الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ.أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
اللہ کا بندے کے قریب ہونا۔
الحديث الثاني:وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ فِيمَا... فِيمَا يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: «إِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ إِلَيَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَإِذَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وَإِذَا أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً».
حضرت انس رضي الله عنه رسولِ کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے بیان فرماتے ہیں، فرمایا: جب بندہ میری طرف ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں۔ اور جب وہ ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں دونوں ہاتھوں کے پھیلانے کے بقدر اس کے قریب ہوتا ہوں۔ اور جب وہ میری طرف آہستہ چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔
جب بندہ اللہ کے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو اللہ ایک ہاتھ قریب ہوتے ہیں۔ یعنی جب بندہ میری طرف ایک بالشت قریب ہو تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں، بندہ کا اللہ سے قریب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جب بندہ اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کرتا ہے۔ کہ بندہ معمولی سی بات کرتا ہے جتنی ایک بالشت کم سے کم خیر کی مثال بالشت کے ساتھ کی جاتی ہے۔ تو کہا جا رہا ہے کہ بندہ تو معمولی سی بات کر مگر اللہ جل شانہ کی رحمت اس پر ایک ہاتھ کے بقدر مہربان ہوتی ہے۔ اس طرح اگر بندہ کچھ زیادہ ہی بات کرتا ہے گویا ایک ہاتھ کے برابر، تو اللہ اسے دگنا زیادہ کرتے ہیں۔ یعنی دونوں بازوؤں کے پھیلانے کے بقدر۔ اور جب بندہ اللہ تعالیٰ کی طرف آہستہ رجوع کرتا ہے تو گناہ، اور گناہوں کو چھوڑ کر اللہ جل شانہ کی طرف توجہ کرنے لگتا ہے، تو اللہ جل شانہ کی رحمت اس کو دوڑ کر اپنی آغوش میں لیتی ہے۔ کہ شیطان اس کا راستہ روک نہ لے۔
میری زندگی کا حاصل میری زیست کا سہاراتیرے عاشقوں میں جینا تیرے عاشقوں میں مرنا
بخاری، حدیث بخاری کتاب التوحید باب ذکر النبی ﷺ۔ أَخْرَجَهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي مُسْنَدِهِ۔
اصل میں اس میں صرف اتنی بات ہے کہ انسان جتنا کر سکتا ہے وہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کا اجر اس سے بہت زیادہ دیتے ہیں۔ یعنی انسان کچھ عمل کرتا ہے تو اس سے زیادہ وہ اللہ تعالیٰ عطا فرماتے ہیں۔ اور پھر جب وہ زیادہ کرتا ہے تو پھر اس سے بھی زیادہ عطا فرماتے ہیں۔ اور یہ ہے کہ انسان جتنی بھی کوشش کرتا ہے تو اللہ جل شانہ اس کی کوشش میں برکت دیتا ہے اور اس کے لیے اور مزید خیر کے راستے کھول لیتے ہیں اور اس کو جناب اور قریب کر لیتے ہیں۔
اس وجہ سے اکثر میں عرض کرتا رہتا ہوں کہ اللہ پاک کے وعدوں پر یقین کرو۔ اللہ پاک نے جو وعدے کیے ہیں تو یہ نہ سمجھو کہ یہ تو اس میں تو فلاں چیز نہیں ہے، فلاں چیز نہیں ہے۔ جیسے اللہ پاک فرماتے، جیسے مطلب ہے آپ ﷺ فرماتے ہیں نا۔«أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصِلُوا الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ»
یعنی چار باتیں ہیں۔ سلام پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ اور رشتہ داری کا حق ادا کرو اور ساتھ یہ ہے کہ نماز اس وقت پڑھو جب لوگ سو رہے ہوں یعنی تہجد کی نماز۔ تو جنت میں داخل ہو جاؤ سلامتی کے ساتھ۔ اب آدمی کہتا ہے کہ اس میں تو بہت سارے اعمال کا ذکر نہیں ہے۔ بھئی اللہ پاک جب وعدہ فرماتے ہیں تو ان کی توفیق بھی دیتے ہیں۔ وہ تو اللہ تعالیٰ تو ہم سے زیادہ ہم پر، ہم سے زیادہ مہربان ہے۔ جتنا ہم کرتے ہیں اس سے بہت زیادہ عطا فرماتے ہیں۔ تو یہ اس، گویا کہ اللہ تعالیٰ سے امید کو بڑھانے والی حدیث شریف ہے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔