نفس کی غلامی اور دین کی مشقت: جنت اور دوزخ کا راستہ

درس نمبر 154، جلد 1، باب 11: جدوجہد کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

* جنت اور دوزخ کے گرد موجود پردوں (حجابات) کی تشریح۔

* حضرت جبرائیل علیہ السلام کا جنت اور دوزخ کا مشاہدہ اور ان کے تاثرات۔

* نفسانی خواہشات (شہوات) اور لذات کی پیروی کے نقصانات اور دوزخ کا راستہ۔

* عبادات (نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ) اور حسنِ اخلاق کی ادائیگی میں پیش آنے والی مشقتوں پر اجر۔

* عقلمند اور بیوقوف کی تعریف (نفس کو قابو کرنے اور آخرت کی فکر کے حوالے سے)۔

* حرام کاموں اور مباح چیزوں میں حد سے زیادہ انہماک کے روحانی نقصانات۔

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ:

فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ


جنت اور دوزخ کو خواہشات اور مشقتوں کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا ہے

(101) ❖ السَّابِعُ: وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ، وَحُجِبَتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ" ❖ (متفق عليه)

وفي رواية لمسلم: "حُفَّتْ" بَدَلَ "حُجِبَتْ" وَهُوَ بِمَعْنَاهُ، أَيْ: بَيْنَهُ وَ بَيْنَهَا هَذَا الْحِجَابُ، فَإِذَا فَعَلَهُ دَخَلَهَا.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دوزخ شہوات کے ساتھ محجوب ہے اور جنت کو مشکلات کے ساتھ محجوب کر دیا گیا ہے۔"

اور مسلم کی ایک روایت میں "حجبت" کی جگہ "حفت" ہے معنی دونوں کے ایک ہی ہیں، مطلب یہ ہے کہ انسان اور جنت اور دوزخ کے درمیان پردہ ہے جب وہ اس کو اختیار کر لیتا ہے تو اس میں داخل ہو جاتا ہے۔"

مطلب یہ اصل میں یہ پردے ہیں دونوں۔

یعنی جنت اور انسان کے درمیان جو پردہ ہے، وہ مشکلات ہیں۔ اور جو دوزخ اور انسان کے درمیان جو پردہ ہے، وہ شہوات ہیں۔ پس اگر شہوات کا پردہ ہٹ جائے تو دوزخ، یعنی گویا کہ شہوات کے پیچھے چل پڑا تو بس گیا اس کے اندر۔ اور جو مشکلات ہیں، اگر وہ مشکلات کی کسی نے پروا نہیں کی، تو بس جنت میں گیا۔ تو یہ بات ہے کہ یہاں پر اللہ پاک نے۔۔۔ بلکہ اس کے بارے میں ایک اور حدیث شریف ہے جس کا مفہوم میں عرض کر سکتا ہوں کہ الفاظ تو مجھے یاد نہیں ہیں کہ اللہ جل شانہ نے جب جنت کو بنایا تو جبرائیل علیہ السلام سے کہا کہ اس کی سیر کرو۔ تو اس کی جو سیر کی تو وہ مسلسل اپنے پر کھولتے رہے، کھولتے رہے، پورا دیکھ بھی نہیں سکے۔ اور پھر اللہ پاک کے پاس آ گیا کہ یا اللہ! یہ تو ایسی زبردست جگہ ہے، جو بھی اس کے بارے میں سنے گا تو ضرور ادھر آنے کی کوشش کرے گا۔ میرا تو خیال ہے کہ سارے لوگ اسی میں آ جائیں گے۔ یعنی کسی اور طرف نہیں جائیں گے۔


تو اللہ پاک نے فرمایا: اب جا کے دیکھو۔ تو جنت کے دروازے پر وہ مشکلات، دنیاوی جو ہیں وہ ڈال لیں۔ "مکارہ" جو یہاں پر ذکر ہے۔ تو جب وہ ڈالے گئے تو اس کے بعد جب جبرائیل علیہ السلام نے دوبارہ دیکھا تو اس کو دیکھ کر انہوں نے کہا: یا اللہ! اب تو مجھے ڈر ہے کہ شاید کوئی نہ آ سکے۔ پھر اس کے بعد دوزخ کی سیر کا کہا۔ تو دوزخ کی اس نے سیر کی تو دوزخ کے بارے میں جب اس نے ہولناکیاں دیکھیں اور سارا کچھ تو بڑے حیران ہو گئے۔ تو اللہ پاک کے حضور کہا کہ یا اللہ! میرا تو خیال ہے کہ شاید کوئی بھی یہاں نہیں آئے گا، اتنی ہولناک ہے۔ تو اللہ پاک نے پھر اس کے دروازے کے اوپر جو شہوات ہیں، وہ ڈال دیں۔ تو اس پر جب جبرائیل علیہ السلام نے وہ دیکھا تو انہوں نے کہا کہ یا اللہ! اب تو مجھے ڈر ہے کہیں سارے لوگ نہ آ جائیں۔


تو اس کا مطلب ہے کہ یہی اصل میں ہمارا امتحان ہے کہ ہم اپنی شہوات کی اتباع نہ کریں۔ کیونکہ وہ شہوات ہمیں اللہ تعالیٰ سے ہٹا رہے ہوں گے۔ اس وجہ سے ان کے بارے میں کہا ہے کہ جو لوگ شہوات کے پیچھے چلتے ہیں ان کا ﴿اِلٰهُهُ هَوَاهُ﴾، مطلب یہ کہ ان کا جو خدا ہے، معبود جو ہے وہ ان کا نفس ہے۔ تو اس وجہ سے ہمیں شہوات کے پیچھے نہیں جانا چاہیے۔

اور دوسرا یہ ہے کہ مشقتوں سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ مثال کے طور پر: صبح سویرے اٹھنا نماز کے لیے تیاری کرنا، اب مشقت تو ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ لیکن اسی پر ہی ملے گا، اسی پر ہی ملے گا۔ اس طرح روزہ رکھنا، مشقت تو ہے۔ لیکن اسی پر ہی ملے گا۔ اس طرح حج کرنا، زکوٰۃ دینا، معاملات کو صاف رکھنا، معاشرت کو درست رکھنا، اچھے اخلاق رکھنا، بداخلاقی سے بچنا، یہ سب مشقتیں ہیں۔


مثلاً: کوئی آپ کو گالی دے، تو آپ کو تکلیف ہوگی کہ میں کیسے اس کو نہ کہوں؟ تو یہ مشقت تو ہوگی، لیکن اسی پہ نجات ہے۔ تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو عقل سے کام لے کر ان چیزوں سے بچنا ہوگا۔ پھر بھی اگر نفس مخالفت کرتا ہے، یعنی نفس نہیں مانتا ہماری بات، تو پھر اسی نفس کو قابو کرنے کے لیے جو ذرائع ہیں ان کو اختیار کرنا ہوگا۔ پھر ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے کہ پھر اس کو قابو کرنے کے لیے جو۔۔۔ کیونکہ آپ ﷺ نے صاف ارشاد فرمایا: عقلمند وہ ہے جس نے اپنے نفس کو قابو کیا اور آخرت کے لیے کام کیا۔ اور بے وقوف وہ ہے جس نے اپنے نفس کی خواہشات کو پورا کیا، اس پر لگا دیا، اور پھر بعد میں صرف تمنائیں کرتا رہا، محض تمنائیں کرتا رہا۔ اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے۔


تو یہاں پر بھی فرمایا کہ:

دوزخ شہوات کے ساتھ ڈھانپ دیا گیا ہے مطلب یہ ہے کہ انسان اور جہنم کے درمیان انسانی شہوات اور لذات رکاوٹ ہیں جب انسان شہوتوں اور لذتوں میں پھنس جاتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اس نے اس رکاوٹ کو ہٹا دیا اور وہ اب جہنم میں پہنچ جائے گا۔

اسی طرح جنت کا حال ہے کہ جنت اور انسان کے درمیان احکامِ خداوندی کی اتباع، نفس کی خواہشات سے اجتناب وغیرہ یہ آڑ اور رکاوٹ ہیں جب انسان اس کو برداشت کر لیتا ہے تو گویا اس نے اس رکاوٹ کو دور کر دیا اور جنت میں جانے کا مستحق قرار پائے گا۔

علماء نے لکھا ہے شہوات سے مراد نفس کی وہ لذات ہیں جس کو شریعت نے حرام کیا ہے مثلاً زنا، شراب نوشی، غیبت وغیرہ۔ نفس کی وہ شہوات جو حرام نہیں ہے بلکہ مباح ہے تو وہ جہنم لے جانے کا باعث نہیں ہوتی اگر چہ یہ نفس کی مباح خواہشات ولذات کی اتباع آدمی کو اللہ کے قرب اور ولایت کے مقام سے دور کر دیتی ہے۔

مطلب اس میں انہماک؛ مباحات میں انہماک اور حرام میں ابتلاء، یہ انسان کے لیے نقصان دہ ہے۔ ٹھیک ہے، مباح سے مراد یہ ہے کہ وہ چیز بذاتِ خود تو بری نہیں ہے، لیکن اس میں انہماک اتنا کہ اس سے انسان رہ جائے ضروریاتِ دین پر عمل کرنے سے، تو وہی نقصان تو ہو جاتا ہے نا۔ پھر تو نقصان تو ہو گیا، کیونکہ اس نے اس کو نقصان تو پہنچا دیا۔ تو ایسی چیزوں سے بچنا ہوگا۔ اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے۔


وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔



نفس کی غلامی اور دین کی مشقت: جنت اور دوزخ کا راستہ - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور