اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
اللہ جل شانہ کی حد درجہ شکر گزاری۔
اَلْحَدِيْثُ الرَّابِعُ: عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَقُوْمُ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى... حَتَّى تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ، فَقُلْتُ لَهُ... لِمَ تَصْنَعُ هٰذَا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ... وَقَدْ غَفَرَ اللّٰهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟... قَالَ... أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَكُوْنَ عَبْدًا شَكُوْرًا؟... مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ... هٰذَا لَفْظُ الْبُخَارِيِّ وَنَحْوَهُ فِي الصَّحِيْحَيْنِ مِنْ رِوَايَةِ الْمُغِيْرَةِ بْنِ شُعْبَةَ۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو اس قدر لمبا قیام فرماتے کہ آپ ﷺ کے پاؤں پھٹنے کے قریب ہو جاتے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ اس لیے... آپ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ اس قدر مشقت اٹھاتے ہیں۔ حالانکہ اللہ پاک نے آپ ﷺ کی پہلی اور پچھلی تمام فروگذاشتیں مٹا ڈالی ہیں۔ فرمایا: کیا میں اس بات کو پسند نہ کروں کہ میں اللہ کا شکر گزار بندہ بنوں؟ یہ لفظ بخاری کے ہیں۔ اس طرح کی روایت بخاری مسلم میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی مروی ہے۔
آپ ﷺ کی کثرتِ عبادت ادائے شکر کے لیے تھی۔ کیونکہ یہاں پر یہی فرمایا: وَقَدْ غَفَرَ اللّٰهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، یعنی آپ ﷺ کے پچھلے آگے سب... گناہ معاف ہو چکے ہیں۔ کیا انبیاء علیہ السلام... سے بھی گناہ ہوتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انبیاء علیہ السلام تو معصوم ہوتے ہیں، اس پر علماء کا اتفاق ہے۔ قرآن و حدیث میں جہاں پر... غَفَرَ... یا ذَنْب کے الفاظ آتے ہیں، اس سے مراد خلافِ اولیٰ کام ہوتے ہیں، جو انبیاء علیہ السلام سے صادر ہوتے ہیں۔ کیونکہ نبوت کے بلند مقام کے اعتبار سے غیر افضل عمل کرنا بھی ایسی لغزش ہے جس کو قرآن و حدیث میں بطور تحدید کے... غَفَرَ... یا ذَنْب کے لفظ... الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اسی کو کہا، اس کو کہا گیا:
حَسَنَاتُ الْأَبْرَارِ سَيِّئَاتُ الْمُقَرَّبِيْنَ
عام نیک لوگوں کی نیکیاں مقربین کے حق میں برائیاں شمار ہوتی ہیں۔
یہ واقعی... یہ بات سمجھ میں تو آسانی سے... نہیں آتی، کیونکہ جیسے میں نے اکثر عرض کیا ہے کہ... دیندار لوگ جو ہوتے ہیں... تو دنیا دار لوگ ان کی بات کو نہیں سمجھتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پتہ نہیں کیسی کیا باتیں کر رہے ہیں۔ مطلب ظاہر ہے وہ ان کے Domain سے ایک قسم کے باہر بات ہوتی ہے۔ یہ کیسے بات کرتے ہیں۔ لیکن... دیندار لوگ... پھر دینداروں میں بھی درجات ہیں۔ اللہ پاک کے... اللہ... جو اللہ پاک کے دیدار کے طالب ہوتے ہیں، جو جنت کے طالب... ہوتے ہیں، ان میں فرق ہوتا ہے۔
تو بہرحال... یہاں پر بھی یہ بات ہے کہ انبیاء علیہ السلام کے مقام کو عام لوگ نہیں سمجھ سکتے۔ ہمارے حضرت فرمایا کرتے تھے:
ولی را ولی میشناسدولی، ولی کو جانتا ہےنبی را نبی میشناسدنبی، نبی کو جانتا ہےخاتم النبیین را خدا میشناسدخاتم النبیین کو تو صرف خدا ہی جان سکتا ہے
ظاہر ہے ان کے برابر کوئی ہے نہیں اور... تو کیسے ان کے مقام کو... کوئی جان سکتا ہے؟ تو اس وجہ سے... ان کے لیے جو... مطلب... Domain ہوتا ہے نا، وہ ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ کیونکہ ان کی جن چیزوں کو... دیکھا جاتا ہے، وہ ہمارے لیے معاف ہوتی ہیں۔ پہلے سے۔ کیونکہ... ہم لوگ تو... بہت ہی مطلب یعنی وہ... یعنی ذرا آگے پیچھے ہوتے ہیں نا۔ تو اس میں اللہ پاک کی جو معافی نہ ہوتی تو پھر تو ہم تو مارے جاتے۔ جیسے ابھی کافروں کے بارے میں بات آ گئی کہ اگر... جیسے یہ مانگتے ہیں عذاب کو... اگر اس طریقے سے ہم کر دیں تو یہ تو ابھی تک ان کا معاملہ ختم ہو چکا ہوتا۔ تو اس طرح ہمارے ساتھ بھی معاملہ جو ہے نا، نرمی کا... وہ بہت زیادہ ہے۔ ہمارے بہت ساری چیزوں کو تو... وَيَعْفُوْ عَنْ كَثِيْرٍ... میں آ جاتا ہے۔ مطلب وہ جو چیزیں... مطلب... ساری کی ساری معاف ہو جاتی ہیں۔ ہاں البتہ جو... صاف کھلی کھلی باتیں ہیں، اس پر پکڑ ہوتی ہے۔
تو... جب یہ والی بات ہے تو... ظاہر ہے انبیاء... انبیاء علیہم السلام کے ساتھ جو معاملہ ایسا ہوتا ہے، تو ان کی جو... خلافِ اولیٰ باتیں ہوتی ہیں جو ان کی شان کے مطابق نہیں ہوتیں، تو... اس پہ ان کی مطلب یعنی، ان سے یہ الفاظ... ان کے بارے میں آتے ہیں۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ دیکھیں... انبیاء کرام، مسلسل ان کا مقام بلند ہو رہا ہوتا ہے۔ تو جب انسان سیڑھیوں پہ چڑھتا ہے... تو اگلی سیڑھی پہ جب جاتا ہے، تو پچھلی سیڑھی نیچے ہوتی ہے۔ تو اب دوبارہ پچھلی سیڑھی پہ تو نہیں آئے گا نا۔ تو وہ جو ہے نا اس کے... بارے میں مغفرت... استغفار کرتے ہیں۔... ہاں جی... تو یہ بات...
دوسری بات یہ ہے کہ ان کے اوپر اللہ پاک کی شان... اتنی کھلی ہوتی ہے، جتنا ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ تو اپنے ہر عمل کو... اس کے سامنے ہیچ سمجھتے ہیں۔... بات ہوتی ہے۔ تو بہرحال... جو ہمارے علمائے کرام ہیں، اور مشائخ ہیں، اور جو... اللہ والے ہیں جن کے قلوب بیدار ہیں... وہ تو ان قسم کی باتوں کو سمجھ لیتے ہیں۔ لیکن جو عام لوگ ہوتے ہیں تو... وہ پھر اس سے... اپنے اوپر گمان کر کے اس قسم کی بات، جیسے ہمارے لیے 'غفر' جس مطلب میں ہے... تو اگر وہ انبیاء کرام کے لیے بھی اسی مطلب میں ہو، تو پھر تو گمراہ تو ہو گیا نا... ظاہر ہے وہ تو سمجھے گا کہ... انہوں نے بھی ایسے ہی گناہ کیا ہے جیسے کہ... ہم نے کیا ہے۔... تو اپنے گناہ کی طرح ان کے گناہ کو سمجھنا... یعنی ان کے... خلافِ اولیٰ کو سمجھنا... پھر تو یہ معاملہ ہوگا نا... تو اس قسم کی جو ہے نا بات چلتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرما دے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔