الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
جنت اور جہنم کا قریب ہونا
(105) الْحَادِي عَشَرَ : عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَالِكَ" (رواه البخاری)
"حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جنت تم میں سے ہر ایک کی جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہے اور آگ کی کیفیت بھی ایسی ہی ہے۔"
ابن حجرؒ اس حدیث کے مطلب میں فرماتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت آدمی کو جنت یاد دلاتی ہے اس کو معلوم نہیں ہوتا کہ کون سی نیکی ہے جس کو اللہ تعالیٰ قبول فرما کر اس کے لئے جنت کا فیصلہ فرما دیں اور اسی طرح کون سی برائی ایسی ہے جس سے ناراض ہو کر اللہ اس کے لئے جہنم کا فیصلہ فرما دیں۔
علامہ ابن جوزیؒ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ یہ کنایہ ہے کہ جنت کا حصول بہت آسان ہے کہ آدمی نیک اعمال کو صحیح نیت کے ساتھ کرلے، اسی طرح جہنم کا حصول بھی آسان ہے کہ آدمی اپنی خواہشات نفسانی کی اتباع اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے۔
علامہ سعدؒ فرماتے ہیں کہ مطلب حدیث کا یہ ہے کہ ایک کافر آدمی ہو اور وہ مسلمان ہو جائے تو اس کی جنت بالکل قریب آگئی، اسی طرح کوئی مسلمان کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کرے تو اب اس کی جہنم بھی بالکل قریب آگئی۔ یا مطلب یہ ہے کہ جنت اور جہنم دونوں چیزیں انسان کے قریب ہیں کہ نیکی کرے گا تو جنت میں اور گناہ کرے گا تو جہنم میں، صرف درمیان میں موت کا پردہ حائل ہے، موت کے فوری بعد اس کے لئے جنت یا جہنم کا فیصلہ ہو جائے گا۔
مطلب جب تک آپ کا register کھلا ہے، تو اس وقت تک آپ جو کچھ کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔ فیصلہ گویا کہ آپ کا عمل کروائے۔ لیکن یہ چونکہ پتا نہیں ہے کہ کس وقت موت آ رہی ہے۔ اس کا ایک second کا بھی پتا نہیں ہے۔ اور تو چھوڑیں ، ایک second کا بھی پتا نہیں ہے۔ تو ایسی صورت میں کم سے کم time کا آپ تصور کر سکتے ہیں۔
تو اب موت جس وقت بھی آ جائے گی تو وہی جنت اور دوزخ ہے۔ جس عمل پر بھی ہو گا۔ کیونکہ وہ کہتے ہیں نا وہ إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالْخَوَاتِيمِ۔
جو آخری وقت میں جو آ گیا تو اس کے حساب سے ہو گا۔ تو ہمیں کچھ پتا نہیں کہ کون سا آخری وقت ہے۔ تو اس وجہ سے ہمیں محتاط رہنا چاہیے۔
ایک دفعہ ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ، ان سے کسی نے پوچھا کہ حضرت، ایک حدیث شریف ہے کہ انسان عمل کرتا رہتا ہے، کرتا رہتا ہے، کرتا رہتا ہے اور جنت کے بالکل قریب پہنچ جاتا ہے کہ کوئی ایسا عمل اس سے ہو جاتا ہے کہ فوراً جہنم میں۔ اور کوئی برے اعمال میں مبتلا ہوتا ہے، ہوتا ہے، ہوتا ہے کہ کوئی ایسا عمل اسے نصیب ہو جاتا ہے کہ فوراً جنت میں۔ تو یہ تو بڑا مشکل ہے، مطلب گویا کہ اطمینان نہیں ہو سکتا۔
تو حضرت نے پہلے ایک شعر پڑھا۔
شعر پڑھا:
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک جہاں میں
شاہیں کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور
پھر فرمایا کہ دیکھو کمال ہے، اسی حدیث نے تو صحابہ کو کتنا کچھ دے دیا تھا، اور آپ لوگ اسی حدیث کی وجہ سے پریشان ہو رہے ہیں۔ فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو نیک اعمال کر رہا ہے، وہ اپنے عجب کی وجہ سے اس عمل کو ضائع نہ کرے۔ ڈرتا رہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے سارے اعمال ضائع نہ ہو جائیں، تو ان کے اعمال باقی رہ جائیں گے، محفوظ رہ جائیں گے۔ اور جو برے اعمال میں ہے، وہ مایوسی کی وجہ سے اس کو جاری نہ رکھے، بلکہ اس کو یہ یاد ہونا چاہیے کہ اللہ پاک تو بہت جلدی مجھے معاف کر سکتا ہے۔ میں جیسے توبہ کر لوں گا تو اللہ مجھے معاف کر دے گا۔ وہ توبہ کر لے۔
﴿لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا﴾۔
تو فرمایا اس حدیث شریف نے تو، یعنی صحابہ کرام کو کیا کچھ دے دیا تھا اور آپ لوگ اس سے بھی پریشان ہو گئے۔
تو بہرحال یہ ہے کہ واقعتاً یہ ہمارے لیے بہت بڑی نعمت کی بات ہے۔ کہ اللہ جل شانہٗ نے توبہ کو بہت آسان کیا ہے۔ بہت آسان کیا ہے۔ کسی وقت بھی انسان توبہ کر سکتا ہے، اور توبہ سے سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
اور ایک دفعہ میں نے تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے عرض کیا کچھ اس قسم کی باتیں ذرا ڈرنے والی۔ تو مجھے فرمایا کہ یہ اللہ پاک نے جو فرمایا ہے:
﴿لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللهِ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا﴾
یہ 'جَمِيعًا' میرا اور آپ کا ہے یا اللہ پاک کا ہے؟ میں نے کہا اللہ پاک کا ہے۔ تو اللہ پاک کے " جَمِيعًا" سے کوئی چیز بچ بھی سکتی ہے؟ مطلب اللہ پاک تو جب معاف کرے تو پورے کا پورا معاف کر دیتے ہیں، اس کے لیے کیا مشکل ہے؟ تو یہ بات ہے کہ اس میں ما شاء اللہ، اللہ پاک نے ہمیں آسانی عطا فرمائی ہے۔