صحت اور فراغت: دو عظیم نعمتوں کی قدر و منزلت

درس نمبر 150، جلد 1، باب 11: جدوجہد کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • صحت اور فراغت کے حوالے سے حدیثِ نبوی ﷺ (بخاری شریف) کی تشریح۔
    • نعمتوں کی ناقدری اور غفلت کا افسوسناک انجام۔
      • بیماری اور مصروفیت آنے سے قبل صحت اور وقت کو غنیمت جاننا۔
        • وقت اور علم کے حوالے سے اکابرینِ امت اور اسلاف کی روشن مثالیں اور ان کے حیرت انگیز معمولات۔
          • حضرت مولانا حسن جان صاحبؒ، علامہ انور شاہ کشمیریؒ، مولانا یحییٰ کاندھلویؒ، مولانا اعزاز علیؒ، میاں جی نور محمد جھنجھانویؒ اور شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ کے علمی شغف اور قدرِ وقت کے سبق آموز واقعات۔
            • ضائع شدہ وقت کا دوبارہ پلٹ کر نہ آنا اور اس کی تلافی کا ناممکن ہونا۔

              الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،

              وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

              أَمَّا بَعْدُ

              فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

              بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

              صحت اور فراغت ایک عظیم نعمت ہے

              (97) «الثَّالِثُ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ، وَالْفَرَاغُ"» (رواه البخاري)

              "حضرت عبد اللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دو نعمتوں میں اکثر لوگ نقصان میں ہیں (یعنی ان نعمتوں کی موجودگی کو غنیمت سمجھتے ہوئے عبادت میں مصروف نہیں) ایک نعمت تندرستی اور دوسری نعمت فراغت ہے۔"

              لغات: «مغبون»: غبن غبناً نصر سے بمعنی خرید و فروخت میں دھوکہ دینا غبن فلان بھاؤ میں کسی کو نقصان پہنچانا، فاعل غابن، مفعول مغبون۔

              «الفراغ»: فرغ فراغاً وفروعاً سمع نصر اور فتح سے بمعنی کام پورا کر کے خالی ہونا۔

              دو نعمتوں کی بہت زیادہ ناقدری کی جاتی ہے

              اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھ عطا فرمائے کہ یہ بہت بڑا علم ہے۔ ان دو نعمتوں کی ناقدری بہت زیادہ کی جاتی ہے۔ کونسی نعمتیں ہیں؟ ایک صحت اور تندرستی کی دولت ہے۔ اور اس کا کوئی پتہ نہیں کہ یہ کب تک نعمت رہے گی۔ تو اچانک انسان بیمار ہو جاتا ہے۔ اور بہت زیادہ بھی خیال رکھتا ہے accident ہو جاتا ہے۔ کوئی اور مسئلہ ہو جاتا ہے۔ تو صحت اور تندرستی کا پتہ نہیں چلتا کہ کب تک ہے۔ اس وجہ سے انسان کو اس کی قدر کرنی چاہیے کہ جس وقت اس کو صحت میسر ہے تو اس کو استعمال کرے۔ ورنہ پھر بعد میں کوشش کرنا بھی چاہے گا تو نہیں ہوگا۔ کام ہی نہیں ہوگا۔ اس وقت انسان افسوس کرے گا، کاش صحت میں کچھ حاصل کر لیتا۔

              حضرت مولانا حسن جان صاحب رحمۃ الله علیہ بہت بڑے، یعنی شیخ الحدیث حضرات میں سے تھے۔ اور کافی دور دور سے لوگ ان کے درس میں شامل ہونے کے لیے آیا کرتے تھے۔ تو ایک دفعہ ان پہ heart attack ہوا، minor heart attack، خطبے کے دوران۔ تو ظاہر ہے اس وقت ان کے علاج میں مشغول ہو گئے۔ میں حضرت کی مزاج پرسی کے لیے حاضر ہوا۔ اس وقت حضرت لیٹے ہوئے تھے اور لوگ ان کو دبا رہے تھے۔ میں جیسے پہنچا، میں نے کہا حضرت، کیسی ہے طبیعت؟ تو حضرت نے فوراً فرمایا کہ کوئی کھانسی نہیں ہے، کوئی بخار نہیں ہے، لیکن بہرحال بیماری ہے۔ اور ساتھ ہی کہا: میں نے کتاب نہیں لکھی۔ میں نے کتاب نہیں لکھی۔ مطلب یہ کہ وہ چونکہ ظاہر ہے بہت بڑے عالم تھے اور کتاب لکھ (سکتے تھے) پٹھانوں میں یہ کمزوری ہے کتابیں نہیں لکھا کرتے۔ مطلب بہت بڑا عالم ہوتا ہے، لیکن کتابیں نہیں لکھتے۔ تو یہ اس وجہ سے ان کا علم اکثر ان کے ساتھ ہی چلا جاتا ہے۔ تو مجھے فوراً فرمایا کہ میں نے کتاب نہیں لکھی۔

              تو یہ بات ہے کہ تندرستی جاتے رہنے سے فوراً انسان کو احساس ہوتا ہے کہ میں یہ کام بھی کر سکتا تھا، یہ بھی کر سکتا تھا، یہ بھی کر سکتا تھا، یہ بھی کر سکتا تھا۔ پھر ظاہر ہے، پھر نہیں کر سکتا۔

              اس طرح فراغت: فراغت جو ہے، یہ بھی ایک بڑی دولت ہے۔ لیکن فراغت کی بھی لوگ قدر نہیں کرتے۔ مثلاً کسی کے پاس وقت ہے۔ اس وقت کو صحیح استعمال نہیں کرتے۔ ادھر ادھر گپ شپ میں لگا دیتے ہیں۔

              ایک دفعہ ہم گشت پہ گئے تھے۔ بیان ہو گیا، پھر آپس میں students جیسے ملتے ہیں، بات چیت شروع کی۔ تو مسرت شاہ صاحب رحمة الله علیہ باہر آئے تو ہمیں کہا، کیوں کھڑے ہو؟ اب آپس میں گپ شپ لگا رہے ہو، وقت ضائع کر رہے ہو۔ پھر کہو گے جی، گشت کی وجہ سے ہمارا وقت ضائع ہو گیا۔ یا میں نے نمبر حاصل نہیں کیے۔ جاؤ اپنا کام کرو! مطلب ہمیں اپنی اپنی جگہوں پہ رخصت کر لیا۔

              تو یہ بات صحیح ہے کہ انسان اپنے وقت کی قدر نہیں کرتا۔ وقت بڑی دولت ہے۔ ایک ایک منٹ ایسے قیمتی ہے کہ کبھی بھی نہیں مل سکتا۔ کبھی بھی نہیں مل سکتا۔ گیا تو گیا۔ چاہے اچھے کام میں گیا، چاہے برے کام میں گیا۔ واپس نہیں آئے گا۔ اچھے کام میں گیا، تو ٹھیک ہے استعمال ہو گیا، صحیح معنوں میں، آپ کو اس کا صلہ ملے گا۔ برے کام میں گیا، تو توبہ بھی کر لیا، توبہ سے گناہ معاف ہو جائے گا، لیکن وہ جو وقت میں آپ صحیح کام کر سکتے تھے، وہ تو گیا۔ اس کا تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ مطلب آپ zero پہ لا سکتے ہیں، اب plus پہ نہیں لا سکتے۔ مطلب یہ والی بات۔

              وقت کی قدر کرنے والے اکابر

              مولانا یحییٰ کاندھلویؒ، والد ماجد شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ خود فرماتے تھے کہ "پانچ ماہ نظام الدین کے حجرے میں، میں نے اس طرح گزارے کہ خود مسجد والوں کو معلوم نہ ہوا کہ میں کہاں ہوں چنانچہ اس زمانے میں کاندھلہ سے نکاح طلبی کا تار آیا لوگوں نے یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ مکتوب الیہ عرصہ سے یہاں نہیں ہے اسی عرصہ میں بخاری، سیرۃ ابن ہشام، طحاوی، ہدایہ، اور فتح القدیر کا بالاستیعاب اس اہتمام سے دیکھیں کہ مجھے خود حیرت ہے۔"

              علامہ انور شاہ کشمیریؒ کے بارے میں لکھا ہے۔ کہ ان کی طبیعت کافی خراب چل رہی تھی اسی دوران خبر پھیل گئی کہ شاہ صاحب کا وصال ہو گیا جب کمرے میں جا کر دیکھا تو شاہ صاحب نماز کی چوکی پر بیٹھے سامنے تکیے پر کتاب رکھی مطالعہ کر رہے ہیں اور اندھیرے کی وجہ سے کتاب کی طرف جھکے ہوئے ہیں، خود فرماتے ہیں کہ "میں نے طالب علمی میں بیس روز میں فتح الباری کی تیرہ جلدیں مکمل دیکھ ڈالی تھیں" اسی طرح فتح القدیر کے بارے میں فرمایا کہ "اس کے مطالعہ میں بھی بیس دن صَرف ہوئے صِرف دیکھا ہی نہیں بلکہ مطالعہ کے دوران تلخیص بھی کی"۔ کبھی پشت پر نہیں سوتے تھے جب شدید نیند آتی تو بیٹھے بیٹھے سو لیتے اور جب غنودگی ختم ہو جاتی تو پھر مطالعہ میں مشغول ہو جاتے۔

              شیخ الادب مولانا اعزاز علی صاحبؒ کے بارے میں لکھا ہے کثرت مطالعہ، کتب بینی، درس و تدریس وغیرہ کی مشغولیت کی وجہ سے مسلسل ایک ایک ہفتہ قطعاً نہ سوتے تھے، شب و روز کتاب سامنے ہی رہتی، جب حضرت انور شاہ صاحب کشمیریؒ رات بارہ بجے کڑکڑاتی سردی میں تشریف لاتے اور مسلسل ایک ہفتہ نہ سونے کی وجہ سے کتاب ہاتھ سے لے کر رکھ دیتے، مولانا اعزاز علی صاحبؒ فرماتے ہیں "کہ شاہ صاحب کے جانے کے بعد چند منٹ تو حضرت شاہ صاحب کے اس کہنے کا جی پر اثر رہا مگر جب برداشت نہ ہو سکا تو کتاب لے کر دوبارہ مطالعہ میں مشغول ہو گیا۔"

              حضرت میاں جی نور محمد جھنجھانویؒ کے بارے میں لکھا ہے کہ بازار سے کوئی چیز خریدتے تو پیسوں کی تھیلی دکان دار کے سامنے کر دیتے کہ اس میں سے پیسے نکال لو میں نکالوں گا تو وقت لگے گا اتنی دیر میں: "سبحان اللہ" کتنی مرتبہ کہہ لوں گا" ایک مرتبہ وہ پیسوں کی تھیلی کوئی اچکا چھین کر بھاگ گیا، اس کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھا فرمایا "اس چکر میں کون پڑے کہ اس کے پیچھے بھاگے اس کو پکڑے بس اللہ اللہ کرو۔"

              شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ اپنا حال خود لکھتے ہیں کہ "بسا اوقات رات دن میں ڈھائی تین گھنٹے سے زیادہ سونا نصیب نہیں ہوتا تھا اور بلا مبالغہ کئی مرتبہ بلکہ بہت سی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ روٹی کھانا یاد نہیں رہی۔ عصر کے وقت جب ضعف معلوم ہوتا تھا تو اس وقت یاد آتا تھا کہ دوپہر کی روٹی نہیں کھائی رات کا معمول تو اس سے پہلے ہی چھوٹ گیا تھا تیس پینتیس گھنٹے بغیر روٹی کھائے ہوئے گزر جاتے تھے۔"

              یہ تو ماضی قریب کے اکابر کا حال ہے اسلاف کا کیا حال ہو گا خود ہی اندازہ لگا لیا جائے۔

              تخریج حدیث: بخاری کتاب الرقاق (باب ماجاء فی الرقاق و ان لا عیش الا عیش الاٰخرہ)، ترمذی، وابن ماجہ 4170، وأخرجہ امام احمد فی مسندہ 3207۔


              یا اللہ، یا کریم، یا کریم، یا کریم! بس اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ جو وقت بھی میسر ہے اس کو ہم صحیح استعمال کر لیں۔


              وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔