الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
عمر عمل کے ساتھ ہی بہتر ہے
(108) ﴿الرابع عشر: وَعَنْ أَبِي صَفْوَانَ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "خَيْرُ النَّاسِ مَنْ طَالَ عُمُرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ"﴾ (رواه الترمذي)
”حضرت عبداللہ بن بسر اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بہتر انسان وہ ہے جس کو لمبی عمر عطاء ہوئی اور اعمال اچھے سرزد ہوئے۔“
لمبی عمر کا ہونا نعمت ہے بشرطیکہ اعمال بھی اچھے ہوں
دراز عمر ایک نعمت ہے کہ اس میں اعمال کرنے کا زیادہ موقع ملتا ہے مگر اس دراز عمر میں شرط یہ ہے کہ اس میں اس کو ایمان اور اعمال صالح کی توفیق مل جائے اگر اس کی عمر تو لمبی ہوئی ساتھ ساتھ اس نے گناہوں میں اس زندگی کو لگایا تو اب یہی زندگی اس کے لئے تباہی اور بربادی کا ذریعہ بن جائے گی۔
کبھی طاعتوں کا سرور ہے کبھی اعتراف قصور ہے
ہے ملک کو جس کی نہیں خبر وہ حضور میرا حضور ہے
اس سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت کی خاطر دین کی خدمت کے لئے درازی عمر کی تمنا بھی کر سکتا ہے اور دعا بھی مانگ سکتا ہے۔
ترمذی ابواب الزهد (باب ماجاء فی طویل العمر للمؤمن) احمد فی مسنده 17696/6، مسند دارمی 308/2 الحاکم 1255/1، والبیہقی 371/3، وابن ابی شیبه 254/14۔