔

دیکھیں ایک بے سروسامان ملک، افغانستان، Russia نے اس پر حملہ کر دیا۔ Russia کی Significance یہ تھی، ان کے بارے میں یہ بتایا جاتا تھا کہ یہ جہاں جاتا ہے، وہاں سے واپس نہیں جاتا۔ یہ... مطلب ان کی مشہور، اس وقت اخباروں میں بھی یہی چیزیں آ رہی تھیں، سب کچھ۔ پھر پڑوسی تھا۔ تو پڑوسی ہونے کی یہ بات تھی کہ مطلب ظاہر ہے وہ Stand لے سکتا تھا، اس کے لیے کوئی مشکل نہیں تھا، علاقہ بھی تقریباً ایک جیسا تھا۔ تو اس وجہ سے ان کو یہ سہولت حاصل تھی کچلنے کی۔ لیکن افغانستان کچلا نہیں جا سکا۔ اس وقت لوگ بڑے گھبرا گئے تھے اور پریشان تھے۔ مجھے خوب یاد ہے ڈاکٹر فدا صاحب فرما رہے تھے، تبلیغی جماعت کے سرکردہ حضرات میں تھے۔ کہ جس وقت یہ افغانستان پر حملہ ہوا، تو مشورہ ہو رہا ہے رائیونڈ میں کہ اب کیا کیا جائے؟ تو ان لوگوں نے پھر یہ کہا کہ ہم، جو ہے نا مطلب ہے کہ وہ کرتے ہیں، سرحد، افغانستان کی سرحد پر اجتماعات کرتے ہیں۔ تو اس سے افغانستان کے لوگ بھی آ جائیں گے، تو ذرا دین پہ استقامت... اب دیکھو نیت کیا تھی؟ جہاد کی مخالفت تھی؟ یا حمایت تھی؟ اس وقت کیا بات تھی؟ ہاں جی؟ تو انہوں نے... مطلب جو ہے نا وہ وہیں پر اجتماع، تو ایک کھجوری کا اجتماع بھی تھا۔ کھجوری کا... وہاں پر کھجوری آپ تو جانتے ہوں گے شاید؟ ہاں بالکل ہاں۔ ادھر ایک کافی اجتماع ہوا تھا۔ تو اس میں ہمارے یہ رائیونڈ... یعنی کیا... زکریا مسجد جس نے بنوایا ہے، قریشی صاحب رحمۃ اللہ علیہ، مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے مرید تھے۔ تو وہ بھی اسی نیت سے شامل ہوئے تھے کہ بہت اہم اجتماع ہے، اور اس کے بعد ہی فوت ہوئے۔ اسی وقت تقریباً اسی میں فوت ہوئے غالباً۔

تو مطلب یہ ہے کہ بڑی اچھی نیت تھی۔ تو خیر اس وقت لوگ بڑے گھبرائے ہوئے تھے کہ کیا ہو رہا ہے، ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے Russia کو شکست دلوائی اور Russia ٹوٹ گیا۔ اب لوگوں کے ذہن میں ایک بات یہ بیٹھ گئی کہ Russia کو شکست دینا ممکن نہیں تھا، لیکن امریکہ نے مدد کی اس لیے شکست ہوئی۔ امریکہ کا رعب بیٹھ گیا۔ کیونکہ امریکہ اس میں اسلحہ بھی دیتا تھا، سب کچھ ہمت، سب کچھ وہ کرتا تھا۔ تو لوگوں کے ذہن میں بیٹھ گیا، اور بلکہ کہنا شروع کیا کہ بھئی یہ تو Stinger Missile اگر یہ ان کو نہ دیتے تو یہ نہیں کر سکتے تھے، اور یہ ہو گیا، وہ ہو گیا۔ اللہ پاک نے اس چیز کو بھی توڑنا چاہا۔

تو امریکہ سے حملہ کروایا، امریکہ سے حملہ ہوا، اور 28 ملک مزید شامل تھے۔ اور 20 سال Carpet Bombing اور پتہ نہیں کیا کیا چیزیں اس پر ہو گئیں، اللہ پاک نے ان کو بھی ذلیل و رسوا کر دیا۔ اب بتاؤ؟ کیا بات تھی، کہاں سے مدد آئی تھی؟ پتہ چلا کہ اللہ ہی کی مدد تھی۔ اخیر میں جو... ان کی Calculation تھی کہ چھ مہینے میں پہنچیں گے کابل، پھر اس کے بعد انہوں نے ایک دم Change کر دیا، کہتے ہیں مہینے میں پہنچنے والے ہیں، اور مہینے بھی نہیں ہوا، پھر ہفتے میں پہنچ گئے۔ کیسے؟ اللہ پاک نے دکھا دیا۔

تو یہ حکمت دیکھو نا، اگر پہلی دفعہ میں... اگر یہ باتیں نہ ہوتیں مطلب یعنی جس کو کہتے ہیں نا یعنی امریکہ حملہ نہ کرتا، تو لوگوں کے ذہن میں امریکہ کا دھاک بیٹھا ہوتا کہ امریکہ ایسا ہے، امریکہ ایسا ہے۔ یعنی یہاں شکست کھانے کے بعد جو اتحادی ہے برطانیہ، امریکہ کا، وہ کہتے ہیں Americans are no more Superpower. انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اب ہم Superpower نہیں مانتے۔ برطانیہ اتحادی ہے اس کا۔ تو ان کا... ان کا جو ہے نا وہ رعب ختم ہو گیا۔ اور رعب کہاں سے ختم ہو گیا؟ سبحان اللہ! ایسے ملک جس کے پاس کچھ نہیں۔ ہاں جی! ان سے اللہ پاک نے ان کا رعب ختم کروایا۔ تو دیکھو نا اللہ پاک اقتدار کا مالک ہے اور ساتھ یہ کہ حکمت والا ہے۔ اقتدار ایسا ہے کہ کوئی اس کے اقتدار سے باہر نہیں، اور حکمت ایسی ہے، سبحان اللہ! کہ اس کے سامنے کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی۔ تو بس ہمیں اللہ پاک کی صفات پر کامل یقین کرنا چاہیے اور جو اللہ پاک کا امر ہو اس پر مکمل عمل کرنا چاہیے۔

یہ کفار، ایمان لانے کے لیے اس کے سوا کس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ خود بادل کے سائبانوں میں ان کے سامنے آ موجود ہو، اور فرشتے بھی اس کے ساتھ ہوں اور سارا معاملہ نپٹا دیا جائے؟ کفار مختلف قسم کے مطالبات کیا کرتے تھے۔ ایسا ہوتا ہے، ناسمجھ لوگ جو ہوتے ہیں وہ اپنے فائدے کی، جیسے بچے نہیں ہوتے بچے؟ اب بچے کو Injection لگایا جاتا ہے، بیمار ہوتے ہیں تو وہ ضد کرتے ہیں کہ نہیں لگانا۔ تو پھر وہ جو ہے نا والدین ان کو کہتے ہیں کہ یہ چیز دوں گا، وہ چیز دوں گا، تو یہ بھی... پھر مطالبات کرتا ہے کہ مجھے اگر یہ دے دو تو پھر میں... اگر یہ دے دو تو پھر یہ کروں گا۔ ہاں جی! وہ مطالبات ان کے مانے بھی جاتے ہیں والدین کی وجہ سے۔ لیکن والدین کی حکمت تو اتنی نہیں ہے نا، وہ تو انسان ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت تو پوری کامل ہے۔ تو اللہ تعالیٰ بعض مطالبات پورے بھی کروا دیتے ہیں اور بعض کے بارے میں فرماتے ہیں، یہ کیا بکواس کر رہے ہو، یہ تمہارا وہ ہے ہی نہیں۔

تو یہاں پر یہ بات ہے کہ ان کے مطالبات، تو مختلف کفار اور خاص طور پر یہودِ مدینہ اس قسم کے مطالبات کرتے کہ اللہ تعالیٰ براہِ راست ہمیں نظر آ کر ہمیں ایمان لانے کا حکم کیوں نہیں دیتا؟ یہ آیت اس قسم کے مطالبات کا جواب دے رہی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ دنیا کی... اس آزمائش کے لیے بنائی کہ انسان اپنی عقل استعمال کرے، اور کائنات میں پھیلے ہوئے واضح دلائل کی روشنی میں اللہ کی توحید اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اسی لیے اس آزمائش میں اصل قیمت ایمان بالغیب کی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ براہِ راست نظر آ جائے، تو آزمائش کیا ہوئی؟ اور اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ جب غیب کی چیزیں انسان کو آنکھوں سے نظر آ جائیں، تو پھر ایمان ہی معتبر نہیں ہوتا۔ موت کے بعد سب کو نظر آ جاتا ہے نا؟ تو کیا ایمان معتبر ہوتا ہے؟ بلکہ موت کے وقت بھی۔ اور ایسا اس وقت ہو گا، جب یہ کائنات ختم کر کے سزا اور جزا کا مرحلہ آ جائے گا۔ معاملہ چکانے سے مراد یہی ہے۔

مقصد یہ ہے کہ ہر چیز کو اللہ پاک نے پردۂ غیب میں جو رکھا ہے، اس سے ہمارا امتحان ہو رہا ہے۔ اگر پردۂ غیب سے باہر نکال دیں، تو امتحان ختم ہو گیا۔ امتحان ختم ہو گیا، پھر نتیجے کا انتظار ہے۔ ہاں جی؟ وہ پرچہ آپ کر رہے ہیں، پرچہ، اور پرچے میں آپ اٹھے اور Examiner سے کہہ دیں کہ یہ چیز کیا ہے؟ تو Examiner کیا کہتا ہے؟ پرچہ رکھو پھر بتاتا ہوں۔ پرچہ رکھ دو پھر بتاتا ہوں۔ تو اس کی وجہ کیا ہے؟ امتحان تمہارا ہو رہا ہے، تمہیں یہ حق نہیں ہے کہ تم مجھ سے پوچھو کہ کیا... مطلب اس کا جواب کیا ہے۔ اگر جواب مجھے آتا ہے، لیکن دیتا نہیں۔ تو پھر امتحان ختم ہو جائے گا۔ تو آپ امتحان کو ختم کر دیں، پھر جواب میں دیتا ہوں۔ تو بس یہ معاملہ بھی اسی طرح ہے۔ کہ یہ ساری چیزیں جو چھپائی گئی ہیں، امتحان کے لیے چھپائی گئی ہیں، ظاہر کر دی جائیں گی، لیکن ختم... وقت ختم ہو جائے گا۔ جب وقت ختم ہو جائے گا، پھر اس کے بعد اور کچھ نہیں ہو سکے گا، پھر... اللہ تعالیٰ بچائے بس۔ ہم سب کو حفاظت میں رکھے، بہت ہی خطرے کی صورتیں ہیں، اللہ ہماری... ہمیں معاف فرما دے۔


تجزیہ اور خلاصہ:

بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org) سب سے جامع عنوان: دینِ اسلام کی جامعیت اور تمام شعبہ جاتِ دین کی اہمیت متبادل عنوان: شیطان کے نقشِ قدم سے بچاؤ اور اللہ کی قدرتِ کاملہ کا ظہور

اہم موضوعات:

ایمان اور اسلام میں بنیادی فرق اور اسلام میں پورے کا پورا داخل ہونے کا مفہوم۔

دین کے مختلف شعبہ جات (دعوت و تبلیغ، تزکیۂ نفس، تعلیم و تدریس، جہاد، نفاذِ شریعت) کی یکساں اہمیت۔

کسی ایک دینی شعبے سے وابستہ ہو کر دیگر شعبوں کی ناقدری یا مخالفت کی مذمت (ڈاکٹرز اور ڈسپنسر کی وباء والی مثال)۔

شیطان کے پوشیدہ وار اور انسان کے نفسانی تقاضوں کو استعمال کر کے گمراہ کرنا۔

اللہ تعالیٰ کی صفات (عزیز اور حکیم) اور افغانستان میں روس اور امریکہ جیسی بڑی طاقتوں کی عبرتناک شکست کا تاریخی حوالہ۔

ایمان بالغیب کی اہمیت اور کفار کے بے جا مطالبات (اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کو ظاہر دیکھنے کی ضد) کی حقیقت۔

خلاصہ: اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے سورۃ البقرہ کی آیات کی روشنی میں اسلام میں مکمل طور پر داخل ہونے کی تلقین کی ہے۔ آپ نے واضح کیا کہ ایمان دل کی تصدیق کا نام ہے جبکہ اسلام ان تقاضوں (عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاقیات) پر عمل کرنے کا نام ہے۔ آپ نے خبردار کیا کہ دین کے کسی ایک شعبے (جیسے دعوت و تبلیغ یا خانقاہ) سے جڑ کر دیگر شعبوں (جیسے جہاد یا مدارس) کو حقیر جاننا یا ان کی مخالفت کرنا دراصل شیطان کے نقشِ قدم پر چلنا ہے۔ مزید برآں، حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے افغانستان میں روس اور امریکہ جیسی سپر پاورز کی شکست کو اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ اور حکمت کا عملی نمونہ قرار دیا اور سمجھایا کہ دنیاوی امتحان کا دارومدار "ایمان بالغیب" پر ہے، اگر غیب کے پردے ہٹا دیے جائیں تو امتحان کی حیثیت ہی ختم ہو جاتی ہے۔


درسِ قرآن - درسِ قرآن