ضرورت کے تحت صفیں پھلانگنا اور دین میں فقاہت

درس نمبر 136، جلد نمبر 1، باب 10 : نیکیوں کی طرف جلدی کرنے اور طالب خیر کو اس بات پر آمادہ کرنے کا بیان کہ وہ نیکی کو بغیر کسی تردد کے پوری توجہ اور محنت کے ساتھ اختیار کرے

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

* صدقات کی ادائیگی میں رسول اللہ ﷺ کی احتیاط اور جلدی۔

* بوقتِ ضرورت لوگوں کی گردنیں (صفیں) پھلانگنے اور سلام کے فوراً بعد اٹھنے کا شرعی جواز۔

* اعتدال کی چال اور ضرورت کے وقت تیز چلنے کی سنت۔

* احادیث کے جزوی مطالعے سے پیدا ہونے والی ظاہری سختی اور جامع مطالعے سے حاصل ہونے والی فقاہت۔

* سنت کا فہم: جوانی اور بڑھاپے کے مختلف حالات اور عذر کے وقت شریعت کی دی گئی گنجائش۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ، أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔


اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ:

فَأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ


نبی کریم ﷺ کا صدقات میں جلدی کرنا


اَلْحَدِيْثُ الثَّانِي: عَنْ أَبِيْ سِرْوَعَةَ ـ بِكَسْرِ السِّيْنِ الْمُهْمَلَةِ وَفَتْحِهَا ـ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ الْعَصْرَ، فَسَلَّمَ ثُمَّ قَامَ مُسْرِعًا فَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ إِلٰی بَعْضِ حُجَرِ نِسَائِهٖ، فَفَزِعَ النَّاسُ مِنْ سُرْعَتِهٖ ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ فَرَأَى أَنَّهُمْ قَدْ عَجِبُوا مِنْ سُرْعَتِهِ، قَالَ: «ذَكَرْتُ شَيْئًا مِنْ تِبْرٍ عِنْدَنَا، فَكَرِهْتُ أَنْ يَحْبِسَنِي فَأَمَرْتُ بِقِسْمَتِهٖ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ۔ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: «كُنْتُ خَلَّفْتُ فِي الْبَيْتِ تِبْرًا مِنَ الصَّدَقَةِ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُبَيِّتَهُ»۔ ”التِّبْرُ“ قِطَعُ ذَهَبٍ أَوْفِضَّةٍ.



حضرت ابو سروعہ رضي الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ :میں نے مدینہ میں رسولِ کریم ﷺ کے پیچھے عصر کی نماز ادا کی اور آپ ﷺ نماز سے سلام پھیر کر تیزی سے کھڑے ہو گئے، اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے اپنی کسی بیوی کے حجرے میں تشریف لے گئے۔ اور لوگ آپ ﷺ کی تیزی دیکھ کر گھبرا گئے۔ چنانچہ آپ ﷺ باہر تشریف لائے تو محسوس کیا کہ لوگ میری تیزی سے سخت متعجب ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے خیال گزرا کہ ہمارے ہاں سونے کی ایک ڈلی ہے، تو میں نے اس کے بند رکھنے کو معیوب جانا اور اس کے تقسیم کرنے کا حکم دیا۔

بخاری کی ایک روایت میں ہے، صدقات سے گھر میں سونے کا ایک ٹکڑا رہ گیا تھا، اس کا میرے گھر میں رات بھر رہنا مجھے ناگوار گزرا۔


تبر :سونے یا چاندی کے ٹکڑے کو کہتے ہیں۔


اس سے ایک بات اور بھی ثابت ہوتی ہے کہ ضرورت کے وقت لوگوں کی گردنیں پھلانگی جا سکتی ہیں۔

”آپ ﷺ لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے کسی بیوی کے حجرے میں تشریف لے گئے“ علماء نے لکھا ہے عام حالات میں لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آنا جانا ناپسندیدہ عمل کہا گیا ہے لیکن خاص حالات میں کسی خاص ضرورت کی وجہ سے ایسا کرنا جائز ہے۔ اور اس سے یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ اگر ضرورت ہو تو سلام پھیرنے کے فوری بعد اٹھ سکتے ہیں۔

لوگ آپ ﷺ کی اس تیزی کو دیکھ کر گھبرا گئے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عموماً آپ ﷺ سکون اور آرام سے چلتے تھے اس روز آپ ﷺ جلدی میں تشریف لے گئے تو ضرورت کی وجہ سے جلدی چلنا جائز ہے۔ ابن عربیؒ فرماتے ہیں اعتدال کی چال چلنا یہ سنت ہے زیادہ آہستہ یا زیادہ تیز چلنا یہ پسندیدہ نہیں ہے۔

اصل میں جن کی نظر سارے احادیث پر ہوتی ہے نا تو ان میں فقاہت ہوتی ہے۔ اور جن کی نظر سارے نہیں صرف جزوی، چند باتوں پر ہوتی ہے، تو ان میں پھر ظاہری سختی آسکتی ہے۔ کیونکہ بعض چیزیں اس کو معلوم ہی نہیں ہوتیں۔ تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ ہے ہی نہیں، اور دوسرے لوگوں کو پتہ ہوتا ہے۔ تو اس کے مطابق، جیسے ایک صاحب تھے، اس نے نماز پڑھی، عالم تھے۔ تو ذرا مطلب یہ ہے کہ وہ جیسے اٹھنے کا اور بیٹھنے کا انداز ایسا تھا کہ عمومی طور پہ ایسا نہیں ہوتا۔ تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ کی سنت کے مطابق آپ نے نماز کیوں نہیں پڑھی؟ انہوں نے کہا کون سی سنت؟ بڑھاپے کی سنت یا جوانی کی سنت؟


اب ظاہر ہے بڑھاپے میں تو آپ ﷺ بھی سہارا لیتے تھے اور اس طرح، جوانی میں انسان اپنے اس پہ، ٹخنوں کے زور پہ کھڑا ہو جاتا ہے لیکن بڑھاپے میں تو ایسا نہیں کر سکتا۔ اب یہ بات ہے کہ اب کوئی کہہ دے کہ نہیں، بوڑھے بھی ایسے ہی کریں تب وہ سنت ہے، تو یقیناً وہ غلط بات ہوگی۔تو اس طرح ضرورت کے وقت جن جن چیزوں کی گنجائش ہوتی ہے، تو وہ گنجائش بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اختیار کی ہو تو سنت بن جاتی ہے، اس وقت کی سنت بن جاتی ہے۔ تو یہاں پر بھی اس قسم کی بات تھی، کہ ضرورت پڑی اور وہ ضرورت اس سے زیادہ اہم تھی۔ کیونکہ سنت تو مستحب تھی؟ تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے زیادہ ضروری تھا۔تو فرمایا کہ: مجھے اچھا نہیں لگا کہ یہ میرے گھر میں رات بھر پڑا رہے۔ تو اس لیے فوراً اٹھے اور گردنوں کو پھلانگتے ہوئے تشریف لے گئے۔


---


**تجزیہ اور خلاصہ:**


**بمقام:** خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)


**سب سے جامع عنوان:** صدقات کی ادائیگی میں عجلت اور احادیث کے جامع فہم کی اہمیت

**متبادل عنوان:** ضرورت کے تحت صفیں پھلانگنا اور دین میں فقاہت


**اہم موضوعات:**

* صدقات کی ادائیگی میں رسول اللہ ﷺ کی احتیاط اور جلدی۔

* بوقتِ ضرورت لوگوں کی گردنیں (صفیں) پھلانگنے اور سلام کے فوراً بعد اٹھنے کا شرعی جواز۔

* اعتدال کی چال اور ضرورت کے وقت تیز چلنے کی سنت۔

* احادیث کے جزوی مطالعے سے پیدا ہونے والی ظاہری سختی اور جامع مطالعے سے حاصل ہونے والی فقاہت۔

* سنت کا فہم: جوانی اور بڑھاپے کے مختلف حالات اور عذر کے وقت شریعت کی دی گئی گنجائش۔



ضرورت کے تحت صفیں پھلانگنا اور دین میں فقاہت - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور