غزوہ خیبر، فضیلتِ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور جنگ و دعوتِ دین کے اصول

درس نمبر 142، جلد 1، باب 10: نیکیوں کی طرف جلدی کرنے اور طالب خیر کو اس بات پر آمادہ کرنے کا بیان کہ وہ نیکی کو بغیر کسی تردد کے پوری توجہ اور محنت کے ساتھ اختیار کرے۔

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • غزوہ خیبر کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اسلامی لشکر کا پرچم عطا کیا جانا۔
    • اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نظر میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا محبوب مقام اور ان کی فضیلت۔
      • حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا جذبہ اور امارت کی دلی خواہش۔
        • خیبر کا جغرافیائی، تاریخی پس منظر اور یہودیوں کا مرکز ہونا۔
          • نبی کریم ﷺ کے معجزے کا ظہور کہ فتح کی پیش گوئی پہلے ہی فرما دی۔
            • میدانِ جنگ کے آداب اور غیر مسلموں کو پہلے دعوتِ اسلام پیش کرنے کا متفقہ شرعی اصول۔
              • ظاہری کلمہ پڑھنے پر اسلامی احکام کا نفاذ اور باطنی معاملات کو اللہ کے سپرد کرنا۔

                الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ. أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

                بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.

                خیبر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھوں فتح ہوا

                (94) الثَّامِنُ: عَنْهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ: ”لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ، يَفْتَحُ اللهُ عَلَىٰ يَدَيْهِ“ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا أَحْبَبْتُ الْإِمَارَةَ إِلَّا يَوْمَئِذٍ، فَتَسَاوَرْتُ لَهَا رَجَاءَ أَنْ أُدْعٰی لَهَا، فَدَعَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِیَّ بْنَ أَبِیْ طَالِبٍ، رَضِیَ اللهُ عَنْهُ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهَا، وَقَالَ: ”امْشِ وَلَا تَلْتَفِتْ حَتّٰی يَفْتَحَ اللهُ عَلَيْكَ“ فَسَارَ عَلِيٌّ شَيْئًا، ثُمَّ وَقَفَ وَلَمْ يَلْتَفِتْ، فَصَرَخَ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، عَلَى مَاذَا أُقَاتِلُ النَّاسَ؟ قَالَ: ”قَاتِلْهُمْ حَتّٰی يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللهِ، فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَقَدْ مَنَعُوا مِنْكَ دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللهِ“ (رواہ مسلم)

                حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے روز فرمایا یہ جھنڈا اس انسان کو عطا کروں گا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ محبت رکھتا ہو، اللہ اس کے ہاتھوں کامیابی عطا فرمائے گا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے امارت کی کبھی چاہت نہ ہوئی لیکن اس روز میں نے امارت کے حصول کے لئے اپنے آپ کو بالکل تیار پایا اس امید سے میں نے گردن کو اونچا کیا، لیکن رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلایا اور جھنڈا ان کے حوالے کر دیا اور کہا جاؤ اور ادھر ادھر نہ جھانکنا یہاں تک کہ اللہ فتح دے چنانچہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھوڑا سا چلے اور رک کر بلا التفات بلند آواز سے پکارا یا رسول اللہ ﷺ کس بات پر لوگوں سے لڑائی کروں فرمایا ان سے لڑائی کرو یہاں تک کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ پس جب وہ یہ اقرار کر لیں گے تو تجھ سے اپنے خونوں اور اپنے مالوں کو محفوظ کر لیں گے البتہ ان کے حقوق کی صورتیں محفوظ نہیں اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔

                خيبر یہ غالباً عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی قلعہ کے آتے ہیں یہ مدینہ منورہ سے آٹھ منزل پر ہے بعض نے مدینہ منورہ سے دوسو (200) میل کے فاصلہ پر بتایا ہے، یہاں کی زمین نہایت زرخیز ہے، یہاں یہودیوں کے نہایت مضبوط متعدد قلعے تھے، جن میں سے بعض آج تک موجود ہیں، عرب میں یہودیوں کی طاقت کا سب سے بڑا مرکز یہی تھا۔ یہاں کے لوگوں سے آپ ﷺ نے صلح فرمائی تھی۔

                حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت

                لَاُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ: یہ جھنڈا اس شخص کو عطا کروں گا جو اللہ اس کے رسول ﷺ سے محبت رکھتا ہو۔

                اس سے مراد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں اس میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت کو بیان کیا جا رہا ہے۔

                اور یہ بھی ہے کہ

                يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَىٰ يَدَيْهِ: اللہ اس کے ہاتھوں کامیابی عطا فرمائے گا۔

                اس میں آپ ﷺ کے ایک معجزے کا تذکرہ ہے کہ خیبر کے فتح ہونے سے پہلے آپ ﷺ نے اطلاع کر دی کہ کس کے ہاتھوں اللہ اس کو فتح کروائے گا۔

                اِمْشِ وَلَا تَلْتَفِتْ حَتّٰی يَفْتَحَ اللهُ عَلَيْكَ: جاؤ اور ادھر ادھر نہ متوجہ ہونا یہاں تک کہ اللہ فتح دیدے۔

                اس جملہ کے دو مطلب ہیں، ایک ظاہری مطلب کہ اے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تم سیدھا جلدی خیبر جاؤ، ادھر ادھر متوجہ نہ ہو بلکہ اپنا کام پورا کرنا۔

                دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس جملہ میں آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ترغیب دی ہے کہ جلدی پہنچ جاؤ۔ یا یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ اے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ دشمنوں سے جنگ کے بعد نہ آنا یہاں تک کہ اللہ فتح نہ دیدے۔

                لڑائی کرو یہاں تک کہ وہ کلمہ پڑھ لیں

                قَاتِلْهُمْ حَتّٰی يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ: ان سے لڑائی کرنا یہاں تک کہ وہ کلمہ کی گواہی دے دیں۔

                علماء کا اس مسئلہ میں اتفاق ہے کہ جنگ کرنے سے پہلے مشرکین کو دعوتِ اسلام دی جائے گی۔ اگر وہ قبول کر لیں تو وہ بھائی بن جائیں گے۔ اگر وہ اسلام کو قبول نہ کریں تو ان سے جزیہ کا سوال کیا جائیگا اگر وہ اس سے بھی انکار کریں تو پھر ان سے جنگ کی جائیگی۔ اس حدیث سے بھی اس کی تائید ہو رہی ہے۔

                فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ: اگر وہ (اسلام) کا اقرار کر لیں۔ اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ اسلام کے احکام کے اجراء صرف زبان کے اقرار سے بھی ثابت ہو جائے گا اور اس کو مسلمان سمجھا جائے گا باطن کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا جائیگا۔

                اللہ جل شانہ ہم سب کو ان لوگوں میں شامل فرمائے جن کے ساتھ اللہ اور اللہ کے رسول محبت کرتے ہیں اور اللہ ہم سب کو اللہ پاک اپنا بنائے اور ہم سے راضی ہو جائے، ایسے راضی کہ پھر ناراض نہ ہو۔




                غزوہ خیبر، فضیلتِ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور جنگ و دعوتِ دین کے اصول - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور