الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ.صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ.
ارشاد خداوندی ہے، مومن تو وہ ہیں کہ جب خدا کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں۔ اور جب انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں، فضائل توکل میں کثرت کے ساتھ آیات موجود ہیں۔
اس آیت میں کامل مومن کی تین خصوصیات... خصوصیات بیان ہوئی ہیں: خوف خدا، ترقی ایمان اور اللہ پر توکل۔
پہلی صفت، إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ، جب خدا کا ذکر کیا جائے تو دل ڈر جاتے ہیں۔اور اس کو دوسری آیت سے: وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ۔خوشخبری دے دیجیے ان متواضع نرم لوگوں کو جن کے دل ڈر جاتے ہیں جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔
وجلت کہتے ہیں وہ ہیبت جو بڑوں کی جلالت شان کے سبب دل میں پیدا ہوتی ہے۔ یہاں مراد خوف... خوف عذاب ہے۔ اس وجہ سے بعض مفسرین اس آیت کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی گناہ کا ارادہ کرے پھر خدا کی یاد آ گئی تو اللہ کے عذاب سے ڈر گیا اور گناہ سے باز آ گیا۔ یہ بالکل اس کا practical approach ہے۔
ہاں جی۔ یعنی... اللہ کا یاد آنا... ایک بات۔ اور پھر اس سے دل کا ڈر جانا یہ دوسری بات۔ بعض لوگوں کو اللہ یاد آتے ہیں لیکن دل ڈرتے نہیں ہیں۔ ہاں جی! وہ گناہ کر لیتے ہیں۔ ہاں جی! بعض لوگوں کو اللہ کی یاد بھی نہیں آتی۔ ہاں جی! تو گویا کہ... یہ دونوں صفات جب ہوتی ہیں تو پھر مومن کی یہ صفت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ... کہ وہ اللہ اس کو یاد آ جائے اور ساتھ یہ بات ہے کہ پھر دل اس سے اتنا ڈر جائے کہ اس گناہ کو چھوڑ دے۔ کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اصل یاد اللہ کی وہ ہے جو گناہ سے بچائے۔ اصل یاد اللہ کی وہ ہے جو گناہ سے بچائے۔
مثال کے طور پر ایک شخص مسلسل اللہ اللہ کر رہا ہے اور رشوت... رشوت لے رہا ہے۔ اسی وقت بھی اگر کوئی رشوت لے آئے تو لے لیتے ہیں۔ تو کیا چیز ہے یہ؟ مطلب یہ ہے کہ اب بتاؤ کہ اس کو اللہ کی یاد ہے یا نہیں ہے؟ نمبر ایک بات۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس کا دل اس سے ڈرتا ہے یا نہیں ڈرتا؟ دوسری بات۔ تو ابتدأ میں ایسا اگر ہو تو اس کو روکنا نہیں چاہیے کیونکہ اسی سے ترقی کر کے انسان اس طرف پہنچ سکتا ہے۔ لیکن صرف یہی بات کافی نہیں ہو سکتی۔ اور میرا اپنا خیال یہ ہے کہ... اس میں ثبوت... جذب و سلوک دونوں کے موجود ہیں۔ کیونکہ اللہ کا یاد آنا یہ جذب ہی کی کیفیت ہے۔ اور اس کا دل... وہ اس سے ڈر جانا، پھر یہ ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا نفس اگر بنا ہو تو پھر ظاہر ہے اس کا دل ڈرے گا اور اس گناہ سے رکے گا۔
مطلب یہ ہے کہ یہ جو بات ہے کہ انسان کو... بلکہ اس کو تین صورتوں میں ہم تقسیم کر سکتے ہیں۔ اللہ کی یاد، اس سے دل کا ڈر جانا، تیسرا اس گناہ سے محفوظ ہو جانا، تین... یہ کیونکہ تفسیر میں یہ بات آئی ہے، کہ اس گناہ سے رک جانا۔ اب کسی کو اللہ کی یاد ہی نہیں آتی تو پہلے تو اس کو اللہ کی یاد کرنی پڑے گی، تاکہ اللہ پاک یاد آیا کریں۔ پھر اس کے بعد دل اس سے ڈر جانا چاہیے یعنی اتنا اللہ کے ساتھ محبت اور وہ ہونا چاہیے اور اللہ سے خوف ہونا چاہیے کہ دل اس سے ڈر جائے۔ دوسری بات ہو گئی۔ تو یہ دونوں چیزیں جو ہیں نا زیادہ تر جذب سے تعلق رکھتی ہیں۔ لیکن اس گناہ سے رک جائے، یہ اس کا تعلق سلوک کے ساتھ ہے۔ اس کا تعلق سلوک کے ساتھ ہے۔
تو لہٰذا جب تک سلوک نہ طے کیا ہو، تو مطلب یہ چیزیں ہو جاتی ہیں لیکن پھر بھی... تو اب یہاں پر تعریف کن کی گئی ہے؟ تعریف ان کی کی گئی ہے: إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ۔ مطلب یہ ہے کہ وہ جو ہیں نا مطلب ان کے دل اتنے ڈر جاتے ہیں کہ وہ... نیک عمل بھی کریں اور بری بات سے بھی رکیں۔
اور آیات کریمہ جب ان کے سامنے تلاوت کی جائیں تو اس سے ان کے ایمان بڑھیں۔ ہاں جی! اس سے ایمان بڑھے۔ اور پھر وہ اپنے رب کے اوپر توکل کرتے ہیں، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرما دے۔
تلاوت آیات سے مسلمانوں کے ایمان کی قوت و کیفیت اور نور ایمان میں ترقی ہو جاتی ہے، کہ یہ بات اس کی طبیعت میں داخل ہو جائے، پھر اس کو چھوڑنے سے تکلیف ہوتی ہے۔
وَإِذَا حَلَتِ الْحَلَاوَةُ قَلْبًانَشِطَتْ فِي الْعِبَادَةِ الْأَعْضَاءُ
کہ جب کسی دل میں حلاوت ایمان جگہ پکڑ لے تو اس کے ہاتھ پیر اور سب اعضاء عبادت میں راحت اور لذت حاصل کرنے لگتے ہیں۔
اب میں ایک اور چیز کی طرف جاتا ہوں، وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔ وہ یہ ہے کہ ایک حدیث شریف ہے کہ جب انسان غیر محرم سے قصدًا اللہ کے ڈر کی وجہ سے نظریں ہٹا لے، تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس کو ایسی ایمان، عبادت کی توفیق عطا فرمائے جس سے وہ ایمان کی حلاوت کو دنیا میں محسوس کر لیتا ہے۔ تو ایمان کی حلاوت کا مطلب کیا ہے؟ دیکھیں! جب ایمان کسی کے دل میں حلاوت ایمان جگہ پکڑ لے تو اس کے ہاتھ پیر اور سب اعضاء عبادت میں راحت اور لذت حاصل کرنے لگتے ہیں۔ اور پھر اس کے بعد ماشاءاللہ اس سے وہی کام ہونے لگتے ہیں جو چاہیے۔
تیسری بات: وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ۔ اپنے تمام اعمال و احوال میں اللہ کی ذات پر اعتماد ہو، اسباب میں اصلی کامیابی نہ سمجھے، بلکہ یہ سمجھے کہ جو اللہ چاہے گا وہی ہوگا۔ اپنے دل و دماغ کو صرف ظاہری تدبیروں اور اسباب میں الجھا نہ رکھے۔ یعنی غیر ضروری طور پر، ہاں جی! غیر ضروری طور پر وہ جو ہے نا وہ اسباب میں مبتلا نہ رکھے۔ بلکہ ضرورت کے درجے میں جتنا ضرورت ہے اتنا کر لے، اور وہ یہ ہے کہ اپنی سستی نہ ہو۔ اسباب سے اپنی سستی نہ ہو۔
ایک ہے سستی، ایک ہے وہم۔ ٹھیک ہے نا؟ تو وہم میں انسان جتنی ضرورت ہے اس سے زیادہ کرتا ہے۔ سوچتا ہے۔ ہاں جی!
میں جا رہا تھا ادھر Major General, Major General RGLG Badshah کاکاخیل۔ ان کے ساتھ میرا کام تھا۔ جب میں ان کے گھر پہنچا تو ان کا جو پوتا تھا، بیمار تھا۔ تو وہ اس کو لے کر گاڑی میں بٹھا کے MH لے جا رہا تھا۔ تو مجھے کہا آپ میرے ساتھ بیٹھو۔ تو میں اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔ وہ بڑے دبنگ قسم کے آدمی تھے۔ تو راستے میں میں نے جو ہے نا مطلب وہ... ویسے پوچھا کہ بچے کو کیا ہوا ہے؟
کہتا ہے: It's not my duty, it's doctor's duty! بس ٹھیک ہے جی، میں ڈاکٹر کے پاس لے جا رہا ہوں۔
مطلب یہ ہے کہ مطلب اس نے سوچا بھی نہیں کہ وہ کہتا ہے میری کیا بات ہے، میں تو اس کو نہیں جانتا۔ It's doctor's duty. بس ٹھیک ہے میں اس کے پاس لے جا رہا ہوں۔ بس وہ مطلب وہی SOPs کی طرح فوجی تو اکثر SOPs پہ عمل کرتے ہیں نا، تو یہ ہے کہ مطلب اس کی طرف بتا دیا کہ بس میں، میرا کام تو ڈاکٹر تک پہنچانا ہے۔ آگے کام تو اس کا ہے۔
تو وہ اس طرح مطلب یعنی straight forward آدمی تھے۔ بالکل۔ شہید ہوئے ہیں accident میں، accident میں شہید ہوئے ہیں۔ تو کوئی convoy جا رہی تھی army کی۔ تو وہ اترے، دیکھا ویسے بھی زخمیوں کی مدد تو کرتے ہیں مطلب army کے لوگ۔ تو ظاہر ہے مطلب ان کو اٹھاتے تھے، بڑے سخت زخمی تھے۔ تو ان کے شناخت کے لیے ان کی جیب سے شناختی کارڈ نکالنا تھا۔ تو اس پہ Major General... تو اس نے salute کیا۔ کہتا ہے یہ کیا بکواس ہے؟ ابھی کلمہ پڑھو! سب کو کلمہ پڑھوا دیا اور شہید ہو گئے۔
ہاں جی! تو مطلب ہے کہ یہ، یہ اس طرح یعنی مطلب ان کا SOP والا straight forward۔ اس وقت یہ، اس وقت یہ۔ ٹھیک ہے نا؟ تو ان کے ذہن میں بالکل اس طرح...
تو یہ بات ہے کہ ہر چیز کے لیے اپنا اپنا خانہ ہے۔ بھئی اسباب کے لیے اپنا خانہ ہے۔ اللہ پر بھروسے کے لیے اپنا خانہ ہے۔ اسباب میں سستی نہ کرو۔ اور بھروسے والا جو بات ہے وہ اسباب پہ نہ کرو، وہ اللہ پہ کرو۔ بھروسے کا خانہ تو اللہ کے لیے ہے۔ اور سستی مطلب اسباب کے، اسباب کے لیے سستی سے بچنا۔ تو کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کہ وہم سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اتنا وہم کرتے ہیں کہ ان کی وجہ سے وہ، ان کا جسم بیٹھ جاتا ہے یا وہ کام خراب ہو جاتا ہے۔ مطلب وہم کی وجہ سے۔ اور دوسرے علم، بے احتیاطی اور سستی سے کام خراب ہو جاتا ہے۔ ہاں جی! کہ اس کی طرف جتنی توجہ کی ضرورت تھی، وہ توجہ ہی نہیں کی۔ تو کام خراب ہو گیا۔ تو اس کے درمیان رہنا۔ درمیان میں کیسے رہ سکتے ہیں؟ درمیان میں ایسے رہ سکتے ہیں کہ اپنے لیے دونوں کے لیے اپنا اپنا خانہ بناؤ۔ اسباب کے لیے سستی سے بچو، اور بھروسے کے لیے اللہ پاک پہ بھروسہ کرو، توکل۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ. بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.
تجزیہ اور خلاصہ:
سب سے جامع عنوان: کامل مومن کی صفات: خوفِ خدا، ترقیِ ایمان اور توکل علی اللہمتبادل عنوان: اسباب اور توکل میں توازن: قرآن و تصوف کی روشنی میں
اہم موضوعات:
کامل مومن کی تین قرآنی صفات کا بیان (اللہ کے ذکر سے دلوں کا ڈرنا، تلاوت سے ایمان کا بڑھنا، اور توکل)۔
خوفِ خدا کا عملی پہلو (Practical Approach) اور گناہوں سے بچنے کی اہمیت۔
جذب اور سلوک کی منازل اور ان کا باہمی تعلق۔
نظروں کی حفاظت پر حلاوتِ ایمان کا انعام اور عبادات میں لذت۔
اسباب اور توکل کے درمیان توازن برقرار رکھنا۔
وہم اور سستی جیسی بیماریوں سے بچاؤ کا طریقہ۔
میجر جنرل بادشاہ کاکاخیل کی زندگی کا ایک سبق آموز واقعہ۔
خلاصہ:اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے سورۃ الانفال کی ابتدائی آیات کی روشنی میں کامل مومن کی تین بنیادی صفات پر تفصیلی اور بصیرت افروز گفتگو فرمائی ہے۔ آپ نے واضح کیا کہ محض زبان سے اللہ کا ذکر کافی نہیں، بلکہ حقیقی ذکر وہ ہے جس سے انسان کے دل میں خوفِ خدا پیدا ہو اور وہ گناہوں سے باز آ جائے۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے تصوف کے اعتبار سے اسے جذب و سلوک کی تکمیل قرار دیا۔ اس کے ساتھ ہی آپ نے حلاوتِ ایمان کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ گناہوں (بالخصوص بدنگاہی) سے بچنے پر اللہ تعالیٰ عبادات میں وہ لذت عطا فرماتا ہے جس سے انسان کے تمام اعضاء اللہ کی فرمانبرداری میں راحت محسوس کرتے ہیں۔ آخر میں آپ نے ایک فوجی افسر کے واقعے کے ذریعے یہ قیمتی سبق دیا کہ انسان کو دنیاوی اسباب اختیار کرنے میں سستی نہیں کرنی چاہیے، مگر ساتھ ہی غیر ضروری وہم سے بچتے ہوئے اپنا مکمل اور حقیقی بھروسہ صرف اور صرف اللہ کی ذات پر رکھنا چاہیے۔