عذابِ الٰہی سے بچنے کا واحد راستہ: عبرت، رجوع الی اللہ اور اطاعت

درس نمبر 132، جلد نمبر 1، باب 9 : اللہ تعالیٰ کی عظیم مخلوقات میں غور وفکر کرنے، دنیا کے فنا ہونے، آخرت کی ہولناکیوں اور دنیا و آخرت کے تمام امور، نفس کی کوتاہی اور اس کی اصلاح وتہذیب اور اس کو استقامت پر آمادہ کرنے کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• زمین کی سیر کا حقیقی مقصد اور عبرت حاصل کرنا۔• قومِ عاد و ثمود کے مضبوط قلعوں کی تباہی سے اہل مکہ اور مسلمانوں کو تنبیہ۔• قدرتی آفات (زلزلے، طوفان، Tsunami، بیماریاں) کے سامنے انسانی تدابیر کی بے بسی۔• ایک یونانی فلسفی اور پیغمبر کا مکالمہ: مصیبتوں سے بچنے کے لیے اللہ کی بارگاہ میں جھک جانا۔• اللہ تعالیٰ کا انسان کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ اور عذاب و جہنم سے ڈرانے کی حکمت۔

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ:

فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا.

وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: الْكَيِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَهُ.


یہ اللہ جل شانہ کے ایک ارشاد کی طرف اشارہ ہے۔

أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا۔

"کیا انہوں نے زمین میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھتے؟"

ایک ہوتی ہے نا سیر، صرف اپنے نفس کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے، اور ایک سیر ہے جو انسان کسی کام کے لیے جاتا ہے تو بہت ساری چیزوں کو دیکھتا ہے، جس سے انسان کو عبرت ہوتی ہے۔


تو اصل میں یہ چونکہ

عرب میں چلنے پھرنے کا رواج نہیں تھا اس آیت میں اہل مکہ کو خطاب فرما کر کہا جا رہا ہے استفہام انکاری کے طور سے کہ تم نے قوم عاد وثمود کی بستیاں کیا نہیں دیکھی وہ تو مکہ کے قریب ہی ہیں کہ ان کے مضبوط مضبوط قلعوں کو اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذریعہ سے کیسے اکھاڑ پھینکا۔ ان سے عبرت حاصل کرو وہ خود بھی مضبوط تھے اور ان کے مقامات بھی بہت ہی مضبوط تھے جب اللہ کا عذاب آیا تو نہ وہ بچ سکے اور نہ ہی ان کے مکانات ان کو پناہ دے سکے۔

یا اللہ!

عذاب کے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا۔ اور اللہ پاک کے ساتھ صرف ایک طرح کا عذاب نہیں کہ آپ اس طرح design کر لیں گے تو آپ بچ جائیں گے۔ مثلاً زلزلے سے آپ اپنی حفاظت کر لیں گے۔ مکانات کے ایسے structure بنا دیں گے۔ اول تو زلزلے کی magnitude پر منحصر ہے۔ بعض زلزلوں کا magnitude ایسا ہوتا ہے کہ جو تہس نہس کر دیتا ہے ساری چیزوں کو۔ لیکن بہرحال طوفان ہوتے ہیں، ان کے ساتھ کیا کرو گے؟ سونامی ہوتا ہے۔ سونامی تو ایسے اکھاڑ دیتا ہے چیزوں کو، وہ ہوتا ہے۔ بیماریاں ہوتی ہیں۔ اور اس طرح سخت گرمی، سخت سردی۔ یعنی الغرض یہ کہ اللہ پاک کے پاس کیا کچھ نہیں ہے۔تو یہ جو ہمارا جسم ہے، اس کے اندر اتنی ساری چیزیں ہیں کہ اگر کسی ایک چیز کو حکم دے تو بس گیا! تو یہ بات ہے کہ ہم لوگ اللہ کے عذاب سے بچ نہیں سکتے اگر وہ بھیج دے۔ ہاں، اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اس طرح بچا جا سکتا ہے کہ جن پر عذاب آیا ہے، ان کے واقعات سے انسان عبرت حاصل کر لے، اور وہ کام نہ کرے جو انہوں نے کیے تھے، اور وہ کام کر لے جو کہ اللہ چاہتا ہے۔ یہی طریقہ ہے بچنے کا۔ اس کے علاوہ اور کوئی طریقہ نہیں ہے۔


ایک پیغمبر سے ایک یونانی فلسفی نے سوال کیاکہ اگر آسمان کمان ہو جائے، مصیبتیں تیر ہو جائیں، اور انسان کا دل اس کا نشانہ ہو جائے، تو اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ تو نبی نے جواب دیا کہ پھینکنے والے کے پاؤں پڑ جائے۔ تو اس نے کہا: یہ جواب واقعی ایک نبی کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو آپ کو مار سکتا ہے اس کی بات مان لو۔ یہی اس کا، طریقہ کار ہے۔


تو بہرحال یہ ہے کہ اللہ جل شانہ کسی پر ظلم نہیں کرتا، ایک بات تو یہ ہے۔ یہ ظالم کے سامنے جھکنا نہیں ہے۔ یہ تو اپنے خیر خواہ کے سامنے جھکنا ہے۔ کیونکہ اللہ پاک کبھی کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ اللہ پاک ہمارے فائدے کے لیے ہم پر سختی کرتا ہے۔ جیسے جہنم ہے۔ اب اللہ پاک نے قانون بنایا کہ مجرموں کو جہنم بھیجیں گے۔ تو اللہ پاک آپ کو یہاں بچائیں گے۔ اس سے آپ کو اس قسم کے حالات سے ڈرائیں گے تاکہ آپ ڈر کے وہاں نہ جائیں۔ لیکن جو لوگ اس کو opt کر ہی لیتے ہیں، تو پھر اللہ پاک کا قانون نافذ ہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے اس سے بچنے کے لیے ایک ہی طریقہ ہے کہ اللہ پاک کی بات مان لو اور نبی کے طریقے پہ چلو۔ اس کے علاوہ اور کوئی طریقہ نہیں۔ اللہ پاک ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ