سالکین کی تربیت، اصلاح، معمولات اور احوال سے متعلق سوالات کے جوابات

مجلس نمبر 600

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی


اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ

اَمَّا بَعْدُ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ


سوال نمبر1:

السلام علیکم، محترم شیخ صاحب! امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ مجھے پانچ پانچ منٹ کے پانچ مراقبے دیئے گئے ہیں، ان کے ساتھ چار ہزار دفعہ ”اَللہ“ کا ذکر دیا گیا تھا، پندرہ منٹ دل پر تجلی کہ جو کچھ ہوتا ہے اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس معمول کو کرتے ہوئے دو ماہ ہو گئے ہیں۔ مجھ سے دو دن ناغہ بھی ہو گیا تھا جس کی وجہ سے دو ماہ بعد بتا رہی ہوں۔ آج کل ایک پریشانی ہے کہ اعمال پوری طرح سے ہو نہیں پا رہے، بہت زیادہ سستی ہے، خواب بھی اچھے نہیں آتے، کبھی دریا، کبھی سانپ، کبھی بھینس وغیرہ چیزیں نظر آتی ہیں، بہت ڈر جاتی ہوں کہ یہ سب میرے اعمال کی وجہ سے ہے، پھر بھی سستی نہیں جاتی۔ آگے کے لئے کیا رہنمائی ہے، حسد سے بچنے کے لئے دعا بھی بتا دیں، خاندان میں بہت سے لوگ حسد کرتے ہیں، مجھے الٹے خیال آتے ہیں۔ میرے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے ہدایت دے۔ مزید رہنمائی فرما دیں۔

جواب:

اس سوال کا جواب میں نے یہ دیا تھا کہ انسان اس مقصد کے لئے منزل جدید پڑھ سکتا ہے۔ میں نے تجلیات افعالیہ والے مراقبہ کے بارے میں پوچھا تھا کہ اس کا کیا اثر ہے تو جواب آیا کہ محترم اس میں ابھی تک کچھ محسوس نہیں ہوا، اس کی مجھے سمجھ ہی نہیں آئی، بس تصور کرتی ہوں کہ جو کچھ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے۔

یہ بات کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے ہمارے ایمانیات میں ہے۔ اگر آپ یہ مراقبہ نہ بھی کریں پھر بھی اس پر ایمان ہونا چاہیے، کیونکہ ہمارا ایمان ہے کہ سب کچھ اللہ کرتا ہے، صرف اس بات کو پختہ کرنے کے لئے یہ مراقبہ کیا جاتا ہے۔ پختگی کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کوئی چیز بار بار سوچیں اور اس کے مطابق عمل کریں تو وہ چیز پختہ ہو جاتی ہے۔ اب اس مراقبہ میں سوچنا یہ ہے کہ اللہ پاک سب کچھ کرتے ہیں۔ یعنی انسان کو اللہ پاک کے سب کچھ کرنے کی تجلی کا ادراک ہو جائے کہ اس تجلی کا فیض ہے وہ میرے لطیفۂ قلب پہ آ رہا ہے۔

میں نے فیض کے بارے میں آپ کو ہمیشہ بتایا ہے کہ فیض ہر وہ چیز ہے جس سے انسان کو فائدہ ہوتا ہو۔ اس مراقبہ کا فائدہ یہی ہے کہ انسان کو اپنے ایمان کی پختگی حاصل ہو جائے، اس لیے اس میں فیض یہی ہو گا۔ لہٰذا آپ یہ تصور کریں کہ میرا اللہ تعالیٰ کے سب کچھ کرنے پر یقین بڑھ رہا ہے، آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فیض آ رہا ہے، یہ فیض سب سے پہلے آپ ﷺ پر آ رہا ہے کیونکہ آپ ﷺ ہی سب سے اول ذریعہ ہیں اور آپ ﷺ کی طرف سے یہ فیض شیخ پر آ رہا ہے کیونکہ آپ کے لئے شیخ سب سے بڑا ذریعہ ہے، پھر وہاں سے یہ فیض آپ کے لطیفۂ قلب پہ آ رہا ہے۔ بس یہی چیزیں ہیں اس میں کوئی فلسفہ نہیں ہے، کوئی لمبی چوڑی بات نہیں ہے، اتنی ہی بات ہے، اس پر آپ نے غور کرنا ہے اور سوچنا ہے۔ آپ یہ کر لیں پھر مجھے بتا دیں۔

ہدایت:

ہمارے سوال و جواب کے نمبر پر پوسٹ وغیرہ نہ بھیجا کریں، اگرچہ آپ کی پوسٹ صحیح ہے لیکن یہ نمبر پوسٹوں کے لئے نہیں ہے لہٰذا از راہِ کرم اس قسم کی چیزیں نہ بھیجا کریں ورنہ ایسے حضرات کو ہم بلاک کر دیتے ہیں۔

سوال نمبر2:

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ حضرت جی امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے، اللہ سبحانہ آپ کو صحت و تندرستی اور برکت والی لمبی عمر عطا فرمائے۔ کچھ دنوں سے یہ بات ذہن میں تھی کہ میں ادائے نماز اور ذکر اذکار وغیرہ تو کرتا ہوں لیکن میری اخلاقی حالت ٹھیک نہیں ہے، مثلاً مجھ میں نرم مزاجی نہیں ہے۔ کسی محفل میں گفتگو کے بعد مجھے اس بات کا بہت احساس ہوتا ہے کہ میں نرم مزاج نہیں ہوں۔ حضرت جی! کیا اس کا علاج ممکن ہے؟

جواب:

وسوسوں میں پڑنا اور بات ہے جبکہ علاج کرنا اور بات ہے۔ وسوسہ کا علاج تو یہی ہے کہ اس کی پروا نہ کی جائے، جہاں تک علاج کا تعلق ہے تو وہ یہ ہے کہ اس بات پر غور کریں کہ جو مسئلہ پیش آ رہا ہے وہ اختیاری ہے یا غیر اختیاری۔ ان دو باتوں کے علاوہ تیسری بات کوئی بات نہیں ہو سکتی۔ اگر غیر اختیاری ہے تو پروا نہ کریں اور اگر اختیاری ہے تو اسے بدلنا بھی آپ کے اختیار میں ہے۔

نرم مزاجی کوئی کیفیت نہیں ہے بلکہ یہ ایک علمی چیز ہے اس لئے علم کے ذریعے یہ سمجھیں کہ کتنی نرم مزاجی مطلوب ہے اور اتنی نرم مزاجی کو کوشش کے ذریعے اپنے اندر پیدا کریں، اگر مطلوب حد سے زیادہ نرم مزاجی آپ کے اندر نہیں ہے تو اسے پیدا کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔

دیکھیے، زبان نرم ہونی چاہیے اور دانت سخت ہونے چاہئیں۔ اگر آپ دانت کو نرم کر لیں اور زبان کو سخت کر لیں تو کام خراب ہو گا۔ نرمی کی جگہ نرمی ہونی چاہیے اور سختی کی جگہ سختی ہونی چاہیے۔ یہ بات آپ کو علم سے معلوم ہو گی کہ کہاں کتنی نرمی ہونی چاہیے اور کہاں نرمی نہیں ہونی چاہیے۔ فرضِ عین علم میں یہ ساری چیزیں ہوتی ہیں، آپ اس کا علمی احاطہ کر لیں اور دیکھ لیں کہ کہاں پر سختی ہونی چاہیے، کہاں پر نرمی ہونی چاہیے۔ اس کے بعد اپنا موازنہ و محاسبہ کریں کہ جہاں پر سختی ہونی چاہیے اور وہاں آپ کی نرم مزاجی آڑے آ رہی ہے تو وہاں پر آپ سختی اختیار کر لیں اور جہاں پر نرمی ہونی چاہیے وہاں اگر آپ سختی سے کام لیتے ہیں تو اسے نرمی سے تبدیل کر لیں۔ یہی طریقۂ کار ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

سوال نمبر3:

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ حضرت صاحب مجھے مندرجہ ذیل ذکر کرتے ہوئے تیس دن ہو گئے ہیں:

”لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ“ 200 مرتبہ، ”لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ھُوْ“ 400 مرتبہ، ”حَقْ“ 600 مرتبہ اور ”اَللہ“ 500 مرتبہ۔ اس میں چار ناغے بھی ہو گئے ہیں۔ برائے مہربانی آگے کے لئے ارشاد فرمائیں اور فلاح دارین کے لئے دعا بھی فرمائیں۔ آمین۔

جواب:

اب آپ اس ذکر کو درج ذیل ترتیب سے کریں:

”لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ“ 200 مرتبہ، ”لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ھُوْ“ 400 مرتبہ، ”حَقْ“ 600 مرتبہ اور ”اَللہ“ 1000 مرتبہ۔

سوال نمبر4:

السلام علیکم، حضرت کیا حال ہیں۔ تیسرا کلمہ، درود شریف اور استغفار سو سو دفعہ، ”لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ“ 200 مرتبہ، ”لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ھُوْ“ 400 مرتبہ، ”حَقْ“ 600 مرتبہ اور ”اَللہ“ 6500 مرتبہ۔ کافی عرصہ ہو چکا ہے۔

جواب:

یہ تو مجھے یاد نہیں ہے کہ آپ ہر مہینہ کے بعد بتاتے رہے ہیں یا نہیں، بہرحال اگر نہیں بتاتے رہے تو آئندہ ہر مہینہ کے بعد بتا دیا کریں۔ اب ذکر اس ترتیب سے کریں:

”لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ“ 200 مرتبہ، ”لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ھُوْ“ 400 مرتبہ، ”حَقْ“ 600 مرتبہ اور ”اَللہ“ 7000 مرتبہ۔

تیسرا کلمہ، درود شریف، استغفار اور نماز کے بعد والے اذکار عمر بھر کے لیے ہیں۔

ہدایت:

بجائے اس کے کہ آپ مجھے دوسرے بزرگوں کی باتیں بھیجتے رہیں کہ ان میں کون سی بات صحیح ہے اور کون سی بات غلط ہے، آپ اپنی اصلاح سے متعلق سوال پوچھا کریں۔ اگر آپ مجھے اس طرح دوسری باتیں بھیجتے رہیں گے تو اس سے آپ کا اپنا وقت بھی ضائع ہو گا اور میرا وقت بھی ضائع ہو گا۔ ہمارے پاس الحمد للہ وہ چیزیں موجود ہیں جو تصوف کے بارے میں بالکل واضح ہیں اور جن کا تصوف سے تعلق نہیں ہے ان کے بارے میں ہمیں کوئی بات چیت ہی نہیں کرنی، ہمیں اپنا وقت ایسی چیزوں پر استعمال نہیں کرنا۔ لہٰذا آپ ان چیزوں کو چھوڑ دیں کیونکہ کتابوں میں تحریف بھی ہو سکتی ہے۔

ہم نے اپنی کتاب ”زبدۃ التصوف“ میں لکھا ہے کہ اگر کوئی ایسی بات ہے جو عقیدے کے مطابق صحیح نہیں ہے تو ہم دو باتیں کریں گے یا اس کی تاویل ایسی کریں گے جس سے وہ شریعت کے مطابق ہو جائے صحیح عقیدے کے مطابق ہو جائے اور اگر تاویل نہیں ہو سکتی تو ہم اس کو تحریف پر محمول کریں گے۔ کیونکہ کسی بزرگ کے لئے یہ گمان کرنا کہ انہوں نے خلاف شریعت بات کی ہے، یہ ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ یا پھر یہ ہے کہ ہم کسی بزرگ کے تعلق کے لئے شریعت کو چھوڑ دیں، یہ بھی نا ممکن ہے۔

جب یہ دو باتیں ہمیں واضح طور پر معلوم ہیں تو ہم اپنا وقت کیوں ضائع کریں۔ پھر یہ باتیں بڑے بڑے مفتیوں کے شعبے کی ہیں، وہ مفتی حضرات ان پہ غور کریں کہ کون سی بات صحیح ہے کون سی بات صحیح نہیں ہے۔

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اگر مجھے کوئی چیز سمجھ نہ آ رہی ہو تو میں اس کو چھوڑ دیتا ہوں۔

اگر وہ اتنے بڑے عالم ہو کر یہ بات فرما رہے ہیں تو ہماری کیا حیثیت ہے کہ ہم خواہ مخواہ اپنے آپ کو الجھن میں مبتلا کرتے رہیں۔ ہمیں اپنے آپ کو تردد میں نہیں ڈالنا چاہیے۔

اگر آپ کو کچھ پڑھنا ہے تو پہلے ہماری کتاب ”زبدۃ التصوف“ پڑھ لیں، یہ ہماری ویب سائٹ Tazkia.org پر موجود ہے۔ اس کے بعد ”تصوف کا خلاصہ“ پڑھ لیں اور اس کے بعد ”فہم التصوف“ پڑھ لیں۔ میرے خیال میں یہ تین کتابیں تصوف کو سمجھنے کے حوالے سے آپ کے لئے کافی ہیں۔ اگر آپ نے اس کے علاوہ کچھ اور سمجھنا ہو تو وہ ہمارے پاس نہیں ہے، اگر آپ نے تصوف سمجھنا ہے تو اس کے لیے ہمارے نزدیک یہ تین کتابیں کافی ہیں۔ بلکہ مجھے تو ہمارے ایک بزرگ (جنہوں نے مجھے اجازت بھی دی ہے) نے فرمایا ہے کہ بس اور کوئی کتاب نہ لکھیں یہی کافی ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ تصوف عملی چیز ہے یہ معلوماتی چیز نہیں ہے، لہذا اس کے لیے علمی طور پر اتنا جاننا کافی ہے، اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں ہے۔ مہربانی کر کے آپ ان چیزوں میں نہ پڑیں اور خواہ مخواہ اپنے آپ کو الجھن میں مبتلا نہ کریں۔ ہماری شریعت بالکل واضح ہے، اس میں کوئی ابہام نہیں ہے، حلال بھی واضح ہے، حرام بھی واضح ہے، ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں، جس نے اپنے آپ کو مشتبہ امور سے بچا لیا اس نے اپنے دین کو بچا لیا۔ تو ہم اپنا دین کیوں نہ بچائیں، خواہ مخواہ اپنا وقت کیوں ضائع کریں۔ تصوف شریعت پر آنے کے لئے ہے، شریعت کو تبدیل کرنے کے لئے نہیں ہے، لہذا اگر تصوف کی کسی بات کے لئے آپ کو شریعت سے نکلنا پڑے تو اس کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، کم از کم ہمارے ہاں ایسی بات تصوف میں نہیں ہے۔ اس وجہ سے آپ اپنے آپ کو مت الجھائیں اور اپنا وقت ضائع نہ کریں۔ امید ہے کہ آپ کو میری بات سمجھ میں آئی ہو گی۔ اللہ پاک مجھے اور آپ سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

سوال نمبر5:

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ”اَلْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ“ اس کا کیا مطلب ہے؟

جواب:

اس کا مطلب یہ ہے کہ دانائی کی بات مومن کی گم شدہ میراث ہے، اس کو جہاں سے بھی پائے، اسے لے لے، اس کو استعمال کر لے کیونکہ وہ اس کی اپنی میراث ہے۔ لہٰذا دانائی کی بات کہیں سے بھی لی جا سکتی ہے۔

سوال نمبر6:

السلام علیکم

My dear and respected مرشد دامت برکاتھم, I hope you are well ان شاء اللہ ! I have completed my ذکر for 33 days without any ناغہ الحمد للہ

200 times لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ

400 times لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ھُوْ

600 times حَقْ

And 400 times اَللہُ

Answer:

Now you should do 500 times اللہ and the rest will be the same

Question: حضرت جی دامت برکاتھم please, can you advise me what to do next?

Ans: Ok I advised

Q: Humble request to remember me in your dua!

Ans: Yes you should also

سوال نمبر7:

السلام علیکم۔ آپ نے ایک بیان میں فرمایا کہ ذکر سے قلب کو پاکیزگی حاصل ہو جاتی ہے لیکن نفس کی اصلاح پھر بھی درکار ہوتی ہے۔ اس کے لئے آپ نے سورۃ الشمس کا حوالہ دیا جس میں اللہ پاک نے قسمیں کھا کر یہ بات بیان فرمائی ہے کہ نفس کا تزکیہ کرنے والا کامیاب ہے۔ اس بیان سے بہت فائدہ ہوا لیکن میرا ایک سوال ہے کہ نفس کیا چیز ہے، اس کی اصل کیا ہے؟ میں نے ایک ادبی محفل میں اپنے اساتذہ سے کہا کہ تزکیۂ نفس بہت ضروری ہے۔ وہاں ایک صاحبِ ذوق نے مجھ سے سوال کیا کہ نفس در حقیقت ہے کیا؟ میں نے سطحی طور پر جواب دیا کہ یہ ایک صلاحیت ہے۔ آپ رہنمائی فرمائیں کہ نفس کیا ہے یہ جسم میں کہاں ہوتا ہے، کیا روح کے ساتھ ملا ہوا ہوتا ہے؟

مجھے جب بھی فرصت ملے گی میں آپ کی خدمت میں اصلاح کی نیت سے حاضر ہو جاؤں گا، ان شاء اللہ۔

جواب:

ماشاء اللہ۔ بہت اچھا سوال ہے۔ اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ اگر میں آپ سے پوچھوں کہ روح کیا ہے تو آپ کیا جواب دیں گے؟ اس لئے مجھے روح کے بارے میں جاننے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا البتہ یہ بات جاننے سے فائدہ ہو گا کہ روح کو پاک کیسے کیا جائے۔ اسی طرح نفس کے بارے میں یہ جاننے سے کوئی فائدہ نہیں کہ نفس کیا ہے، البتہ یہ جاننے کا فائدہ ہے کہ نفس کی صفائی کیسے ہو گی اور اس کا تزکیہ کیسے ہو گا؟

اب آپ کہیں گے کہ یہ تو آپ مجھے مزید الجھا رہے ہیں، دیکھیے میں آپ کو مزید نہیں الجھا رہا بلکہ یہ بتانا چاہ رہا ہوں کہ جس نفس کی وجہ سے بگاڑ آتا ہے اسے نفسِ اَمَّارہ کہتے ہیں، اتنی بات قرآن نے بھی بتائی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ نفسِ امّارہ کیا چیز ہے، نفس اَمَّارہ برائی کی طرف مائل کرنے والی خواہش ہے۔ قرآن میں ہے:

﴿اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ﴾ (یوسف: 53)

ترجمہ: ”واقعہ یہ ہے کہ نفس تو برائی کی تلقین کرتا ہی رہتا ہے“۔

جب اس کی اصلاح ہو جائے گی تو یہ برائی کی طرف مائل نہیں کرے گا بلکہ خیر کی طرف مائل کرے گا ور خیر کے اوپر مطمئن ہو جائے گا۔ اس نفسِ مطمئنہ کا ذکر بھی قرآن میں کیا گیا ہے:

﴿یٰاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ O ارْجِعِیْۤ اِلٰی رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةً﴾ (الفجر: 27-28)

ترجمہ: ”(البتہ نیک لوگوں سے کہا جائے گا کہ) اے وہ جان جو (اللہ کی اطاعت میں) چین پا چکی ہے۔ اپنے پروردگار کی طرف اس طرح لوٹ کر آ جا کہ تو اس سے راضی ہو، اور وہ تجھ سے راضی“۔

لہٰذا آپ نے اپنے نفس کو نفسِ امارہ سے نفس مطمئنہ تک لے کر جانا ہے، یہ آپ کو ایک اسائنمنٹ ملی ہوئی ہے، آپ نے اس اسائنمنٹ پہ کام کرنا ہے۔ یہ بات تو میرے خیال میں technically (تکنیکی طور پہ) ثابت ہو گئی ہے، اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں ہے ویسے ہی تبرعاً عرض کرتا ہوں کہ اگر آپ اس کو اس طرح سمجھیں کہ نفس امارہ برائی کی طرف مائل کرنے والا ہے یہ پورے جسم میں ہے، ہماری آنکھوں میں اپنا نفس ہے، ہمارے کانوں میں اپنا نفس ہے، ہماری زبان میں اپنا نفس ہے، ہمارے دماغ میں اپنا نفس ہے ہمارے جسم کے دوسرے اعضاء میں اپنا نفس ہے، یہ تمام اعضاء اگر بری خواہش کرتے ہیں تو اس کی وجہ نفس ہے اور آپ نے اس نفس کو تبدیل کر کے اس طرح بنا دینا ہے کہ اعضاء اچھے کاموں کی خواہش کریں۔ مثلاً آپ کی آنکھ بری چیزیں دیکھنا چاہتی ہے تو آپ اسے اس حد تک تبدیل کریں گے کہ وہ اچھی چیز دیکھنا چاہے۔ جن کے نفس کی اصلاح نہیں ہوتی وہ خانہ کعبہ کے سامنے بیٹھ کر بھی خانہ کعبہ کو نہیں دیکھتے بلکہ ٹاور کو دیکھتے ہیں، دوسری چیزوں کو دیکھتے ہیں، اگر نفس صحیح ہو جائے تو خانہ کعبہ کو دیکھے گا، ادھر ادھر نہیں دیکھے گا، اس پہ خانہ کعبہ کا اتنا رعب ہو گا کہ باقی چیزیں اسے گویا نظر ہی نہیں آ رہی ہوں گی۔ نفس پر اس قسم کی محنت کو اصلاحِ نفس کہتے ہیں۔ میں عرض کر رہا تھا کہ آنکھ کے اندر نفس ہے، کان کے اندر نفس ہے، دماغ کے اندر نفس ہے، زبان کے اندر نفس ہے، باقی اعضاء کے اندر نفس ہے، جہاں جہاں بری خواہشات پیدا ہو رہی ہیں ان سب کا مجموعہ نفس ہے اور یہ پورے جسم میں ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق کے مطابق نفس پورے جسم میں ہے، اس کا مرکز جگر میں ہے۔ اسی طرح روح پورے جسم میں ہے لیکن اس کا مرکز دل میں ہے اور عقل بھی پورے جسم میں ہے لیکن اس کا مرکز دماغ میں ہے۔ اس نفس کی اصلاح کے نظام کو تصوف کہتے ہیں۔ اللہ پاک نے ہمیں نفس کی اصلاح و تزکیہ کا مکلف بنایا ہے:

﴿قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا o وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَا﴾ (الشمس: 9-10)

ترجمہ: ”فلاح اسے ملے گی جو اس نفس کو پاکیزہ بنائے۔ اور نا مراد وہ ہوگا جو اس کو (گناہ میں) دھنسا دے“۔

لہٰذا آپ اس پر زور دیں اور ادھر ادھر کی فلسفیانہ باتوں کی طرف بالکل نہ جائیں، کیونکہ یہ بڑا ہی پیچیدہ اور مشکلات کا راستہ ہے، اس میں انسان ٹھوکریں کھاتا ہے اور سمجھ کچھ بھی نہیں آتا۔ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے ہم سے جس چیز کا مطالبہ کیا ہے ہمیں اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے، کسی اور چیز کو سمجھنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اس بارے میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہم سے زیادہ جانتے تھے، حالانکہ ان میں بڑے سادہ سادہ لوگ بھی تھے، لیکن انہوں نے جو سمجھا ہے وہی اصل ہے، ہمیں ان کے پیچھے چلنے کا حکم ہے۔ میرے خیال میں اتنی بات کافی ہے۔

سوال نمبر8:

السلام علیکم۔ میرا ذکر 200، 200، 100 مرتبہ ہے، اس کو ایک مہینہ مکمل ہو گیا ہے۔

جواب:

مجھے نہیں معلوم آپ نے صحیح کیا یا نہیں کیا کیونکہ آپ نے 200، 200 اور 100، تین چیزیں لکھی ہیں حالانکہ کل چار چیزیں تھیں۔ 200 مرتبہ ”لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ“، 200 مرتبہ ”لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ھُوْ“، 200 مرتبہ ”حَقْ“ اور 100 مرتبہ ”اَللہ“ تھا۔ اگر آپ نے ایسا کیا ہے تو پھر اب 200 مرتبہ ”لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ“، 300 مرتبہ ”لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ھُوْ“، 300 مرتبہ ”حَقْ“ اور 100 مرتبہ ”اَللہ“ کر لیں اور اگر ایسا نہیں کیا تو پھر 200 مرتبہ ”لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ“، 200 مرتبہ ”لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ھُوْ“، 200 مرتبہ ”حَقْ“ اور 100 مرتبہ ”اَللہ“ کر لیں۔ ایک ماہ بعد اطلاع کریں۔

سوال نمبر9:

مراقبۂ معیت کچھ اس طرح محسوس ہوا کہ مجھے اللہ پاک کا دھیان نصیب ہے لیکن میں اپنے آپ کو اتنا برا سمجھنے لگا ہوں کہ اپنی برائیوں کی وجہ سے خود اپنے آپ سے ہی نفرت کرنے لگا ہوں۔

جواب:

انسان کو اپنے آپ کو برا سمجھنا چاہیے، اپنے اوپر بد گمانی اچھی بات ہے۔ شیخ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ کو نصیحت کی تھی ایک تو اپنے اوپر کبھی نیک گمان نہ کرنا دوسرا کسی دوسرے پر بد گمانی نہ کرنا۔ البتہ مراقبہ معیت کا اپنا ایک اثر ہے، ابھی تک وہ آپ پر نظر نہیں آیا لہٰذا اسی کو جاری رکھیں۔

سوال نمبر10:

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ حضرت جی ایک سوال جو لنگی وغیرہ پہننے کے بارے میں کیا گیا تھا، آپ نے اس کے جواب میں فرمایا تھا کہ پوچھ کر کرنا چاہیے۔ اس سے مجھے خدشہ لاحق ہو گیا۔ پردہ کے مسئلہ میں ابھی تک گھر میں مجھ سے ناراضگی ہے، میں نے اپنی بھابھیوں سے شروع کیا تھا تو اتنا مسئلہ نہیں ہوا لیکن زوجہ محترمہ کو شروع کروایا تو ایک طوفان کھڑا ہو گیا، خصوصاً بڑے بھائی نے بہت اعتراض کیا لیکن اللہ کے فضل سے اور آپ کی دعاؤں کی برکت سے میں پردہ کے مسئلہ میں ڈٹا رہا۔ پردہ کے مسائل کی وجہ سے اپنے گھر جانے سے دل ابھی بھی کتراتا ہے، وہ پردہ توڑنے کے چکر میں رہتے ہیں۔ میں آج کل جمعہ کے دن پگڑی بھی پہنتا ہوں اور جمعہ کو آفس میں بھی پگڑی پہنے ہوئے آتا ہوں۔ اس بارے میں رہنمائی فرما دیں۔

جواب:

پہلے آپ جمعہ کے دن والی بات سمجھ لیں۔ بہت سارے لوگ پینٹ شرٹ پہنتے ہیں لیکن جمعہ کے دن وہ شلوار قمیض میں دفتر آتے ہیں، اس لیے کہ نماز پڑھنے میں اس طرح سہولت ہو جاتی ہے اور اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ زیادہ تر لوگ باقی نمازوں کی اتنی پروا نہیں کرتے لیکن جمعہ کی نمازوں کی پروا کرتے ہیں، یہ بھی کم از کم نہ ہونے سے تو بہتر ہے۔ آپ بھی اگر جمعہ کے دن پگڑی پہنتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ مسنون لباس شلوار قمیض کو پہنا جاتا ہے تو آپ اس پر پگڑی کا اضافہ کر لیتے ہیں، یہ بھی ایک سنتِ مستحبہ ہے، اگر کوئی اس کا اہتمام کرے تو اسے ثواب ملے گا، لہٰذا پگڑی پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

جہاں تک پردہ کا مسئلہ ہے اس بارے میں آسان بات یہ ہے کہ آپ کسی بڑے مدرسہ سے فتویٰ لے لیں، آج کل نیٹ پر بھی فتویٰ مل جاتا ہے، بنوری ٹاؤن یا دار العلوم کراچی کا اس مسئلہ میں جو فتویٰ ہو گا وہ آپ اپنے ساتھ رکھ لیں، جو اعتراض کرے اسے وہ فتویٰ دکھا دیں کہ میں آپ کو برا نہیں سمجھتا، آپ بھی مجھے برا نہ سمجھیں، میں در اصل اس فتویٰ پہ عمل کر رہا ہوں۔ اب ظاہر ہے میں شریعت پہ عمل کر رہا ہوں، اس وجہ سے میں برا تو نہیں بنتا، اگر میں آپ کو کچھ نہیں کہتا، حالانکہ فتویٰ کی رو سے آپ ٹھیک نہیں ہیں لیکن پھر بھی آپ کے ساتھ تعلقات صحیح رکھتا ہوں اس لئے آپ کم از کم مجھے اس بات پر برا نہ سمجھیں۔

اس سلسلے میں آپ یہ رویہ رکھیں کہ جہاں پر آپ کا بس چلتا ہے وہاں تو پورا پردہ کریں اور کروائیں، لیکن جہاں پر بس نہیں چلتا وہاں پر صرف اپنی آنکھوں کی حفاظت کر لیں اور جن جگہوں پر پردہ آسان نہیں ہے وہاں اپنے گھر والوں کو نہ لے جائیں۔ ایسی صورت میں وہ علیحدہ ہی رہے تو اچھی بات ہے۔ اس طریقے سے اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش کر لیں۔ آج کل یہ مسئلہ کافی مشکل ہے، لوگ اس کو انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور شیطان اس پہ بڑا زور ڈالتا ہے۔ مجھے اس پر ایک شعر یاد آتا ہے:

انہی پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ

میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے

لہٰذا ہماری زندگی میں یہ مشقتیں تو ہوں گی، یہ مسائل تو ہوں گے، انہی مشقتوں کے ذریعے انسان ترقی کرتا ہے۔ اگر مخالفتیں نہ ہوں اور سارا کچھ اتنی آسانی سے مل جائے تو پھر مجاہدہ اور مشقت کدھر جائیں گے۔ یہ معاشرتی مسائل ہیں اور معاشرتی مسائل میں آج کل بڑے خلا ہیں جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، ان پر صبر کرنا چاہیے۔ اللہ پاک فرماتے ہیں:

﴿وَ الْعَصْرِ O اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ O اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠﴾ (العصر: 1-3)

ترجمہ: ”زمانے کی قسم۔ انسان در حقیقت بڑے گھاٹے میں ہے۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اور ایک دوسرے کو حق بات کی نصیحت کریں، اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کریں“۔

حق پر ڈٹے رہنا، اس کی تلقین کرنا اور اگر کوئی مشکل آئے تو اس پر صبر کرنا، یہ ساری چیزیں آپس میں لگی بندھی ہیں۔ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا کہ اگر صرف یہ سورت ہوتی تو ہدایت کے لئے کافی تھی۔ کیونکہ اس میں ایمان، اعمال صالحہ کے ساتھ ”وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ“ کو بھی شامل کیا ہے، یہ بہت بڑی بات ہے۔ امید ہے اللہ پاک مدد فرمائیں گے۔

سوال نمبر11:

الحمد للہ تمام گناہوں سے بچنا آسان ہے لیکن غیبت سے بچنا مشکل ہے، خود تو غیبت نہیں کرتی لیکن اکثر دوسرے کی سن لیتی ہوں اور جس دن غیبت سنتی ہوں اس دن تہجد کی توفیق نہیں ہوتی۔ غیبت سے بچنے کی تدبیر کیا ہو گی؟ براہ مہربانی جواب سے مستفید فرمائیں۔

جواب:

بڑا اچھا سوال ہے. تین بزرگ تھے جو غیبت کے بارے میں اپنا اپنا طریقہ رکھتے تھے۔ حضرت حاجی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے سامنے اگر کوئی کسی کی غیبت کرتا تھا تو اس کی ساری بات سن کے فرماتے کہ نہیں بھائی وہ ایسا نہیں ہے۔ یہ کہہ کر بات ختم کر لیتے، مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کسی کی غیبت سنتے ہی نہیں تھے اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ بات کا رخ بدل دیتے تھے۔

اگر کوئی ہمارے سامنے غیبت کرتا ہے تو ہم بھی اس طرح کر سکتے ہیں۔ ایک بزرگ تھے جو ابتدائی زمانہ میں بہت زیادہ گناہوں کی طرف مائل تھے، پھر اللہ پاک نے توبہ کی توفیق عطا فرمائی، وہ حضرت مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہوئے۔ میں نے ان کو دیکھا کہ الحمد للہ ان کی زندگی میں اتنا ٹھہراؤ آ گیا تھا کہ ایک تو مسلسل ذکر کرتے تھے دوسرا خدمت خلق کیا کرتے تھے۔ بازار سے لوگوں کے لئے سودا سلف وغیرہ لاتے تھے اور لوگوں کے کام کرتے تھے، حالانکہ بہت بڑے آدمی تھے، تیسرا یہ کہ ان کی عادت تھی کہ دوران گفتگو اگر سامنے والا کوئی ایسی بات شروع کرتا جو غیبت پر مشتمل ہو سکتی تھی تو وہ کچھ کہے بغیر بہت آرام سے جگہ بدل لیتے تھے۔

اس گناہ سے بچنے کا ہر ایک کا اپنا اپنا انداز ہے۔ بچنا تو لازمی ہے اور اچھا ہے کہ دوسروں کو بھی بچایا جائے۔ اور آپ نے یہ جو بات کی کہ آپ کے لیے تمام گناہوں سے بچنا آسان ہے، صرف غیبت سے بچنا مشکل ہے، حقیقت میں تو تمام گناہوں سے بچنا مشکل ہے، صرف غیبت ہی نہیں اور بھی بہت سارے مسائل ہیں۔ لیکن اگر آپ کے لئے اللہ پاک نے آسان کر دیا ہے تو بہت اچھی بات ہے، اس پر اللہ کا شکر کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ذرا اپنے فقرے پر بھی غور کریں ممکن ہے کہ آپ کو اپنا فقرہ درست کرنا پڑے۔

سوال نمبر12:

بیس دن علاجی ذکر کیا تھا اس کے بعد Chest infection ہو گیا جس کی وجہ سے سخت بخار رہا، اس لئے دس دن ذکر کا ناغہ ہو گیا اب اسے دوبارہ شروع کرنا ہے۔

جواب:

آپ دوبارہ شروع کر لیں، جب تیس دن پورے ہو جائیں تو بتا دیجئے گا۔

سوال نمبر13:

میں نے اپنا مسئلہ آپ کے گوش گزار کیا تھا، میرا دماغ مجھے ایک لمحہ کے لیے بھی آزاد نہیں ہونے دے رہا، میں نے اس کو معاف کر دیا تھا لیکن مجھے لگتا ہے کہ میرا دماغ مجھے اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھنے دے گا جس وقت تک میں کوئی انتقامی کاروائی نہ کروں۔ خدا را میرے لئے خصوصی دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے صبر عطا فرمائے اور میری اس آزمائش کو میرے لئے آسان کر دے۔

جواب:

آمین ثم آمین۔ کام جتنا مشکل ہو، اجر زیادہ ہوتا ہے۔ کہتے ہیں اگر کسی کی کوئی چیز گم ہو جائے تو جتنی مرتبہ اس کو یاد آئے گا، وہ اس پہ ”اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ“ پڑھے گا، تو اللہ تعالیٰ ہر بار اسے اتنا اجر دے گا جتنی شدت سے اسے تکلیف ہو گی۔ لہذا آپ فکر نہ کریں، آپ کا اجر بڑھ رہا ہے، اگر آپ نے معاف کر دیا تو تب تک معاف ہی سمجھو، جب تک پھر کوئی ایسی بات نہ ہو۔ اعتدال کے لئے مسلسل دعا کرتے رہیے، اللہ جل شانہ آپ کو اعتدال نصیب فرما دے۔ آمین۔

سوال نمبر14:

السلام علیکم۔ اصلاحی ذکر کرتے ہوئے دل کی دھڑکن میں حرکت سی محسوس ہوتی ہے، ذکر بند کرنے کو دل نہیں کرتا، ایک قسم کی محبت ہو گئی ہے۔ کیا یہ اللہ ہی کی محبت ہے؟

جواب:

جی ہاں، اللہ کے ذکر کے ساتھ محبت اللہ کی محبت ہے۔

سوال نمبر15:

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ حضرت جی ہمارے سلسلہ کا مستورات کا کوئی واٹس ایپ گروپ ہے تو میرا نمبر اس میں شامل کرا دیجئے گا۔

جواب:

ان شاء اللہ میں کروا دیتا ہوں۔

سوال نمبر16:

مکتوبات شریفہ کے اس درس میں نسبت کی بات ہوئی تھی کہ نسبت ایک ہی ہوتی ہے۔ اگر نسبت ایک ہی ہوتی ہے تو پھر نقشبندی، چشتی، سہروردی اور قادری نسبت الگ الگ کیوں کہتے ہیں؟

جواب:

میں نے یہ بتایا تھا کہ نسبت ایک ہی ہوتی ہے البتہ اس کو حاصل کرنے کے طریقوں میں فرق ہے، نقشبندی طریقے سے بھی حاصل ہو سکتی ہے، چشتی طریقے سے بھی حاصل ہو سکتی ہے، سہروردی طریقے سے بھی حاصل ہو سکتی ہے۔ جس کو نقشبندی نسبت کہا جاتا ہے اس میں صرف اتنی بات ہے کہ وہاں نقشبندی طریقہ سے نسبت حاصل ہو رہی ہوتی ہے۔ سالک کو جس طریقہ کے ساتھ مناسبت ہو اس کی نسبت کو ہم اسی طریقہ کا نام دے دیتے ہیں۔ کسی کی نقشبندی طریقہ کے ساتھ مناسبت ہے تو اس کو نقشبندی طریقہ سے نسبت جلدی حاصل ہو جائے اور ہم اس کو نقشبندی نسبت کا نام دے دیں گے۔ اگر کسی کی چشتی طریقہ کے ساتھ مناسبت ہو تو اس کو ہم چشتی نسبت کہیں گے اور اگر کسی کو سہروردی نسبت کے ساتھ مناسبت ہو، اس کو سہروردی نسبت کہیں گے اور اگر کسی کو قادری نسبت کے ساتھ مناسبت ہو اس کو قادری نسبت کہیں گے۔ خلاصۂ کلام یہ کہ طریقۂ کار میں فرق ہے نتیجہ میں فرق نہیں ہے۔

سوال نمبر17:

کیا نسبت کا حصول اور سلسلہ سے مناسبت انسان کی طبیعت پہ منحصر ہوتی ہے؟

جواب:

جی ہاں، یہ انسان کی طیبعت پہ منحصر ہوتا ہے۔ بعض طبیعتیں پر جوش ہوتی ہیں، بعض طبیعتیں خاموش ہوتی ہیں، بعض طبیعتیں والہانہ ہوتی ہیں اور بعض طبیعتیں انتظامی ہوتی ہیں۔ ساری چیزیں اپنی اپنی جگہ پر ہیں، ان کے لئے راستہ بھی وہی بنایا جاتا ہے جس کے ساتھ مناسبت حاصل ہو۔

سوال نمبر18:

کیا یہ بات درست ہے کہ جب ایک سالک کسی شیخ سے بیعت ہوتا ہے، اس وقت اس کا پتا نہیں چلتا کہ اس کی یہ نسبت ہے، بلکہ بعد میں پتا چلتا ہے کہ اس کی نسبت کیا ہے؟

جواب:

جی ہاں، ایسی ہی بات ہے۔

جب میں حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت ہو رہا تھا تو مجھے اپنی نسبت کا پتا نہیں تھا، جب تک حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے نہیں بتایا تب تک پتا نہیں چلا کہ میری نسبت نقشبندی ہے۔ حضرت مولانا اشرف رحمۃ اللہ علیہ خود چشتی نسبت سے زیادہ مناسبت رکھتے تھے البتہ ان کے پاس چاروں نسبتیں تھیں انہیں چاروں سلسلوں میں اجازتیں حاصل تھیں، لہذا برکت کے لحاظ سے وہ چیز موجود تھی۔ حضرت مجھے ذکر دیتے تھے اور میں ذکر کر کے انہیں اپنے اوپر ہونے والے اثرات و کیفیات بتاتا تھا۔ اس سے حضرت نے اندازہ لگا لیا کہ اس کی نسبت کیا ہے۔ ابتداءً حضرت نے اپنے ذہن میں اندازہ لگایا تھا، لیکن ایک دن میں نے اپنا خواب سنایا تو اس پر حضرت نے فرمایا: پہلے مجھے صرف خیال تھا کہ آپ کی نسبت نقشبندی ہے، اب تو یقین ہو گیا کہ آپ نقشبندی ہی ہیں۔ حضرت کا یہ فیصلہ محض خواب کی بنیاد پر نہیں تھا، بلکہ اس کی بنیاد ان کا تجربہ تھا، میں حضرت کو اپنے احوال بتاتا تھا، اس سے انہیں علم ہو جاتا تھا۔

مثلاً ایک دن میں نے حضرت کو بتایا کہ حضرت میں زبان سے ذکر شروع کر لیتا ہوں لیکن بعد میں پتا چلتا ہے کہ میری زبان رک گئی ہے۔ اس طرح اور بہت ساری چیزیں حضرت کو وقتاً فوقتاً بتاتا رہتا تھا جس سے حضرت کو میرے بارے میں معلومات ہو رہی تھیں کہ یہ کون ہے اور کیا ہے۔ جب حضرت نے مجھے ذکر دیا، اس کے دوسرے دن میں نے اپنے احوال بتائے تو حضرت اسی وقت میرے بارے میں الرٹ ہو گئے اور مجھے بہت کم ذکر دیا، ابتدا میں صرف تین تسبیحات دیں اور کافی عرصہ تین تسبیحات پر ہی بر قرار رکھا۔ میں لوگوں کو حضرت سے بیعت کراتا اور حضرت ان کو مجھ سے زیادہ ذکر دیتے، ایک مرتبہ میں نے اپنے بھانجے کو بیعت کرایا، حضرت نے اسے زیادہ ذکر دیا، میں نے کہا کہ حضرت یہ تو ابھی چھوٹا بچہ ہے۔ میں جب بھی کہتا کہ حضرت ذکر کب بڑھائیں گے تو حضرت فرماتے: کیوں؟ کیا آپ کے پاس وقت ہے؟ میں طالب علم تھا اور طالب علم کے پاس تو واقعی وقت نہیں ہوتا۔ حضرت فرماتے کہ بس ابھی یہی ٹھیک ہے۔ کافی عرصہ کے بعد تین تسبیحات سے بڑھا کر چار تسبیحات کر دیں۔ ان چار تسبیحوں سے زیادہ ذکر مجھے نہیں دیا گیا۔ بعد میں ایک موقع پر حضرت نے فرما دیا کہ اب جو ذکر کرنا چاہو کرو اور جتنا دل چاہے کر لو۔ حضرت نے مجھے جو ایک مختلف راستہ پر چلایا، ظاہر ہے وہ میرے اپنے مزاج اور احوال کی بنیاد پر ہی تھا۔ اسی طرح ہر ایک کا معاملہ، احوال اور نسبت مختلف ہوتے ہیں۔

سوال نمبر19:

جیسے آپ نے فرمایا کہ مولانا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے آپ کو فرمایا تھا کہ آپ کی نسبت نقشبندی ہے لیکن حضرت صوفی صاحب رحمۃ اللہ علیہ جب آپ کو اجازت دے رہے تھے تو انہوں نے فرمایا تھا کہ مجھے آپ کی اشرفی نسبت کا پتا ہے۔ اگر اس کا اشارہ حضرت مولانا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت کی طرف ہو تو ان کی نسبت تو چشتی تھی۔ پھر اشرفی کیسے فرمایا؟

جواب:

نقشبندی، چشتی، سہروردی یا قادری وغیرہ نسبت کے بارے میں جو انسان کو بتایا جاتا ہے، وہ بات اس کے مزاج کے لحاظ سے ہوتی ہے اور اشرفی، اقبالی وغیرہ اس طرح کی نسبت شیخ کے تعلق کے لحاظ سے ہوتی ہے۔

حضرت صوفی اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے جو یہ فرمایا کہ مجھے آپ کی اشرفی نسبت کا پتا ہے، اس کا مطلب یہ تھا کہ جو نسبت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل ہوئی ہے اس کا پتا ہے۔ الحمد للہ یہ بہت بڑی بشارت تھی جو حضرت نے مجھے دی، اس پر میں کافی خوش بھی ہوں۔ یہ صرف شیخ کی نسبت کی طرف اشارہ تھا، اس کے بارے میں حضرت صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مجھے پہلے بھی بتایا تھا کہ آپ پر اپنے شیخ کا اثر ہے، بس آپ اس کو بڑھا دیں۔

سوال نمبر20:

بعض لوگوں نے اپنے نام کے ساتھ تین تین، چار چار نسبتیں لکھی ہوتی ہیں، نقشبندی، مجددی صابری وغیرہ بہت سارے القاب ہوتے ہیں۔ نسبت تو ایک ہی ہوتی ہے، پھر مخلتف نسبتیں لکھنے کا کیا یہ مطلب ہوتا ہے کہ ان کو مختلف اجازتیں ہیں؟ پھر اگر مختلف جگہ سے اجازت ہے تو کیا ہر شیخ نے اس کی طبیعت مختلف سمجھی ہے کہ کسی نے چشتی سمجھ کے ان کو چشتی اجازت دی اور کسی نے نقشبندی سمجھ کے نشبندی اجازت دے دی؟

جواب:

در اصل لفظ ”نسبت“ سے مراد ایک علیحدہ چیز ہے، اس کے بارے میں ہماری کتاب ”زبدۃ التصوف“ میں لکھا ہوا ہے، نسبت وہی چیز ہے۔ جہاں تک کسی کا نقشبندی، چشتی یا سہروردی ہونا ہے، یا اس کے علاوہ جتنی بھی نسبتیں اور نام ہیں، یہ صرف reference (ایک حوالے) کی بات ہے کہ وہ آدمی کون سے طریقے کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے۔ اس پر حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے گرفت بھی فرمائی ہے، ایک مرتبہ فرمایا کہ یہ کیا تم اپنے نام کے ساتھ اشرفی وغیرہ لکھتے ہو؟ یہ کوئی حنفی، شافعی حنبلی وغیرہ کی طرح نہیں ہے، وہاں تو اصول کا فرق ہے، قاعدہ کا فرق ہے، اس وجہ سے بتانا پڑتا ہے کہ ہم حنفی ہیں یا شافعی، لیکن یہاں اس قسم کی کوئی بات نہیں ہے، خواہ مخواہ اپنے آپ کو کیوں مختلف دکھانا چاہتے ہو۔

لہٰذا یوں کہہ سکتے ہیں کہ جو لوگ اپنے نام کے ساتھ نسبتیں لکھتے ہیں، ان میں سے کوئی نسبت شیخ کی طرف اشارہ کرتی ہے، کسی نسبت سے اجازت کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے۔ میرا اپنا خیال ہے کہ اتنا زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

سوال نمبر21:

جو لوگ اپنے نام کے ساتھ نقشبندی لکھتے ہیں اگر ان کی نسبت نقشبندی نہیں ہے تو کیا اس سے یہ مراد ہو گا کہ ان کے شیخ نقشبندی ہیں اور انہوں نے اجازت دی ہے؟

جواب:

در اصل جتنے سلسلوں میں اسے اجازت حاصل ہے وہ ان سلسلوں کو لکھ رہا ہے۔ مثلاً مجھے بھی چار سلسلوں میں اجازت ملی ہے، تو میں اپنے نام کے ساتھ چشتی، نقشبندی، سہروردی، قادری لکھ سکتا ہوں۔ لیکن میں اتنا لکھ دیتا ہوں کہ خلیفہ حضرت صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔ بس وہی کافی ہے، اس سے زیادہ کی ضرورت نہیں ہے، مطلب تو اس سے حل ہو جاتا ہے، اب خواہ مخواہ تفرقہ کیوں ڈالوں۔

یہ بات عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ مختلف نسبتیں اپنے ساتھ لگانے والی بات شروع کیسے ہوئی؟ یہ بات اس طرح چلی ہے کہ جن لوگوں نے گمراہی پھیلائی ہے ان کی گمراہی کو ختم کرنے کے لئے کچھ لوگوں نے تحریک کے طور پہ کام کیا۔ چونکہ عوام ان چیزوں سے متاثر ہوتے ہیں، ان میں سے کئی لوگوں نے اپنے اس تاثر کو بڑھانے کے لئے اپنے نام کے ساتھ ان بزرگوں کی نسبت یا ان کے سلسلے کی نسبت یا ان کی تحریک کی نسبت کو لکھنا شروع کر لیا۔ لہٰذا اب جن کو اس کی ضرورت ہے وہ تو لکھ لیں، جن کو ضرورت نہیں ہے وہ نہ لکھیں، جیسے کہ ہم لوگ ایسا نہیں کرتے، ہماری خانقاہ میں اس قسم کی بات نہیں ہے، ہم تو صرف اصلاح کے لئے بات کرتے ہیں، ہمارے ہاں کوئی تحریکی سرگرمی نہیں ہے کوئی سیاسی بات نہیں ہے، لہٰذا ہمیں ان چیزوں کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جو لوگ تحریکی ہوتے ہیں وہ اپنا لباس اور اپنی ظاہری وضع قطع منفرد رکھتے ہیں، پگڑی بھی الگ انداز سے باندھتے ہیں۔

ایک مرتبہ مجھے چنیوٹ بلایا گیا تھا، وہاں پر ایک مفتی صاحب نے مجھے کہا کہ دیکھئے یہ عوام ہے، ہمیں ان کے سامنے اس طرح آنا ہے، میں آپ کو حلقہ دوں گا، کھسہ، عصا اور پگڑی دوں گا، براہ مہربانی آپ وہ پہن کے سٹیج پہ آئیے گا۔ چونکہ میں ان چیزوں عادی نہیں ہوں، میرے لئے عصا اور پگڑی کے ساتھ چلنا بھی مشکل ہو رہا تھا۔ وہ پگڑی بھی عام پگڑی نہیں تھی، لمبی چھوڑی اور بھاری پگڑی تھی۔ خیر میں بڑی مشکل سے ان ساری چیزوں کو پہن کر اور اٹھا کر سٹیج پر پہنچا۔ انہوں نے پہلے سے یہ بات واضح کر دی تھی کہ یہاں ان چیزوں کے بغیر لوگ آپ کی کوئی بات ہی نہیں سنیں گے، لہذا ہم نے آپ کے نام کے ساتھ پیرِ طریقت رہبرِ شریعت اور بہت سارے القاب لگانے ہیں، فلاں فلاں نام لینے ہیں، اس کے بعد آپ نے بات کرنی ہے۔ وہ اس علاقہ کے مفتی تھے، میں ان سے بحث نہیں کر سکتا تھا اس لیے مجھے ان کی ہدایات کے مطابق ہی کرنا پڑا۔ بہرحال بعض لوگ ایسا کرتے ہیں۔

نسبت ایک ہی ہوتی ہے اس میں کوئی شک نہیں، لیکن اس کو پانے کے راستے مختلف ہو سکتے ہیں، طریقے الگ ہو سکتے ہیں، کسی کا راستہ اور طریقہ نقشبندی ہو گا، کسی کا چشتی ہو گا، کسی کا کوئی اور بھی ہو سکتا ہے۔ جس طریقے سے کسی کو نسبت ملی ہے اس طریقے کو ہم اس کی نسبت کہہ دیتے ہیں، جس شیخ کے ذریعے نسبت ملی ہے اس کی طرف بھی اشارہ کیا جا سکتا ہے، بہرحال جس ذریعے سے بھی ملی ہو نسبت ایک ہی ہوتی ہے اس میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔

سوال نمبر22:

کیا شیخِ اصلاح کے علاوہ باقی شیوخ اعتماد کی وجہ سے اجازت دے دیتے ہیں؟

جواب:

یہ آپ نے ایک نازک بات چھیڑ دی ہے۔ اعتماد تو خیر ہوتا ہی ہے مگر کچھ لوگ ایک خاص وجہ سے اجازت دیتے ہیں، جس پہ مجھے کچھ تحفظات ہیں۔ وہ یہ کہ مثلاً کوئی عالم علمی کام کر رہا ہے، شیخ نے اسے اس وجہ سے اجازت دے دی کہ اس کے علمی کام مضبوط ہو جائیں، ان میں نسبت کی برکت بھی حاصل ہو جائے۔ اگر کوئی شیخ کسی کو اس بنیاد پر اجازت دے تو اسے بتانا چاہیے کہ میں اس بنیاد پر اجازت دے رہا ہوں تاکہ وہ اس اجازت کو آگے استعمال نہ کرے، کیونکہ اس کو اِس کا تجربہ نہیں ہے۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے بالکل صاف لکھا ہے کہ شیخ کے لئے صاحب فن ہونا لازم ہے، اگر متقی ہو تو وہ اس پر مزید فضیلت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسے ڈاکٹر کے لیے صاحب فن ہونا لازمی ہے اگر صاحبِ فن ہونے کے ساتھ ساتھ متقی ہو گا تو یہ مزید فضیلت ہے۔ کسی غیر ڈاکٹر نہ کو آپ ڈاکٹر کی جگہ پہ نہیں بٹھا سکتے، صرف متقی آدمی کو ڈاکٹر کی جگہ نہیں بٹھا سکتے اسی طرح شیخ کی جگہ پر صرف متقی آدمی کو نہیں بٹھا سکتے، وہ خود تو صحت مند ہے لیکن دوسروں کو صحت نہیں دے سکتا کیونکہ وہ اس فن کو نہیں جانتا۔

لہٰذا اگر کسی شیخ نے کسی کو علمی بنیاد پر علمی نسبت کو مضبوط کرنے کے لئے اجازت دی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن اس کو بتانا چاہیے میں آپ کو اس بنیاد پر اجازت دے رہا ہوں۔

مسئلہ یہ ہے کہ بہت سارے لوگوں کو اس طرح اجازت ملی ہے، انہوں نے آگے سلسلے چلائے ہوئے ہیں، آپ سب حضرات کو علم ہے کہ اس کی وجہ سے کتنے مسائل ہوئے ہیں۔ آپ خود سوچیں کہ اگر میں کسی مدرسہ میں جا کر سو آدمیوں کو اجازت دے دوں، بعد میں اگر وہ غلطیاں کریں گے تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا۔ بلا شبہ وہ سارے حضرات علماء ہیں، علمی سند ان کو ملی ہوئی ہے لیکن اگر میں صرف اس بنیاد پر ان کو اجازت دے دوں گا تو ان کے غلطیاں کرنے کا ذمہ دار بھی میں بنوں گا۔ لہٰذا اس بارے میں احتیاط کرنی چاہیے۔

سوال نمبر23:

آج کل مشائخ حضرات سالک کو ابتدا میں مراقبہ دیتے ہیں، کیا ایسا کر کے عقل کی اصلاح سے کام شروع کرتے ہیں؟ یا اس کا کیا مطلب ہے؟

جواب:

ایسا نہیں ہے۔ کام شروع تو بہرحال عقل سے ہی ہوتا ہے کیونکہ جو مرید شیخ کے پاس آتا ہے وہ عقل کے ذریعے آتا ہے۔ ابتدا تو عقل سے ہی ہوتی ہے، ہم جو بیان وغیرہ کرتے ہیں ان کے ذریعے بھی عقل ہی مائل ہو رہی ہوتی ہے۔ بیان وغیرہ سے باقی چیزوں میں تبدیلیاں تو نہیں آتیں صرف اتنا ہوتا ہے کہ آدمی قائل اور مائل ہو جاتا ہے، اور قائل ہونا عقل کے ذریعے سے ہے۔ آدمی عقل کے ذریعے قائل ہو گیا اور اصلاح کے لئے تیار ہو گیا تب ہی شیخ کی طرف آیا، لہٰذا ابتدا تو عقل سے ہی ہوئی۔ اس کے بعد شیخ اسے جو ذکر دیتا ہے، یہ اس کے دل پہ محنت ہوتی ہے، جب دل اتنا بن جائے، اس کے اندر موجود قوت عازمہ اتنی فعال ہو جائے کہ وہ نفس کو اصلاح کے لئے تیار کر لے تو اس کے بعد مجاہدات، ریاضات اور باقی محنتیں کرنا اس کے لئے آسان ہو جائے گا۔

اگر کسی مرحلہ پر مرید نے بہت سارا ذکر کیا لیکن وہ مجاہدہ کے لئے تیار نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ابھی اس کو وہ جذب حاصل نہیں ہوا کہ وہ اپنے آپ کو اصلاح کی مشقتیں اٹھانے کے لیے پیش کر سکے۔ اتنا ضرور ہوا کہ اسے جوش و خروش مل گیا، لیکن ابھی وہ سلوک کے قابل نہیں ہوا، ابھی اس پر مزید محنت کر کے اس کو اتنا جذب دینا ہو گا تاکہ سلوک کے اوپر چلنا اس کے لئے آسان ہو جائے، جب سلوک پر چلنا آسان ہو تو باقی محنت سلوک کی ہے، سیر الی اللہ سلوک ہی کی محنت ہے، آنا تو سلوک پہ ہی پڑے گا، لیکن اس کے لئے یہی طریقہ کار ہے کہ پہلے عقل قائل ہو، جذب حاصل ہو پھر سلوک کی محنتیں شروع کی جائیں۔

سوال نمبر24:

بعض لوگ تصفیۂ قلب کے بعد فوراً اجازت دیتے ہیں، کیا یہ درست ہے؟

جواب:

اگر ایسی بات ہے تو آپ اسے تصفیۂ قلب نہ کہیں کیونکہ تصفیۂ قلب بغیر نفس کے نہیں ہو سکتا، جب تک نفس ایک خاص حالت تک نہیں آ چکا ہوتا تب تک تصفیۂ قلب نہیں ہو سکتا کیونکہ قلب تمام نفسانی چیزوں کی آماج گاہ ہے۔ البتہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ابھی آدمی کو صرف جذب حاصل ہوا ہے اور وہ مقام قلب میں پہنچ گیا ہے۔ ایسے آدمی کو اجازت نہیں دینی چاہیے، اگر اس کو اجازت دے دی جائے گی تو یہ مجذوب متمکن ہو گا، اور یہ خطرناک ہوتا ہے کیونکہ ابھی اس کی اصلاح ہوئی نہیں ہے، وہ اپنے آپ کو اصلاح یافتہ سمجھے گا اور دوسروں کی اصلاح کرنا شروع کر لے گا۔ ایسے لوگوں میں دل کی وجہ سے قوتِ توجہ تو ہوتی ہے، قوتِ عازمہ تو ہوتی ہے جس کی وجہ سے لوگ اس سے متاثر ہوتے ہیں لیکن اس میں یہ صلاحیت نہیں ہوتی کہ وہ لوگوں کی اصلاح کر سکے نتیجتاً وہ معاملہ خراب کرے گا۔ حضرت مجدد الف ثانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اسی چیز کا رونا رویا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ مجذوب متمکن کو راستے کا ڈاکو نہیں بننا چاہیے۔ لہٰذا یہ خطرناک بات ہے، اللہ ہمیں اس سے بچائے، اللہ تعالیٰ ہمیں اس امتحان میں نہ ڈالے۔ صحیح بات ہے میں تو بہت ڈرتا ہوں، یقین جانیں میں کسی کو اجازت دیتے وقت بہت ڈرتا ہوں۔ اللہ مجھے معاف کرے پتا نہیں آگے جا کر وہ کیا کرے۔ جب تک آدمی زندہ ہے تب تک تو اسے منع بھی کر سکتا ہے اجازت واپس بھی لے سکتا ہے، لیکن اگر آدمی فوت ہو جائے اور اس کے بعد وہ مجذوب متمکن گڑبڑ کرتا پھرے تو ذمہ دار کون ہو گا، یہ بہت مشکل فیصلہ ہے۔

حضرت صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ جب مجھے اجازت دے رہے تھے تو فرمایا کہ میں روضۂ اقدس پہ حاضر ہوا، اس کے بعد ریاض الجنۃ میں استخارہ کے نفل پڑھے، اس کے بعد جب شرح صدر ہوا ہے تو اب آپ کو اجازت دیتا ہوں۔ اس وقت جتنے لوگ وہاں بیٹھے تھے ان سب سے بھی کہہ دیا کہ بہت اہم فیصلہ ہے آپ دعا کریں کہ اللہ پاک مجھے صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے، حالانکہ انہیں مجھ سے محبت بھی تھی، تعلق بھی تھا، لیکن جب فیصلہ کرنے کا وقت آیا تو محبت اور تعلق وغیرہ کو نہیں دیکھا بلکہ اپنے شرح صدر سے کام لیا اور سب کو دعا کے لیے کہا۔ بعد میں مجھے حضرت صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھیوں سے معلوم ہوا کہ حضرت بڑے متفکر تھے۔ میں حیران ہو گیا کہ حضرت اتنے کمزور ہیں، بیمار ہیں اور اس حالت میں ایسی کیا ضرورت پیش آئی کہ روضۂ اقدس پہ جا رہے ہیں۔

یہ ایک بڑی ذمہ داری کی بات ہے، اس میں ذمہ داری محسوس کرنا چاہیے، یہ کوئی بھیڑ بنانے والی بات نہیں ہے کہ میرے اتنے خلفاء ہونے چاہئیں، خلفاء کی بھیڑ سے کیا ہوتا ہے۔ آپ کے دو خلفاء ہیں بلکہ اگر ایک بھی ہے اور وہ کام کرنے والا ہے تو یہ اصل بات ہے، بجائے اس کے کہ آپ کے لا تعداد خلفاء ہوں اور کام کرنے والا کوئی بھی نہ ہو۔

وَ اٰخِرُ دَعْوٰنَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ


سالکین کی تربیت، اصلاح، معمولات اور احوال سے متعلق سوالات کے جوابات - مجلسِ سوال و جواب - اشاعت اول