کامل مومن کی صفات: خوفِ خدا، ترقیِ ایمان اور توکل علی اللہ

درس نمبر 107، جلد نمبر 1، باب 7 : یقین اور توکل کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • کامل مومن کی تین قرآنی صفات کا بیان (اللہ کے ذکر سے دلوں کا ڈرنا، تلاوت سے ایمان کا بڑھنا، اور توکل)۔
    • خوفِ خدا کا عملی پہلو (Practical Approach) اور گناہوں سے بچنے کی اہمیت۔
      • جذب اور سلوک کی منازل اور ان کا باہمی تعلق۔
        • نظروں کی حفاظت پر حلاوتِ ایمان کا انعام اور عبادات میں لذت۔
          • اسباب اور توکل کے درمیان توازن برقرار رکھنا۔
            • وہم اور سستی جیسی بیماریوں سے بچاؤ کا طریقہ۔
              • میجر جنرل بادشاہ کاکاخیل کی زندگی کا ایک سبق آموز واقعہ۔

                الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ!

                فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ،

                بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

                تلاوتِ قرآن سے ایمان کی زیادتی کا بیان

                وَقَالَ تَعَالٰی: ﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَاِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اٰیٰتُهٗ زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا وَّعَلٰی رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ﴾ (الأنفال: 2)

                صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ۔

                ارشادِ خداوندی ہے، مومن تو وہ ہیں کہ جب خدا کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں۔ اور جب انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کا ایمان اور بڑھ جاتا ہے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

                فضائلِ توکل میں کثرت کے ساتھ آیات موجود ہیں۔

                اس آیت میں کامل مؤمن کی تین خصوصی صفات کا بیان ہے، (1) خوفِ خدا (2) ترقیِ ایمان (3) اللہ پر توکل۔

                پہلی صفت ”اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ“ ترجمہ: جب خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو دل ڈر جاتے ہیں۔

                اسی کو دوسری آیت میں اس طرح بیان کیا: ”وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِيْنَ الَّذِيْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ.“

                ”خوشخبری دے دیجئے ان متواضع نرم لوگوں کو جن کے دل ڈر جاتے ہیں جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔“

                وَجِلَتْ: کہتے ہیں وہ ہیبت جو بڑوں کی جلالتِ شان کے سبب دل میں پیدا ہوتی ہے یا مراد خوفِ عذاب ہے، اسی وجہ سے بعض مفسرین آیتِ بالا کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی گناہ کا ارادہ کرے پھر خدا کی یاد آگئی تو وہ اللہ کے عذاب سے ڈر گیا اور گناہ سے باز آگیا۔

                یہ بالکل اس کی practical approach ہے۔

                یعنی... اللہ کا یاد آنا... ایک بات۔ اور پھر اس سے دل کا ڈر جانا یہ دوسری بات۔ بعض لوگوں کو اللہ یاد آتے ہیں لیکن دل ڈرتے نہیں ہیں۔ وہ گناہ کر لیتے ہیں۔ بعض لوگوں کو اللہ کی یاد بھی نہیں آتی۔ تو گویا کہ یہ دونوں صفات جب ہوتی ہیں تو پھر مومن ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اس کو یاد آ جائے اور ساتھ یہ بات ہے کہ پھر دل اس سے اتنا ڈر جائے کہ اس گناہ کو چھوڑ دے۔ کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اصل یاد اللہ کی وہ ہے جو گناہ سے بچائے۔ اصل یاد اللہ کی وہ ہے جو گناہ سے بچائے۔

                مثال کے طور پر ایک شخص مسلسل اللہ اللہ کر رہا ہے اور رشوت لے رہا ہے۔ اسی وقت بھی اگر کوئی رشوت لے آئے تو لے لیتا ہے۔ تو کیا چیز ہے یہ؟ مطلب یہ ہے کہ اب بتاؤ کہ وہ اللہ کی یاد ہے یا نہیں ہے؟ نمبر ایک بات۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس کا دل اس سے ڈر رہا ہے یا نہیں؟ دوسری بات۔ تو ابتدا میں ایسا اگر ہو تو اس کو روکنا نہیں چاہیے کیونکہ اسی سے ترقی کر کے انسان اس طرف پہنچ سکتا ہے۔ لیکن صرف یہی بات کافی نہیں ہو سکتی۔ اور میرا اپنا خیال یہ ہے کہ اس میں ثبوت جذب و سلوک دونوں کے موجود ہیں۔ کیونکہ اللہ کا یاد آنا یہ جذب ہی کی کیفیت ہے۔ اور اس کا دل اس سے ڈر جانا، پھر یہ ظاہر ہے مطلب یہ ہے کہ اس کا نفس اگر بنا ہو تو پھر ظاہر ہے اس کا دل ڈرے گا اور اس گناہ سے رکے گا۔

                بلکہ اس کو تین صورتوں میں میں تقسیم کر سکتا ہوں۔ اللہ کی یاد، اس سے دل کا ڈر جانا، تیسرا اس گناہ سے محفوظ ہو جانا، تین... یہ کیونکہ تفسیر میں یہ بات آئی ہے، کہ اس گناہ سے رک جانا۔ اب کسی کو اللہ کی یاد ہی نہیں آتی تو پہلے تو اس کو اللہ کی یاد کرنی پڑے گی، تاکہ اللہ پاک یاد آیا کریں۔ پھر اس کے بعد دل اس سے ڈر جانا چاہیے یعنی اتنا اللہ کے ساتھ محبت اور وہ ہونا چاہیے اور اللہ سے خوف ہونا چاہیے کہ دل اس سے ڈر جائے۔ دوسری بات ہو گئی۔ تو یہ دونوں چیزیں جو ہیں نا زیادہ تر جذب سے تعلق رکھتی ہیں۔ لیکن اس گناہ سے رک جائے، یہ اس کا تعلق سلوک کے ساتھ ہے۔ اس کا تعلق سلوک کے ساتھ ہے۔

                تو لہٰذا جب تک سلوک نہ طے کیا ہو، تو مطلب یہ چیزیں ہو جاتی ہیں لیکن پھر بھی... تو اب یہاں پر تعریف کن کی کی گئی ہے؟ تعریف ان کی کی گئی ہے: إِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَجِلَتْ قُلُوْبُهُمْ۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے دل اتنے ڈر جاتے ہیں کہ وہ نیک عمل بھی کریں اور بری بات سے بھی رکیں۔

                اور آیاتِ کریمہ جب ان کے سامنے تلاوت کی جائیں تو اس سے ان کا ایمان بڑھے۔ اس سے ایمان بڑھے۔ اور پھر وہ اپنے رب کے اوپر توکل کرتے ہیں، وَعَلٰی رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُوْنَ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرما دے۔

                دوسری صفت: زَادَتْهُمْ اِيْمَانًا: کہ تلاوتِ آیات سے مسلمانوں کے ایمان کی قوت و کیفیت اور نورِ ایمان میں ترقی ہوجاتی ہے۔ کہ عبادت اس کی طبیعت میں داخل ہوجاتی ہے پھر اس کو چھوڑنے سے تکلیف ہوتی ہے جیسا کہ قال الشاعر:

                وَإِذَا حَلَّتِ الْحَلَاوَةُ قَلْبًا

                نَشَطَتْ فِی الْعِبَادَةِ الْأَعْضَاءُ

                جب کسی دل میں حلاوتِ ایمان جگہ پکڑ لیتی ہے تو اس کے ہاتھ پیر اور سب اعضاء عبادت میں راحت و لذت حاصل کرنے لگتے ہیں۔

                اب میں ایک اور چیز کی طرف جاتا ہوں، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔ وہ یہ ہے کہ ایک حدیث شریف ہے کہ جب انسان غیر محرم سے قصدًا اللہ کے ڈر کی وجہ سے نظریں ہٹا لے، تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس کو ایسی عبادت کی توفیق عطا فرمائے جس سے وہ ایمان کی حلاوت کو دنیا میں محسوس کر لیتا ہے۔ تو ایمان کی حلاوت کا مطلب کیا ہے؟ دیکھیں! جب کسی کے دل میں حلاوتِ ایمان جگہ پکڑ لے تو اس کے ہاتھ پیر اور سب اعضاء عبادت میں راحت اور لذت حاصل کرنے لگتے ہیں۔ اور پھر اس کے بعد ماشاءاللہ اس سے وہی کام ہونے لگتے ہیں جو چاہییں۔

                تیسری صفت: وعلی ربهم يتوكلون: اپنے تمام اعمال و احوال میں اللہ کی ذات پر اعتماد ہو، اسباب میں اصلی کامیابی نہ سمجھے بلکہ یہ سمجھے جو اللہ چاہے گا وہی ہوگا۔ اپنے دل و دماغ کو صرف ساری تدبیروں اور اسباب میں الجھا کر نہ رکھے۔

                یعنی غیر ضروری طور پر، غیر ضروری طور پر وہ جو ہے نا وہ اسباب میں مبتلا نہ رکھے۔ بلکہ ضرورت کے درجے میں جتنی ضرورت ہے اتنا کر لے، اور وہ یہ ہے کہ اپنی سستی نہ ہو۔ اسباب سے اپنی سستی نہ ہو۔

                ایک ہے سستی، ایک ہے وہم۔ ٹھیک ہے نا؟ تو وہم میں انسان جتنی ضرورت ہے اس سے زیادہ سوچتا ہے۔

                میں جا رہا تھا ادھر Major General, RGLG Badshah Kakakhel ان کے ساتھ میرا کام تھا۔ جب میں ان کے گھر پہنچا تو ان کا جو پوتا تھا، بیمار تھا۔ تو وہ اس کو لے کر گاڑی میں بٹھا کر MH لے جا رہے تھے۔ تو مجھ سے کہا میرے ساتھ بیٹھو ۔ تو میں اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔ وہ بڑے دبنگ قسم کے آدمی تھے۔ تو راستے میں میں نے ویسے پوچھا کہ بچے کو کیا ہوا ہے؟

                کہتے ہیں: It's not my duty, it's doctor's duty! بس ٹھیک ہے جی، میں ڈاکٹر کے پاس لے جا رہا ہوں۔

                مطلب یہ ہے کہ انہوں نے سوچا بھی نہیں کہ وہ کہتے ہیں میری کیا بات ہے، میں تو اس کو نہیں جانتا۔ It's doctor's duty. بس ٹھیک ہے میں اس کے پاس لے جا رہا ہوں۔ بس وہ وہی SOPs کی طرح فوجی تو اکثر SOPs پر عمل کرتے ہیں نا، تو یہ ہے کہ اس کی طرح بتا دیا کہ بس میں، میرا کام تو ڈاکٹر تک پہنچانا ہے۔ آگے کام تو اس کا ہے۔

                تو وہ اس طرح straight forward آدمی تھے بالکل۔ شہید ہوئے ہیں accident میں، accident میں شہید ہوئے ہیں۔ تو کوئی convoy جا رہی تھی army کی۔ تو وہ اترے، دیکھا ویسے بھی زخمیوں کی مدد تو کرتے ہیں مطلب army کے لوگ۔ تو ظاہر ہے ان کو اٹھاتے تھے، بڑے سخت زخمی تھے۔ تو ان کی شناخت کے لیے ان کی جیب سے شناختی کارڈ نکالنا تھا۔ تو اس پر Major General... تو ان نے salute کیا۔ کہتے ہیں یہ کیا بکواس ہے؟ ابھی کلمہ پڑھو! سب کو کلمہ پڑھوا دیا اور شہید ہو گئے۔یہ تھے دبنگ آدمی۔

                تو مطلب ہے کہ یہ اس طرح ی ان کا SOP والا straight forward۔ اُس وقت یہ، اِس وقت یہ۔ ٹھیک ہے نا؟ تو ان کے ذہن میں بالکل اس طرح...

                تو یہ بات ہے کہ ہر چیز کے لیے اپنا اپنا خانہ ہے۔ بھئی اسباب کے لیے اپنا خانہ ہے۔ اللہ پر بھروسے کے لیے اپنا خانہ ہے۔ اسباب میں سستی نہ کرو۔ اور بھروسے والی جو بات ہے وہ اسباب پر نہ کرو، وہ اللہ پر کرو۔ بھروسے کا خانہ تو اللہ کے لیے ہے۔ اور اسباب کے لیے سستی سے بچنا۔ تو کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کہ وہم سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اتنا وہم کرتے ہیں کہ ان کی وجہ سے ان کا جسم بیٹھ جاتا ہے یا وہ کام خراب ہو جاتا ہے، مطلب وہم کی وجہ سے۔ اور دوسری طرف بے احتیاطی اور سستی سے کام خراب ہو جاتا ہے۔ کہ اس کی طرف جتنی توجہ کی ضرورت ہے، وہ توجہ ہی نہیں کی تو کام خراب ہو گیا۔ تو اس کے درمیان رہنا۔ درمیان میں کیسے رہ سکتے ہیں؟ درمیان میں ایسے رہ سکتے ہیں کہ اپنے لیے دونوں کے لیے اپنا اپنا خانہ بناؤ۔ اسباب کے لیے سستی سے بچو، اور بھروسے کے لیے اللہ پاک پر بھروسہ کرو۔

                اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرما دے۔


                وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ. بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.

                کامل مومن کی صفات: خوفِ خدا، ترقیِ ایمان اور توکل علی اللہ - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور