مصیبت کے وقت توکل اور لفظ ’اگر‘ کے نقصانات

درس نمبر 153، جلد 1، باب 11: جدوجہد کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

* قوی اور ضعیف مومن کا فرق اور قوی مومن کی اللہ کے ہاں فضیلت۔

* ہر حال میں تقدیر پر راضی رہنے اور صبر و تسلیم کی اہمیت۔

* مصیبت اور پریشانی کے وقت صرف اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسہ کرنا۔

* حادثات کے بعد لفظ 'اگر' کے استعمال کی ممانعت اور اس سے پیدا ہونے والے شیطانی وسوسے۔

* شرعی حدود میں رہتے ہوئے اسباب اختیار کرنا اور پھر نتائج کو اللہ کی رضا پر چھوڑنا۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.


ہر حال میں تقدیر الٰہی پر راضی رہنا چاہئے

(100) ❖ السَّادِسُ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ. اِحْرِصْ عَلٰى مَا يَنْفَعُكَ، وَاسْتَعِنْ بِاللّٰهِ وَلَا تَعْجِزْ. وَإِنْ أَصَابَكَ شَيْءٌ فَلَا تَقُلْ: لَوْ أَنِّي فَعَلْتُ كَانَ كَذَا وَكَذَا، وَلَكِنْ قُلْ: قَدَرُ اللّٰهِ، وَمَا شَاءَ فَعَلَ، فَإِنَّ لَوْ تَفْتَحُ عَمَلَ الشَّيْطٰنِ" ❖ (رواه مسلم)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا طاقتور ایماندار کمزور ایماندار سے بہتر ہے اور اللہ کا زیادہ محبوب ہوتا ہے البتہ دونوں میں بھلائی موجود ہے، فائدہ مند چیز کا لالچ کرو اور اللہ سے مدد مانگو کمزوری کا اظہار نہ کرو، اگر تجھے کوئی پریشانی لاحق ہوجائے تو یوں نہ کہو اگر میں ایسا کرتا تو ایسا ایسا ہو جاتا البتہ یوں کہو تقدیر میں یوں ہی تھا اللہ نے جو چاہا کیا، اس لئے کہ "اگر" کا لفظ شیطان کے عمل کو کھول دیتا ہے۔"


اس میں سب سے پہلے بات یہ ہے کہ فرمایا گیا:

الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ وَأَحَبُّ إِلَى اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ:

یہ جو فرمایا کہ:

طاقتور ایماندار کمزور ایماندار سے بہتر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ طاقتور مؤمن ادائے عبادات اور قیام فرائض و سنن اور جہاد وغیرہ میں کمزور مؤمن سے زیادہ مستعد ہوتا ہے۔

بعض نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ مؤمن قوی لوگوں کے اختلاط کے وقت ان کے ایذاء وغیرہ پر زیادہ صبر کرنے والا ہوتا ہے۔


اور یہ جو ارشاد فرمایا:

وَفِي كُلٍّ خَيْرٌ: قوی اور ضعیف مؤمن دونوں میں بھلائی ہے کہ اصل ایمان کی دولت میں دونوں شریک ہیں۔


اور یہ جو فرمایا:

وَاسْتَعِنْ بِاللّٰهِ: اللہ ہی سے مدد مانگو۔ کوئی بھی مسئلہ ہو آدمی کو چاہئے کہ اللہ پر ہی اعتماد و توکل کرے اور اسی کی طرف متوجہ ہو کیونکہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا اس پریشانی وغیرہ کو دور نہیں کرسکتا۔


یہ جو لفظ "اگر" ہے، یہ شیطان کا دروازہ کھولتا ہے۔

یہ مطلب ہے

اگر کوئی پریشانی ہو تو یہ مت کہہ کہ اگر میں ایسا کر لیتا تو ایسا ایسا ہوجاتا۔ بلکہ ایسا کہو کہ تقدیر میں ایسا ہی لکھا تھا.

ہر موقع پر انسان تقدیر پر ایمان رکھے جب بھی اس کو کوئی پریشانی ہو یا کسی قسم کی کوئی بھی بات ہو تو فوراً یہ کہے کہ میری تقدیر میں ایسا ہی لکھا تھا۔ یہ نہ کہے کہ اگر میں ایسا کر لیتا تو ایسا ہو جاتا۔ ہر موقع پر صبر و تسلیم و رضا کا مظاہرہ کرے اگر مگر نہ کرے، اس سے شیطان کو گمراہ کرنے کا موقع مل جاتا ہے مثلاً بچے کا انتقال ہو گیا اگر وہ یہ کہتا ہے کہ "اگر میں بچے کو فلاں ہسپتال میں لے جاتا تو بچہ نہ مرتا۔"

یہ شیطان کے لیے راستہ کھول لیتا ہے۔ کیونکہ ہر چیز کے لیے وقت مقرر ہے، وقتِ مقرر پر سب کچھ ہوتا ہے۔ تو اس وجہ سے، جب بھی کوئی بات ہو تو پہلے اسباب ضرور اختیار کر لے، بلکہ ضروری ہے، یعنی پہلے اسباب اچھی طرح اختیار کر لے۔ لیکن اس کے باوجود بھی اگر کوئی واقعہ ہو جائے تو پھر اس پر صبر ہی کرے اور کہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا ہی بس لکھا تھا۔ اور اسی سے انسان بچ جاتا ہے اور شیطان کے راستے بند ہو جاتے ہیں۔


اللہ پاک ہم سب کو شیطان کے ہر قسم کے شر سے محفوظ فرما دے، مکر سے محفوظ فرما دے۔


مصیبت کے وقت توکل اور لفظ ’اگر‘ کے نقصانات - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور