اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ:
فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حضرت ابو دجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بہادری
(91) ﴿الْخَامِسُ: عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ سَيْفًا يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ: "مَنْ يَأْخُذُ مِنِّي هَذَا؟" فَبَسَطُوْا أَيْدِيَهُمْ، كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ يَقُوْلُ: أَنَا أَنَا. قَالَ: "فَمَنْ يَأْخُذُهُ بِحَقِّهٖ؟" فَأَحْجَمَ الْقَوْمُ، فَقَالَ أَبُوْ دُجَانَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَا اٰخُذُهُ بِحَقِّهٖ فَفَلَقَ بِهٖ هَامَ الْمُشْرِكِينَ﴾ (رواه مسلم)
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ احد کے دن تلوار اٹھائے ہوئے فرمایا کون مجھ سے یہ تلوار لیتا ہے؟ ہر شخص نے تلوار لینے کے لئے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور کہا مجھے دیجئے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا اس تلوار کو اس کے حق کے ساتھ کون لیتا ہے؟ اس پر تمام لوگ رک گئے، حضرت ابودجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں لیتا ہوں اس کے حق کے ساتھ، چنانچہ اس نے تلوار کو پکڑا اور اس کے ساتھ مشرکوں کی گردنیں کاٹ ڈالیں۔
ابودجانہ کا نام سماک بن خرشہ ہے۔
اَحْجَمَ الْقَوْمُ: کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے توقف کیا
فَلَقَ: پھاڑا، چیرا "ھام المشرکین": مشرکوں کے سر یعنی کھوپڑیاں۔
یعنی اس تلوار کے ذریعے سے۔
لوگ رک گئے۔ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کسی بزدلی کی وجہ سے نہیں رکے بلکہ اس لئے رکے کہ کہیں اس کے حق کی ادائیگی میں کوتاہی نہ ہو جائے، شروع میں تو آپ ﷺ نے بغیر شرط کے اس تلوار کو دینے کا اعلان فرمایا تھا تو ہر ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ لینے کے لئے تیار ہو گیا تھا۔ مگر جب شرط لگائی تو اب اس ڈر کی وجہ سے کہ کہیں آپ ﷺ کی منشاء پوری نہ ہو اس لئے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم رک گئے اور ابودجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو لے لیا۔
اس کے بعد بعض روایات میں آتا ہے کہ ابودجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس تلوار کو لے کر ایک سرخ پٹی نکالی اور اس پٹی کو سر پر باندھ لیا اور انصار نے کہا کہ ابودجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے موت کی پٹی باندھ لی ہے، اس کے بعد ابودجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خوب بہادری کے ساتھ جنگ کی، جو بھی سامنے آتا تھا وہ قتل ہو جاتا تھا۔
اور ابودجانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ اشعار پڑھ رہے تھے
؎
أَنَا الَّذِي عَاهَدَنِي خَلِيـلِي وَنَحْنُ بِالسَّفْحِ لَدَى النَّخِيـلِ
أَقُومُ الدَّهْرَ فِي الْكُيُولِ أَضْرِبُ بِسَيْفِ اللهِ وَالرَّسُولِ
یہ حدیث مسلم کتاب فضائل الصحابۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہم (باب من فضائل ابی دجانۃ سماک بن خرشۃ) واخرجہ امام احمد فی مسندہ 12237۔
اللہ پاک ہم سب کو بہادری کی صفت سے نوازے اور اس بہادری کو اللہ پاک کے رستے میں استعمال کرنے والا بنادے۔ آمین۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔