الله أكبر۔ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
عالم برزخ میں عمل ہی کام آئے گا
(104) الْعَاشِرُ: وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثَةٌ: أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَعَمَلُهُ؛ فَيَرْجِعُ اثْنَانِ وَيَبْقَى وَاحِدٌ: يَرْجِعُ أَهْلُهُ وَ مَالُهُ، وَيَبْقَى عَمَلُهُ" (متفق عليه)
"حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا: میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں اہل خانہ، مال، اور عمل، چنانچہ اہل خانہ اور مال تو واپس آجاتے ہیں البتہ عمل باقی رہتا ہے۔"
سب سے پہلے تو مال ہی کیونکہ وہ تو مرض الموت میں وارثوں کا ہو جاتا ہے، صرف تہائی کی وصیت کر سکتے ہیں۔ اور موت کے ساتھ ہی مال اس کا نہیں رہتا، پھر وارثوں کا ہو جاتا ہے۔
اس کے بعد جو اہل خانہ ہیں، یہ جنازہ پڑھتے ہیں، ان کے ساتھ دفن کرنے کے لیے جاتے ہیں، پھر اس کے بعد لوٹ آتے ہیں۔ اور عمل جو ہوتا ہے وہ اس کے ساتھ جاتا ہے۔
تو یہ ہے کہ
"میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں۔" مطلب حدیث شریف کا یہ ہے کہ جس طرح آدمی ایک مقام سے دوسرے مقام پر سفر کرتا ہے تو سفر کے اعتبار سے توشہ تیار کرتا ہے، جیسا اہم سفر ہوتا ہے وہ سامان تیار کرتا ہے، تو اس حدیث میں بھی اس امر کی ترغیب ہے کہ آدمی کو آخرت کی طرف سفر کرنا ہے پھر وہاں ہی رہنا ہے۔ تو عقلمند آدمی کو چاہئے کہ وہاں کے لئے توشہ تیار رکھے جو اس کے ساتھ رہے وہ نیک اعمال کا توشہ ہے۔
دو چیزیں واپس ہو جاتی ہیں
يَرْجِعُ أَهْلُهُ وَ مَالُهُ: "اہل خانہ اور مال تو واپس آجاتے ہیں۔"
سوال: رشتے دار تو قبر سے واپس ہو جاتے ہیں مال تو گھر میں رہتا ہے اس کے واپس آنے کا کیا مطلب؟
یہ عرب کے دستور کے اعتبار سے ہے کہ عرب میں یہ دستور تھا کہ وہ میت کے مال کو بھی قبرستان تک لے جاتے تھے پھر واپس لے آتے تھے اسی دستور کی وجہ سے یہ فرمایا گیا۔
وَيَبْقَى عَمَلُهُ: "عمل باقی رہتا ہے۔" اس میں اشارہ ہے کہ آدمی ہر وقت میں اعمال کو مقدم رکھے کیونکہ یہی قبر کی تنہائیوں میں ساتھ دیگا اور میدان حشر اور جہنم سے بچانے کے لئے ذریعہ بنے گا۔ اس لئے آدمی اعمال کا ہمیشہ لحاظ رکھے۔ گویا رشتہ دار قبرستان سے واپسی پر زبانِ حال سے یہ کہتے ہیں ؎
لحد تک تیری تعظیم کر دی
اب آگے آپ کے اعمال جائیں
اللہ جل شانہ ہم سب کو صحیح اعمال، صحیح ایمان کے ساتھ، قبولیت والے اعمال نصیب فرما دے۔ اس پر اللہ ہم سے راضی ہو، ایسے راضی ہو کہ پھر ناراض نہ ہو۔