تلاوتِ قرآن کے آداب: ترتیل، تدبر اور حُسنِ صَوت کی اہمیت

درس نمبر 145، جلد 1، باب 11: جدوجہد کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• ترتیل کا لغوی اور اصطلاحی معنی اور مفہوم• تلاوتِ قرآن میں جلد بازی کی ممانعت اور معانی پر تدبر کی ضرورت• نمازِ تہجد اور رات کے قیام میں تلاوت کا خاص اہتمام• مخارج، صفات اور حُسنِ صَوت کے ساتھ قرآن پڑھنے کی اہمیت• اکابرین اور اسلاف (جیسے حضرت علقمہ اور حضرت حسن بصری رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِم) کے تلاوت سے متعلق واقعات

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ

فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا

سورہ المزمل اور اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کرو اور ہر طرف سے بے تعلق ہو کر اسی کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔

اللہ کا نام لو ہر طرف سے منقطع ہو کر

یہاں تَبْتِيلًا کا معنی لغت میں کلمہ کو سہولت اور استقامت کے ساتھ منہ سے نکالنے کے ہیں اب آیت کا مطلب یہ ہوا کہ تلاوتِ قرآن میں جلدی نہ کی جائے بلکہ ترتیل اور تسہیل کے ساتھ ادا کریں اور ساتھ ہی ساتھ اس کے معانی میں بھی غور اور تدبر کریں۔

واقعی جو جلدی جلدی قرآن پڑھتے ہیں وہ تو تدبر کر ہی نہیں سکتے، اس میں پتا ہی نہیں چلتا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں۔ لیکن جو ترتیل کے ساتھ پڑھتا ہے تو اس پر غور بھی کر سکتا ہے، اس کو بات سمجھ بھی آ سکتی ہے جیسے کہ: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (ترتیل سے پڑھ کر) - اس طرح بھی معنی پر غور ہو سکتا ہے۔

اور إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (تیزی سے پڑھ کر) - اس میں غور نہیں ہو سکتا

اور إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ، (تغنی سے پڑھ کر) - اس میں بھی غور نہیں ہو سکتا، اس میں آواز کی طرف توجہ جاتی ہے۔ اس میں آواز کی طرف توجہ جاتی ہے اور اس میں خیال ہی جم نہیں سکتا۔

تو درمیان میں جو ترتیل ہے نا، یہ اصل میں ہے۔ اس میں انسان کو سمجھ آ سکتی ہے کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں۔

دیکھیں نا: الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ، إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ مطلب آدمی بالکل اس پر غور کر سکتا ہے کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں۔

تو یہ بات ہے۔

بعض مفسرین نے فرمایا کہ رتّل کا عطف قُمِ اللَّيْلَ پر ہے، اس صورت میں مطلب یہ کہ رات کے قیام میں خوب آرام آرام سے تلاوتِ قرآن کرنا چاہیے۔ اگرچہ نمازِ تہجد میں قراءت، تسبیح، رکوع، سجود سب ہی ہوگی، مگر تلاوت کو سب سے زیادہ اہتمام سے کرنے کا کہا گیا ہے۔ اس وجہ سے آپ ﷺ تہجد کی نماز بہت زیادہ لمبی پڑھتے تھے اور یہی عادت بعد میں اسلاف کی آج تک ہے۔

علامہ قرطبی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ حضرت علقمہ رحمۃ اللہ علیہ نے ایک شخص کو حُسنِ صَوت کے ساتھ تلاوت کرتے دیکھا تو فرمایا: لَقَدْ رَتَّلَ الْقُرْآنَ فِدَاهُ أُمِّي وَأَبِي اس شخص نے قرآن کی ترتیل کی ہے میرے ماں باپ اس پر قربان ہوں۔ اس طرح ایک مرتبہ حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کا گزر ایک ایسے شخص پر ہوا جو قرآن کی آیت پڑھ رہا تھا اور رو رہا تھا، آپ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کا حکم وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا سنا ہے؟ بس یہی ترتیل ہے جو یہ آدمی کر رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ الفاظ کو ان کے مخارج اور صفات سے ادا کرنا، حُسنِ صَوت سے پڑھنا، معنی اور مطالب پر غور کرنا یہ سب ترتیل میں داخل ہے۔

یعنی مطلب یہ ہے کہ قرآن کے شان کے مطابق، حُسنِ صَوت ہو، اور مخارج اور صفات سے ادائیگی ہو، تاکہ وہ الفاظ صحیح صحیح ادا ہو جائیں، اور ان مطالب پر غور ہو۔ تو پھر ان شاءاللہ صحیح ہے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔