الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ. أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
سات چیزوں سے پہلے اعمالِ صالحہ میں مبادرت کا حکم
(93) ﴿السَّابِعُ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سَبْعًا، هَلْ تَنْتَظِرُونَ إِلَّا فَقْرًا مُنْسِيًا، أَوْ غِنًى مُطْغِيًا، أَوْ مَرَضًا مُفْسِدًا، أَوْ هَرَمًا مُفْنِدًا أَوْ مَوْتًا مُجْهِزًا أَوِ الدَّجَّالَ فَشَرُّ غَائِبٍ يُنْتَظَرُ، أَوِ السَّاعَةَ فَالسَّاعَةُ أَدْهٰى وَأَمَرُّ"﴾ (رواه الترمذي وقال حديث حسن)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سات چیزوں کے رونما ہونے سے پہلے اعمالِ صالحہ میں مبادرت کرو، کیا تم ایسی فقیری کے انتظار میں ہو جو خدا فراموشی کی کیفیت برپا کر دے گی یا ایسی دولت مندی جو سرکش بنا دے گی یا ایسی بیماری، جو مزاج کو فاسد بنا دے گی یا ایسا بڑھاپا، جس میں عقل باقی نہ رہے یا ایسی موت، جو اچانک آجائے یا دجال کا (یاد رکھو) دجال شدید ترین نظروں سے اوجھل کر سکتا ہے جس کا انتظار کیا جا رہا ہے یا قیامت کا اور قیامت تو سخت خوفناک اور سخت کڑوی ہے۔
فقیری میں، آدمی اللہ کو فراموش کر دیتا ہے
الافقراً منسیاً: ”ایسی فقیری کے انتظار میں جو خدا فراموشی کر دے“ مطلب یہ ہے کہ آدمی جس حالت میں ہو اسی حالت میں اللہ جل شانہ کی اطاعت کرے، ایسا نہ ہو کہ اگر وہ فقر میں مبتلا ہے تو وہ اسی حالت کو اپنے لئے غنیمت جانے اور یہ سمجھے کہ مال و دولت کی وجہ سے جو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ان سے خدا نے مجھ کو بچا لیا ہے، اس وقت میں یہ موقع ہی غنیمت ہے کہ وہ اپنی موجودہ حالت پر صبر و استقامت کی راہ اختیار کر کے خدا کا صابر بندہ بن جائے اگر وہ اپنے فقر کا شاکی ہو کہ مجھ کو مال و دولت مل جائے اور مال کے جمع کرنے کے پیچھے لگ جائے تو اس کا یہ مال دولت کی خواہش کرنا، سرکشی میں مبتلا اور راہِ راست سے دور کر دینے والا ہو گا تو اس کو چاہئے کہ اپنے لئے فقر کی حالت میں اللہ کو راضی کرنے والے اعمال کر لے۔
اسی طرح حدیث کے دوسرے جملوں کا مطلب سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ نے جس حالت میں آدمی کو رکھا ہے وہ اسی حالت میں رہتے ہوئے اللہ کی اطاعت کرے اور وہ یہ خیال کر لے کہ یہی حالت میرے لئے بہتر ہے اگر میری دوسری حالت ہو تو میں راہ راست سے دور ہو جاتا۔
دجال کا فتنہ بہت بڑا فتنہ ہو گا
اَوِالدَّجَّالَ فَشَرُّ غَائِبٍ یُّنْتَظَرُ: ”دجال کا انتظار کرتا رہتا ہے جو ہر غائب شر سے بدتر ہے۔“
دجال کا فتنہ بہت بڑا فتنہ ہو گا جو قیامت کے قریب ظاہر ہو گا جس کے بارے میں ایک روایت میں آتا ہے۔
”مَا بَیْنَ خَلْقِ اٰدَمَ اِلٰی قِیَامِ السَّاعَۃِ فِتْنۃٌ اَکْبَرُ مِنَ الدَّجَّالِ“: حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر قیامت کے دن تک دجال کے فتنے سے بڑا کوئی فتنہ نہیں ہو گا۔
اور دجال کے فتنے سے ہر نبی نے اپنی قوم کو ڈرایا مطلب یہ ہوا کہ آدمی نیک اعمال کرے اس سے پہلے پہلے کہ دجال نکلے۔ کیونکہ دجال بہت بڑا فتنہ ہے اس وقت میں اچھے اچھے لوگ اس کے فتنے میں مبتلا ہو جائیں گے۔
فَالسَّاعَۃُ اَدْھٰی وَ اَمَرُّ: ”قیامت تو سخت خوفناک اور سخت کڑوی ہے“ قیامت کا منظر دنیا کے سب مناظر سے زیادہ کڑوا ہے۔
ترمذی کتاب الزھد (باب ماجاء فی المبادرة بالعمل۔ ذکرہ ابن عدی فی الکامل فی الضعفاء) ٤٤٢/٦۔
اللہ جل شانہ ہمیں ہر فتنے سے محفوظ فرمائے۔ اور دجال کے فتنے سے ہمیں امان میں رکھے اور امام مہدی علیہ السلام کے ساتھ کر لے۔ اللہ جل شانہ ہمیں کسی ایسی حالت میں مبتلا نہ فرمائے جو ہمیں اللہ سے دور کرے اور اللہ جل شانہ کے حکموں پر ہر حال میں عمل کرنے کے لیے ہمیں قبول فرمائے۔
اور... اس میں کونسا والا؟ جی؟اعمالِ صالحہ میں؟صفحہ کونسا ہے؟290۔ 290۔
سات چیزوں سے پہلے اعمالِ صالحہ...الْحَدِيثُ السَّابِعُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سَبْعًا، هَلْ تَنْظُرُونَ..." هَلْ تَنْظُرُونَ... یہ اصل میں... اچھا ہو جاتا ہے۔ هَلْ تَنْتَظِرُونَ... یہ میں دوبارہ پڑھ لیتا ہوں۔
الْحَدِيثُ السَّابِعُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سَبْعًا، هَلْ تَنْتَظِرُونَ إِلَّا فَقْرًا مُنْسِيًا، أَوْ غِنًى مُطْغِيًا، أَوْ مَرَضًا مُفْسِدًا، أَوْ هَرَمًا مُفَنِّدًا، أَوْ مَوْتًا مُجْهِزًا، أَوِ الدَّجَّالَ فَشَرُّ غَائِبٍ يُنْتَظَرُ، أَوِ السَّاعَةَ فَالسَّاعَةُ أَدْهَى وَأَمَرُّ۔"
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: حَدِيثٌ حَسَنٌ۔
حضرت ابوہریرہ... جی... حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسولِ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا، سات چیزوں کے رونما ہونے سے پہلے اعمالِ صالحہ میں مبادرت کرو۔ کیا تم ایسی فقیری کے انتظار میں ہو جو خدا فراموشی... خدا فراموشی کی کیفیت برپا کر دے گی؟ یا ایسی دولتمندی جو سرکش بنا دے گی؟ یا ایسی بیماری جو مزاج کو فاسد بنا دے گی؟ یا ایسا بڑھاپا جس میں عقل باقی نہ رہے؟ یا ایسی موت جو اچانک آ جائے؟ یا دجال کا؟
یاد رکھو! دجال شدید ترین نظروں سے اوجھل شر کا نام ہے، جس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ یہ... یا... یا قیامت؟ اور قیامت تک... اور قیامت تو سخت خوفناک اور سخت کڑوی ہے۔
اس میں کون سی چیز نہیں...