اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ ۚ فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ ﴿194﴾ وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ۛ وَأَحْسِنُوا ۛ إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ﴿195﴾
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِیُّ الْکَرِیْمُ۔
حرمت والے مہینے کا بدلہ حرمت والا مہینہ ہے، اور حرمتوں پر بھی بدلے کے احکام جاری ہوتے ہیں۔
یعنی اگر کوئی شخص مہینے کی حرمت پامال کرکے تم سے لڑائی کرے، تو تم بھی اس سے بدلہ لے سکتے ہو۔
چنانچہ اگر کوئی شخص تم پر کوئی زیادتی کرے تو تم بھی ویسی ہی زیادتی اس پر کرو جیسی زیادتی اس نے تم پر کی ہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، اور اچھی طرح سمجھ لو کہ اللہ انہی کا ساتھی ہے جو اس کا خوف دل میں رکھتے ہیں ﴿194﴾ اور اللہ کے راستے میں مال خرچ کرو، اور اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو،
اشارہ یہ ہے کہ اگر تم نے جہاد میں خرچ کرنے سے بخل سے کام لیا اور اس کی وجہ سے جہاد کے مقاصد حاصل نہ ہو سکے تو یہ اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوگا، کیونکہ اس کے نتیجے میں دشمن مضبوط ہو کر تمہاری ہلاکت کا سبب بنے گا۔
یہ "وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ" اس میں بعض لوگ بخل مراد لیتے ہیں کہ مطلب اتنا خرچ نہ کرو کہ تمہیں ہلاکت تک پہنچائے۔
حالانکہ سیاق و سباق کو دیکھ کر فیصلہ ہوتا ہے، شان نزول کے مطابق فیصلہ ہوتا ہے۔ تو سیاق و سباق چونکہ جہاد کی بات چل رہی ہے۔ یعنی مسجد حرام میں کہ اگر تم پر کوئی زیادتی کرے تو پھر یہ ہے کہ تم ان پر اتنی زیادتی کر سکتے ہو۔ یعنی تم اپنا بدلہ لے سکتے ہو۔ بات اس کی چل رہی ہے۔
تو جب یہ ہوا تو یہ فرمایا: اور اللہ کے راستے میں مال خرچ کرو۔ یہ بھی اس کے ساتھ ہے۔
یعنی مطلب یہ ہے کہ ابتداء میں یہی ہے۔ پھر فرمایا: اور اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو۔ اب بتائیں اس کا کیا مطلب ہوگا؟
اس کے ساتھ ملا کے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی اللہ کے راستے میں... یعنی جہاد کے لیے خرچ کرنے سے رکتا ہے اور بخل سے کام لیتا ہے، تو یہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنا ہے۔ کیونکہ اپنے مسائل خود ختم کرنے ہیں۔ یعنی وہ آتا ہے۔
اس لیے کہتے ہیں براہ راست ایک آیت کی بنیاد پر آپ وہ نہیں کر سکتے جب تک آپ اس کے سیاق و سباق نہ دیکھیں اور اس کے جو شان نزول ہے اس کو نہ دیکھیں۔
اور نیکی اختیار کرو۔ بیشک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ ﴿195﴾
یہ گویا کہ ایک اصول اس سے یہ معلوم ہو گیا کہ انسان کو جو بعد میں بڑی تفصیل سے آیا ہوا ہے کہ جس کے اوپر زیادتی ہو جائے تو اپنا بدلہ اتنا ہی لے سکتے ہیں جس میں بعد میں جیسے آتا ہے:وَالسِّنَّ بِالسِّنِّیعنی دانت کے بدلے دانت۔وَالْعَيْنّ بِالْعَيْنِآنکھ کے بدلے آنکھ۔
تو اب یہ گویا کہ جتنا انسان کو کسی نے نقصان پہنچایا ہے، اتنا نقصان اس کو پہنچا سکتا ہے بدلے میں۔
دوسری بات یہ ہے کہ اگر ایک پر پابندی ہے اور دوسرے پر پابندی نہیں ہے، تو پھر انصاف نہیں ہوگا۔
تو اگر مسلمانوں کے اوپر پابندی ہوتی کہ تم تم یہ جو محترم مہینے ہیں، اس میں تم کسی کو مار نہیں سکتے ہو... اور اگر کافروں پر بھی پابندی نہ ہوتی، تو پھر تو ان کو موقع ہو جاتا وہ تو کہتے بس اس مہینے میں تو ان کو قتل کرو، یہ کچھ کہہ نہیں سکتے۔
تو ابتداء ہمیں نہیں کرنی، لیکن اگر ہم پر حملہ ہوا تو پھر ہم جواب دے سکتے ہیں۔
یعنی یہ بات ہے کہ اس سے میں نے اصول نکالے کہ ہمارے جو ساتھی ہوتے ہیں نا جو بیعت ہوتے ہیں۔
تو جو ان کے گھر والے بیعت نہیں ہوتے، بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے ان کے گھر والے بیعت نہیں ہوتے یا ان کے اور رشتہ دار بیعت نہیں ہوتے۔ تو میرے پاس ان کی شکایتیں لے کے آتے ہیں۔ کہ انہوں نے ایسا کیا، انہوں نے ایسا کیا، انہوں نے ایسا کیا۔ مطلب ان کو روک دیں گے تو اس کا مطلب ہے کہ مجھے "Tool" کے طور پہ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔
تو میں ان سے کہتا ہوں کہ بھئی بات یہ ہے چونکہ معاملات کا فیصلہ ہے۔ تو اس میں دونوں طرف برابر ہونا چاہیے معاملہ۔
تو یا تو تم بھی ایسے ہی میری بات اس میں مانو گے جس طرح وہ مانے گا۔ یا پھر میں فیصلہ نہیں کرتا۔
مطلب یہ ہے کہ اگر تم میرے پاس ان کی شکایت لے کے آتے ہو، تو لاؤ اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن فیصلہ اگر مجھ پہ چھوڑو گے تو جیسے یہ مانے گا میری بات، تو اس طرح تم بھی مانو گے۔ پھر تم انکار نہیں کر سکو گے۔ ہاں میں دونوں کی سنوں گا۔
دونوں کی سنوں گا اور پھر میں فیصلہ کروں گا، لیکن وہ فیصلہ آپ پر بھی ایسا ہی نافذ العمل ہوگا جیسے کہ اس کے اوپر ہے۔ اگر اس کے لیے تیار ہو تو ٹھیک ہے، ورنہ پھر یہ ہے کہ...
دوسری بات یہ ہے اگر مجھے کوئی بات کہتا ہے، تو میں کہتا ہوں بھئی اس کا بھی سنوں گا۔ پھر میں بات کروں گا۔ فی الحال میں بات نہیں کر سکتا کیونکہ میں نے صرف آپ کی بات سنی ہے۔
اور اس میں آتا ہے کہ اگر کسی نے ایک آنکھ نکالی ہے اور وہ شکایت لے کے آتا ہے، تو جب تک اس دوسرے کو نہ سنو فیصلہ نہ کرو کیونکہ ممکن ہے اس نے اس کی دونوں آنکھیں نکالی ہوں۔
تو یہ بات ہے کہ یہ اصل میں یہ ضروری ہے۔ لوگ اس کو استعمال کرتے ہیں۔
میرے پاس بہت شکایتیں آتی ہیں وہ آپ کے مرید نے یہ کیا، آپ کے مرید نے... میں نے کہا بھئی فی الحال تو معاملہ تمہاری زبان سے ہے نا۔ ابھی تو تیری بات چل رہی ہے نا۔ دوسرے کا تو میں نے سنا نہیں ہے۔ تو اگر میں اس کو سنوں گا... لیکن میں اس کا بھی سنوں، آپ کی سنوں اور فیصلہ نہ ہو، تو پھر میرا وقت ضائع ہوگا۔
خواہ مخواہ میں اپنا وقت کیوں ضائع کروں؟ تو اس کے لیے پھر اصول یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو بھی ایسا ہی وہ مانو یعنی اس معاملے میں ایسے ہی عمل کرو گے جس طریقے سے وہ عمل کرے گا۔ اس شرط پر اگر تم میرے پاس کیس لاتے ہو تو ٹھیک ہے، میں سنوں گا۔ نہیں تو میرے پاس اتنا ٹائم نہیں ہے کہ میں آپ لوگوں کے جھگڑوں میں پڑوں۔
تو یہ اصل میں دیکھو نا یہاں پر مسجد حرام کے... مطلب یہ بات ہے کہ اگر ایک تعدی کرتا ہے تو دوسرے کو اس کا بدلہ لینے کا اختیار ہے، ایسا نہ ہو کہ صرف ایک ہی سائیڈ پر ہی حملے ہوتے رہیں۔ پھر تو انصاف کے مطابق نہیں ہوگا۔
وَاٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔