نمازِ نبوی ﷺ میں طوالتِ رکوع و سجود اور تسبیحات کی حکمت

درس نمبر 156، جلد 1، باب 11: جدوجہد کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں رسول اللہ ﷺ کی رات کی طویل نماز (سورہ بقرہ، آل عمران، اور نساء کی تلاوت)۔
    • طویل قرات والی نمازوں میں قیام کی مناسبت سے رکوع، قومہ اور سجدے کو طویل کرنے پر محدثین کی آراء اور عملی طریقہ۔
      • "نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ" کی دو تشریحات (وقت میں قیام کے بالکل برابر ہونا یا قیام کی طرح معمول سے زیادہ لمبا ہونا)۔
        • رکوع میں "سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيم" اور سجدے میں "سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى" پڑھنے کی وجوہات و اسرار۔
          • سجدے کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی عظمت، بلندی، اور پاکی کا احساس اور انسان کے انتہائی عاجزانہ بچھ جانے کی کیفیت۔
            • لفظ "رب" میں پنہاں ربوبیت، احتیاج اور استدعا کا پہلو۔

              الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،

              وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

              أَمَّا بَعْدُ

              فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

              بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.



              کل ایک حدیث شریف ہم بیان کر چکے ہیں اس کو دوبارہ اس کا ترجمہ بھی پڑھتے ہیں۔ کیونکہ اس سے کچھ مسائل مطلب سامنے آتے ہیں۔

              "حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ ﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی آپ ﷺ نے سورہ بقرہ پڑھنی شروع کردی، میں نے خیال کیا کہ سو آیت پڑھ کر رکوع میں چلے جائیں گے لیکن آپ ﷺ پڑھتے رہے میں نے خیال کیا کہ سورہ بقرہ ایک رکعت میں ختم کر کے رکوع کریں گے لیکن پڑھتے رہے بقرہ ختم کر کے آل عمران کو پڑھا پھر سورہ نساء کو پڑھا، ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے جا رہے تھے، جب تسبیح والی آیات پڑھتے "سُبْحَانَ اللهِ" کہتے اور جب سوال والی آیت پڑھتے تو سوال کرتے اور جب تعوذ کی آیت پڑھتے تو "اعوذ بالله" پڑھتے، پھر رکوع میں گئے اس میں "سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ" کہتے رہے اور آپ کے رکوع کا عرصہ قیام کے برابر تھا۔


              فَكَانَ رُكُوعُهُ نَحْوًا مِنْ قِيَامِهِ ثُمَّ قَالَ:

              اچھا، یہاں پر وہ قیام کے برابر تھی۔ میں نے عربی عبارت اس لیے پڑھی کہ اس میں ایک نکتہ ہے، مطلب وہ ذرا بعد میں آئے گا۔ پھر رکوع کے بعد کھڑے ہوئے "سمع الله لمن حمده، ربنا لک الحمد" پڑھتے رہے، تقریباً رکوع کے بقدر قومہ میں کھڑے رہے، پھر سجدہ میں چلے گئے اس میں "سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰى" پڑھتے رہے، آپ کا سجدہ بھی تقریباً قیام کے برابر تھا۔


              یہاں پر ترجمہ میں تو یہ آیا ہے۔ لیکن آگے اس کی جو بات آ رہی ہے کہ:

              آپ ﷺ کے رکوع کی مقدار قیام کے برابر تھی۔ اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں:

              اول جتنا قیام تھا اسی کے برابر رکوع بھی تھا مگر محدثین کے نزدیک زیادہ معتبر دوسرا مطلب ہے کہ آپ ﷺ کا اسی نمازوں میں جس میں قرأت عادتاً طویل ہوتی اس میں عادتاً رکوع بھی لمبا ہوتا تھا۔

              یعنی نَحْوًا کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح لمبا تھا یا اتنا تھا۔ تو دونوں لیے جا سکتے ہیں۔ تو محدثین کے نزدیک یہ مطلب زیادہ وہ ہے کہ یہ بھی ایسا ہی لمبا تھا جیسا کہ (قیام) لمبا۔


              اب مثال کے طور پر قیام ہے۔ اب قیام میں کتنا وقت لگتا ہے ہمارا؟ مثال کے طور پر، اب عام طور پر ہمارے قیام میں وقت مثال کے طور پر آدھا minute لگتا ہے۔ تو اب آدھے minute کو مطلب یہ ہے کہ لمبا کرو، double کر لو۔ double کر لو تو ایک minute ہو گیا۔ یا دو minute ہو گیا، مطلب ہے چار گنا کر لو۔ اب یہ ہے کہ ہمارا سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيْمِ، سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيْمِ میں کتنا وقت لگتا ہے؟ یعنی اس میں مثال کے طور پر اس میں پانچ second لگتے ہیں۔ تو اس کو بیس second کر لو۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ یعنی جس طریقے سے قیام لمبا ہو گیا اس طریقے سے رکوع بھی لمبا ہو گیا، اس طریقے سے سجدہ بھی لمبا ہو گیا۔ ایک صورت تو یہ بنتی ہے۔


              دوسری صورت کیا بنتی ہے؟ کہ اگر چار minute قیام ہے تو چار minute رکوع بھی۔ چار minute سجدہ بھی۔ مطلب یہ مطلب لیا جاتا ہے۔ تو محدثین کے نزدیک یہ دوسرا مطلب زیادہ سمجھ میں آنے والا ہے۔


              رکوع اور سجدے کی تسبیح کی وجہ

              ثُمَّ سَجَدَ فَقَالَ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰى: آپ ﷺ رکوع میں "سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ" تسبیح پڑھتے تھے اور سجدے میں "سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰى" اس کی حکمت یہ لکھی ہے کہ الْأَعْلٰى یہ اسم تفضیل ہے، اس میں زیادہ تعظیم ہے بنسبت "الْعَظِيمِ" کے اور سجدہ میں زیادہ تواضع ہوتی ہے بنسبت رکوع کے،

              یعنی جتنی عظمت کسی کے اوپر اللہ پاک نے اپنی ذات کی کھولی ہوتی ہے، اتنا ہی وہ زیادہ تواضع کرتا ہے۔ اتنا ہی زیادہ بچھا جاتا ہے۔ تو اب رکوع میں عظمت کی طرف ہے تو اس کے سامنے پھر رکوع ہے، کیونکہ عظمت کے سامنے جھکا جاتا ہے۔ تو یہ مطلب جھکنے والی بات ہے۔


              اور "الْأَعْلٰى" جو نام ہے وہ اس سے بھی زیادہ یعنی اونچائی کا یعنی مطلب جس کو کہیں اونچا مقام جس طرح ہوتا ہے، تو پھر اللہ جل شانہ کی شان اور زیادہ جب کھل جاتی ہے تو اس کے سامنے، یعنی مثال کے طور پر ایک شخص ہے اس کے اوپر یعنی وہ کسی کے پاس گیا ہے تو اس کی عظمت کھلتی ہے تو ایسا ہوتا ہے جیسے کہ بس اس کا دل اس کی طرف جھکا جاتا ہے۔ اور پھر بعد میں مزید، تو یہ بات ہے کہ یعنی اسی طریقے سے اللہ جل شانہ کی ذات کا جو وہ ہے ہستی کا وہ مقام اتنا زیادہ کھلتا ہے سجدے میں کہ انسان اس کے سامنے پڑا جاتا ہے، یعنی یہ سجدے کی جگہ ہے۔ تو اس میں "سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰى"۔ اصل میں سبحان یہ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہماری جتنی بھی کمزوریاں ہیں ان سب چیزوں سے پاک ہیں اللہ تعالیٰ۔ یعنی عیوب جس کو ہم کہتے ہیں ان سب چیزوں سے پاک ہے۔ اور "اعلیٰ" کا مطلب ہماری سمجھ میں بھی نہ آنے والے اتنے اونچے مقام ہیں۔ یعنی یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کے بارے میں ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ تو والی بات ہے کہ سبحان بھی آ گیا اور رب تو خیر ہے، رب کا جو مطلب ہے کہ "پالنے والا"۔ تو ہماری تمام ضروریات اللہ تعالیٰ کے ساتھ وابستہ ہیں۔ تمام ضروریات۔ تو اس میں ایک استدعا والی کیفیت بھی آ جاتی ہے۔ "ربی" جب ہم کہتے ہیں نا، ہمارے رب، ہمارے پالنے والے۔ یہ اس میں ایک استدعا والی کیفیت بھی آ جاتی ہے، اپنی حاجات اپنی تمام چیزیں اللہ کے سامنے۔ تو بہت ہی پُر معنی الفاظ ہیں یہ سجدے کے، سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰى۔

              اللہ جل شانہ ہم سب کو ایسی نمازیں، نمازوں کی، رکوعات کی، سجدوں کی توفیق عطا فرما دے جو اللہ پاک کو راضی کرنے والی ہوں۔ اور ہمیں اللہ پاک کے قریب کر دے۔ ایسی نمازوں کو ہم درست کرنے والے بن جائیں جو اللہ پاک سے دور کرنے والی ہیں۔ اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے اور ہر قسم کی عافیت کے ساتھ، تمام عافیتوں کے ساتھ اللہ جل شانہ ہمیں تمام وہ اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس سے اللہ پاک راضی ہوتے ہیں۔


              نمازِ نبوی ﷺ میں طوالتِ رکوع و سجود اور تسبیحات کی حکمت - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور