کثرتِ سجود کی فضیلت اور مجازِ مرسل کا مفہوم

درس نمبر 161، جلد 1، باب 11: جدوجہد کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• کثرتِ سجود اور نوافل پڑھنے کی فضیلت

• سجدے کی برکت سے درجات کی بلندی اور گناہوں کی معافی

• فقہِ حنفی کی رو سے مستقل سجدے کا عبادت نہ ہونا

• علمِ بلاغت کی اصطلاح 'مجازِ مرسل' کی تشریح (جز بول کر کل مراد لینا)

• قرآن و محاورات سے مجازِ مرسل کی مثالیں (جیسے کانوں میں انگلیاں رکھنا)

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.


کثرتِ سجود گناہوں کا کفارہ ہے

(107) ﴿الثالث عشر: وَعَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ وَ يُقَالُ: أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ. ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "عَلَيْكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ؛ فَإِنَّكَ لَنْ تَسْجُدَ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً"﴾ (رواه مسلم)

”حضرت ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ مولیٰ رسول اللہ ﷺ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا فرماتے تھے نوافل کثرت کے ساتھ پڑھا کرو اس لئے کہ تم اللہ کے لئے کوئی سجدہ نہیں کرو گے مگر اس کے بدلہ میں اللہ تمہارا ایک درجہ بلند فرمائے گا اور ایک غلطی دور فرمائے گا۔“

سجدہ کی فضیلت

اللہ کے لئے کوئی سجدہ نہیں کرو گے مگر اس کے بدلہ میں اللہ تمہارا ایک درجہ بلند فرمائے گا اور ایک غلطی معاف فرما دے گا۔ نماز ایک ایسی اہم عبادت ہے اس کا ہر ہر رکن مستقل عبادت کا درجہ رکھتا ہے یہاں پر سجدے کی فضیلت کو بیان کیا جا رہا ہے۔ اسی دوسری روایت میں سجدہ کی فضیلت کو بیان کیا گیا ہے۔


لیکن یہاں

سجدہ سے مراد پوری نماز ہے۔

سجدہ کرو (اللہ کے لئے) اس سے مراد نماز ہی ہے الگ سجدہ مراد نہیں ہے کیونکہ احناف کے نزدیک مستقل الگ سجدہ کوئی عبادت نہیں۔ سجدہ ایک اہم رکن ہے نماز کا، اس لئے اس رکن کو بول کر پوری نماز مراد لے لی جاتی ہے۔ ایسا کئی مقامات پر ہوتا ہے کہ کوئی اہم چیز بول کر پوری چیز مراد لے لی جاتی ہے۔

اس کو مجازِ مرسل کہتے ہیں۔ مجازِ مرسل۔ یعنی اس میں بعض دفعہ، یعنی ایک حصہ بول کر پورا مراد لیا جاتا ہے۔


جیسے کانوں میں انگلیاں رکھنا۔ تو کانوں میں کوئی پوری انگلی رکھ سکتا ہے؟ نہیں رکھ سکتا، انگلی کے صرف پورے ہی رکھ سکتے ہیں۔ اور وہ بھی شاید پورا نہ ہو۔ لیکن اس کو کانوں میں انگلیاں رکھنا کہتے ہیں۔ تو اس طریقے سے سجدہ بول کر، اس سے پوری مراد، مراد لی جاتی ہے۔ یہ مجازِ مرسل میں آتا ہے۔

اللہ جل شانہ ہم سب کو زیادہ سے زیادہ سجدے یعنی نماز، نفل پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔


کثرتِ سجود کی فضیلت اور مجازِ مرسل کا مفہوم - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور