شبِ قدر کی تلاش اور رسول اللہ ﷺ کا ذوقِ عبادت

درس نمبر 152، جلد 1، باب 11: جدوجہد کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت اور اہمیت۔

• حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حدیثِ مبارکہ۔

• "شَدَّ الْمِئْزَرَ" (کمر کسنے) کا لغوی مفہوم اور علامہ نوویؒ کی تشریح۔

• آخری عشرے میں نبی کریم ﷺ کا عبادت کے لیے مستعد ہونا اور اہل خانہ کو بیدار کرنا۔

• شبِ قدر کی فضیلت (جو ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے)۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.



آخری عشرہ کی عبادت کی اہمیت

یعنی رمضان شریف کے آخری عشرہ کی۔

(99) ❖ الْخَامِسُ: وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ:

” كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ أَحْيَا اللَّيْلَ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ، وَجَدَّ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ “ ❖ (متفق عليه)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ رمضان کے آخری عشرہ میں رات کو بیدار رہتے اور اہل خانہ کو بھی بیدار فرماتے اور کوشش کے ساتھ عبادت میں مشغولیت رکھتے اور کمر ِہمت باندھ لیتے۔

الْعَشْرُ الأوَاخِرُ: سے مراد رمضان کے آخری دس دن ہیں

مِئْزَرَ: ازار کے معنی میں ہے یعنی تہہ بند یا پاجامہ، یہاں کنایہ ہے اس بات سے کہ آپ ﷺ بیویوں سے کنارہ کشی اختیار فرمالیتے اور بعض کے نزدیک اس سے مراد عبادت کے لئے مستعد اور تیار ہونا ہے، کہا جاتا ہے کہ "میں نے اس کام کے لئے مئزر کس لیا ہے"

ہم اس کو ازار بند کہتے ہیں۔

یعنی اس کے لئے میں نے اپنے آپ کو تیار اور فارغ کرلیا ہے۔


عشرہ آخر رمضان میں آپ ﷺ اپنی کمر کس لیتے تھے

وَشَدَّ الْمِئْزَرَ: "تہبند کو کس لیتے تھے" اس کے دو مطلب علامہ نوویؒ نے بیان فرمائے ہیں: پہلا مطلب یہ ہے کہ یہ کنایہ ہوتا ہے "تحذر عن الجماع" سے کہ آخری عشرہ رمضان میں آپ ﷺ اپنی بیویوں کے پاس تشریف نہیں لیجاتے تھے۔

دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ کنایہ ہے عبادت کے لئے مستعد اور تیار ہونے سے، اردو میں بھی کہا جاتا ہے کہ "میں نے اب اس کام کے لئے اپنی کمر کس لی ہے" یعنی اب میں پوری طرح اس کام کے لئے تیار ہو گیا ہوں۔

یہ تہبند کو کسنا یہ شب قدر کی تلاش میں ہوتا تھا۔ جو اس امت کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور سے عطاء فرمائی ہے جو ایک رات ایک ہزار رات سے افضل ہے: " لَیْلَةُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ": کہ لَیْلَةُ الْقَدْرِ ایک ہزار ماہ کی عبادت سے افضل ہے۔

تخریج حدیث: بخاری کتاب صلوة التراويح (باب العمل فى العشرالاوآخر من رمضان)، مسلم کتاب الاعتکاف (باب اعتكاف العشر الاوآخر من رمضان) احمد في مسنده، و ابوداؤد، و النسائی 1638، و ابن ماجه، وابن حبان، و البيهقى 313/4


اللہ جل شانہ ہمیں بھی ایسے مبارک اوقات کی قدردانی کی توفیق عطا فرمائے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔




شبِ قدر کی تلاش اور رسول اللہ ﷺ کا ذوقِ عبادت - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور