اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ:
فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اللہ کا بندے کے قریب ہونا
(96) «الثَّانِي: وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: "إِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ إِلَيَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَإِذَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا، وَإِذَا أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً"» (رواه البخاري)
"حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے بیان فرماتے ہیں فرمایا: جب بندہ میری طرف ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں اور جب وہ ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں دونوں ہاتھ کے پھیلانے کے بقدر اس کے قریب ہوتا ہوں اور جب وہ میری طرف آہستہ چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔"
جب بندہ اللہ کے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو اللہ ایک ہاتھ قریب ہوتے ہیں
کہ جب بندہ میری طرف ایک بالشت قریب ہوتا ہے۔ تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں۔ بندہ کا اللہ سے قریب ہونے کا مطلب ہے کہ جب بندہ اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بندہ معمولی سی عبادت کرتا ہے جتنی کہ ایک بالشت، کم سے کم خیر کی مثال بالشت کے ساتھ دی جاتی ہے تو کہا جا رہا ہے کہ بندہ تو معمولی سی عبادت کرتا ہے مگر اللہ جل شانہ کی رحمت اس پر ایک ہاتھ کے بقدر مہربان ہوتی ہے، اسی طرح اگر بندہ کچھ زیادہ عبادت کرتا ہے گویا ایک ہاتھ کے برابر تو اللہ اس سے دو گنا زیادہ قریب ہوتے ہیں یعنی دونوں بازوؤں کے پھیلانے کے بقدر اور جب بندہ اللہ کی طرف آہستہ آہستہ رجوع کرتا ہے اور گناہوں کے چھوڑ کر اللہ جل شانہ کی طرف توجہ کرنے لگتا ہے تو اللہ جل شانہ کی رحمت اس کو دوڑ کر اپنے آغوش میں لے لیتی ہے، کہ شیطان اس کو راستہ میں نہ روک لے۔
مری زندگی کا حاصل مری زیست کا سہارا
ترے عاشقوں میں جینا ترے عاشقوں میں مرنا
بخاری کتاب التوحید (باب ذکر النبی ﷺ) أخرجہ امام واحمد فی مسندہ 4/12289۔
اصل میں اس میں صرف اتنی بات ہے کہ انسان جتنا کر سکتا ہے وہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کا اجر اس سے بہت زیادہ دیتے ہیں۔ یعنی انسان کچھ عمل کرتا ہے تو اس سے زیادہ وہ اللہ تعالیٰ عطا فرماتے ہیں۔ اور پھر جب وہ زیادہ کرتا ہے تو پھر اس سے بھی زیادہ عطا فرماتے ہیں۔ اور یہ ہے کہ انسان جتنی بھی کوشش کرتا ہے تو اللہ جل شانہ اس کی کوشش میں برکت دیتا ہے اور اس کے لیے اور مزید خیر کے راستے کھول لیتے ہیں اور اس کو اور قریب کر لیتے ہیں۔
اس وجہ سے اکثر میں عرض کرتا رہتا ہوں کہ اللہ پاک کے وعدوں پر یقین کرو۔ اللہ پاک نے جو وعدے کیے ہیں تو یہ نہ سمجھو کہ یہ تو اس میں تو فلاں چیز نہیں ہے، فلاں چیز نہیں ہے۔ جیسے آپ ﷺ فرماتے ہیں نا:
«أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصِلُوا الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ»
یعنی چار باتیں ہیں۔ سلام پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ اور رشتہ داری کا حق ادا کرو اور ساتھ یہ ہے کہ نماز اس وقت پڑھو جب لوگ سو رہے ہوں یعنی تہجد کی نماز۔ تو جنت میں داخل ہو جاؤ سلامتی کے ساتھ۔ اب آدمی کہتا ہے کہ اس میں تو بہت سارے اعمال کا ذکر نہیں ہے۔ بھئی اللہ پاک جب وعدہ فرماتے ہیں تو ان کی توفیق بھی دیتے ہیں۔ وہ تو اللہ تعالیٰ تو ہم سے زیادہ ہم پر مہربان ہے۔ جتنا ہم کرتے ہیں اس سے بہت زیادہ عطا فرماتے ہیں۔ تو یہ گویا کہ اللہ تعالیٰ سے امید کو بڑھانے والی حدیث شریف ہے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔