اکلِ حلال، اتباعِ سنت اور اسلامی جہاد کے اصول

درس نمبر 70: سورۃ البقرہ، آیت نمبر 188 تا 190

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• ناجائز طریقے سے مال کھانے کی ممانعت (رشوت، سود، زبردستی کی دعوتیں)۔• معاشرتی دباؤ (Social Pressure) اور "ٹریٹ" (Treat) کا غلط رواج۔• نیکی کا صحیح مفہوم اور توہمات کا رد (گھروں میں پیچھے سے داخل ہونا)۔• سنت اور بدعت کا فرق اور شریعت میں اعتدال۔• سنتِ مؤکدہ اور سنتِ مستحبہ میں فرق (نماز میں ٹوپی/عمامہ کی مثال)۔• حدودِ حرم اور محترم مہینوں میں جنگ اور دفاع کے احکام۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. وَلَا تَاْكُلُوٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوْا بِهَآ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِيْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْـمِ وَاَنْتُـمْ تَعْلَمُوْنَ (188) يَسْاَلُوْنَكَ عَنِ الْاَهِلَّةِ ۖ قُلْ هِىَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ ۗ وَلَيْسَ الْبِـرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِهَا وَلٰكِنَّ الْبِـرَّ مَنِ اتَّقٰى ۗ وَاْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ اَبْوَابِـهَا ۚ وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (189) وَقَاتِلُوْا فِى سَبِيْلِ اللهِ الَّـذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا ۚ اِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِيْنَ (190) وَاقْتُلُوْهُـمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوْهُـمْ وَاَخْرِجُوْهُـمْ مِّنْ حَيْثُ اَخْرَجُوْكُمْ ۚ وَالْفِتْنَةُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ۚ وَلَا تُقَاتِلُوْهُـمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتّـٰى يُقَاتِلُوْكُمْ فِيْهِ ۖ فَاِنْ قَاتَلُوْكُمْ فَاقْتُلُوْهُـمْ ۗ كَذٰلِكَ جَزَآءُ الْكَافِـرِيْنَ (191) فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللهَ غَفُوْرٌ رَّحِْيمٌ (192) وَقَاتِلُوْهُـمْ حَتّـٰى لَا تَكُـوْنَ فِتْنَةٌ وَّّيَكُـوْنَ الدِّيْنُ لِلّٰهِ ۖ فَاِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَى الظَّالِمِيْنَ (193)

معزز خواتین و حضرات! یہ بیان پہلے ہو چکا ہے... اس میں صرف ایک آیت رہ گئی تھی اور وہ یہ ہے کہ:

اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق طریقوں سے نہ کھاؤ، اور نہ ان کا مقدمہ حاکموں کے پاس اس غرض سے لے جاؤ کہ لوگوں کے مال کا کوئی حصہ جانتے بوجھتے ہڑپ کرنے کا گناہ کرو ﴿188﴾

یعنی انسان کو کسی کا بھی مال جائز طریقے سے کھانے کی اجازت ہے، ناجائز طریقے سے نہیں۔ اور ناجائز طریقے بے شمار ہیں... لوگ نکال لیتے ہیں۔ تو اس کی تحقیق کر کے ہمیں صرف وہی کھانا چاہیے جو کہ صحیح طریقے سے کمائے گئے ہوں، اور صحیح طریقے سے ہم نے اس کو حاصل کیا ہو۔

مثال کے طور پر کسی کا رزق حرام ہے، میں نے بے شک صحیح طریقے سے حاصل کرلوں، لیکن میرے لیے جائز نہیں ہے۔ جیسے مجھے کوئی Gift دے دے، لیکن مجھے اگر پتہ ہو کہ اس کا رزق حرام ہے تو نہیں کھانا چاہیے۔ تو Gift لینا تو جائز ہے، لیکن اس کا مال حرام ہے۔ تو اس وجہ سے ہمیں اس کا بھی خیال رکھنا چاہیے اور دوسری بات یہ ہے کہ کوئی ناجائز طریقے سے اس کو لینا نہیں چاہیے۔

آج کل اس کا بالکل خیال نہیں کیا جاتا۔ بعض دفعہ Society جو ہے وہ Pressurize کرتی ہے۔ شادی بیاہ کے موقعوں پہ اس طرح ہوتا ہے، غمی کے موقع پر اس طرح ہوتا ہے۔ آپس میں یہ جو گپ شپ ہوتی ہے، جی ہمیں Treat دے دیں۔ یہ چیز تو آج کل بہت زیادہ عام ہے۔ زبردستی جس کو کہتے ہیں... نہ جان نہ پہچان بس میں تیرا مہمان۔ پہلے کوئی بات نہیں ہوئی، جی بس جی آپ کی یہ خوشی ہو گئی تو اب ہمیں Treat دے دیں۔

تو یہ ظاہر ہے کوئی اپنی خوشی سے اگر کسی کو دعوت کر لے تو یہ سبحان اللہ بالکل ٹھیک ہے۔ لیکن آپ اس سے دعوت مانگیں، یہ کیا مطلب ہے؟ یہ کوئی ایسی وہ بات تو نہیں ہے اور پھر ان کو ایسے Pressurize کرنا کہ مجبور ہو کر وہ کر ہی لے۔ نہیں بھئی وہ حرام ہے پھر آپ اس کو اس طرح اس کا مال کھائیں گے تو جائز نہیں ہے۔ اس طرح رشوت ہے، ظاہر ہے وہ بھی... سُود لینا ہے تو یہ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ ڈاکا ہے، جھوٹ سے کوئی چیز لینا ہے، یہ ساری باتیں جو بھی ناجائز طریقے ہیں اس کے ذریعے سے مال کو نہیں کسی کا کھانا چاہیے، یہ اپنے پیٹوں کے اندر آگ کو بھرنے والی بات ہے۔ میراث والی بات ہو گئی... اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے اور ہمیں ایسی چیزوں سے بچائے۔

پھر فرماتے ہیں:

اور یہ کوئی نیکی نہیں ہے کہ تم گھروں میں ان کی پشت کی طرف سے داخل ہو

بعض اہل عرب کا یہ معمول تھا کہ اگر حج کا احرام باندھنے کے بعد انہیں کسی ضرورت سے گھر واپس جانا پڑتا تو وہ گھر کے عام دروازے سے داخل ہونے کو ناجائز سمجھتے تھے، اور ایسی صورت میں گھر کے پچھلے حصے سے داخل ہوتے تھے، خواہ اس کے لئے انہیں گھر میں نقب ہی کیوں نہ لگانی پڑے۔ یہ آیت اس فضول رسم کو بے بنیاد قرار دینے کے لئے رہی ہے۔

یہ اصل میں لوگوں کے اندر یہ Tendency ہے کہ وہ ضرور کوئی نہ کوئی اپنے لیے رسم بنا رہے ہوں گے، اپنے آپ کو پابند کر رہے ہوں گے، وہ آزادی لوگوں کو پسند نہیں ہے۔ حالانکہ شریعت آپ کو آزادی دیتی ہے۔ ہاں اگر اللہ پاک نے آپ کو کسی چیز کا پابند کیا ہے پھر وہ حکم مانا جاتا ہے، پھر کوئی بات نہیں پھر تو ظاہر ہے حکم پر عمل کرنا پڑے گا۔ لیکن اگر آپ نے اپنی طرف سے کوئی چیز بنائی ہے تو یہ چیز ٹھیک نہیں ہے۔ جیسے مثال کے طور پر کوئی چیز حلال ہے تو آپ اس کو حرام نہیں قرار دے سکتے، کوئی چیز حرام ہے تو آپ اس کو حلال نہیں قرار دے سکتے۔ یہ گویا کہ اللہ پاک کے... اس میں... اپنے آپ کو شامل کرنا ہے کاموں میں۔ تو یہ ٹھیک نہیں ہے، ہم لوگوں کو وہی کرنا چاہیے جو اس کا اللہ پاک ہمیں حکم دے۔ اپنی طرف سے اس میں کوئی چیز کا اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔ تو یہاں پر بھی چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا کوئی امر نہیں تھا، لوگوں نے اپنی طرف سے اس کو بنایا تھا۔

تو اب جیسے طواف تھا، لیکن طواف کا طریقہ لوگوں نے تبدیل کر لیا تھا۔ ننگے طواف کیا کرتے تھے، تالیاں بجاتے تھے۔ تو ظاہر ہے یہ غلط بات تھی۔ تو ایسی چیزوں کو روکا گیا۔ تو ہمیں کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جو شریعت کے اندر ہمارے اوپر لازم نہ کی گئی ہو بلکہ ہمیں وہی کرنا چاہیے جو اللہ پاک نے حکم دیا ہے۔

بلکہ ایک نظام ہے، وہ نظام یہ ہے کہ جو چیز جس درجے میں ثابت ہے اس درجے میں کرو۔ مثلاً آج جمعہ کا دن تھا تو جمعہ کے دن میں یہ دو سورتیں پڑھتے ہیں ہم، سورہ "الم سجدہ، سورہ دہر"۔ سنت ہے، لیکن دائمی سنت نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کبھی بغیر اس کے بھی آپ ﷺ نے یہ نماز پڑھائی ہے۔ تو اس وجہ سے ہمیں بھی اس کو دائمی سنت نہیں بنانی چاہیے بلکہ... اگر کوئی نہیں پڑھ رہا تو اس کو پڑھنا چاہیے، لیکن کوئی ہمیشہ کے لیے پڑھ رہا ہے تو کبھی کبھی چھوڑنا چاہیے تاکہ شریعت کی بات پر عمل ہو۔ ورنہ اس سے بظاہر کیا ہوتا ہے؟ پڑھ لے تو کیا بات ہے۔ اور مستحب ہے، وہ بھی نہیں ہے... مطلب جو ہے نا وہ سنتِ مستحبہ ہے۔ سنت کی دو قسمیں ہیں؛ ایک سنتِ مؤکدہ کہلاتی ہے، ایک سنتِ مستحبہ کہلاتی ہے۔ تو یہ سنتِ مستحبہ میں آتا ہے۔ تو اگرچہ محبت کا تقاضا یہ ہے کہ پڑھ لے، لیکن اصول کا تقاضا یہ ہے کہ کبھی کبھی چھوڑ بھی لیا کرے۔ اس حد تک خیال رکھا جاتا ہے۔

تو ہمیں جو ہے نا جس درجے میں کوئی چیز ہے ثابت، اس درجے میں اس کو کرنا چاہیے۔ جیسے مثال کے طور پر آپ ﷺ نے ٹوپی کے ساتھ بھی پڑھی ہے، عمامہ کے ساتھ بھی پڑھی اور ننگے سر بھی پڑھی۔ اب جو لوگ ننگے سر پڑھتے ہیں وہ کہتے ہیں آپ ﷺ نے ننگے سر پڑھی... بھئی پڑھی ہے تو کتنی مرتبہ پڑھی ہے؟ تم بھی اس طرح کرو نا۔ اور اگر سر پر عمامہ رکھا ہے تو اس کا کیا ہے مطلب؟ تو جو سنتِ مستحبہ ہے اس کو سنتِ مستحبہ جان لو اور جو جواز ہے اس کو اتنا ہی جواز سمجھو۔ اس سے زیادہ اپنی طرف سے تصرف نہ کرو۔ اب بعض لوگوں نے پگڑی کو لازم قرار دیا ہوتا ہے۔ کہ پگڑی کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ یہ گاؤں وغیرہ کے لوگوں میں اس قسم کی باتیں ہوتی ہیں کیونکہ وہ علم اتنا زیادہ نہیں پہنچا ہوتا۔

تو ایک دفعہ ایک صحابی رسول ﷺ حضرت جابرؓ وہ اپنے کپڑوں کو تپائی پر رکھا ہوا تھا اور صرف ستر کو چھپایا ہوا تھا وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ تو ایک تابعی آئے، تو نماز پڑھنے کے بعد ان سے پوچھا کہ حضرت کیا آپ کے کپڑے پاک نہیں تھے؟ انہوں نے کہا نہیں، پاک تھے۔ تو آپ نے پھر کیوں نہیں پہنے؟ فرمایا تم جیسے بے وقوفوں کو سمجھانے کے لیے کہ ہمارے پاس اتنے کپڑے کہاں ہوتے ہیں جو تم اس پہ نہ جھگڑتے ہو کہ یہ ہونا چاہیے، یہ ہونا چاہیے، یہ ہونا چاہیے۔ یہ سمجھانے کے لیے کہ اتنے کپڑوں سے بھی نماز ہو جاتی ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یعنی اگر دوسرے Direction پہ انسان چلا جائے تو پھر اس کو واپس لانے کے لیے بھی... مطلب وہ کرنا چاہیے۔ ہاں یہ البتہ ہے کہ کوئی نہیں کر رہا اور کیا گیا ہے تو اس کو ترغیب دی جائے کہ کبھی کبھی کر لیا کرو تاکہ سنت پر دونوں طرح سے عمل ہو سکے۔

بلکہ نیکی یہ ہے کہ انسان تقویٰ اختیار کرے، اور تم گھروں میں ان کے دروازوں سے داخل ہوا کرو، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو۔ ﴿189﴾

یہ جو اجازت ہے، اس اجازت کو استعمال کرو لیکن جہاں اجازت نہیں ہے وہاں نہ کرو۔ تقویٰ کا مطلب کیا ہے؟ جہاں اجازت نہیں ہے تو وہاں سے بچو۔ لیکن جو اجازت ہے تو دیکھو نا دونوں چیزیں ساتھ ساتھ آ گئیں۔ بلکہ نیکی یہ کہ تم کہ انسان تقویٰ اختیار کرے اور تم گھروں میں ان کے دروازے سے داخل ہوا کرو۔ چونکہ اس کی اجازت ہے تو داخل ہوا کرو لیکن جہاں جہاں سے روکا گیا ہے وہ نہ کیا کرو۔

اور ان لوگوں سے اللہ کے راستے میں جنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں، اور زیادتی نہ کرو۔ یقین جانو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ﴿190﴾

اب جو تم سے جنگ کرتا ہے، تم بھی اس کے ساتھ جنگ کر سکتے ہو۔ بدلے کا بدلہ والی بات۔ لیکن جتنا انہوں نے کیا ہے اتنا کر سکتے ہو۔ ایسا نہ ہو کہ تم اس پہ زیادتی کرو۔ جو انہوں نے کوئی کام نہیں کیا ان کی سزا ان کو نہیں دے سکتے ہو۔ زیادتی کی پھر تفصیلات فقہ کی کتابوں میں موجود ہیں، وہیں سے دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں جب مکہ کے مشرکین نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو صلح حدیبیہ کے موقع پر عمرہ ادا کرنے سے روک دیا تھا، اور یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ اگلے سال آ کر عمرہ کریں گے۔ جب اگلے سال عمرے کا ارادہ کیا گیا تو کچھ صحابہ کو یہ خطرہ ہوا کہ کہیں مشرکین مکہ عہد شکنی کر کے ہم سے لڑائی شروع نہ کر دیں۔ اگر ایسا ہوا تو مسلمانوں کو یہ مشکل پیش آئے گی کہ حدودِ حرم میں، اور خاص طور پر ذیقعدہ کے مہینے میں لڑائی کیسے کریں جبکہ اس مہینے میں جنگ ناجائز ہے۔ ان آیات نے وضاحت فرمائی کہ اپنی طرف سے تو جنگ نہ کی جائے، البتہ اگر کفار معاہدہ توڑ کر خود جنگ شروع کر دیں تو ایسی صورت میں مسلمانوں کے لئے جنگ جائز ہے، اور اگر وہ حدودِ حرم اور محترم مہینے کی حرمت کا لحاظ کئے بغیر حملہ آور ہو جائیں تو مسلمانوں کے لئے بھی ان کی زیادتی کا بدلہ دینا درست ہے۔

دیکھو نا آپ کسی کے گھر پر حملہ نہیں کر سکتے لیکن آپ کے گھر پر کوئی حملہ کرے، پھر اپنی حفاظت کر سکتے ہیں یا نہیں کر سکتے؟ دفاع کر سکتے ہیں۔ تو یہ دفاع والی بات ہے کہ مطلب ہے کہ آپ تو نہ جنگ شروع کریں لیکن اگر انہوں نے جنگ شروع کیا تو پھر اپنی دفاع تو ضروری ہے۔ تو دفاعی طور پر اس کی اجازت ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔



اکلِ حلال، اتباعِ سنت اور اسلامی جہاد کے اصول - درسِ قرآن