الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ:فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِىْ عَنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ ۖ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الـدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيْبُوْا لِـىْ وَلْيُؤْمِنُـوْا بِىْ لَعَلَّهُـمْ يَرْشُدُوْنَ (186) اُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَـةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآئِكُمْ ۚ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَاَنْتُـمْ لِبَاسٌ لَّـهُنَّ ۗ عَلِمَ اللهُ اَنَّكُمْ كُنْتُـمْ تَخْتَانُـوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ ۖ فَالْاٰنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللهُ لَكُمْ ۚ وَكُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّـٰى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ۖ ثُـمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَى اللَّيْلِ ۚ وَلَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَاَنْـتُـمْ عَاكِفُوْنَ فِى الْمَسَاجِدِ ۗ تِلْكَ حُدُوْدُ اللهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَا ۗ كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللهُ اٰيَاتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُـمْ يَتَّقُوْنَ (187) وَلَا تَاْكُلُوٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوْا بِهَآ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِيْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْـمِ وَاَنْتُـمْ تَعْلَمُوْنَ (188)صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.
اور (اے پیغمبر!) جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو (آپ ان سے کہہ دیجئے کہ) میں اتنا قریب ہوں کہ جب کوئی مجھے پکارتا ہے تو میں پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں۔
رمضان شریف کے ذکر کے عین درمیان اس آیت کو لانے کی وجہ شاید یہ ہو کہ پچھلے رمضان کی گنتی پوری کرنے کا جو ذکر آیا تھا، اس سے کسی کو خیال ہو سکتا تھا کہ رمضان گزرنے کے بعد شاید اللہ تعالیٰ سے وہ قرب باقی نہ رہے جو اس مبارک مہینے میں حاصل ہوا تھا۔ اس آیت نے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے واضح فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ ہر آن اپنے بندوں سے قریب ہے اور ان کی پکار سنتا ہے۔
لہٰذا وہ بھی میری بات دل سے قبول کریں، اور مجھ پر ایمان لائیں، تاکہ وہ راہِ راست پر آ جائیں ﴿186﴾ تمہارے لئے حلال کر دیا گیا ہے کہ روزوں کی رات میں تم اپنی بیویوں سے بے تکلف صحبت کرو۔ وہ تمہارے لئے لباس ہیں، اور تم ان کے لئے لباس ہو۔ اللہ کو علم تھا کہ تم اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے، پھر اس نے تم پر عنایت کی اور تمہاری غلطی معاف فرمادی۔
شروع شروع میں حکم یہ تھا کہ اگر کوئی شخص روزہ افطار کرنے کے بعد ذرا سا بھی سو جائے تو اس کے لئے رات کے وقت بھی نہ کھانا جائز ہوتا تھا، نہ جماع کرنا۔ بعض حضرات سے اس حکم کی خلاف ورزی سرزد ہوئی اور انہوں نے رات کے وقت اپنی بیویوں سے جماع کر لیا۔ یہ آیت اس خلاف ورزی کی طرف اشارہ کر رہی ہے، اور ساتھ ہی جن حضرات سے یہ غلطی ہوئی تھی ان کی معافی کا اعلان کر کے آئندہ کے لئے یہ پابندی اٹھا رہی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ ایک تو اس میں ہے کہ تمہارے لیے وہ لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔یعنی یوں کہہ سکتے ہیں لباس جو ہے یہ پردہ کے لیے ہوتا ہے، ستر کے لیے ہوتا ہے، زینت کے لیے ہوتا ہے، سہولت کے لیے ہوتا ہے۔ یہ تین چیزیں لباس کے اندر ہیں۔ تو یہ جو میاں بیوی ہیں یہ ایک دوسرے کے لیے ان تین چیزوں کے حامل ہیں۔یعنی یہ مطلب ہے کہ ایک تو ظاہر ہے سہولت ہے، اور پردہ ہے اور ساتھ یہ ہے کہ ایک دوسرے کا حسن بھی ان سے قائم ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ یعنی عورت کے ساتھ جو معاملہ رکھنا چاہیے وہ لباس والا رکھنا چاہیے۔
اور یہ جو تقویٰ ہے۔ تو خواب میں لباس کا دیکھنا یہ تقویٰ کی طرف اشارہ ہوتا ہے مطلب یہ کہ وہ تقویٰ اسی سے حاصل ہوتا ہے۔ چونکہ ظاہر ہے بیوی اگر قریب ہو تو انسان برے خیالات کی طرف نہیں جاتا عموماً۔ تو اس وجہ سے تقویٰ کا بہت زیادہ... کیونکہ نفس کا بہت زیادہ شر اسی میں گھسا ہوا ہے۔ یعنی فوری اثر جو ہوتا ہے وہ ان چیزوں سے ہوتا ہے۔ باقی چیزیں ذرا دوسری طرح ہوتی ہیں جیسے مال کی محبت ہے یا جاہ کی محبت ہے، ان کی جڑیں بڑی گہری ہوتی ہیں لیکن اس کا اثر آہستہ سے ہوتا ہے۔ جبکہ یہ جو ہے نا یہ، یہ فوراً Instant ہوتا ہے، Instant اثر بھی ہوتا ہے پھر انسان کو ندامت بھی ہوتی ہے، تو یہ حبِ باہ والی جو بات ہوتی ہے وہ اس میں یہ آ جاتی ہے۔تو اس وجہ سے جو ہے نا نفس کو کنٹرول کرنے میں اس کا عنصر بہت زیادہ بتایا جاتا ہے۔ تو لہٰذا تقویٰ جو نفس کی مخالفت کا نام ہے وہ بیوی کے ساتھ اچھا رہنے کی وجہ سے ہی انسان کو آسانی کے ساتھ آ سکتا ہے۔
تو اس میں یہ ہے کہ یہ فرمایا کہ شروع شروع میں چونکہ حکم یہ تھا کہ جو شخص بھی روزہ افطار کرنے کے بعد ذرا سا بھی سو جائے تو اب دوبارہ ان کے لیے وہ سلسلہ شروع ہو گیا، اب وہ نہ کھا پی سکتا ہے نہ... گویا کہ نیند اس کے درمیان میں فاصل تھا۔ تو پھر بعد میں یہ فاصلہ اٹھا لیے گیا، یہ پابندی اٹھا لی گئی۔ البتہ جو غلطیاں ہوئیں تھیں اس کی وجہ سے، تو وہ ان کو معاف کر دیا گیا، آئندہ کے لیے اس کو معاف کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔
اچھا! دوسرا یہ ہے کہ یہ جو فرمایا گیا ہے کہ تم میں جو اللہ نے مطلب لکھا ہے اس کے لیے... وہ اللہ تعالیٰ سے طلب کر لو۔ تو علماء کرام اس سے یہ مطلب لیتے ہیں کہ بیوی سے جماع کرنے میں وہ اولاد حاصل کرنے کی نیت رکھنی چاہئے جو اللہ نے تقدیر میں لکھ دی ہے۔ اور بعض حضرات نے یہ مطلب بھی بیان کیا ہے کہ جماع کے دورانِ وہی لذت طلب کرنی چاہئے جو اللہ نے جائز قرار دی ہے، ناجائز طریقوں مثلاً غیر فطری طریقوں سے پرہیز کرنا چاہئے۔
یہ اصل میں آج کل کے لیے یہ مسئلہ بہت زیادہ اہم ہے کیونکہ آج کل یہ Social Media پر ہر قسم کی چیز Exploded ہے۔ تو اس وجہ سے لوگ ان بری چیزوں کے تقاضے ان میں ہونے لگتے ہیں۔ اور پھر ایسا ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے شادیاں ٹوٹ جاتی ہیں۔ کیونکہ بعض دفعہ عورتیں باحیا ہوتی ہیں، تو مرد اگر اس قسم کا Desire کرتے ہیں تو وہ تیار نہیں ہوتیں تو نتیجتاً خاندان ٹوٹ جاتے ہیں۔ اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ مرد کی طرف سے حیا ہوتا ہے تو بیوی ایسی چیزوں کی طلب کرتی ہے۔
تو اس میں مطلب یہ ہے کہ غیر فطری طریقے جو ہیں ان کو Avoid کرنا چاہیے۔ جانوروں کے طریقے ہیں... مطلب جانور، جانور ہوتا ہے انسان، انسان ہوتا ہے۔ تو ہر انسان کا اپنا ایک Protocol ہونا چاہیے، طریقہ کار ہونا چاہیے، یہ بہت اہم بات ہے۔ویسے عقل ہے نا اللہ تعالیٰ نصیب فرما دے ہم سب کو صحیح معنوں میں، عقل بہت بڑی دولت ہے۔ یہ جو چیزیں ہیں نا یہ عقل کو ماؤف کر دیتی ہیں اس وقت۔ نتیجتاً پھر وہ عقل سے کام نہیں لیتے۔ ورنہ اگر عقل سے انسان کام لے تو جو اصل Desire ہے اس کے لیے تو راستہ بہت آسان ہے، اس کے لیے تو کوئی مشکل نہیں ہے۔ لیکن لوگوں نے اپنے اندر جو Uncontrolled desires ہیں جن کے خلاف وہ عقل استعمال نہیں کرتے وہ ان کے لیے وہ Addiction والی بات بن جاتی ہے۔
Addiction اصل میں عقل کا توڑ ہے۔ Addiction جو ہو گیا یا جو اس قسم کی جو چیزیں ہوتی ہیں، Fashion ہو گیا، یہ عقل کے توڑ ہیں۔ تو ان چیزوں میں جب یہ اس قسم کی چیزیں ہو جاتی ہیں نا تو پھر وہ نارمل طریقوں سے Satisfy نہیں ہوتے۔ اور اسی کو پھر میڈیکلی Perversion کہتے ہیں۔ Perversion... یعنی Perversion کی جو فضا ہوتی ہے اس میں No one is satisfied. یہ والی بات ہوتی ہے۔اور یہ انتہائی خطرناک بات ہے۔ جیسے موسیقی ہے نا موسیقی، یہ اپنے Desire کو خود بڑھاتی ہے۔ جتنا جتنا اس کو سنتے جائیں گے تو یہ بڑھتی جائے گی، بڑھتی جائے گی، بڑھتی... حتیٰ کہ Drum music جو ہے نا یہ ایک بیہودگی سی ہوتی ہے لیکن لوگ۔۔۔ پھر اس کے ساتھ جو ناچنے کا نظام ہوتا ہے وہ انتہائی درجے کی بیہودگی کی بات ہوتی ہے۔ آدمی اس وقت سوچتا ہے کہ یار کیا یہ بھی انسان ہے؟لیکن ظاہر ہے ہوتی ہے... یہ ابھی وہ Old student خیبر میڈیکل کالج کے وہ جمع ہوئے تھے، وہ سب بوڑھے بوڑھے وہ ناچ رہے تھے۔ بڑی حیرت ہوتی تھی بھئی یہ کیا کون سے پٹھان ہیں؟ لیکن بس وہ ظاہر ہے یہ ایسی چیز ہے کہ انسان کو بالکل ہی Uncontrol کر لیتے ہیں۔
تو یہ چیزیں عقل کے اوپر پردہ ڈال لیتا ہے۔ اور وقتی طور پر ایسا ہیجان ہوتا ہے کہ اس وقت اس کو نہ کسی پیسے کا خیال ہوتا ہے، نہ حیا کا خیال ہوتا ہے، نہ رشتہ داری کا خیال ہوتا ہے، نہ کسی اور چیز کا خیال ہوتا ہے۔ وہ بالکل ہی ایک الگ Environment سی بن جاتی ہے، بعد میں فوراً اس کو پتا چل جاتا ہے جب وہ چیز ختم ہو جاتی ہے، لیکن اس نے جو کچھ کام کرنا ہوتا ہے وہ کر لیا ہوتا ہے۔تو یہ مطلب اس وجہ سے جو جائز طریقے ہیں۔
مجھے الفریڈ صاحب کی ایک بات یاد آ گئی اللہ تعالیٰ حضرت کے درجات بلند فرمائے بہت قیمتی شخص تھے۔ وہ ایک دفعہ فرما رہے تھے، ظاہر ہے میں جو ادھر گیا تھا میری تیس سال کی عمر تھی تو Young تھا اس وقت۔ تو وہ کہہ رہے تھے:
"If you will have a reasonable distance with your wife, she will be always young for you."
اب یہ اتنا بڑا اصول ہے مطلب آپ اندازہ... یعنی عقل کے لحاظ سے اگر دیکھا جائے، تو بہت بڑا اصول ہے۔ لیکن کبھی اس کا انسان وہ سوچتا نہیں ہے، مطلب یہ صحیح اصولوں پر عمل کیا جائے تو انسان بڑا فٹ رہتا ہے اور بہت ہی سکون میں رہتا ہے، بہت ہی فائدے میں رہتا ہے۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو پھر وہ Perversion والی بات سٹارٹ ہو جاتی ہے Which is end of sukoon. مطلب اس وقت پھر سکون نہیں ہوتا۔ پاگل پن ہوتا ہے، پاگلوں کو کہاں سکون ہوتا ہے؟ مطلب وہ تو جانور ہوتے ہیں، اچھل کود کرتے ہیں، بندر ہوتے ہیں۔ تو یہ والی بات ہے اللہ جل شانہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ بہت ہی زیادہ، بہت ہی زیادہ مطلب اس کی ضرورت ہے۔اللہ اکبر!
اور اس وقت تک کھاؤ پیو جب تک صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے ممتاز ہو کر تم پر واضح (نہ) ہو جائے۔ اس کے بعد رات آنے تک روزے پورے کرو۔ اور ان (اپنی بیویوں) سے اس حالت میں مباشرت نہ کرو جب تم مسجدوں میں اعتکاف میں بیٹھے ہو۔ یہ اللہ کی (مقرر کی ہوئی) حدود ہیں، لہٰذا ان (کی خلاف ورزی) کے قریب بھی مت جانا۔ اسی طرح اللہ اپنی نشانیاں لوگوں کے سامنے کھول کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں ﴿187﴾
اللہ اکبر۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو تقویٰ اصلی معنوں میں نصیب فرما دے۔ بہت بڑی بات ہے، بہت بڑی بات ہے، بہت بڑی بات ہے۔وَآخِرُ دَعْوَانا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ.سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.