شوقِ شہادت، نیت کا اثر اور دخولِ جنت کی جلدی

درس نمبر 137، جلد نمبر 1، باب 10 : نیکیوں کی طرف جلدی کرنے اور طالب خیر کو اس بات پر آمادہ کرنے کا بیان کہ وہ نیکی کو بغیر کسی تردد کے پوری توجہ اور محنت کے ساتھ اختیار کرے

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• غزوۂ احد میں صحابی (حضرت عمیر بن الحمام رضي الله عنه) کا بے مثال شوقِ جنت۔

• دخولِ جنت کے لیے نیک اعمال میں جلدی کرنا۔

• سچے دل سے شہادت طلب کرنے کی فضیلت اور اللہ کی طرف سے اس کا اجر۔

• ظاہری اسباب کے باوجود اگر موت بستر پر آئے، تب بھی خالص نیت کے سبب شہادت کا درجہ پانا۔

• حضرت عمر فاروق رضي الله عنه کی مدینہ منورہ میں شہادت کی مشہور دعا اور اس کی حیرت انگیز قبولیت۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔


دخولِ جنت کے شوق میں جلدی کرنا۔


(89) الثَّالِثُ: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ: أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فَأَيْنَ أَنَا؟ قَالَ: ”فِي الْجَنَّةِ“ فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ كُنَّ فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ. (متفق عليه)

”حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں ایک آدمی نے غزوہ احد میں رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا اگر میں قتل ہو جاؤں تو میرا ٹھکانا کہاں ہوگا؟ فرمایا جنت میں، چنانچہ اس نے ہاتھ سے کھجوریں پھینک دیں پھر لڑائی کی یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔“



صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جنت کا شوق

(اس) آدمی سے مراد حضرت عمرو بن الحمام بن الجموح بن حرام الانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔

فَأَيْنَ أَنَا؟ کہ اگر میں اس غزوہ احد میں شہید ہو جاؤں تو میرا ٹھکانا کہاں ہوگا؟

قَالَ فِي الْجَنَّةِ: فرمایا جنت میں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو کتنا شوق شہادت اور شوق جنت تھا۔

قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ: لڑائی کی یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے جو شخص سچے دل سے شہادت کا طالب ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ضرور اس کو شرف شہادت نصیب فرما دیتے ہیں۔



بلکہ بعض لوگ اس کے بارے میں تو ایسے بھی آیا ہے کہ وہ شہادت کا شوق رکھتے ہیں اور اس کے جو اسباب ہوتے ہیں وہ بھی اختیار کرتے ہیں، یعنی جنگوں میں شریک ہوتے ہیں اس طرح۔ لیکن ان کی موت اس طریقے سے مقدر نہیں ہوتی، وہ اپنے چارپائی پہ فوت ہو جاتے ہیں، بیماری کی وجہ سے کچھ اس سے، تو ان کو بھی شہیدوں کے ساتھ ملا لیا جاتا ہے ان کے ارادے اور نیت کی وجہ سے۔ تو بارہا ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے چارپائی پہ مرتے ہیں لیکن ان کو شہادت کا شوق ہوتا ہے اور سچا شوق ہوتا ہے تو ان کا حشر شہیدوں کے ساتھ کر دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارا بھی حشر شہیدوں کے ساتھ کر دے، آمین۔


حضرت عمر رضي الله عنه دعا مانگتے تھے نا:

اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ، وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ


تو علی کرم اللہ وجہہ نے کہا کہ یا یا امیر المومنین! آپ نے کیسے سوال کیا؟ کیا مدینہ منورہ پہ یعنی حملہ ہوگا تو آپ شہید ہوں گے؟

فرمایا میں نہیں جانتا، میں تو بس اللہ پاک سے مانگتا ہوں، اللہ پورے کرنے والے ہیں۔


تو نماز پڑھاتے ہوئے حملہ ہو گیا ان پر۔ اور پھر شہید ہو گئے اس سے۔ اور آپ ﷺ کے پہلو مبارک میں مدفون یعنی دفن ہوئے۔ تو ایسے اللہ پاک ان کی دعاؤں کو قبول فرمائی۔


اللہ پاک ہماری دعاؤں کو بھی اس سلسلے میں قبول فرمائے۔



**تجزیہ اور خلاصہ:**


**بمقام:** خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)


**سب سے جامع عنوان:** جنت اور شہادت کا سچا شوق: صحابہ کرام کا قابلِ تقلید جذبہ


**متبادل عنوان:** سچی نیت کی برکت: بستر پر موت کے باوجود شہادت کا درجہ پانا


**اہم موضوعات:**

• غزوۂ احد میں صحابی (حضرت عمیر بن الحمام رضي الله عنه) کا بے مثال شوقِ جنت۔

• دخولِ جنت کے لیے نیک اعمال میں جلدی کرنا۔

• سچے دل سے شہادت طلب کرنے کی فضیلت اور اللہ کی طرف سے اس کا اجر۔

• ظاہری اسباب کے باوجود اگر موت بستر پر آئے، تب بھی خالص نیت کے سبب شہادت کا درجہ پانا۔

• حضرت عمر فاروق رضي الله عنه کی مدینہ منورہ میں شہادت کی مشہور دعا اور اس کی حیرت انگیز قبولیت۔


**خلاصہ:**

اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے غزوۂ احد کی ایک حدیث مبارکہ کی روشنی میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے شوقِ جنت اور جذبہ شہادت کو تفصیلاً بیان کیا ہے۔ آپ نے واضح کیا کہ جو انسان سچے دل سے اللہ کی راہ میں شہادت کا طالب ہو، اللہ تعالیٰ اسے ضرور یہ مقام عطا فرماتے ہیں۔ اگر کوئی شخص ظاہری اسباب اختیار کرے لیکن اس کی موت بیماری کی وجہ سے چارپائی پر بھی آئے، تب بھی اس کی سچی نیت کی بدولت روزِ قیامت اسے شہداء کے ساتھ شامل کر دیا جاتا ہے۔ آخر میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے حضرت عمر فاروق رضي الله عنه کی مدینہ منورہ میں شہادت کی دعا اور اس کی پرحکمت قبولیت کا واقعہ پیش کیا ہے اور دعا فرمائی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی یہ سچا جذبہ نصیب فرمائے۔

شوقِ شہادت، نیت کا اثر اور دخولِ جنت کی جلدی - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور