ذرہ بھر نیکی کی عظمت اور سورۃ الزلزال کی جامعیت

درس نمبر 146، جلد 1، باب 11: جدوجہد کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • سورۃ الزلزال کی آیت "فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ" کی تفسیر اور مفہوم۔
    • اللہ کے دربار میں معمولی اور چھوٹی نیکی کی اہمیت و قبولیت۔
      • حلال کمائی سے کیے گئے صدقے کا اللہ کے ہاں پہاڑ کے برابر پروان چڑھنا (حدیثِ نبوی ﷺ)۔
        • حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت انس رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے اقوال کی روشنی میں اس آیت کا منفرد اور جامع ہونا۔

          الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ.

          جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ ذرہ یہ چھوٹی چیونٹی کو کہتے ہیں، جو، جو بھی نیکی ہو معمولی سی کیوں نہ ہو اگر اللہ کے دربار میں قبول ہو گئی تو قیامت کے دن اس پر بہت کچھ ملے گا۔

          اس وجہ سے مقاتل رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اس آیت میں مسلمانوں کو ترغیب دی جا رہی ہے کہ نیک عمل کرو، خواہ وہ قلیل ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ آئندہ قریب وقت میں چھوٹی نیکی بھی بڑی ہو جائے گی۔

          جیسے آپ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ جو شخص پاک کمائی سے آدھے چھوہارے کے برابر بھی خیرات کرتا ہے تو اللہ اس کو قبول کر لیتا ہے اور اپنے دائیں ہاتھ سے اس کو لیتا ہے، پھر خیرات کرنے والے کے لیے اس نیکی کو بڑھاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے برابر کر دیا جاتا ہے، جیسے کہ تم میں سے بعض لوگ بچھڑے کی پرورش کرتے ہیں اور وہ بڑا ہو جاتا ہے۔

          اس آیت، یہ آیت بہت ہی جامع آیت ہے، اس وجہ سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قرآن کی سب سے زیادہ مستحکم اور جامع آیت ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بن مالک کی ایک لمبی روایت ہے، آیا جس میں، جس میں ایک، آپ ﷺ نے اس آیت کو "الْفَاذَّةُ الْجَامِعَةُ" فرمایا یعنی منفرد، یکتا اور جامع آیت۔

          ایک شخص حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس سورۃ زلزال پڑھتے ہوئے گزرا، جب اس آخری آیت پر پہنچا تو حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: بس میرے لیے یہی کافی ہے، تو نے نعمت کی انتہا کر دی۔

          سبحان اللہ! فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ۔ سبحان اللہ! یعنی ہر چیز، جو انسان جو بھی نیکی کرتا ہے وہ، اس کا بہت زیادہ فائدہ اس کو ہوگا۔ ماشاء اللہ۔



          ذرہ بھر نیکی کی عظمت اور سورۃ الزلزال کی جامعیت - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور