نیک اعمال میں جلدی اور فتنوں کے دور میں ایمان کی حفاظت

درس نمبر 135، جلد نمبر 1، باب 10 : نیکیوں کی طرف جلدی کرنے اور طالب خیر کو اس بات پر آمادہ کرنے کا بیان کہ وہ نیکی کو بغیر کسی تردد کے پوری توجہ اور محنت کے ساتھ اختیار کرے

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• نیک اعمال کرنے میں جلدی کرنے کی فضیلت اور اہمیت۔• تاریک رات کی طرح چھا جانے والے فتنوں کا ظہور۔• فتنوں کے دور میں ایمان کا تیزی سے متزلزل ہونا (صبح مومن اور شام کو کافر)۔• دنیاوی مال و متاع کی خاطر دین کا سودا کرنا۔• موجودہ دور اور قربِ قیامت کی علامات کا انطباق۔• ایمان کی حفاظت اور اعمالِ صالحہ کی بروقت ادائیگی کی نبوی ﷺ تلقین۔

الحمد للہ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔


اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ:

فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ


نیک اعمال کرنے میں جلدی کرنے کے بیان میں


وَأَمَّاالْأَحَادِيثُ:

(87)فَالْاَوَّلُ: عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "بَادِرُوْا بِالْأَعْمَالِ فَسَتَكُوْنُ فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِيْ كَافِرًا أَوْ يُمْسِيْ مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيْعُ دِيْنَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا.“ (رواه مسلم

”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: نیک کاموں کے کرنے میں جلدی کرو عنقریب تاریک رات کے حصوں کے مانند فتنے رونما ہوں گے، صبح کے وقت آدمی ایماندار ہے تو شام کو کافر ہو جائیگا اور شام کو ایماندار ہے تو صبح کو کافر ہو جائے گا، دنیا کے مال و متاع کے لئے دین کو فروخت کر دے گا۔“


اس مضمون پہ قرآن پاک کی آیتیں بھی گزر گئیں اور اب جو حدیث شریف یعنی یہاں پر آئی ہے، اس میں بہت ہی زیادہ گویا کہ ہمیں اپنی حالت کے بارے میں ڈرایا گیا ہے۔ کیونکہ وہ فتنوں کا دور شاید تقریباً آ گیا ہے۔ جس میں صبح کو ایماندار ہوگا کوئی آدمی اور شام کو کافر، اور شام کو ایماندار ہوگا تو صبح کافر، اور لوگ دنیا کے مال و متاع کے لیے دین فروخت کریں گے۔


یہ چیزیں اب سامنے نظر آ رہی ہیں۔ اس وجہ سے ہمیں اپنی حفاظت کا بندوبست کرنا پڑے گا اور نیک کام میں جلدی کرنی پڑے گی۔

فَسَتَكُوْنُ فِتَنٌ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ: عنقریب تاریک رات کے حصوں کے مانند فتنے رونما ہوں گے۔

اس میں قرب قیامت کی علامت کا بیان ہے کہ قیامت کے قریب پے در پے فتنوں کا ظہور ہوگا اور وہ فتنے ایسے ہولناک ہوں گے کہ آدمی اپنے دین و ایمان کو بھی بھول جائے گا پھر دنیا کے حاصل کرنے کی دوڑ میں ایسا لگے گا کہ دنیوی مفادات کے حاصل کرنے کے لئے اپنے دین و ایمان کا بھی سودا کرنے میں بھی کوئی تامل نہیں کرے گا، ایسے حالات میں جناب رسول اللہ ﷺ ایمان والوں کو تلقین فرمارہے ہیں کہ ایسے وقت میں اعمال صالحہ میں تاخیر نہ کرنا بلکہ اس کو جلدی سے جلدی کرنے کی کوشش کرنا۔

تخریج حدیث: اخرجه مسلم کتاب الایمان (باب الحث على المبادرة بالاعمال قبل تظاهر الفتنة) تحفة الاشراف 13990۔

اللہ جل شانہ ہم کو، ہمیں ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ فرمائے۔



نیک اعمال میں جلدی اور فتنوں کے دور میں ایمان کی حفاظت - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور