اولیاء اللہ کا مقام، قربِ الٰہی کے ثمرات اور اللہ سے محبت کا لازم و ملزوم تعلق

درس نمبر 148، جلد 1، باب 11: جدوجہد کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • اللہ کے ولی سے دشمنی اور اس پر اللہ تعالیٰ کا اعلانِ جنگ۔
    • فرائض کی ادائیگی اور نوافل کی کثرت سے قربِ الٰہی کا حصول۔
      • اللہ کے بندے کے اعضاء (کان، آنکھ، ہاتھ، پاؤں) بن جانے کا حقیقی مفہوم۔
        • اکابر محدثین (حافظ تورپشتی، شاہ ولی اللہ دہلوی، مولانا ادریس کاندھلوی، ابنِ عربی اور علامہ خطابی رحمة اللہ علیہم) کی تشریحات۔
          • "مَنْ كَانَ لِلّٰهِ كَانَ اللّٰهُ لَهُ" کی عملی تفسیر اور Bi-directional (دو طرفہ) تعلق کی وضاحت۔

            الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،

            وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

            أَمَّا بَعْدُ

            فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

            بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.

            اللہ کے ولی سے دشمنی اللہ سے دشمنی ہے

            (95) ﴿فَالْاَوَّلُ: وَعَنْ اَبِیْ ہُـرَیْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ: "اِنَّ اللہَ تَعَالٰی قَالَ: مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ اٰذَنْتُہٗ بِالْحَرْبِ. وَمَا تَقَرَّبَ اِلَیَّ عَبْدِیْ بِشَیْءٍ اَحَبَّ اِلَیَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَیْہِ؛ وَمَا یَزَالُ عَبْدِیْ یَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی اُحِبَّہٗ، فَاِذَا اَحْبَبْتُہٗ کُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِیْ یَسْمَعُ بِہٖ، وَبَصَرَہُ الَّذِیْ یُبْصِرُ بِہٖ، وَیَدَہُ الَّتِیْ یَبْطِشُ بِہَا، وَرِجْلَہُ الَّتِیْ یَمْشِیْ بِہَا، وَاِنْ سَاَلَنِیْ اَعْطَیْتُہٗ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِیْ لَاُعِیْذَنَّہٗ"﴾ (رواہ البخاری)

            ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو شخص میرے ولی کے ساتھ عداوت رکھتا ہے میں اس کے ساتھ اعلانِ جنگ کرتا ہوں، میرا بندہ فرائض سے زیادہ اور کسی محبوب عمل کے ساتھ میرا تقرب حاصل نہیں کرسکتا، میرا بندہ نوافل پڑھ کر میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس کو محبوب سمجھتا ہوں تو میں اس کا کان ہو جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ چلتا ہے، اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اس کو دیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ حاصل کرے تو میں اس کو پناہ دیتا ہوں۔“ (بخاری)

            اٰذَنْتُہٗ: اس کا معنی ہے میں اس کو بتا دیتا ہوں کہ میری اس سے جنگ ہے۔

            اللہ کے ولی کی دشمنی اللہ سے دشمنی ہے کیونکہ اللہ پاک یہی فرماتے ہیں، اللہ پاک: "مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالْحَرْبِ"، جو شخص میرے ولی کے ساتھ عداوت رکھتا ہے میں اس کے ساتھ اعلانِ جنگ کرتا ہوں۔ اس کا مطلب یہ بیان کیا کہ اللہ جل شانہ فرماتے ہیں جو میرے ولی کو ایذا دیتا ہے تو اس شخص کی یہ انتہائی قابلِ نفرت حرکت کی وجہ سے میں اس کے ساتھ لڑائی کا اعلان کرتا ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو میرے ولی سے دشمنی رکھتا ہے تو گویا وہ میرے ساتھ لڑائی کرتا ہے، جب وہ میرے ساتھ لڑائی کرتا ہے تو میں بھی اس کے خلاف اعلانِ جنگ کروں گا۔

            اعلانِ جنگ اللہ جل شانہ کے ہاں وہ جگہ ہوتا ہے، دو جگہ ہوتا ہے، ایک یہاں پر اور دوسرا سود کے بارے میں۔

            اللہ کا کان، ہاتھ، پاؤں بن جانے کے پانچ مطلب

            «فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ»: میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس کے ساتھ وہ سنتا ہے۔ اس جملہ کے محدثین متعدد مطالب بیان فرماتے ہیں ان میں سے چند یہ ہیں۔

            حافظ تور بشتیؒ یہ فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ عبادات کے ذریعہ میں اپنے بندے پر محبت ڈال دیتا ہوں پھر وہ ہر قسم کے شہوات چھوڑ کر اللہ ہی کی محبت کو دل میں غالب کر لیتا ہے پھر وہ بندہ جو چیز اللہ کے نزدیک محبوب ہے وہ اسی کو سنتا ہے اس کے علاوہ کسی اور کو نہیں سنتا اور اسی طرح جو چیز اللہ کے نزدیک محبوب ہے وہ اسی کو دیکھتا ہے اس کے علاوہ کسی اور کو نہیں دیکھتا۔

            شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے اس حدیث کا یہ مطلب بیان فرمایا کہ بندہ عبادت کے ذریعہ سے جب اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے تو اللہ کا نور اس کو گھیر لیتا ہے پھر اسی کی برکت سے اس شخص سے ایسی چیزیں ظاہر ہوتی ہیں جو خلافِ عادت ہوتی ہیں، اسی وقت میں بندے کے فعل کو اللہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے جیسے کہ قرآن میں بھی اس کی متعدد مثال ملیں گی مثلاً «وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَمٰى»: اے نبی! ﷺ کنکریاں تم نے نہیں، ہم نے پھینکی تھیں، تو اسی وجہ سے یہاں پر بھی اللہ نے اپنی طرف منسوب کر لیا۔

            مولانا ادریس کاندھلویؒ فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے بندہ کو اللہ سے قرب حاصل ہوتے ہوتے اس درجہ شدید تعلق و محبت ہو جاتی ہے گویا کہ وہ اللہ کی آنکھ و کان اور ہاتھ سے دیکھتا ہے، سنتا اور کرتا ہے، اس جملہ سے بندہ کو اللہ کے ساتھ شدتِ محبت کو بیان کرنا مقصود ہے (معاذ اللہ اتحاد یا حلول ثابت کرنا مقصود نہیں ہے)

            شیخ محی الدین ابن عربیؒ فرماتے ہیں اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ نوافل کے ذریعہ سے بندے کا اللہ جل شانہ سے قرب ہو جاتا ہے پھر تمام معاملات اس پر منکشف ہونے لگتے ہیں

            علامہ خطابیؒ فرماتے ہیں کہ میں اس بندہ پر ان افعال و اعمال کو آسان کر دیتا ہوں جن کا تعلق ان اعضاء سے ہے اور ان اعمال و افعال کے کرنے کی توفیق دیتا ہوں یہاں تک کہ گویا اعضاء ہی بن جاتا ہوں۔

            اصل میں بات اتنی ہے کہ جو اللہ کا بن جاتا ہے اللہ اس کا بن جاتا ہے۔ "مَنْ كَانَ لِلّٰهِ كَانَ اللّٰهُ لَهُ"۔

            جو اللہ کا بن جاتا ہے اس میں یہ آتا ہے کہ وہ وہی کرتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جس چیز کو دیکھنے کا کہتا ہے وہی دیکھتا ہے، جس چیز کو سننے کا کہتا ہے وہی سنتا ہے، جو چیز کو بولنے کو کہتا ہے وہی بولتا ہے، جہاں چلنے کو کہتا ہے وہیں چلتا ہے۔ تو گویا کہ وہ خود اللہ جل شانہ کا آلہ بن جاتے ہیں، مطلب اللہ جل شانہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔ یہ تو "مَنْ كَانَ لِلّٰهِ"کا مطلب ہو گیا۔

            "كَانَ اللّٰهُ لَهُ" پھر اللہ پاک وہی کرنے لگتا ہے جو وہ کرنا چاہتا ہے، یعنی مطلب گویا کہ اس کے ارادے کے ساتھ اللہ کا ارادہ شامل ہو جاتا ہے، یعنی وہ اللہ کی محبت میں جو عمل بھی کرنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو پورا کرتا ہے کیونکہ اللہ بھی وہی چاہتا ہے۔

            تو یہ دونوں بالکل آپس میں لازم ملزوم ہو گئے کہ "يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّوْنَهُمْ"۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی ان کو چاہتا ہے اور وہ بھی اللہ کو چاہتے ہیں۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ ساری چیزیں جس کو کہتے ہیں Bi-directional۔ یعنی اللہ پاک جو چاہتا ہے بندہ وہی کرتا ہے اور جو بندہ چاہتا ہے وہی اللہ کرتے ہیں۔ یعنی چونکہ اللہ کی چاہت بندے کی چاہت بن جاتی ہے تو بندہ بھی وہی چاہتا ہے جو اللہ چاہتا ہے تو جو بندہ کرتا ہے اللہ بھی وہی کرتا ہے۔ تو اس میں کوئی مشکل والی بات نہیں ہے۔

            اللہ جل شانہ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔


            وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔


            اولیاء اللہ کا مقام، قربِ الٰہی کے ثمرات اور اللہ سے محبت کا لازم و ملزوم تعلق - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور