الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ. فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ.
جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ ذرہ یہ چھوٹی چیونٹی کو کہتے ہیں، جو، جو بھی نیکی ہو معمولی سی کیوں نہ ہو اگر اللہ کے دربار میں قبول ہو گئی تو قیامت کے دن اس پر بہت کچھ ملے گا۔
اس وجہ سے مقاتل رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اس آیت میں مسلمانوں کو ترغیب دی جا رہی ہے کہ نیک عمل کرو، خواہ وہ قلیل ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ آئندہ قریب وقت میں چھوٹی نیکی بھی بڑی ہو جائے گی۔
جیسے آپ ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے کہ جو شخص پاک کمائی سے آدھے چھوہارے کے برابر بھی خیرات کرتا ہے تو اللہ اس کو قبول کر لیتا ہے اور اپنے دائیں ہاتھ سے اس کو لیتا ہے، پھر خیرات کرنے والے کے لیے اس نیکی کو بڑھاتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے برابر کر دیا جاتا ہے، جیسے کہ تم میں سے بعض لوگ بچھڑے کی پرورش کرتے ہیں اور وہ بڑا ہو جاتا ہے۔
اس آیت، یہ آیت بہت ہی جامع آیت ہے، اس وجہ سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قرآن کی سب سے زیادہ مستحکم اور جامع آیت ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بن مالک کی ایک لمبی روایت ہے، آیا جس میں، جس میں ایک، آپ ﷺ نے اس آیت کو "الْفَاذَّةُ الْجَامِعَةُ" فرمایا یعنی منفرد، یکتا اور جامع آیت۔
ایک شخص حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس سورۃ زلزال پڑھتے ہوئے گزرا، جب اس آخری آیت پر پہنچا تو حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: بس میرے لیے یہی کافی ہے، تو نے نعمت کی انتہا کر دی۔
سبحان اللہ! فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ۔ سبحان اللہ! یعنی ہر چیز، جو انسان جو بھی نیکی کرتا ہے وہ، اس کا بہت زیادہ فائدہ اس کو ہوگا۔ ماشاء اللہ۔