الحمد للہ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
نیک اعمال کی طرف سبقت کرنے کے بیان میں۔
وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ﴾
اللہ نے فرمایا، دوڑو اپنے پروردگار کی بخشش اور جنت کی طرف جس کا عرض آسمان اور زمین کے برابر ہے، جو ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔
"وَسَارِعُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ" سے مراد یہاں، یہاں پر مراد اسبابِ مغفرت ہے۔ اس کی مفسرین نے مختلف تعبیریں فرمائی ہیں۔ مثلاً ابنِ عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا، مراد اسلام ہے۔ عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ کے بقول، توبہ، رجوع الی اللہ ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے نزدیک، ادائے فرض ہے۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، مراد تکبیر، نماز کی تکبیرِ اولیٰ ہے۔ بقول ضحاک، جہاد ہے۔ ان تمام اقوال سے مقصود اعمالِ صالحہ ہیں جو مغفرتِ الٰہی کے باعث اور سبب بنتے ہیں۔
عرض، "عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ"۔ یہ کلام بطورِ تمثیل کے ہے۔ حقیقت میں مراد نہیں، کیونکہ عام لوگوں کے نزدیک سب سے زیادہ وسعت زمین اور آسمان کی ہوتی ہے۔ اس لیے اس سے تعبیر کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ جنت کی وسعت تو اس سے بھی زیادہ ہوگی۔ جب جنت کا عرض اتنا لمبا ہے تو اس کے طول کا حال خدا جانے کتنا ہوگا۔ بعض لوگوں نے عرض کو طول کے ایسے مقابلے میں نہیں کہا، بلکہ عرض کو ثمن یعنی قیمت کے معنی میں لیا ہے۔ جیسے امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"إِنَّ الْعَرْضَ هَاهُنَا مَا يُعْرَضُ مِنَ الثَّمَنِ فِي مُقَابَلَةِ الْمَبِيعِ أَيْ ثَمَنُهَا لَوْ بِيعَتْ كَثَمَنِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْمُرَادُ بِذَلِكَ عَظِيمُ مِقْدَارِهَا وَجَلَالَةُ خَطَرِهَا وَأَنَّهُ لَا يُسَاوِيهَا شَيْءٌ عَظِيمٌ"
ابو مسلم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عرض سے مراد آیت میں وہ چیز ہے جو مبیع کے مقابلے میں بطورِ قیمت پیش کی جائے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر بالفرض جنت کی قیمت ہے تو سارے آسمان اور زمین کے بقدر قیمت ادا کرنی ہوگی۔ یہ جنت کی عظمت اور جلالتِ قدر کا بیان ہے۔
اصل میں واقعی اللہ پاک نے جب، جب قدرت سے آسمان اور زمین کو بنایا ہے، تو جنت بھی تو اپنی قدرت سے بنائے گا۔ تو اگر اس کی قدرت میں ہے، تو اس کی قدرت میں سب کچھ ہے۔ یہ بات تو سمجھ میں آسکتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اعمال کی جو مسابقت ہے۔ یعنی اس کے لیے کوشش کرنا، محنت کرنا۔ اس کے لیے گویا کہ مطلب ہے، اس کے لیے کو، اسباب اختیار کرنا۔ تو وہ تمام اسباب جن سے، جیسے کہ ان کا ذکر آیا ہوا ہے، یعنی اعمالِ صالحہ، وہ انسان کے کام آئیں گے جنت کمانے کے لیے۔
اگرچہ ملے گا اپنے فضل سے، اللہ تعالیٰ فضل سے ہی دے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سارے اعمال ہمارے جو ہوں گے، اللہ پاک کی قبولیت پر منحصر ہوں گے۔ اللہ پاک قبول اپنے فضل سے فرمائے گا۔ کیونکہ ہمارے اعمال کے اندر تو بڑے کھوٹ ہوتے ہیں۔ تو یعنی گویا کہ فیصلہ تو فضل پر ہی ہوگا۔ لیکن بہرحال یہ ہے کہ ہمارے لیے طریقہ یہی ہے کہ ہم اس میں کوشش کر لیں اعمالِ صالحہ کرنے کی، اور اس میں سستی نہ کریں۔
اللہ جل شانہ ہم سب کو زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ نیک اعمال کی حرص ہونی چاہیے۔ نیک اعمال کی حرص ہونی چاہیے۔ جتنا زیادہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اس میں کوئی سستی نہیں کرنی چاہیے۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالحمد للہ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔
**تجزیہ اور خلاصہ:**
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
**سب سے جامع عنوان:** نیک اعمال کی طرف سبقت، جنت کی وسعت اور اللہ کا فضل
**متبادل عنوان:** جنت کا حصول: اعمالِ صالحہ کی حرص اور رب کی رحمت
**اہم موضوعات:**
* سورہ آل عمران کی آیت کی روشنی میں مغفرت اور جنت کی طرف دوڑنے کا حکم۔
* اسبابِ مغفرت کی تفسیر (اسلام، توبہ، ادائے فرض، تکبیرِ اولیٰ، جہاد)۔
* جنت کی وسعت کا تمثیلی بیان اور لفظ "عرض" کے مختلف معانی (چوڑائی یا قیمت)۔
* امام فخر الدین رازیؒ اور ابو مسلمؒ کے اقوال کی روشنی میں جنت کی عظمت۔
* انسان کے اعمال میں خامیوں کا اعتراف اور جنت کے حصول کا دارومدار محض اللہ کے فضل پر ہونا۔
* نیک اعمال کی حرص پیدا کرنے اور سستی سے بچنے کی تلقین۔