اللہ کے راستے میں انفاق: آخرت کی بہترین سرمایہ کاری

درس نمبر 147، جلد 1، باب 11: جدوجہد کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • قرآنی آیت کی روشنی میں اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے کی ترغیب۔
    • انسان کی فطرتی طور پر خیر اور بھلائی کی تلاش۔
      • دنیاوی سہاروں کی بے بسی اور حقیقی خیر کا صرف اللہ کے خزانوں میں ہونا۔
        • تاجروں (دنیاوی سرمایہ کاری یا Investment) کی مثال سے آخرت کی تیاری کی ترغیب۔
          • مال جمع رکھنے کے بجائے اسے صدقہ جاریہ بنانے کی اہمیت۔

            ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَالَمِينَ، وَٱلصَّلَاةُ وَٱلسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ ٱلنَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِٱللَّهِ مِنَ ٱلشَّيْطَانِ ٱلرَّجِيمِ. بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ. وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا. وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ هُوَ خَيْرًا وَأَعْظَمَ أَجْرًا.

            اور اللہ نے فرمایا اور جو تم اپنے لیے اچھائی آگے بھیجتے ہو، اللہ کے ہاں اسے بہتر صلہ میں پاؤ گے... اس صلے... بہتر صلے میں پاؤ گے۔

            یعنی اس آیتِ کریمہ میں ایمان والوں کو اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے کہ اپنے پاس مال رکھنے سے بہتر یہ ہے کہ آدمی اللہ کے راستے میں اس کو خرچ کرے۔ جو بھی جتنا خرچ کرے گا، وہ اللہ کے علم میں ہوگا، اور اس کا بدلہ قیامت کے دن اللہ جل شانہٗ خود عطا فرمائیں گے۔ اس کا اجر ثواب ضائع ہونے والا نہیں ہوگا۔

            یہ جو ہے نا... اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کی بہترین دعوت ہے۔ کیونکہ انسان جو ہے نا... اپنے لیے خیر تلاش کرتا ہے، بھلائی تلاش کرتا ہے۔ تو خیر اور بھلائی اللہ کے سوا کسی اور کے ساتھ نہیں ہے۔ جن سے ہم خیر کی توقع رکھتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ خیر پہنچا سکیں۔ بے شک چاہیں بھی تو ضروری نہیں ہے۔ لیکن اللہ جب چاہتا ہے تو اس کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں۔

            تو اس لیے جس کے خزانے میں خیر موجود ہے ہر ایک کے لیے، تو پھر اس کے لیے کیوں نہ بھیجا جائے؟ تو اللہ جل شانہٗ بہترین صلہ عطا فرمانے والے ہیں۔ ہاں، ضرورت کے مطابق انسان رکھ لے، لیکن باقی اللہ کے راستے میں خرچ کرے۔

            یہ جو تاجر لوگ ہیں نا، تو یہ بھی... مطلب جو ہے نا... وہ ضرورت کے مطابق رکھتے ہیں، باقی سارا Invest کرتے ہیں۔ کیونکہ پتا ہے کہ بھئی مال میرے پاس پڑے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، وہ تو خرچ کرنے سے فائدہ ہوگا۔ تو اس طریقے سے اگر ہم لوگ بھی اللہ کے راستے میں خرچ کر لیا کریں تو یہ فائدہ ایک جاریہ ہے... مطلب اللہ پاک ہمیں اس کا مستقل اجر عطا فرمائیں گے۔ اللہ ہمیں نصیب فرمائے۔

            وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔



            اللہ کے راستے میں انفاق: آخرت کی بہترین سرمایہ کاری - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور