الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
نماز میں قیام اور سجدہ کی اہمیت
(103) التَّاسِعُ: وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً، فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتّٰى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سَوْءٍ! قِيلَ: وَمَا هَمَمْتَ بِهِ؟ قَالَ: هَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَأَدَعَهُ (متفق عليه)
"حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک رات نبی کریم ﷺ کے ساتھ قیام کیا، آپ ﷺ نے اتنا لمبا قیام فرمایا کہ میں نے غلط ارادہ کرلیا، سوال کیا گیا کون سا غلط ارادہ کیا تھا؟ جواب دیا میں نے ارادہ کرلیا تھا بیٹھ جاؤں اور آپ کا ساتھ چھوڑ دوں۔"
یعنی تھکاوٹ کی وجہ سے، آپ ﷺ کے لیے بات normal تھی، لیکن ظاہر ہے ان کے لیے وہ زیادہ تھی، تو یہ بات ہے۔ تو آپ ﷺ اتنی لمبی نماز بھی پڑھ لیتے تھے۔
لمبا قیام افضل ہے یا کثرتِ سجدہ؟ یہ ایک سوال اٹھایا ہے۔
فَأَطَالَ الْقِيَامَ: "آپ ﷺ نے لمبا قیام فرمایا۔"
اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے کہ تطویلِ قیام افضل ہے یا تکثیرِ رکعات (سجدہ) امام ابوحنیفہؒ اور امام شافعیؒ کے نزدیک طولِ قیام افضل ہے اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور امام احمدؒ و امام شافعیؒ کی ایک روایت کے مطابق کثرتِ سجدہ افضل ہے۔ امام ابو یوسفؒ کے نزدیک دن میں تکثیرِ رکعات افضل ہے اور رات میں تطویلِ قیام افضل ہے۔
اور روایتِ بالا بھی امام ابوحنیفہؒ کے مذہب کی تائید کرتی ہے، دوسری روایت میں آتا ہے سُئِلَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ طُولُ الْقِيَامِ: کہ آپ ﷺ سے سوال کیا گیا کہ اعمال میں سب سے افضل عمل کون سا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا لمبا قیام کرنا۔
هَمَمْتُ أَنْ أَجْلِسَ وَ أَدَعَهُ: "بیٹھ جاؤں اور آپ ﷺ کا ساتھ چھوڑ دوں۔"
اس عمل کو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ برا عمل کہہ رہے ہیں، اگرچہ یہ بات جائز ہے کہ اگر مقتدی عاجز ہو جائے تو وہ بیٹھ سکتا ہے، یہاں پر ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو برا عمل اس لئے فرما رہے ہیں کیونکہ یہ بات بری ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ تو کھڑے رہیں اور میں بیٹھ جاؤں۔
یہ جمعہ کی نماز میں ایسا ہوا تھا نا کہ وہ جو خطبہ پڑھا جا رہا تھا اور لوگ آ گئے وہ جو تجارت کے، تو آپ ﷺ کو کھڑا چھوڑ کے چلے گئے۔ تو اس پر اللہ پاک نے تنبیہ فرمائی تھی کہ کیا تم لوگوں نے کیا کہ آپ ﷺ کو کھڑا چھوڑ دیا اور خود چلے گئے؟ تو اس طرح، ان سے پھر انہوں نے شاید کیا ہوگا۔
تو بہرحال یہ ہے کہ یہ بات ظاہر ہے، ان کے لیے تو کم از کم بات تھی کہ ہم کیسے اس طرح کر سکتے ہیں؟ تو بہرحال باقی بعد میں فقہائے کرام نے دوسرے مسائل کی روشنی میں یہ بات سمجھا دی ہے کہ نہیں، اگر مقتدی عاجز ہو تو وہ کر سکتا ہے، کیونکہ وہ امام جو ہوتا ہے وہ حضور ﷺ تو نہیں ہے نا ظاہر ہے وہ تو دوسرے امام ہیں۔