الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
کثرتِ سجود قرب نبی ہے
(106) ﴿الثاني عشر: وَعَنْ أَبِي فِرَاسٍ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ الأَسْلَمِيِّ خَادِمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: "كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَآتِيهِ بِوَضُوئِهِ، وَحَاجَتِهِ فَقَالَ: "سَلْنِي"، فَقُلْتُ: أَسْأَلُكَ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ. فَقَالَ: "أَوَ غَيْرَ ذَلِكَ؟" قُلْتُ: هُوَ ذَاكَ، قَالَ: "فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ"﴾ (رواه مسلم)
”حضرت فراس رضی اللہ تعالیٰ عنہ (جو رسول اللہ ﷺ کے خادم اور اصحاب صفہ میں سے تھے) بیان کرتے ہیں کہ میں رات بھر رسول اللہ ﷺ کے پاس رہتا، آپ ﷺ کے وضوء کے لئے پانی لاتا اور دیگر ضروریات کا خیال رکھتا، آپ ﷺ نے فرمایا جو کچھ مانگنا ہے مانگ لو،
ایسا ہوتا ہے کبھی کبھی۔ خدام کو اکثر اس قسم کی چیزیں مل جاتی ہیں، اللہ تعالیٰ نصیب فرما دیتے ہیں۔
میں نے عرض کیا میں جنت میں آپ ﷺ کی رفاقت کا خواستگار ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا کوئی اور خواہش بھی ہے؟ میں نے عرض کیا وہ بھی یہی ہے، فرمایا کثرت نوافل کے ساتھ میری مدد کرو۔“
اب دیکھیے اس سے پتا چلا کہ آپ ﷺ کی جو محبت ہے، وہ اپنی جگہ بہت لازمی ہے اور ایمان کا جزو ہے، لیکن اس کی تکمیل جو ہے وہ اعمال سے ہوتی ہے۔ صرف زبانی باتیں نہیں چلتیں، یہ والی بات ہے۔ اب دیکھیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے جو محب ہیں، ان کو راستہ بتا دیا کہ اگر محبت میرے ساتھ کرنا چاہتے ہو، میرے ساتھ رہنا چاہتے ہو، تو پھر کثرتِ سجود کے ذریعے سے میری مدد کر لو۔ یعنی میں تمہارے لیے دعا کروں گا لیکن ذریعہ تمہارا یہی بنے گا۔ تو یہ اصل میں بنیادی بات ہے، اس کو لوگ سمجھنا نہیں چاہتے، سمجھتے نہیں ہیں (واللہ اعلم بالصواب)، حالانکہ بالکل واضح بات ہے۔ تو جو شفاعت کے طالب ہیں، تو وہ سنت کی اتباع کو اپنے لیے لازم سمجھیں۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو یہ نعمت نصیب فرمائے۔ آمین۔
مسجد نبوی ﷺ میں ایک چبوترہ تھا اسے عربی میں "صفہ" کہا جاتا ہے، اس پر اسلام کی ابتداء درسگاہ تھی جس کے استاد، معلم انسانیت جناب رسول اللہ ﷺ خود بنفس نفیس تھے، وہاں پڑھنے والے فقراء مساکین جن لوگوں نے علم کے حصول کو دنیا کی کمائی پر ترجیح دی ہوتی تھی۔ اس چبوترے پر اپنا وقت گزارتے تھے ان لوگوں کو ”اصحاب الصفہ“ کہا جاتا ہے۔
ان اصحاب الصفہ میں سے حضرت ربیعہ بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے جو شب روز آپ کی خدمت میں رہتے تھے۔
تو آپ ﷺ نے جو یہ فرمایا کہ:
"تم کثرت سجود کے ذریعہ اپنی ذات سے میری مدد کرو" مطلب یہ ہے آپ ﷺ نے فرمایا دعا میں بھی تمہارے لئے کروں گا مگر تم بھی نماز کے ذریعہ بارگاہ خداوندی میں کثرت سے سجدہ کر کے اپنی عجز و بے چارگی کا اظہار کرتے رہو۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر کسی بزرگ وغیرہ کی خدمت کرنے کی سعادت حاصل ہو جائے تو مقصود صرف آخرت کو بنا کر خدمت کرنی چاہئے، دنیا کی کسی چیز کو سامنے رکھ کر خدمت نہیں کرنی چاہئے، نیز صرف ان بزرگ کی خدمت یا دعا کو سب کچھ سمجھ نہیں لینا چاہئے بلکہ اپنی طرف سے بھی اللہ تعالیٰ کی بندگی میں کوئی کوتاہی نہیں کرنی چاہئے. یعنی عمل کرو عمل، زبانی جمع خرچ سے بچو، کیونکہ اس راستہ میں تو صرف عمل ہی عمل ہے۔ مطلب یہ بات ہے۔
تو واقعتاً اگر کسی کو یہ بات سمجھ میں آ جائے، تو یقیناً بزرگوں کی صحبت میں بیٹھنے سے فائدہ ہوتا ہے اور ایسی خوش نصیبی کے مواقع آ جاتے ہیں، جیسے ان صحابی کو اللہ تعالیٰ نے نصیب فرمائے کہ آپ ﷺ نے خود فرمایا: مانگو جو مانگتے ہو۔
ایک اور بات بھی عرض کرتا ہوں۔ یہ بزرگوں کا واقعہ ہے۔ خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ، حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے شیخ تھے۔ ایک دفعہ ان کے بے وقت مہمان آ گئے۔ مثلاً آج کل کے لحاظ سے اگر ہم دیکھیں تین، ساڑھے تین بجے کے لگ بھگ مہمان آجائیں۔ تو اس وقت تو دیہات تھے، تو دیہات میں تو یہ hotel وغیرہ تو نہیں ہوتے تھے کہ کھانا ہر وقت ملتا تھا اس طرح۔ تو ایک نانبائی کا گھر حضرت کے سامنے تھا، تو اس نے جب دیکھا کہ بے وقت مہمان آ گئے، تو انہوں نے نے روٹیاں جلدی جلدی لگانی شروع کیں مہمانوں کی تعداد کو دیکھ کر۔ تو تھوڑی دیر میں روٹیاں پک گئیں۔ تو روٹیاں لے کے حضرت کے دروازے پہ گئے، دروازہ کھٹکھٹایا، حضرت باہر آ گئے۔ جی کیا بات ہے؟ جی مجھے پتا چلا کہ آپ کے بے وقت مہمان آئے ہیں، تو ان کے کھانے کی آپ کو فکر ہوگی، تو میں روٹیاں بنوا کے لایا ہوں۔ حضرت نے ما شاء اللہ بڑی خوشی سے ان سے لے لیں، وہ ہدیہ تھا۔ اندر جا کے مہمانوں کو کھانا کھلایا۔
اس کے بعد مہمان جب رخصت ہو گئے تو اس کو بلایا۔ ان سے فرمایا: مانگو کیا مانگتے ہو۔ ظاہر ہے جیسے قسمت مہربان ہو گئی۔ مانگو کیا مانگتے ہو؟ تو اس نے کہا: حضرت، اپنا جیسا بنا لیں۔ انہوں نے کہا یہ بڑا مشکل کام ہے، کوئی اور چیز مانگو۔ انہوں نے کہا: حضرت، دینا ہے تو یہی دے دو، باقی مجھے کسی اور چیز کی طلب نہیں ہے۔ بار بار حضرت نے کہا بھئی یہ برداشت نہیں کر سکو گے، لیکن بہرحال اس نے کہا جی اگر دینا ہے تو یہی دیں۔ انہوں نے کہا اچھا ٹھیک ہے پھر آ جاؤ۔
تو ان کو اپنے کمرے میں لے گئے، دروازہ بند کر دیا۔ اندر کیا ہوا، یہ تاریخ میں نہیں آیا۔ لیکن جس وقت دروازہ کھلا تو ایک کی جگہ دو باقی باللہ تھے۔ ایک تو وہ تھے جو حضرت خود تھے اور دوسرے تھے لیکن وہ بے ہوش تھے۔ ظاہر ہے برداشت نہیں کر سکتے تھے نا۔ بے ہوش تھے۔ تین دن تک بے ہوش رہے، پھر اس کے بعد فوت ہو گئے۔ تو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے مواعظ میں بیان فرمایا ہے، حضرت نے فرمایا: افسوس بٹیارا مر گیا، لیکن سبحان اللہ، خوش قسمت تھا، باقی باللہ بن کے مر گیا۔ باقی باللہ بن کے مر گیا۔
تو اس میں یہ ہوتا ہے نا کہ دیکھیں جیسے ذکر ہم دیتے ہیں، تو یہ تھوڑا دیتے ہیں، پھر اس سے زیادہ، پھر اس سے زیادہ، تاکہ وہ پہلے کے لیے جگہ بن جائے، آنے والی چیز کے لیے۔ یکدم سارا نہیں دیا جاتا۔ نہ مجاہدہ سارا یکدم دیا جاتا ہے، نہ ذکر سارا یکدم دیا جاتا ہے۔ دین بھی بہت تدریج کے ساتھ آیا ہے۔ تو یہ بات، اگر تدریج کو کوئی bypass کرنا چاہتا ہے نا تو پھر اس قسم کی چیزیں آ سکتی ہیں۔ ہو سکتا ہے، لیکن باتیں پھر اس قسم کی آ سکتی ہیں کہ وہ برداشت انسان نہیں کر سکتا۔ تو اس وجہ سے اس تدریج کو درمیان سے نہیں نکالنا چاہیے اور وہ یہی ہے کہ جو کام بتایا جائے، اس کو کرتے رہو۔ اس طرح کرتے رہو، تو یہ بوجھ اس کے اوپر آئے گا جو بتانے والا ہے۔ وہ تمہیں اس طرح بتائے گا کہ آپ برداشت کر سکیں، اس طریقے سے آپ چلیں گے۔ تو کام بن جائے گا۔ اور اگر آپ کہتے ہیں نہیں جلدی کرو، جلدی کرو، جلدی کرو، تو تعجیل سے بڑا نقصان ہوتا ہے۔ تعجیل میں یہی بات ہوتی ہے یا تو تم برداشت نہیں کر سکو گے، لہٰذا اس کا نقصان ہو جائے گا دنیاوی، اور یا پھر یہ ہے کہ بدگمانی ہو جائے گی۔ بعض دفعہ بدگمانی بھی ہو جاتی ہے نا، کہ آدمی کہتا ہے، او یار یہ تو میرے لیے نہیں سوچتے۔ تو مطلب یہ دیکھو اس طرح۔ تو پھر بدگمانی سے کام خراب ہو جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے کہتے ہیں کہ جو موانع ہیں تصوف میں، پانچ، ان میں ایک مانع تعجیل ہے۔ یعنی ایک تو خلافِ سنت ہے نا، ایک مخالفتِ شیخ ہے۔ ایک حسن پرستی ہے۔ مطلب اس طرح یہ وہ یہ چیزیں ہیں۔ تو ان میں ایک تعجیل ہے، یعنی جلدی مچانا۔ تو جلدی نہیں مچانی چاہیے کیونکہ اس میں انسان کا اپنا نقصان ہے۔ اس کے لیے ابھی تیار نہیں ہوتا تو پھر ظاہر ہے اگر ہو بھی جائے تو اس میں پھر نقصان ہو سکتا ہے۔ تو اس وجہ سے جو طریقہ بتایا جائے، اس طریقے پہ عمل کریں، اسی میں فائدہ ہے ان شاء اللہ۔