الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَأَخْرِجُوهُم مِّنْ حَيْثُ أَخْرَجُوكُمْ ۚ وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۚ وَلَا تُقَاتِلُوهُمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّىٰ يُقَاتِلُوكُمْ فِيهِ ۖ فَإِن قَاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ ۗ كَذَٰلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ (191) فَإِنِ انتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (192) وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ ۖ فَإِنِ انتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّالِمِينَ (193) الشَّهْرُ الْحَرَامُ بِالشَّهْرِ الْحَرَامِ وَالْحُرُمَاتُ قِصَاصٌ ۚ فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ (194) وَأَنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ ۛ وَأَحْسِنُوا ۛ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (195)
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
اور تم ان لوگوں کو جہاں پاؤ قتل کرو اور انہیں اس جگہ سے نکال باہر کرو جہاں سے انہوں نے تمہیں نکالا تھا، اور فتنہ قتل سے زیادہ سنگین برائی ہے۔
یہ لفظ فتنہ قرآن کریم میں مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے جن میں سے ایک معنی ظلم اور تشدد کے بھی ہیں اور شاید یہی معنی یہاں مراد ہے۔مشرکین مکہ نے مسلمانوں کو اپنے دین پر عمل سے روکنے کے لیے بدترین تشدد روا رکھا ہوا تھا۔ لہذا بظاہر یہاں مقصد یہ ہے کہ اگرچہ کسی کو قتل کرنا اپنی ذات میں کوئی اچھی بات نہیں ہے، لیکن فتنہ اس کے مقابلے میں زیادہ سخت برائی ہے اور جہاں فتنے کا سدباب قتل کے بغیر ممکن نہ ہو وہاں قتل کے سوا چارہ نہیں ہے۔
اور تم ان سے مسجد حرام کے پاس اس وقت تک لڑائی نہ کرو جب تک وہ خود اس میں تم سے لڑائی شروع نہ کریں۔ ہاں اگر وہ تم سے اس میں لڑائی شروع کر دیں تو تم ان کو قتل کرسکتے ہو، ایسے کافروں کی سزا یہی ہے۔
پھر اگر وہ باز آجائیں تو بے شک اللہ بہت بخشنے والا مہربان ہے۔ اور تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کا ہوجائے۔
یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ شرعاً جہاد کا اصل مقصد کسی کو اسلام پر مجبور کرنا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام حالات میں کوئی شخص کفر پر اصرار کرے تب بھی جزیہ کے ذریعے اسلامی حکومت کے قوانین کی اطاعت کرکے اپنے مذہب پر قائم رہ سکتا ہے۔ لیکن جزیرہ عرب کا حکم مختلف ہے۔ یہ وہ ملک ہے جہاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو براہ راست بھیجا گیا اور جہاں کے لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور آپ کی تعلیمات براہ راست سنیں۔ ایسے لوگ اگر ایمان نہ لائیں تو پچھلے انبیاء علیہ السلام کے زمانوں میں انہیں عذاب عام کے ذریعے ہلاک کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عذاب عام تو موقوف فرمایا گیا لیکن یہ حکم دیا گیا کہ جزیرہ عرب میں کوئی کافر مستقل شہری کی حیثیت میں نہیں رہ سکتا۔ یہاں اس کے لیے تین ہی راستے ہیں۔ یا اسلام لائے یا جزیرہ عرب سے باہر چلا جائے یا جنگ میں قتل ہوجائے۔
ہاں یہ بہت بڑی بات سمجھائی گئی ہے کہ چونکہ دین میں زبردستی نہیں ہے۔ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ... دین میں زبردستی نہیں ہے۔ اس وجہ سے کسی کو جہاد کے ذریعے سے زبردستی وہ نہیں بنایا جاسکتا، مسلمان نہیں بنایا جاسکتا۔ کیونکہ اسلام کا تعلق دل کے ساتھ ہے اور زبان اس کا اظہار ہے۔ تو اگر دل میں ایمان نہ لائے، سامنے مسلمان ہو بھی جائے تو پھر تو ظاہر ہے وہ مطلب مسلمان تو نہیں ہے۔
اس وجہ سے زبردستی والا اسلام لانا یہ تو مطلب وہ ہے ہی نہیں۔ ہاں البتہ قانوناً کسی کو زبردستی برائی سے روکا جاسکتا ہے۔ قانوناً کسی کو زبردستی برائی سے روکا جاسکتا ہے۔ مثلاً Traffic کے قوانین جو ہیں، اب کوئی کہہ دے جی ہم پر زبردستی قوانین نافذ کردیے... بھئی زبردستی اس لیے ہے کہ دوسروں کا حق مارا جارہا ہے۔ اگر یہ نہیں کیے تو پھر تو لوگ چل ہی نہیں سکیں گے۔ تو اس وجہ سے ہاں زبردستی مطلب ہوسکتی ہے۔ لیکن اسلام زبردستی لانے پہ کسی کو مجبور نہیں کیا جاسکتا۔
اب جب یہ والی بات ہے تو پھر یہاں پر اس کا کیا مطلب ہے کہ یہاں تک کہ فتنہ ختم نہ ہوجائے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟
تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جزیرۃ العرب جو تھا اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لائے۔ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، صادق و امین پایا، اس کے باوجود انکار کیا بعض لوگوں نے۔ تو پھر یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات دیکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر جو کتاب اترا ہے وہ سنا، اور اس طرح ساری چیزیں خود بخود مطلب ان کے سامنے آگئیں۔ تو اب ان کے لیے کوئی مطلب وہ نہیں ہے کیونکہ گزشتہ جو ہے نہ مطلب انبیاء کرام کا جو سلسلہ ہوتا تھا، تو اگر کوئی اس طرح مطلب باتیں نہ مانتے ان ساری چیزوں کے باوجود، تو پھر کیا ہوتا ان کو عذاب سے ہلاک کردیا جاتا۔ جیسے نوح علیہ السلام کے قوم کو، اس طرح جو ہے نا مطلب قوم عاد، قوم ثمود، ان کو ہلاک کیا گیا۔ تو اس وقت بھی ہلاک کیا جاسکتا ہے لیکن چونکہ اللہ جل شانہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے عذاب عام کا سلسلہ موقوف کر رکھا ہے۔ لہذا اب صرف یہ والی بات ہے کہ ان کو Choice دیا جائے۔ Choice یہ دیا جائے کہ آیا وہ اسلام لانا چاہتے ہیں؟ ٹھیک تو پھر صحیح ہے۔ اسلام نہیں لانا چاہتے تو قوانین کو مان کے اپنے مذہب پہ قائم رہنا چاہتے ہیں یعنی Public laws جس کو ہم کہتے ہیں، اس کو اگر کوئی مانتا ہے اسلام کا، تو وہ جو ہے نا اس کے مطابق جزیہ دے کر وہ رہ سکتا ہے۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ پھر لڑائی ہے۔
تو ایسی صورت میں یہ زبردستی نہیں ہے یہ صرف اور صرف اس علاقے کو فتنے سے پاک کرنا ہے۔ ہاں جی۔ یعنی جن کو پہلے دور میں عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا جاتا تھا، اب عذاب کے ذریعے سے نہیں، ہاں البتہ ان کو Choice دیا جائے تینوں میں سے ایک وہ کرے۔ یا اسلام لائے، یا جزیہ دے، یا پھر لڑائی کے لیے تیار ہوجائے۔ تو اس طریقے سے مطلب جو ہے نا اس بات کو یہاں پر سمجھایا گیا ہے۔
پھر اگر وہ باز آجائیں تو سمجھ لو کہ تشدد سوائے ظالموں کے کسی پر نہیں ہونا چاہیے۔وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين.