فأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ.
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ.
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ.
ستر ہزار متوکلین بغیر حساب و کتاب جنت میں جائیں گے
وَأَمَّا الْأَحَادِيثُ:
(74) فَالْأَوَّلُ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”عُرِضَتْ عَلَیَّ الْأُمَمُ، فَرَأَیْتُ النَّبِیَّ وَمَعَهُ الرُّهَیْطُ، وَالنَّبِیَّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ، وَالنَّبِیَّ وَلَیْسَ مَعَهُ أَحَدٌ إِذْ رُفِعَ لِی سَوَادٌ عَظِیمٌ فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ أُمَّتِی، فَقِیلَ لِی: هٰذَا مُوسٰی وَقَوْمُهُ وَلٰكِنِ انْظُرْ إِلَى الْآفَاقِ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِیمٌ، فَقِیْلَ لِی: انْظُرْ إِلَى الْآفُقِ الْاٰخَرِ، فَإِذَا سَوَادٌ عَظِْیْمٌ، فَقِیْلَ لِی: هٰذِهِ أُمَّتُكَ، وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا یَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَیْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ،“ ثُمَّ نَهَضَ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ، فَخَاضَ النَّاسُ فِی أُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ بِغَیْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: فَلَعَلَّهُمُ الَّذِیْنَ صَحِبُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: فَلَعَلَّهُمُ الَّذِیْنَ وُلِدُوْا فِی الْإِسْلَامِ، فَلَمْ يُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ شَيْئًا. وَذَکَرُوْا أَشْیَاءَ. فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ”مَا الَّذِیْ تَخُوضُوْنَ فِیْهِ؟“ فَأَخْبَرُوْهُ فَقَالَ: ”هُمُ الَّذِیْنَ لَا یَرْقُوْنَ، وَلَا یَسْتَرْقُوْنَ وَلَا یَتَطَیَّرُوْنَ، وَعَلٰی رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ،“ فَقَامَ عُکَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ فَقَالَ: اُدْعُ اللّٰهَ أَنْ یَجْعَلَنِیْ مِنْهُمْ، فَقَالَ: ”أَنْتَ مِنْهُمْ،“ ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ اٰخَرُ فَقَالَ: اُدْعُ اللّٰهَ أَنْ یَجْعَلَنِیْ مِنْهُمْ، فَقَالَ: ”سَبَقَكَ بِهَا عُکَّاشَةُ.“ (متفق علیہ)
”حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھ پر امتیں پیش کی گئیں چنانچہ میں نے دیکھا کسی پیغمبر کے ساتھ چھوٹی سی جماعت ہے، کسی پیغمبر کے ساتھ ایک آدمی، کسی کے ساتھ دو آدمی ہیں اور بعض ایسے بھی تھے جن کے ساتھ کوئی نہ تھا، اچانک مجھے ایک انبوہ نظر آیا میں نے خیال کیا کہ میری امت ہوگی لیکن مجھے کہا گیا یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی امت ہے لیکن آپ آسمان کے کنارے کی طرف نظر اٹھائیں، میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی جماعت موجود ہے پھر مجھے کہا گیا آسمان کے دوسرے کنارے کی طرف دیکھیں تو وہاں بھی بہت بڑی جماعت نظر آئی، تو مجھے کہا گیا یہ آپ ﷺ کی امت ہے، ستر ہزار ان کے ساتھ ہیں جو جنت میں بلا حساب و عذاب داخل ہوں گے پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور اپنے حجرے میں چلے گئے، آپ ﷺکے تشریف لے جانے کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم بحث کرنے لگے کہ وہ کون لوگ ہوں گے جو جنت میں بلا حساب و عذاب کے داخل ہوں گے؟ بعض نے کہا شاید وہ لوگ ہوں گے جن کو رسول ﷺ کا شرفِ صحبت حاصل ہے، بعض نے کہا شاید وہ لوگ جن کی پیدائش حالتِ اسلام میں ہوئی اور انہوں نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بھی نہیں ٹھہرایا، اس سلسلہ میں مختلف خیالات کا اظہار کیا یہ سن کر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے آپ ﷺ نے فرمایا تم کیا بحث کر رہے ہو؟ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے بتایا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جو نہ دم کرتے ہیں اور نہ کرواتے ہیں اور نہ ہی شگون لیتے ہیں اور اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہیں، یہ سن کر عکاشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کیا اللہ سے دعا فرمائیں کہ مجھے ان میں شامل فرمائے، آپ ﷺ نے فرمایا تو ان میں شامل ہے اس کے بعد ایک دوسرا آدمی کھڑا ہوا اس نے عرض کیا اللہ سے دعا کیجئے کہ مجھے ان میں شامل فرمائے آپ ﷺ نے فرمایا عکاشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تم پر سبقت لے گئے۔“
یہ اصل میں جو حدیث شریف پڑھی گئی ہے، اس میں ستر ہزار مومنین کے بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہونے کا ذکر ہے۔ بہت بڑی بات ہے اور ستر کا جو لفظ ہے یہ عربی میں تکثیر کے لیے آتا ہے، یعنی کثرت کے ساتھ۔ تو اس کا مطلب ہے کہ اس سے بھی زیادہ۔ تو کیوں یہ ہوں گے؟ تو ان میں دم جو نہیں کرواتے، یعنی ان کا اللہ پر اتنا توکل ہوتا ہے کہ وہ ان چیزوں کی طرف نہیں جاتے۔ اب اس میں دو رائیں ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ زیادہ صحیح بات جو معلوم ہوتی ہے۔
شیخ عبدالحق دہلویؒ فرماتے ہیں کہ زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس جھاڑ پھونک سے مراد زمانہ جاہلیت کے جھاڑ پھاڑ اور مشرکانہ منتر ہیں جن کا کتاب و سنت کی تعلیمات سے کوئی واسطہ نہیں ہے اور اس کی وجہ سے وہ شرک میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
اور دوسرا بدشگونی، یعنی فال لینا۔ تو زمانہ جاہلیت میں یہ بھی رسم تھی کہ کوئی جب جانے کا ارادہ کرتا تو کوئی پرندہ اڑا دیتے۔ اگر وہ دائیں طرف جاتا تو پھر سفر کو جاری رکھتے اور اگر بائیں طرف جاتا تو سفر کو منسوخ کرتے کہ یہ اس میں نحوست ہے۔ تو یہ ان کے ہاں تھا۔
اب آج کل ذرا ہم اپنے حالات ہم دیکھیں۔ ایک دم تو ہوتا ہے جو قرآن کی کوئی آیت پڑھ کر جو دم کیا جاتا ہے۔ تو وہ تو ٹھیک ہے... مطلب اس میں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یا پھر اس طرح وہ ایسے عملیات ہوں جو کہ جائز ہوں جس میں غیر اللہ سے کوئی وہ نہ کی جائے تو وہ تو جائز ہے۔ لیکن یہاں پر ایک بات جو بہت ذہن میں کھٹک رہی ہے، وہ یہ ہے کہ جائز عملیات کی آڑ میں ناجائز بہت چلتے ہیں۔ جیسے کھرے پیسوں کی آڑ میں کھوٹے پیسے چلتے ہیں۔ تو اس آڑ میں لوگ ایسے بدعقیدہ لوگوں کے پاس بھی پہنچ جاتے ہیں جو کہ وہ اپنے طریقے سے کرتے ہیں سب کچھ اور ان کی کسی چیز کے ٹھیک ہو جانے کی وجہ سے ان کا عقیدہ بھی خراب ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جو دم ہے یا جھاڑ پھونک ہے، اس کو چونکہ دین کی بات سمجھا جاتا ہے، بلکہ روحانیت اس کو لوگ کہتے ہیں، روحانی، روحانی علاج... حالانکہ اس کا روح کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہاں، جس کو روحانی علاج کہتے ہیں وہ کل بھی ایک صاحب آیا تھا، اس کو روحانی کہہ رہا تھا۔ تو مطلب یہ ہے کہ روحانیت کا اس کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔
تو لوگ اس کو یہ سمجھتے ہیں، تو اگر خدانخواستہ کوئی بدعقیدہ آدمی عمل کر کے کسی کو اس طریقے سے فائدہ ہو جائے دنیا کا، تو اس کا عقیدہ خراب ہو سکتا ہے۔ اور ہوئے ہیں خراب لوگوں کے۔ اب اگر اللہ پر توکل کر کے ان چیزوں سے آدمی اپنے آپ کو بچائے، تو اللہ پاک ان کے لیے کافی ہو جائے گا۔ وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ۔ ان کو اللہ تعالیٰ کوئی دنیا میں ایسے طریقے نصیب فرمائیں گے جن میں ان چیزوں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
ابھی مثلاً یہ منزل ہے جو ہمیں اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے۔ اب ماشاءاللہ بالکل پاک و صاف چیز ہے، قرآنِ پاک ہے۔ اس کو باقاعدہ کوئی پڑھتا ہے تو اللہ پاک ان کی حفاظت فرماتے ہیں۔ اور اگر ایسا نہیں کرتے تو پھر ظاہر ہے پتا نہیں کن کن جگہوں کے چکر لگائے گا۔ تو اب یہ ہے کہ اللہ پاک پھر ان کے لیے ذریعہ بنا دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی چونکہ ان چیزوں کو discourage کیا جاتا ہے تو اللہ پاک نے یہ نعمت ہمیں الحمدللہ عطا فرمائی ہے۔ کیونکہ ہم لوگ ان چیزوں میں پڑنا نہیں چاہتے اور اس کے جو نقصانات ہیں وہ بہت زیادہ ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کی جو صحیح چیزیں ہیں ان سے بھی ہم مجبوراً بچتے ہیں۔ تو ایسی صورت میں اللہ پاک نے ہمارے اوپر کرم فرمایا اور یہ چیزیں ہمیں عنایت فرمائیں۔
تو یہ جو دم کرنا ہے یا کروانا ہے، یہ کوئی ناجائز نہیں ہے اگر صحیح طریقے سے ہو۔ لیکن اس کو دیکھ دیکھ کر یا اس کی آڑ میں جو ناجائز چیزیں شروع ہو جاتی ہیں نا، اس کا پھر مسئلہ شروع ہو جاتا ہے۔ تو اللہ پاک ان تمام چیزوں سے ہماری حفاظت فرمائے کیونکہ یہ چیز آج کل بہت بڑا مسئلہ ہے۔ آج کل کے دور میں یہ باقاعدہ پیسوں کا وہ لگا ہوا ہے نظام پورا... بلکہ اس میں تو یہاں تک مجھے پتا چلا ہے، کہ جو لوگ ایک دفعہ کسی عامل کے پاس چلے جائیں تو اس کو پکا گاہک بنا لیتے ہیں۔ اس طرح کہ ان سے جنات اتار لیتے ہیں، چند دنوں کے لیے اتر جاتے ہیں، پھر اس کے بعد دوبارہ چڑھا دیتے ہیں۔ پھر دوبارہ وہ ان کے پاس آتے ہیں۔
میرے خیال میں تو ڈاکٹروں میں بھی یہ بات آج کل ہے، حکیموں میں بھی ہے، عاملوں میں بھی ہے کہ کوئی بیمار بیچارہ بیماری کا مارا ہوا کسی کے پاس پہنچ جائے تو بس اس کو مستقل گاہک بنانے کا وہ کیا جاتا ہے۔ تو یہ ظلم ہے، اور جو بھی کر رہا ہے وہ ظلم ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ تو بہرحال ایسی چیزوں میں، ظاہر ہے وہ علاج معالجہ تو مجبوری ہے، لیکن یہ جو اس قسم کی چیزیں ہیں ان کا تو پتا بھی نہیں چلتا۔
تو ایسی صورت میں پھر اپنے آپ کو ان سے بچایا جائے تو بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے، جو منزل ہے اس کو باقاعدگی کے ساتھ ہم لوگ پڑھتے رہیں... ماشاءاللہ تلاوت ہے اس میں اور قرآن ہے اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے اور دعائیں ہیں۔ اور بالکل میں تو یہ کہا کرتا ہوں کہ اللہ پاک نے اتنی بڑی طاقت جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہمارے ہاتھ میں دی ہے دعا کی... تو اس کو ہم کیوں نہیں استعمال کرتے؟ نماز کی، صدقہ کی... یہ طاقتیں ہیں۔ اس کے ذریعے سے بلائیں دور ہوتی ہیں، قرآن سے ثابت ہے، بعض چیزیں بعض حدیثِ شریف سے ثابت ہیں۔ تو ہم وہ کھلی چیزیں جن میں کوئی نقصان نہیں، ان کو کیوں استعمال نہیں کرتے؟ ان کو استعمال کرنے پر ہم کیوں مجبور ہیں جس میں شک ہے، جس میں نقصان ہے، جس میں مسائل ہیں؟
تو اس میں ایک حدیثِ شریف مجھے ابھی یاد آ گئی، وہ حدیثِ شریف یہ ہے کہ الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ۔ حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں۔ تو جس نے اپنے آپ کو مشتبہ امور سے بچایا، تو اس نے اپنے اسلام کو خالص کر دیا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یعنی گویا کہ اپنے آپ کو مشتبہ امور سے بچانا چاہیے۔ تو جو چیزیں مشتبہ ہو چکی ہیں، تو ان سے ہم اپنے آپ کو بچائیں تو بہتر ہے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: توکل علی اللہ، دم اور بدشگونی کی حقیقتمتبادل عنوان: ستر ہزار خوش نصیب اور عاملوں کے فریب
اہم موضوعات:• بلا حساب و عذاب جنت میں جانے والے ستر ہزار افراد کی صفات۔• دم (جھاڑ پھونک) اور بدشگونی کے شرعی احکام اور ان کی حقیقت۔• توکل علی اللہ کی اہمیت اور اس کے ثمرات۔• عاملوں اور جعلی روحانی علاج کے نام پر ہونے والے دھوکے اور مالی استحصال۔• منزل، نماز، دعا اور صدقہ جیسی مسنون اور بابرکت چیزوں کا اہتمام۔• مشتبہ امور سے بچنے اور دین کو خالص رکھنے کی تلقین۔
خلاصہ:اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے ایک متفق علیہ حدیث کی روشنی میں ان ستر ہزار خوش نصیبوں کا تذکرہ فرمایا ہے جو بغیر حساب و عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ آپ نے واضح کیا کہ ان لوگوں کی صفات میں یہ شامل ہے کہ وہ دم نہیں کرواتے، بدشگونی نہیں لیتے اور مکمل طور پر اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے موجودہ دور کے جعلی عاملوں کی حقیقت بے نقاب کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح جائز عملیات کی آڑ میں ناجائز کام کیے جاتے ہیں اور لوگوں کو مستقل گاہک بنا کر ان کا استحصال کیا جاتا ہے۔ آخر میں آپ نے تلقین فرمائی کہ مشتبہ چیزوں (discourage کی جانے والی باتوں) سے بچنا چاہیے اور اللہ کی دی ہوئی طاقتوں یعنی منزل، تلاوت، دعا، نماز اور صدقے کا استعمال کرنا چاہیے تاکہ انسان کا ایمان اور عقیدہ محفوظ رہے۔