اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ۔
فرمایا، اور اپنے پروردگار کی عبادت کیے جاؤ، یہاں تک کہ تمہاری موت کا وقت آ جائے۔
حضرت ابن عباس رضي الله عنه، مجاہد رحمۃ اللہ علیہ، جمہور مفسرین رحمۃ اللہ علیہم کے نزدیک 'یقین' سے مراد موت ہے، کیونکہ موت کا آنا ہر زندہ کے لیے یقینی ہے۔ اس آیت میں آپ ﷺ کو اولاً خطاب ہے کہ جب تک آپ ﷺ زندہ رہیں، اپنے رب کی عبادت میں مشغول رہیں، عبادت کو ترک نہ کر دیں۔
یہی قول تقریباً حضرت عیسیٰ عليه السلام کے لیے بھی کہا گیا ہے:
وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا۔
ایک اور روایت میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا، مجھے اللہ نے مال کو جمع کرنے اور تاجر بن جانے کا حکم نہیں دیا، بلکہ یہ وحی بھیجی گئی ہے کہ:
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّىٰ يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ۔
کہ میں اللہ کی تسبیح اور حمد، اور اللہ کے لیے سجدہ کرتا رہوں، یہاں تک کہ موت کا وقت آ جائے۔
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔