دیانت دار تاجر اور توکل کی طاقت: واقعات کی روشنی میں

درس نمبر 106، جلد نمبر 1، باب 7 : یقین اور توکل کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• توکل کی قرآنی اور نبوی ﷺ تعلیمات اور اس کی فضیلت۔• کاروباری معاملات (Deal) میں دیانت داری اور دھوکہ دہی سے اجتناب۔• بمبئی کے ایک اللہ والے تاجر کا واقعہ اور توکل کی برکت۔• امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی دیانت، تقویٰ اور مدینہ منورہ میں حق دار کو اس کا حق لوٹانے کا حیران کن واقعہ۔• مقامِ تسلیم اور توکل کا باہمی تعلق۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيّيْنَ أَمَّا بَعْدُ

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

اللہ پر بھروسہ کرنے والے کے لئے اللہ کافی ہے

وَقَالَ تَعَالٰی: ﴿وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ ؕ اَیْ كَافِيْه﴾ (الطلاق: 3)

ارشادِ خداوندی ہے: ”اور جو خدا پر بھروسہ رکھے گا تو وہ اس کو کفایت کرے گا۔“

یعنی اگر کوئی اللہ کی ذات اقدس پر بھروسہ اور توکل کرے گا۔ تو حق تعالیٰ شانہ اس کی مہمات کے لئے کافی ہوجائے گا کیونکہ اللہ جس طرح چاہتا ہے پورا کردیتا ہے۔ جیسے کہ ایک دوسری روایت میں آتا ہے۔

لَوْ اَنَّكُمْ تَوَكَّلْتُمْ عَلَى اللّٰهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ تَغْدُوْ اِخْمَاصًا وَتَرُوْحُ بِطَانًا۔

اگر تم اللہ پر توکل اور بھروسہ کرتے جیسے کہ اس کا حق ہے، تو بیشک اللہ تمہیں اس طرح رزق دیتا جیسے کہ پرندوں کو دیتا ہے کہ صبح کو اپنے گھونسلوں سے بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھرے ہوئے واپس آتے ہیں۔

اسی طرح عبداللہ بن عباسؓ کی روایت میں آتا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں سے ستر (70) ہزار آدمی بے حساب جنت میں داخل ہوں گے ان کے اوصاف میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ پر توکل کرنے والے ہوں گے۔

یہ جو، دکاندار ٹائپ لوگ ہوتے ہیں نا، بیچنے والے لوگ، ان کو یہ صفت بہت زبردست مل سکتی ہے۔ کیونکہ اگر یہ اللہ پر توکل کر کے اپنا کام کریں اور کسی اور کا حق مارنے کی کوشش نہ کریں۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی کسی کے ساتھ deal کر رہا ہے، اور آپ درمیان میں اس میں offer کر لیتے ہیں میں آپ کو اتنے پہ دوں گا، یہ جائز نہیں ہے۔ اس کے ساتھ معاملے کو ختم ہونے دو پھر آپ کر لیں۔ اس طرح آپ... بلاوجہ قیمت... جھوٹ نہ بولیں کہ میں نے اتنے پہ خریدا ہے، یہ نہ کہو۔ ہاں، جتنے کا بیچنا چاہتے ہو وہ بتا دو اور اس کا عیب بھی ساتھ بتا دو۔ تو اب یہ ہے کہ اگر آپ اس طرح کر لیتے ہیں، تو اب یہ بات ہے کہ بظاہر بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے آج تو گاہک نہیں آ رہے۔ لیکن جب اللہ پورا کرنا چاہے، عین اخیر میں ایسے گاہک آئیں گے سارا انتظام پورا ہو جائے گا۔

اس کا ایک واقعہ ہے۔ ہمارے سید تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ بمبئی میں... ایک تاجر کے ساتھ ان کی دوستی تھی، ان کی دکان پر بیٹھ کر گپ شپ لگاتے تھے۔ کہتے ہیں ہم گئے تو وہ تاجر ابھی نہیں آیا تھا، ان کے کارندے آئے تھے۔ تو یہ وہاں مضافات کے لوگ جو ہے نا وہ... یہ کپڑے... اپنے گھروں میں انہوں نے وہ بنائی ہوتی تھیں کھڈیاں... وہ کپڑے بُنتے تھے۔ اور پھر آکر سر کے اوپر لا کر وہ تھان بیچتے تھے۔ اور اس کے ذریعے سے جتنا کماتے تھے، اس کے ذریعے سے بازار سے سودا سلف لے کر جاتے تھے، ان کے ایک trip میں دونوں کام ہو جاتے تھے۔

جب وہ آئے جو آڑھت والے تھے، تو انہوں نے کہا جی ہمارے تو سارے گودام بھرے ہوئے ہیں۔ کہاں سے آپ سے لیں؟ آپ خود دیکھ لیں، ہمارے پاس تو جگہ ہی نہیں۔ اب وہ بیچارے حیران پریشان کھڑے ہیں کہ کیا کریں۔ اب اگر وہ گاؤں واپس جاتے ہیں تو، نہ ادھر سے سودا ملے گا، اور بلاوجہ trip اور تکلیف، یہ سارا کچھ۔ تو اسی حیرت کے عالم میں کھڑے تھے کہ وہ سیٹھ صاحب آگئے۔ سیٹھ صاحب نے پوچھا بھئی یہ لوگ کیوں کھڑے ہیں؟ انہوں نے کہا جی ہمارے پاس جگہ نہیں ہے، ان کے پاس مال ہے تو وہ کہتے ہیں مال لے لو، تو ہم کیسے لے لیں؟ سیٹھ صاحب نے کہا دیکھو... یہ اگر اس طرح خالی جائیں گے، تو ان کا trip بھی ضائع ہو جائے گا، ان کو گھر کا سودا سلف بھی نہیں ملے گا، تو تم کیا کرو؟ یہ راستوں میں بے شک رکھ لو، لیکن ان سے لے لو۔

تو کہتے ہیں کہ بس... کارندے تو پھر حکم کے پابند ہوتے ہیں۔ ان سے لے لیا، ادھر ادھر سیٹ کر دیا۔ وہ سیٹھ صاحب نے ان کو پیسے دلوا دیے۔ وہ چلے گئے۔ کہتے ہیں ہم بھی اپنے کام کے لیے چلے گئے، کام شام کر کے واپس جب آگئے تو دیکھا کہ... بالکل خالی ہے... گودام سارے خالی ہیں۔ تو کہتے ہیں ہم نے سیٹھ صاحب سے کہا، سیٹھ صاحب یہ کیا ہوا؟ وہ اتنا مال تھا... کہتے ہیں بس وہ دو تین کوئی parties آگئیں، وہ سارے کا سارا سودا کر کے لے گئیں۔

وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَی اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ۔ جو اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں، تو اس کے لیے وہ کافی ہو جاتا ہے۔ یہ والی بات ہے۔ تو صحابۂ کرام میں یہ چیز تھی۔ تبھی تو ان کے کاروبار کے لیے باقاعدہ بہت زیادہ ان کو وقت نہیں لگانا ہوتا تھا۔ وہ سارے دینی کام ساتھ ساتھ کرتے تھے، اور جتنا تھوڑا سا وقت ملتا تھا اس میں وہ کام کرتے، اسی میں سارا نکل جاتا تھا کام۔ وہ کام ہو جاتا تھا۔ کیوں؟ وجہ کیا ہے کہ ان کے ہاں یہ توکل تھا۔ وہ دنیا کے کام کے لیے دین کے کام کو روکتے نہیں تھے۔ اور ساتھ یہ بات ہے کہ اصولوں کے مطابق سب کچھ کرتے تھے جو شرعی مسائل تھے اس کے مطابق سب کام کرتے تھے۔ تو اللہ تعالیٰ ان کے تھوڑے میں بھی برکت دیتے تھے۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کو دیکھیں کتنا ساری فقہ انہوں نے جمع کیا ہے۔ بتاؤ یہ کاروبار کے لیے ان کے پاس کون سا time تھا؟ لیکن اتنے کامیاب کاروبار تھے کہ یعنی آدمی حیران ہو جاتا ہے کہ وہ کیسے، کاروبار کو سنبھالتے تھے اور کیسے۔ اور دیانتداری اتنی کہ وہ کہتے ہیں اپنے ان کے کوفہ میں جو دکان تھی... تو کوئی صاحب آیا تھا تو انہوں نے ایک چادر لی، کہتے ہیں کتنے کی ہے جی؟ ہزار درہم کی۔ تو انہوں نے ہزار درہم دے دیے اور لے لی۔ وہ جب امام صاحب تشریف لائے تو دیکھا کہ... اس کے سامنے ہزار درہم وصول... انہوں نے کہا آپ نے اس کو ہزار درہم دیے ہیں؟ کہتا ہے یہ تو چھ سو کا ہے۔ تو انہوں نے کہا جی مجھےغلطی لگ گئی۔ تو انہوں نے کہا پھر... بتاؤ وہ کیسا آدمی تھا؟

اب وہ کیسے، دکاندار کے سامنے تو بہت سارے آتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا مجھے تو یاد نہیں ہے۔ بس وہ ایک سے بات کر رہا تھا تو وہ مدینہ منورہ کا بھی ذکر آیا تھا اس میں۔ تو حضرت تو تقریباً ہر سال حج پر جاتے تھے۔ تو وہاں سے مدینہ منورہ بھی جاتے تھے۔ تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔ خیر حلیہ وغیرہ اس سے معلوم کر لیا۔ تو مدینہ منورہ جب گئے تو لوگوں سے اس حلیے کا پوچھنے لگے، کچھ کوششوں سے وہ مل گئے۔ جب مل گئے تو انہوں نے کہا جی آپ ہمارے ہاں آئے تھے... دکان پر آپ نے چادر لی تھی؟ جی کہتے ہیں ہاں۔ کتنے کی لی تھی؟ جی ایک ہزار روپے کی۔ یہ چار سو درہم آپ لے لیں۔ کیوں؟ وہ چھ سو کی تھی، اس نے غلطی سے آپ کو ایک ہزار کی دی تھی۔ تو کہتے ہیں حضرت، بات بالکل صحیح ہے لیکن اب میں ہزار کی ہی لیتا ہوں۔ بس ٹھیک ہے جی، آپ نے اتنی مشقت کی ہے... تو میں اس کے چار سو درہم چھوڑتا ہوں۔ انہوں نے کہا نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا، یہ آپ کو لینے پڑیں گے۔ تو ان کو چار سو درہم دلوا دیے۔

یہ تجارت ہوتی ہے۔ تو پھر برکت بھی دیکھو۔ برکت کیا ہوتی ہے؟ مطلب یہ ہے کہ آپ کو اللہ پر بھروسہ ہو۔ اور اللہ پاک کی مرضی کے مطابق کام کریں۔ اسباب کو اختیار کریں لیکن اللہ کی مرضی کے مطابق۔ پھر فائدہ ہو گا۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کو اس عظیم عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ اور اس کے لیے ہمیں قبول فرما لے، اپنی رضا کے عمل کے لیے... اللہ پاک ہم سے راضی ہو جائے۔

دیکھو... تسلیم جو ہوتا ہے نا مقامِ تسلیم، وہ مقامِ توکل کے بعد ملتا ہے۔ جب توکل حاصل ہو جاتا ہے تو پھر انسان ساری چیزیں تسلیم کر لیتا ہے۔ ورنہ جب توکل میں کمزوری ہوتی ہے... کچھ نہ کچھ رہتا ہے... یہ تو۔ مجھے بتاؤ وہ دکاندار جو گڑبڑ کرتا ہے تو کس وجہ سے کرتا ہے؟ توکل کی کمی کی وجہ سے کرتا ہے نا، توکل کی کمی کی وجہ سے کرتا ہے... تو تسلیم نہیں ہے نا۔ جب وہ توکل پورا ہو جائے گا، تو پھر وہ عیب بھی بتائے گا، پھر صحیح قیمت بھی بتائے گا، پھر امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی طرح... کسی کو... کم کی چیز کو زیادہ پر نہیں دے گا۔

تو یہ ساری باتیں جو ہیں... تب ہوتی ہیں جب انسان کا توکل مکمل ہوتا ہے۔ تو اللہ پاک ہم سب کو بھی توکل کو حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلٰغُ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ، وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِيْنَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔


دیانت دار تاجر اور توکل کی طاقت: واقعات کی روشنی میں - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور