باب فی المجاہدہ... جدوجہد کا بیان۔ کوششوں سے راہیں نکلتی ہیں۔
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ﴿وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ﴾
ارشاد خداوندی ہے، اور جن لوگوں نے ہمارے لیے کوشش کی، ہم ان کو ضرور اپنے راستے دکھا دیں گے۔ اور خدا تو نیکو کاروں، نیکو کاروں کے ساتھ ہے۔
'جَاھَدُوْا' کا جو معنی ہے وہ ہے دین میں پیش آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے میں اپنی پوری پوری کوشش کرنا یہ جہاد ہے۔ کبھی رکاوٹیں کفار کی طرف سے آتی ہیں تو اس کو جہاد کہتے ہیں اور کبھی نفس اور شیطان کی طرف سے پیش آئے تو اس کو مجاہدہ کہتے ہیں۔ سبحان اللہ ایک بہت اچھی تعریف کی ہے۔ یعنی کبھی اگر کافروں کی طرف سے رکاوٹ ہو تو جہاد ہو جاتا ہے اور اگر اپنے نفس کی طرف سے تو مجاہدہ ہو جاتا ہے۔
علمائے کرام فرماتے ہیں کہ یہ آیت مکی ہے اس لیے یہاں پر دوسرے معنی مراد ہوں گے۔ چونکہ اس وقت جہاد کا حکم نہیں تھا۔ دیکھیں نا مفسرین اور علمائے کرام کیسے یعنی اندازے مطلب صحیح اندازہ لگاتے ہیں۔ چونکہ مطلب فرماتے ہیں چونکہ اس وقت جہاد فرض ہی نہیں ہوا تھا۔ تو اس وقت ظاہر ہے مطلب یہی جہاد، مجاہدہ ہی اس سے مراد لیا جا سکتا ہے۔
ان دونوں قسموں میں اللہ کی طرف سے سیدھے راستے کی رہنمائی ہوتی ہے۔ کبھی کبھار آدمی سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ اب میں اس موقع پر کیا کروں؟ تو اس آیت میں بتایا کہ ان کے قلوب کو ہم حق اور خیر و برکت کی طرف پھیر دیتے ہیں۔ یعنی صحیح بات کی طرف مڑ جاتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر میں حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ آپ سے نقل کرتے ہیں، آپ ﷺ سے، کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی طرف سے جو علم لوگوں کو دیا گیا ہے، اس پر چلنے کی کوشش بھی کرتے ہیں تو ہم ان کے لیے آگے کا علم کھول دیتے ہیں۔ ہاں جی۔ بے شک۔ اور حدیث شریف میں آتا ہے، یہ بھی آتا ہے نا کہ جو کوئی نیکی کرتا ہے تو اس کے لیے مزید نیکی آسان بنا دی جاتی ہے۔ تو اس میں یہ والی بات ہے۔
حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جو توبہ کی کوشش کرتے ہیں، ہم ان کو اخلاص کے راستے بتا دیتے ہیں۔ فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے طلبِ علم میں مجاہدہ کیا، ہم ان کو علم کے مطابق عمل کرنے کے راستے بتا دیتے ہیں۔ سہل بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں نے سنت کو قائم کرنے کی کوشش کی، ہم ان کو جنت کے راستے بتا دیتے ہیں۔ تو یہ بات ہے کہ مطلب انسان جتنا ترقی کرتا ہے، اس سے آگے بڑھنے کے راستے کھلتے ہیں۔ ہاں جی۔
اور سیر فی اللہ کے بارے میں جو فرمایا، یعنی سیر الی اللہ میں تو انسان اپنے نفس کو سدھارتا ہے، تو اس میں کوشش کرتا ہے، تو وہ راستے کھلتے ہیں۔ اور سیر فی اللہ میں انسان اللہ پاک کو راضی کرنے کے لیے اعمال کرتا ہے شریعت کے مطابق تو اللہ پاک پھر اور راستے کھولتے ہیں، ان کے لیے، خیر و برکت کے۔ ہاں جی۔ تو یہی سلسلہ چلتا رہتا ہے آگے، اللہ پاک ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل فرمائے، جو کہ اللہ کے پسندیدہ لوگ ہیں، اور نیک کاموں میں کوشش کرتے ہیں۔ اللہ ان کو قبول فرمائے، ہم سب کو، سب کے ساتھ۔