سات چیزوں کے ظہور سے قبل اعمالِ صالحہ میں جلدی کی تاکید

درس نمبر 141، جلد 1، باب 10: نیکیوں کی طرف جلدی کرنے اور طالب خیر کو اس بات پر آمادہ کرنے کا بیان کہ وہ نیکی کو بغیر کسی تردد کے پوری توجہ اور محنت کے ساتھ اختیار کرے۔

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• اعمالِ صالحہ میں مبادرت (جلدی) کرنے کی اہمیت۔• انسان کو غافل کر دینے والے سات بڑے خطرات (فقیری، مال و دولت، مہلک بیماری، عقل زائل کرنے والا بڑھاپا، اچانک موت)۔• دجال کے فتنے کی سنگینی، جو تاریخِ انسانیت کا سب سے بڑا شر ہے۔• قیامت کی سختی اور ہولناکی کا بیان۔• مال و دولت کی ہوس کے بجائے موجودہ حالت میں صبر اور اللہ کی اطاعت کی تلقین۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔

سات چیزوں سے پہلے اعمالِ صالحہ میں مبادرت کا حکم۔

الْحَدِيثُ السَّابِعُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سَبْعًا، هَلْ تَنْظُرُونَ إِلَّا فَقْرًا مُنْسِيًا، أَوْ غِنًى مُطْغِيًا، أَوْ مَرَضًا مُفْسِدًا، أَوْ هَرَمًا مُفَنِّدًا، أَوْ مَوْتًا مُجْهِزًا، أَوِ الدَّجَّالَ فَشَرُّ غَائِبٍ يُنْتَظَرُ، أَوِ السَّاعَةَ فَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ۔" فَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ۔ رواہ الترمذی۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سات چیزوں کے رونما ہونے سے پہلے اعمالِ صالحہ میں مبادرت کرو۔ کیا تم اس فقیری کے انتظار میں ہو جو خدا فراموشی کی کیفیت برپا کر دے گی؟ یا ایسی دولتمندی کے جو سرکش بنا دے گی؟ یا ایسی بیماری کے جو مزاج کو فاسد بنا دے گی؟ یا ایسا بڑھاپا جس میں عقل باقی نہ رہے؟ یا ایسی موت جو اچانک آجائے؟ یا دجال کا؟ یاد رکھو دجال شدید ترین نظروں سے اوجھل شر کا نام ہے، جس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ یا قیامت کا؟ اور قیامت تو سخت خوفناک اور سخت کڑوی ہے۔

فقیری میں آدمی اللہ کو فراموش کر دیتا ہے۔ ایسی فقیری کے انتظار میں جو خدا فراموشی کرے، مطلب یہ ہے کہ آدمی جس حالت میں ہو، اسی حالت میں اللہ جل شانہ کی اطاعت کرے۔ ایسا نہ ہو کہ اگر فقر میں مبتلا ہے تو اسی حالت کو اپنے لیے غنیمت جانے اور یہ سمجھے کہ مال و دولت کی وجہ سے جو خرابی پیدا ہوتی ہے، ان سے خدا نے مجھے بچا لیا ہے۔ اس وقت میں یہ موقع ہی غنیمت ہے کہ اپنی موجودہ حالت پر صبر و استقامت کی راہ اختیار کر کے خدا کا صابر بندہ بن جائے۔ اگر وہ اپنے فقر کا شاکی ہو کہ مجھ کو مال و دولت مل جائے اور مال کے جمع کرنے کے پیچھے لگ جائے، تو اس کا یہ مال و دولت کی خواہش کرنا، سرکشی میں مبتلا اور راہِ راست سے دور کرنے والا ہوگا۔ تو اس کو چاہیے کہ اپنے لیے فقر کی حالت میں اللہ کو راضی کرنے والے اعمال کر لے۔

اس طرح حدیث کے دوسرے جملوں کا مطلب سمجھنا چاہیے کہ اللہ نے جس حالت میں آدمی کو رکھا ہے، اسی حالت میں رہتے ہوئے اللہ کی اطاعت کرے اور یہ خیال کرے کہ یہی حالت میرے لیے بہتر ہے۔ اگر میری دوسری حالت ہو تو میں راستے سے دور ہو جاتا۔

دجال کا فتنہ بہت بڑا فتنہ ہے۔ "أَوِ الدَّجَّالَ فَشَرُّ غَائِبٍ يُنْتَظَرُ" دجال کا انتظار کرتا رہتا ہے جو ہر غائب شر سے بدتر ہے۔ دجال کا فتنہ بہت بڑا عظیم فتنہ ہے جو قیامت کے قریب ظاہر ہوگا۔ جس کے بارے میں ایک روایت میں آتا ہے: "مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ فِتْنَةٌ أَكْبَرُ مِنَ الدَّجَّالِ"۔ آدم علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر قیامت کے دن تک دجال کے فتنے سے بڑا کوئی فتنہ نہیں ہوگا۔ اور دجال کے فتنہ سے ہر نبی نے اپنی قوم کو ڈرایا۔ مطلب یہ ہے کہ آدمی نیک اعمال کر لے اس سے پہلے کہ دجال نکلے، کیونکہ دجال بہت بڑا فتنہ ہے۔ اس وقت میں اچھے اچھے لوگ اس کے فتنہ میں مبتلا ہو جائیں گے۔

"فَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ" قیامت تو سخت خوفناک اور سخت کڑوی ہے۔ قیامت کا منظر دنیا کی سب مصیبتوں سے زیادہ کڑوا ہے۔ ترمذی کتاب الزہد، باب ما جاء فی المبادرة بالعمل، ذکرہ ابن عدی فی الکامل فی الضعفاء۔

اللہ جل شانہ ہمیں ہر فتنے سے محفوظ فرمائے۔ اور دجال کے فتنے سے ہمیں امان میں رکھے اور امام مہدی علیہ السلام کے ساتھ کر لے۔ اللہ جل شانہ ہمیں کسی ایسی حالت میں مبتلا نہ فرمائے جو ہمارے لیے... جو ہمیں اللہ سے دور کرے اور اللہ جل شانہ کے حکموں پر ہر حال میں عمل کرنے کے لیے ہمیں قبول فرمائے۔

اور... اس میں کونسا والا؟ جی؟ اعمالِ صالحہ میں؟ صفحہ کونسا ہے؟ 290۔ 290۔

سات چیزوں سے پہلے اعمالِ صالحہ... الْحَدِيثُ السَّابِعُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سَبْعًا، هَلْ تَنْظُرُونَ..." هَلْ تَنْظُرُونَ... یہ اصل میں... اچھا ہو جاتا ہے۔ هَلْ تَنْتَظِرُونَ... یہ میں دوبارہ پڑھ لیتا ہوں۔

الْحَدِيثُ السَّابِعُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سَبْعًا، هَلْ تَنْتَظِرُونَ إِلَّا فَقْرًا مُنْسِيًا، أَوْ غِنًى مُطْغِيًا، أَوْ مَرَضًا مُفْسِدًا، أَوْ هَرَمًا مُفَنِّدًا، أَوْ مَوْتًا مُجْهِزًا، أَوِ الدَّجَّالَ فَشَرُّ غَائِبٍ يُنْتَظَرُ، أَوِ السَّاعَةَ فَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ۔"

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: حَدِيثٌ حَسَنٌ۔

حضرت ابوہریرہ... جی... حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، سات چیزوں کے رونما ہونے سے پہلے اعمالِ صالحہ میں مبادرت کرو۔ کیا تم ایسی فقیری کے انتظار میں ہو جو خدا فراموشی... خدا فراموشی کی کیفیت برپا کر دے گی؟ یا ایسی دولتمندی جو سرکش بنا دے گی؟ یا ایسی بیماری جو مزاج کو فاسد بنا دے گی؟ یا ایسا بڑھاپا جس میں عقل باقی نہ رہے؟ یا ایسی موت جو اچانک آ جائے؟ یا دجال کا؟

یاد رکھو! دجال شدید ترین نظروں سے اوجھل شر کا نام ہے، جس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ یہ... یا... یا قیامت؟ اور قیامت تک... اور قیامت تو سخت خوفناک اور سخت کڑوی ہے۔

اس میں کون سی چیز نہیں...

سات چیزوں کے ظہور سے قبل اعمالِ صالحہ میں جلدی کی تاکید - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور