اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّين أَمَّا بَعْدُ
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ ۚ فَاِنْ اُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ ۚ وَلَا تَحْلِقُوْا رُءُوْسَكُمْ حَتّٰى يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهٗ ؕ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ بِهٖۤ اَذًى مِّنْ رَّاْسِهٖ فَفِدْيَةٌ مِّنْ صِيَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ ۚ
فَاِذَاۤ اَمِنْتُمْ ٝ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ ۚ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلٰثَةِ اَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ اِذَا رَجَعْتُمْ ؕ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ؕ ذٰلِكَ لِمَنْ لَّمْ يَكُنْ اَهْلُهٗ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ ﴿196﴾
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
اور حج اور عمرہ اللہ کے لئے پورا پورا ادا کرو، ہاں اگر تمہیں روک دیا جائے تو جو قربانی میسر ہو، (اللہ کے حبضور پیش کر دو)۔
مطلب یہ ہے کہ جب کوئی شخص حج یا عمرے کا احرام باندھ لے تو جب تک حج یا عمرے کے اعمال پورے نہ ہو جائیں، احرام کھولنا جائز نہیں۔ البتہ کسی کو ایسی مجبوری پیش آسکتی ہے کہ احرام باندھنے کے بعد مکہ مکرمہ تک پہنچنا ممکن ہی نہ رہے۔ چنانچہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ صورت پیش آئی کہ آپ اور آپ کے صحابہ عمرے کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے، لیکن جب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو مشرکین مکہ نے آگے بڑھنے سے روک دیا۔ اسی موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں، اور ان میں ایسی صورتِ حال کا یہ حل بتایا گیا کہ ایسی صورت میں قربانی کر کے احرام کھولا جاسکتا ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مسلک میں یہ قربانی حدودِ حرم میں ہونی چاہئے، جیسا کہ اگلے جملے میں فرمایا گیا ہے: ”اور اپنے سر اس وقت تک نہ منڈاؤ جب تک قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے“۔ نیز اس کے بعد جس حج یا عمرے کا احرام باندھا تھا اس کی قضا بھی ضروری ہے، چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمرے کی قضا اگلے سال فرمائی۔
یہ اصل میں وہ ہے کہ حج کے اور عمرہ کے مسائل اب بیان شروع ہو گئے ہیں۔ اور چونکہ یہ سارے احکام تدریجاً اور شانِ نزول کے مطابق نازل ہوئے ہیں، تو جو جو حالت پیش ہو گئی، اسی حالت کے مطابق احکامات آ گئے۔
اور اپنے سر اس وقت تک نہ منڈاؤ جب تک قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔ ہاں اگر تم میں سے کوئی شخص بیمار ہو، یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو روزوں یا صدقے یا قربانی کا فدیہ دے۔
احرام کی حالت میں سر منڈانا جائز نہیں ہوتا، لیکن اگر کسی شخص کو بیماری یا کسی تکلیف کی وجہ سے سر منڈانا پڑ جائے تو اس کو یہ فدیہ دینا ہوگا جو یہاں مذکور ہے۔ احادیث کی روشنی میں اس کی تفصیل یہ ہے کہ یا تین روزے رکھے جائیں یا چھ مسکینوں کو صدقۃ الفطر کے برابر صدقہ کیا جائے یا ایک بکری قربان کی جائے۔
پھر جب تم امن حاصل کرلو تو جو شخص حج کے ساتھ عمرے کا فائدہ بھی اٹھائے، وہ جو قربانی میسر ہو (اللہ کے حضور پیش کرے)۔ ہاں اگر کسی کے پاس اس کی طاقت نہ ہو تو وہ حج کے دنوں میں تین روزے رکھے، اور سات (روزے) اُس وقت جب تم (گھروں کو) لوٹ جاؤ۔ اس طرح یہ کُل دس روزے ہوں گے۔
اُوپر اس صورت میں قربانی کا حکم بیان ہوا تھا جب کسی شخص کو دُشمن نے روک دیا ہو، اب یہ بتایا جارہا ہے کہ قربانی امن کے عام حالات میں بھی واجب ہوسکتی ہے جب کوئی شخص حج کے ساتھ عمرہ بھی جمع کرے، یعنی قران یا تمتع کا احرام باندھے۔ (اگر صرف حج کا احرام باندھا ہو، جسے افراد کہتے ہیں، تو قربانی واجب نہیں ہے) البتہ اگر کوئی شخص قران یا تمتع کے باوجود قربانی کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ قربانی کے بدلے دس روزے رکھ سکتا ہے جن میں سے تین روزے عرفہ کے دن (یعنی 9 ذوالحجہ) تک پورے ہوجانے چاہئیں، اور سات روزے حج سے فارغ ہونے کے بعد رکھنے ہوں گے۔
یہ اصل میں ایسے لوگوں کے لیے ایک راستہ ہے۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو رمضان شریف میں پہنچ جاتے ہیں، رمضان شریف کے عمرے کے لیے پہنچ جاتے ہیں، لیکن بعد میں وہ وہاں سے واپس نہیں آتے، حج کی نیت سے وہاں ٹھہر جاتے ہیں۔
تو ایسی صورت میں جب شوال کا مہینہ کسی پہ آ گیا، تو اب تو اس کو حج کرنا ہو گا۔ تو حج وہ کرے گا، تو ان میں سے بعض غریب لوگ ہوتے ہیں ان کے پاس پیسے نہیں، وہ صرف عمرے کے پیسے ہوتے ہیں، وہ صرف عمرے کے پیسوں میں وہ ہے کہ حج بھی کرنا چاہتے ہیں۔ وہ طریقہ اب تو بڑا مشکل ہو گیا ہے لیکن پہلے لوگ کرتے تھے، وہ ٹھہر جاتے تھے۔
تو ایسی صورت میں پھر یہ صورت ہوتی ہے کہ وہ حجِ تمتع ہو جاتا ہے، حجِ افراد پھر نہیں کر سکتے۔ کیونکہ ظاہر ہے وہ تو اس صورت میں جب شوال کے مہینے کے بعد میں اگر کوئی آتا ہے تو سیدھا چلا جائے، تو وہ پھر یہ ہے کہ حجِ افراد کر سکتا ہے۔ تو وہ حجِ تمتع کرے گا، وہ حجِ افراد نہیں کر سکتا۔ تو ایسی صورت میں جب وہ حجِ تمتع کرے گا تو قربانی اس پہ واجب ہو جائے گی۔
تو قربانی کی صورت میں چونکہ وہ غریب لوگ ہوتے ہیں، قربانی کر نہیں سکتے تھے، تو ایسی صورت میں وہ یوں کر لیتے تھے کہ تین روزے رکھ لیتے تھے عرفات پہنچنے سے پہلے، اور پھر اس کے بعد باقی روزے حج کے بعد رکھ لیتے۔ تو اس طریقے سے اس پر عمل کے ذریعے سے ان کا حج بھی ٹھیک ہو جاتا تھا۔
یہ حکم ان لوگوں کے لئے ہے جن کے گھر والے مسجد حرام کے پاس نہ رہتے ہوں۔
یعنی تمتع یا قران کے ذریعے حج اور عمرہ دونوں کو جمع کرنا صرف ان لوگوں کے لئے جائز ہے جو باہر سے حج کے لئے آئیں، جو لوگ حدودِ حرم، یا حنفی مسلک کے مطابق حدودِ میقات میں رہتے ہوں،
حدودِ میقات جیسے مثال کے طور پر جدہ میں بھی اگر کوئی رہتا ہو، تو حدودِ میقات میں آ جاتا ہے۔ اور حدودِ حرم تو یہی ہے کہ جو حرم شریف کے جو حدود ہیں مکہ مکرمہ کے، اس کے اندر اندر رہتے ہوں.
وہ صرف افراد کر سکتے ہیں، تمتع یا قران نہیں کرسکتے۔
مطلب یہ ہے کہ وہ ان کو تو حجِ افراد کرنا ہی پڑے گا۔ البتہ دوسرے لوگ جو حجِ افراد کرنا چاہتے ہیں تو کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر ادھر سے اگر کوئی جاتا ہے تو حجِ افراد بھی کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ ادھر سے چونکہ حج کا احرام باندھے گا، تو وہاں کھولنا تو ہو گا نہیں، تو اسی احرام کی حالت میں وہ رہے گا، مطلب یہ ہے کہ وہ حج تک رہے گا۔
اس وجہ سے حجِ افراد وہ لوگ کر سکتے ہیں جو بہت لیٹ (Late) چلے جائیں۔ ان کے لیے آسان ہوتا ہے ورنہ پھر بڑا مشکل ہوتا ہے۔ البتہ اس میں ایک جزئیہ ہے، وہ یہ ہے کہ جو لوگ کسی کے لیے حجِ بدل کرنا چاہتے ہیں، تو وہ بھی حجِ افراد ہی کریں گے، وہ حجِ تمتع والے نہیں کرتے یا حجِ قران... وہ حجِ افراد کریں گے۔
تو ظاہر ہے اب اگر وہ Normal routine (نارمل روٹین) میں جیسے Government Scheme (گورنمنٹ سکیم) میں جاتے ہیں یا کوئی اس... تو ان کا تو پتہ نہیں ہوتا کہ کب ان کی باری آتی ہے۔ تو بعض لوگوں کو کافی مشکل پیش آ جاتی ہے حجِ بدل والوں کو کہ وہ حجِ بدل جب کرتے ہیں... یعنی کوئی کسی کے لیے کرتا ہے، تو بعض لوگ حج کے لیے کسی کو بھیج دیتے ہیں نا، خود نہیں جا سکتے، تو ایسی صورت میں ان کے لیے پھر ظاہر ہے احرام میں رہنا پڑتا ہے۔ لیکن بہرحال وہ لوگ قربانی دے دیتے ہیں، مطلب یہ اتنا وقت وہ احرام میں رہتے ہیں، اگرچہ ہوتا بڑا مشکل ہے لیکن بہرحال وہ حج کے لیے وہ اس طرح یہ کر لیتے ہیں۔
وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين۔