الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ. أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
قربِ نبی کا زمانہ بہتر زمانہ ہے
(92) ﴿السَّادِسُ: وَ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ: أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَلْقَى مِنَ الْحَجَّاجِ. فَقَالَ: "اِصْبِرُوا فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي زَمَانٌ إِلَّا وَالَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتّىٰ تَلْقَوْا رَبَّكُمْ" سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.﴾ (رواه البخاري)
حضرت زبیر بن عدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے، ہم نے ان کے پاس حجاج کے مظالم کا شکوہ کیا، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا صبر سے کام لو اس لئے کہ جو وقت آرہا ہے اس سے پیچھے آنے والا وقت پہلے سے زیادہ خراب ہوگا یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جالو گے، میں نے یہ بات تمہارے نبی ﷺ سے سنی ہے۔
یا کریم!
لَا يَأْتِي زَمَانٌ إِلَّا وَ الَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ: اس لئے کہ جو وقت آرہا ہے اس سے پیچھے آنے والا وقت پہلے سے زیادہ خراب ہوگا۔ اس حدیث میں پیشین گوئی ہے کہ حالات دن بدن خراب سے خراب تر ہی ہوتے جائینگے۔ اسی اعتبار سے حکمران بھی ایک دوسرے سے ظالم آتے رہیں گے، ایسے حالات میں حکمران کو ان کے حال پر چھوڑ کر اپنی اصلاح کی فکر کرے اور اپنی آخرت کو سنوارنے کی سوچے اور حکمران کے ظلم پر صبر سے کام لے۔
سوال: کیا ہر زمانہ پہلے والے سے برا ہوگا؟ یہ صحیح نہیں کیونکہ حجاج بن یوسف کے بعد عمر بن عبدالعزیزؒ کا زمانہ آیا اور بعد میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدیؒ کا زمانہ آئے گا۔ یہ زمانے تو اچھے ہوں گے۔
اس سوال کے کئی جوابات محدثین نے دیئے ہیں۔ مثلاً:
پہلا جواب: اس حدیث کو اکثریت پر محمول کریں گے کہ اکثر ایسا ہی ہوگا کہ بعد کا زمانہ پہلے سے برا ہوگا۔
دوسرا جواب: بعض نے جواب یہ دیا کہ حجاج کے زمانے سے زمانہ دجال تک کا زمانہ مراد ہے حضرت عیسیٰ اور حضرت مہدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ کا زمانہ اس حکم سے مستثنیٰ ہوگا۔
تیسرا جواب: آنے والا زمانہ برا ہی ہوگا صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ مستثنیٰ ہوگا باقی زمانے کسی نہ کسی اعتبار سے اور کسی نہ کسی جگہ کے حالات یا کسی نہ کسی معاملہ میں از روئے علم و عمل کے پہلے زمانے سے بدتر ہی حالت میں ہوگا۔
بات یہ ہے کہ اگر ہم دیکھیں تو مجموعی لحاظ سے شر پھیل رہا ہے۔ یعنی آج سے 500 سال پہلے دیکھیں تو شر کافی کم تھا، 400 سال، پھر کچھ شر آ گیا مزید، 300 سال، اس سے بھی، پھر 200 سال، 100 سال۔ ہماری عمر میں ہم اگر بچپن کا زمانہ دیکھیں تو کافی اچھا تھا ہمارے اس لحاظ سے۔ تو وقت کے ساتھ ساتھ شر بڑھتا جا رہا ہے۔ ہاں استثنائی صورتیں ہو سکتی ہیں کہ درمیان میں کچھ لوگ اچھے بھی آ رہے ہوتے ہیں۔ لیکن وہ لوگوں کی بات ہوتی ہے، مجموعی طور پر جو شر ہے وہ بڑھ رہا ہے۔ مجموعی طور پر شر بڑھ رہا ہے۔ اور ویسے درمیان میں اچھے اچھے لوگ بھی آئیں گے تو جو اچھے لوگ آئیں گے وہ مطلب ظاہر ہے وہی مستثنیٰ ہے۔ لیکن یہ ہے کہ وقت کے لحاظ سے شر جو ہے نا بڑھتا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔