اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ:
فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بَابٌ فِي الْمُبَادَرَةِ إِلَى الْخَيْرَاتِ، وَحَثِّ مَنْ تَوَجَّهَ لِخَيْرٍ عَلَى الْإِقْبَالِ عَلَيْهِ بِالْجِدِّ مِنْ غَيْرِ تَرَدُّدٍ
نیکیوں کی طرف جلدی کرنے، طالبِ خیر کو اس بات پر آمادہ کرنے کا بیان کہ وہ نیکی کو بغیر کسی تردد کے پوری توجہ اور محنت کے ساتھ اختیار کرے۔
یہ بیان نیکیوں کی طرف آمادہ ہونے کے بارے میں ہے
اللہ پاک فرماتے ہیں:
فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ
تم نیکیوں میں سبقت حاصل کرو۔
اس آیت سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا مختلف قوموں کے مختلف قبلوں میں کوئی ایک دوسرے کے قبلہ کو تسلیم نہیں کرتا ہر ایک اپنے ہی قبلہ کو حق کہتا تھا، تو اب اس آیت میں کہا جا رہا ہے کہ اپنے قبلہ (مکہ) کو حق ہونے کو ان مشرکین کو سمجھانا جب کہ وہ عناد پر ہو کوئی فائدہ نہیں اصل کام میں لگ جاؤ، وہ کام ہے نیک کاموں میں دوڑ دھوپ اور آگے بڑھنے کی کوشش۔ کیونکہ فضول بحثوں میں وقت ضائع کرنا اور ”مُسَابَقَت إِلَى الْخَيْرَاتِ“ میں سستی کرنا عموماً آخرت سے غفلت کے سبب ہوتے ہیں۔ جن لوگوں کو اپنی آخرت اور انجام کی فکر درپیش ہو وہ کبھی بھی فضول بحثوں میں نہیں الجھتے بلکہ وہ تو اپنے کام میں لگے رہتے ہیں
اصل میں واقعتاً یہ ایک معاشرتی اصول ہے، کہ سارے لوگ سارے کام نہیں کر سکتے۔ سارے لوگ سارے کام نہیں کر سکتے۔ specialties ہیں۔ ڈاکٹر ڈاکٹری کا کام کرے گا، انجینئر انجینئرنگ کا کرے گا، سیاستدان سیاست کا کام کرے گا، فوجی، فوج کا کرے گا، پولیس سپاہی، سپاہی کا کرے گا، Sweepers سویپنگ کا کام کریں گے، استاد استادی کرے گا، تو کام چلے گا۔
ایک ٹوٹکا سا ہے، اخبار میں آیا تھا، کہ فلاں کدھر ہے؟ کہتے ہیں وہ فلاں کام کے لیے چلا گیا تھا۔ وہ اس کا نہیں تھا، کسی اور کا کام تھا۔ مثلاً استاد چلا جائے کسی کی دکان پر بیٹھ کے اس کو سودا سلف دینے کے لیے۔ تو کہتے ہیں وہ فلاں کام کے لیے چلا گیا۔ اس پر بات ہوئی تھی نا کہ وہ جسٹس صاحب جو ہمارے تھے اس وقت کے، وہ کالا باغ ڈیم بنا رہے تھے، اس کے لیے چندہ کر رہے تھے۔
تو اس پر انہوں نے ٹوٹکا بتایا ہوا تھا کہ وہ فلاں، فلاں، فلاں کا، اچھا وہ کدھر ہے؟ تو پھر وہ کدھر ہے؟ کہتے ہیں وہ فلاں کام کے لیے چلے گئے ہیں۔ تو پھر وہ کدھر ہے؟ تو فلاں۔ تو ہر ایک دوسرے کا کام کر رہا تھا۔ بھئی اپنا کام کوئی نہیں کر رہا تھا۔ تو یہ معاشرتی طور پر تباہی کی علامت ہے، کیونکہ قانون ہے: لِكُلِّ فَنٍّ رِجَالٌ، ہر فن کے لیے اپنے لوگ ہیں۔ مگر ایک آدمی ہے، اس کو ہتھوڑا ہاتھ میں بھی اٹھانا نہیں آتا اور وہ، کہ وہ پلمبنگ کا کام شروع کر لے، تو بتاؤ کہ پلمبنگ کا کیا کرے گا وہ؟ تباہی کرے گا۔ جو ہے، وہ ٹھیک ہے، وہ بھی خراب کرے گا۔ تو ہر چیز کا اپنا اپنا Experience ہے، تجربہ ہے۔
تو جو کام انسان کر سکتا ہے، اسی پر لگے۔ تو اسی طریقے سے کچھ کام فضول ہوتے ہیں کسی کے لیے، دوسرے کے لیے وہ فضول نہیں ہوں گے، آپ کے لیے فضول ہوں گے۔ تو آپ اس کام کو نہ کریں، اس کو کرنے دیں ۔ اب مثال کے طور پر کوئی سیاسی بحث میں لگا ہوا ہے۔ تو آپ کہتے ہیں یار چھوڑو، وہ کہتا ہے یار سیاست بھی تو صحیح چیز ہے۔ بھئی کس کے لیے صحیح چیز ہے؟ آپ اس وقت کیا Contribute کر رہے ہیں مجھے بتاؤ؟ کون آپ سے پوچھ رہا ہے؟ Election کے وقت میں پھر خوب سوچ سمجھ کر اپنا Vote دے دو۔ مطلب وہ کر لو، لیکن یہ تو نہیں ہے کہ اب دنیا جہاں کے تبصرے آپ کو آتے ہیں، لیکن آپ سے فرضِ عین علم کے بارے میں کوئی چیز پوچھی جائے تو نہیں؟ بھئی یہ کیا بات ہے؟ اگر آپ کو نماز کے فرائض بھی معلوم نہیں ہیں، تو بتاؤ یہ باقی چیزیں آپ کو معلوم ہوں تو اس کا کیا ہوگا؟ اس پر آپ کتنے پاس ہو جائیں گے؟ اب Examination میں سوال آئے۔ سوال آئے ایک اور آپ جواب کسی دوسرے کا بڑی تفصیل سے دیں، اس پر آپ کو صفر نمبر مل جائیں، آپ کہیں جی میں نے تو اتنی تفصیل سے لکھا تھا۔ وہ کہتا ہے کون سا لکھا تھا؟ آپ سے پوچھا کیا گیا تھا؟ آپ سے یہ تو نہیں پوچھا گیا تھا؟ جو پوچھا گیا اس کا جواب دو۔
تو یہ بعض لوگوں کا یہ ہوتا ہے کہ وہ To the point کام نہیں کرتے۔ تو یہی بات ہے کہ جو کام تمہارا ہے وہ کرو اور فضول بحثوں میں نہیں، جس کے بارے میں تم سے پوچھا جائے گا، اس کام کی تیاری کرو۔
اللہ پاک ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ