الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
قربِ نبی کا زمانہ بہتر زمانہ ہے۔ حدیث سادس۔
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَشَكَوْنَا... فَشَكَوْنَا إِلَيْهِ مَا نَلْقَى مِنَ الْحَجَّاجِ. فَقَالَ: اصْبِرُوا، فَإِنَّهُ لَا يَأْتِي زَمَانٌ إِلَّا وَالَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ حَتَّى... حَتَّى تَلْقَوْا رَبَّكُمْ. سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ۔
حضرت زبیر بن عدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، ہم نے ان کے پاس حجاج کے مظالم کا شکوہ کیا... شکوہ کیا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا صبر سے کام لو اس لیے کہ جو وقت آ رہا ہے اس سے پیچھے آنے والا وقت پہلے سے زیادہ خراب ہوگا۔ یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو گے۔ میں نے یہ بات تمہارے نبی ﷺ سے سنی ہے۔
یا کریم!
لَا يَأْتِي زَمَانٌ إِلَّا وَالَّذِي بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ۔
تو یہ جو ہے نا مطلب، "بَعْدَهُ شَرٌّ مِنْهُ" اس لیے کہ جو وقت آ رہا ہے اس سے پیچھے آنے والا وقت پہلے سے زیادہ خراب ہوگا۔ اس حدیث میں پیشین گوئی ہے کہ حالت... حالات دن بدن خراب سے خراب تر ہی ہوتے جائیں گے۔ اس اعتبار سے حکمران بھی ایک دوسرے سے ظالم آتے رہیں گے۔ ایسے حالات میں حکمرانوں کو ان کے حال پر چھوڑ کر اپنی اصلاح کی فکر کریں اور اپنی آخرت کو سنوارنے کی سوچیں اور حکمران کے ظلم پر صبر سے کام لیں۔
سوال: کیا ہر زمانہ پہلے والے سے برا ہوگا؟ یہ صحیح نہیں کیونکہ حجاج بن یوسف کے بعد عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ کا زمانہ ہے اور بعد میں عیسیٰ علیہ السلام اور مہدی علیہ السلام آئیں گے، یہ زمانے تو اچھے ہوں گے۔
اس سوال کے کئی جوابات محدثین نے دیے ہیں۔ مثلاً پہلا جواب، اس حدیث کو اکثریت پر محمول کریں کہ اکثر ایسا ہوگا کہ بعد کا زمانہ پہلے کے زمانے سے برا ہوگا۔
دوسرا جواب، بعض نے یہ جواب دیا کہ حجاج کے زمانے سے زمانہ دجال تک کا زمانہ مراد ہے۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام، مہدی علیہ السلام کا زمانہ اس حکم سے مستثنیٰ ہے۔
تیسرا جواب یہ ہے کہ آنے والا زمانہ برا ہی ہوگا، صرف عیسیٰ علیہ السلام کا زمانہ مستثنیٰ ہوگا، باقی زمانے کسی نہ کسی اعتبار سے، کسی نہ کسی جگہ کے حالات یا کسی معاملے میں علم و عمل کے پہلے زمانے سے بدتر ہی حالات... حالت میں ہوگا۔
یہ بات یہ ہے کہ اگر ہم دیکھیں تو مجموعی لحاظ سے شر پھیل رہا ہے۔ یعنی آج سے 500 سال پہلے دیکھیں تو شر کافی کم تھا، 400 سال، پھر کچھ شر آ گیا مزید، 300 سال، اس سے بھی، پھر 200 سال، 100 سال۔ ہماری عمر میں ہم اگر بچپن کا زمانہ دیکھیں تو کافی اچھا تھا ہمارے اس لحاظ سے۔ تو وقت کے ساتھ ساتھ شر بڑھتا جا رہا ہے۔ ہاں استثنائی صورتیں ہو سکتی ہیں کہ درمیان میں کچھ لوگ اچھے بھی آ رہے ہوتے ہیں۔ لیکن وہ لوگوں کی بات ہوتی ہے، مجموعی طور پر جو شر ہے وہ بڑھ رہا ہے۔ مجموعی طور پر شر بڑھ رہا ہے۔ اور ویسے درمیان میں اچھے اچھے لوگ بھی آئیں گے تو جو اچھے لوگ آئیں گے وہ مطلب ظاہر ہے وہی مستثنیٰ ہے۔ لیکن یہ ہے کہ وقت کے لحاظ سے شر جو ہے نا بڑھتا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔