موت تک رب کی بندگی: قرآن و سنت کی روشنی میں

درس نمبر 144، جلد 1، باب 11: جدوجہد کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• آیت "وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ" کی تفسیر اور 'یقین' کا مفہوم۔• مفسرین کے نزدیک یقین سے مراد موت کا ہونا۔• نبی کریم ﷺ اور حضرت عیسیٰ عليه السلام کو زندگی کی آخری سانس تک عبادت کا حکم۔• دنیاوی مال جمع کرنے کی بجائے اللہ کی تسبیح، حمد اور سجدے میں مشغول رہنے کی فضیلت۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ۔

فرمایا، اور اپنے پروردگار کی عبادت کیے جاؤ، یہاں تک کہ تمہاری موت کا وقت آ جائے۔

حضرت ابن عباس رضي الله عنه، مجاہد رحمۃ اللہ علیہ، جمہور مفسرین رحمۃ اللہ علیہم کے نزدیک 'یقین' سے مراد موت ہے، کیونکہ موت کا آنا ہر زندہ کے لیے یقینی ہے۔ اس آیت میں آپ ﷺ کو اولاً خطاب ہے کہ جب تک آپ ﷺ زندہ رہیں، اپنے رب کی عبادت میں مشغول رہیں، عبادت کو ترک نہ کر دیں۔

یہی قول تقریباً حضرت عیسیٰ عليه السلام کے لیے بھی کہا گیا ہے:

وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا۔

ایک اور روایت میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، مجھے اللہ نے مال کو جمع کرنے اور تاجر بن جانے کا حکم نہیں دیا، بلکہ یہ وحی بھیجی گئی ہے کہ:

فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ ۝ وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ۔

کہ میں اللہ کی تسبیح اور حمد، اور اللہ کے لیے سجدہ کرتا رہوں، یہاں تک کہ موت کا وقت آ جائے۔

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

موت تک رب کی بندگی: قرآن و سنت کی روشنی میں - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور