الحمد للہ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
عقل والوں کے لیے باتیں چل رہی ہیں جن میں ابھی مثالیں دی جا رہی ہیں۔ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى:
أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ
وَإِلَى السَّمَاءِ كَيْفَ رُفِعَتْ
وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ
وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ
فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ
نیچے فرمایا یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے عجیب پیدا کیے گئے ہیں؟ اور آسمان کی طرف کہ کیسا بلند کیا گیا ہے؟ اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح کھڑے کیے گئے ہیں؟ اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی ہے؟ تو تم نصیحت کرتے رہو کہ تم نصیحت کرنے والے ہی ہو۔
علامہ قتادہ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ "أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى الْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ" کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے جنت کی چیزوں کے اوصاف بیان فرمائے تو گمراہ لوگوں کو تعجب ہوا اور انہوں نے اس کی تکذیب کی، تو اس پر اللہ جَلَّ شَأْنُهُ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ یا جب "سُرُرٌ مَّرْفُوعَةٌ" نازل ہوئی تو لوگوں نے اعتراض کیا کہ ان بلند تختوں پر ہم کیسے بیٹھیں گے؟ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔
کہ مطلب یہاں پر جو ہو رہا ہے اس کو تم نہیں دیکھتے ہو؟ یعنی اونٹ پر غور کرنے کو کہا گیا "إِلَى الْإِبِلِ" کے ذریعے سے۔ جو اس اونٹ پر غور کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کو آسانی سے سمجھ لے گا۔ اونٹ کتنا عظیم الجثہ جانور ہے اور اس اونٹ سے عربوں کی مناسبت بھی بہت تھی، عموماً غریب سے غریب آدمی بھی اس کو پالتا تھا۔ تو کہا جائے کہ اونٹ بھی تو اونچا جانور ہے مگر اس پر چڑھنے کے لیے سیڑھی لگانی نہیں پڑتی۔ قدرت نے اس کے پاؤں میں دو گھٹنے دے دیے ہیں، یعنی ہر پاؤں میں دو گھٹنے بنا دیے ہیں، کہ اس کو تہہ کر کے بیٹھ جاتا ہے۔ اس وجہ سے اس پر چڑھنا اترنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس پر جنت کو بھی قیاس کر لو۔
اور "وَإِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ"، پانی کو زمین پر بہایا گیا تو ہلنے لگی۔ تو اس پر پہاڑوں کو کھڑا کر دیا گیا تاکہ وہ جم جائے، اس میں منافع بھی رکھ دیے۔ اصل میں یہ جو ہے نا مطلب Gravitational balance یہ مطلب... یعنی کسی بھی چیز کو آپ balance کرنا چاہیں تو اس میں یہ والی بات ہوتی ہے کہ کس طرح load... مطلب اس کے weight distribute کرتے ہیں اس کے اوپر، جب وہ moving body ہو۔ تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ زمین تو حرکت کر رہی ہے، دونوں طرح سے حرکت کر رہی ہے۔ تو اس کے اوپر یہ جو ہے نا مطلب پہاڑ رکھ دیے گئے تو اس سے جو ہے نا مطلب اس کی جو یعنی ڈولنے والی بات تھی وہ کافی کم ہو گئی۔ یعنی مطلب ایک باقاعدہ ایک طریقہ کار کے مطابق ہو گئی۔
ویسے زمین کی حرکتوں کے بارے میں کل بھی میں بات کر رہا تھا۔ یہ دو حرکتیں سمجھی جاتی ہیں حالانکہ پانچ ہیں۔ شاید اس سے بھی زیادہ ہوں لیکن سائنسدانوں نے ابھی تک پانچ دریافت کی ہیں۔ اور وہ یہ ہیں کہ ایک تو یہ سورج کے گرد ہے، دوسری محور کے گرد ہے۔ تیسری یہ کہ جو محور ہے، یہ ساڑھے تیئیس درجے پہ ہمیشہ نہیں رہے گا بلکہ یہ بھی vary کرتا ہے۔ یعنی مطلب بڑھتا ہے بڑھتا ہے، پھر کم ہوتا ہے کم ہوتا ہے مطلب ایک پورا ایک چکر لگاتا ہے۔ تو ایک تو یہ ہے، پھر یہ ہے کہ یہ جو محور ہے، یہ کسی خاص direction میں جھکا ہوا ہے، تو یہ direction ہمیشہ نہیں رہے گی بلکہ وہ direction چینج ہوتی ہے جیسے ایک قیف ہوتا ہے نا... مثال کے طور پر اس طرح ہے تو اس طرح، اس طرح، اس طرح، اس طرح مطلب یہ مطلب چینج ہو رہا ہے۔ پھر یہ جو چینج ہے، یہ بھی smooth نہیں ہے، بلکہ اس طرح زنجیر دار ہے۔ اور ہر زنجیر کی کڑی جو ہے نا انیس سال پر منحصر ہے، یعنی انیس سال میں ایک کڑی پوری کرتا ہے۔
تو یہ سب جو ہے نا مطلب اس کو مطلب balance کرنے کی وجہ سے ہوا ہے اور یہ پہاڑوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ کیونکہ پہاڑوں کا جو weight ہے وہ جو ہے نا مطلب یعنی وہ مختلف جگہوں پر... جیسے weighting function ہوتا ہے، تو مطلب یہ ہے کہ اس کو ہم اس کے ذریعے سے balance کر سکتے ہیں۔ تو یہ balance کیا گیا ہے۔
یہ پتا نہیں China کے اندر ایک پُل ہے جو بنایا گیا تو اس سے مطلب زمین کی حرکت میں فرق پڑ گیا۔ کافی لمبا پُل ہے۔ تو مطلب ظاہر ہے گویا کہ ان چیزوں کے ذریعے سے ان کی جو حرکات ہیں اس کے اوپر جو ہے نا فرق پڑتا ہے۔
"وَإِلَى الْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ" کہ زمین کو کس طرح بچھایا گیا؟ اب بچھایا گیا یہ بذات خود یعنی بڑی بات ہے، دیکھو نا یہ ایک اصل میں sphere ہے۔ اور sphere کو ہم سمجھتے ہیں کیا؟ Flat۔ وہ اتنا ایسا مطلب وہ ہے کہ فاصلہ اس کے اس کے حساب سے ہے کہ وہ جو ہے نا ہمیں flat نظر آتا ہے حالانکہ یہ sphere ہے۔
تو... بالکل مطلب ظاہر ہے یہ جو یعنی بہت ساری باتیں ہیں جو کہ اب کوئی اس کے لیے اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ لیکن بعض دفعہ آج کل بھی ایسے لوگ ہیں جو ان چیزوں کو نہیں مانتے، مثلاً کچھ لوگ کہتے ہیں نہیں، زمین چپٹی ہے، زمین گول نہیں ہے۔ ابھی تک ایسے لوگ ہیں، میری ان سے ڈسکشن بھی ہو چکی ہے۔ وہ دلائل باقاعدہ دیتے ہیں۔ تو ان سے میں نے کہا کہ مولانا تقی عثمانی صاحب کی جو کتاب ہے، "دنیا میرے آگے" اس کو جو ہے نا آپ ذرا پڑھیں۔ تو مولانا جو ہے نا چلے ہیں مطلب ظاہر ہے کراچی سے، کراچی سے Europe چلے ہیں۔ Europe سے America چلے ہیں۔ America سے West coast چلے ہیں۔ West coast سے غالباً شاید Australia آئے ہیں۔ Australia سے پھر Hong Kong آئے ہیں، Hong Kong سے پھر کراچی آئے ہیں۔ اور ان کا یہ سارا سفر West میں ہے، یعنی West کی طرف جا رہے ہیں مسلسل West کی طرف جا رہے ہیں۔ تو اگر یہ زمین گول نہ ہوتی تو مسلسل آپ West کی طرف جائیں پھر ادھر واپس آ سکتے ہیں؟ پھر کیسے واپس آئیں گے؟
تو اب یہ جو ہے نا مطلب یہ بہت بڑا ثبوت ہے کہ اس کو جو ہے نا مطلب یعنی وہ اپنے سفر باقاعدہ لکھتا ہے کہ وہ جو ہے نا مطلب اس طرح میں فلاں جگہ سے گیا پھر فلاں جگہ گیا پھر فلاں جگہ گیا۔ تو پھر جو ہے نا مطلب ظاہر ہے وہ اس میں آگیا۔ تو یہ ایسی بات ہے کہ مطلب آج کل اس کی کوئی بات نہیں... پچیس ہزار میل ہی سفر طے کرنا ہے نا، یہ سفر طے کر لو آپ کو خود ہی اندازہ ہو جائے گا کہ آپ جہاں سے اڑے ہیں وہیں سے وہیں واپس آ جائیں گے۔ تو یہ اللہ پاک نے زمین کو کیسے بچھایا ہوا ہے؟ دیکھو نا اس پہ کیسے عجیب بات ہے، ہے کیسا اور نظر کیسا آتا ہے؟
"فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ" کہ ان چیزوں پر غور کرو، آپ ﷺ کو تسلی ہے کہ آپ ﷺ کے ذمے تبلیغ و نصیحت کرنا ہے، ان کا حساب کتاب اور جزا و سزا سب ہمارا کام ہے۔ یہ اصل میں ایک بات اور بھی ہے۔ بعض حضرات کہتے ہیں نا کہ ہماری آواز بہت سارے لوگوں تک نہیں پہنچتی، تو ہمیں ذرا TikTok کے طور پر کچھ کرنا چاہیے۔ مطلب وہ جیسے مطلب ہوتے ہیں نا۔ تو آپ ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ اس کی پروا نہ کریں کہ لوگ مانتے ہیں یا نہیں مانتے، سنتے ہیں نہیں سنتے، آپ اپنا کام کیے جائیں۔ تو ہمارا کام ہے سنت کے مطابق کام کرنا۔ یعنی جو usual طریقے ہیں اس کے مطابق جو ہے نا مطلب کام کرنا۔ اس کے بعد اگر طلب کسی میں ہو، تو وہ خود بخود آ جائیں گے۔
اور جب طلب نہیں ہو تو بالکل مجھے بتاؤ اس پڑوس میں کتنے لوگ آتے ہیں؟ ان کو کیا پتا نہیں ہے؟ سب کچھ کا پتا ہے نا۔ لیکن دور دور سے لوگ آتے ہیں، پڑوس کے لوگ نہیں آتے۔ بلکہ بعض رشتہ دار مطلب وہ نہیں آتے، تو کیا کیا جائے؟ ان کو کون سا TikTok بتا دیا جائے؟ ظاہر ہے مطلب ان کو بتانے کا کوئی اور طریقہ ہے؟ وہ تو صرف وہی طریقہ ہے نا کہ وہ کہہ دیں جی ہمارے لیے بس ہماری مرضی کے کام کرو، تو پھر ہم آئیں گے۔ تو پھر آپ ﷺ نے فرمایا... اللہ پاک نے فرمایا کہ "فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ"۔ بس آپ بس یہ جو ہے نا وہ آپ کے ذمے تبلیغ واجب ہے، تبلیغ و نصیحت کرنا۔ اس کے بعد کوئی مانتا ہے نہیں مانتا، کوئی آتا ہے نہیں سنتا، یہ بات تیرے ذمے نہیں ہے۔
یہ بات جو ہے نا مطلب ہمارے لیے بات ہے کہ الحمد للہ اللہ کا شکر ہے جو طالبین ہیں ان کو کسی نہ کسی طریقے سے اطلاع ہو ہی جاتی ہے۔ پھر صرف ہم نہیں ہیں، دنیا میں بہت سارے لوگ دین کا کام کر رہے ہیں۔ اب سارے لوگوں کا ہماری طرف آنا بھی ضروری نہیں ہے۔ مطلب جہاں جو جن کو فائدہ ہوتا ہو، مطلب ظاہر ہے وہاں چلے جائیں۔ ان کو وہاں فائدہ ہوتا ہے تو بڑی اچھی بات ہے۔ کیونکہ یہ تو مشترکہ کام ہے مطلب یہ تو سب جگہوں پہ مطلب جو جو بھی اللہ کے لیے بات کرتا ہے، تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ ان کا کام ہے کہ ان کے ساتھ رابطہ کریں۔ فائدہ اٹھائیں۔
تو اس طریقے سے ان شاء اللہ العزیز بات وہ سب تک پہنچ جائے گی۔ اور اس وقت میں آپ کو کیا بتاؤں؟ اب یہ موبائل ہیں، اس کے فائدے ہیں لیکن اس کے نقصانات کے مقابلے میں فائدے اونٹ کے منہ میں زیرہ ہیں۔ مطلب اتنے کم فائدے ہیں یعنی اس کے نقصانات کے مقابلے میں کہ آدمی حیران ہو جاتا ہے۔ اب ہم لوگ اس میں بتی کے پیچھے پڑ لگ جائیں نا کہ جیسے لوگ کرتے ہیں اس طرح ہم بھی کریں، یقین جانیے یہ بھی بڑے حوصلے کی بات ہے کہ ہم کہیں بھئی ہم ظاہر ہو جائیں۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
مولانا زکریا صاحب رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ سے ایک صاحب نے جو ان کے class fellow تھے شاید مدرسے کے، وہ بڑے مشہور آدمی تھے۔ تو حضرت کو ایک دفعہ ملاقات ہوئی تو حضرت سے کہا کہ حضرت میں تو بس چاہتا ہوں کہ میری آواز پوری دنیا کے آخری کونے تک پہنچ جائے مطلب میں جو بات کر رہا ہوں، یعنی ان کو تبلیغ کا یا اس کا مطلب پورا وہ تھا نا۔ اللَّهُ أَكْبَرُ۔ حضرت نے عجیب جواب دیا۔ فرمایا میری تو خواہش ہے کہ جب میں مر جاؤں تو کسی کو پتا بھی نہ ہو کہ زکریا بھی دنیا میں تھا۔ یہ کون کہہ رہا ہے؟ مولانا زکریا صاحب رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ۔ مجھے تو مطلب ایک یہ کہ کوئی کسی کو پتا بھی نہ لگے کہ زکریا بھی دنیا میں تھا۔
اب ذرا نتیجے کو دیکھیں۔ اس عالم کے میں مقا... بارے میں بتا رہا ہوں لیکن اس کا نام مجھے نہیں معلوم۔ اور مولانا زکریا صاحب رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ کو اللہ پاک نے ایسی چیز دے دی کہ ایک دفعہ ایک صاحب نے خط لکھا۔ اس کا address نہیں معلوم تھا اور سعودی عرب میں address یعنی post box نمبر معلوم نہ ہو تو خط نہیں پہنچ سکتا۔ وہاں post box نمبر کے حساب سے جاتا ہے۔ اس کو post box نمبر معلوم نہیں تھا صرف اس پہ لکھا: شیخ الحدیث، اَلْمَدِينَةُ الْمُنَوَّرَةُ۔ اور وہ حضرت کو پہنچ گیا۔ اب بتاؤ۔ کہ وہاں کے جو ڈاک کے لوگ تھے وہ بھی شیخ الحدیث کس کو سمجھ رہے تھے؟ ان کو سمجھ رہے تھے۔
تو یہ پھر اللہ پاک کے کام ہیں کہ اللہ پاک آپ سے کتنا کام لیتے ہیں اور آپ کو کہاں تک آپ کی آواز پہنچاتے ہیں اور کیا مطلب کرتے ہیں لوگوں کو متوجہ کرتے ہیں۔ یہ مطلب ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ ہمارے پاس بھی بعض ایسے لوگ اتنے دور دراز سے مطلب وہ آ جاتے ہیں، یہ China سے اور پتا نہیں France سے اور بعض دفعہ مطلب وہ جو ہے نا Norway سے اور پتا نہیں یعنی کیا وہ کچھ contact کا پتا بھی نہیں ہوتا لیکن بس وہ ان کو کسی طریقے سے معلوم ہو جاتا ہے اور پہنچ جاتے ہیں۔ اللہ پاک نے جتنا نصیب ان کا لکھا ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ ان کو دے دیتے ہیں۔
بس سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اللہ پاک ہمیں صحیح طریقے سے دین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور نہ صرف اپنی طرف نہ رکھیں بلکہ جتنوں تک ہم پہنچا سکتے ہیں، "وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ"، مطلب یہ ہے کہ ان تک ہم پہنچا دیں، جتنا ہو سکتا ہے۔ اور سنت طریقے پر جتنا ہو سکتا ہے۔ اور پھر یہ ہے کہ بس اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرمائے۔ اور اس پر راضی ہو جائے اور ایسے نہ رکھے کہ پھر ناراض ہو۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: کائنات میں اللہ کی نشانیاں اور دعوتِ دین کا مسنون طریقہ
متبادل عنوان: قرآن، سائنس اور مبلغ کی ذمہ داری (حضرت مولانا زکریاؒ کے واقعے کی روشنی میں)
اہم موضوعات:
سورۃ الغاشیہ کی آیات کی تفسیر اور کفار کے اعتراضات کا جواب
اونٹ کی تخلیق اور پہاڑوں کے توازن (Gravitational balance) میں اللہ کی قدرت
زمین کی حرکات (پانچ قسم کی گردش) اور اس کے گول (Sphere) ہونے کے سائنسی و جغرافیائی دلائل (مفتی تقی عثمانی صاحب کے عالمی سفر کا حوالہ)
دعوت و تبلیغ میں روایتی اور سنت طریقوں کی اہمیت بمقابلہ جدید ذرائع (TikTok وغیرہ) کا اندھا دھند استعمال
اخلاص کی برکت: حضرت مولانا زکریا رحمۃ اللہ علیہ کی گمنامی کی خواہش اور عالمگیر مقبولیت کا واقعہ
مبلغ کی ذمہ داری صرف نصیحت کرنا ہے، ہدایت دینا اللہ کا کام ہے
خلاصہ:
اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے سورۃ الغاشیہ کی آیات کی روشنی میں اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ پر تفصیلی گفتگو فرمائی ہے۔ آپ نے اونٹ کی بے مثال تخلیق، زمین پر پہاڑوں کے وزن اور توازن، اور زمین کی مختلف حرکات کو سائنسی زاویے سے بیان کیا۔ نیز، زمین کے چپٹا یا گول ہونے کی بحث پر مفتی تقی عثمانی صاحب کے مسلسل مغربی سفر کی مثال دے کر ثابت کیا کہ زمین گول ہے۔ بیان کے دوسرے حصے میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے دعوت و تبلیغ کے حوالے سے مبلغین کو نصیحت کی کہ ان کا کام صرف سنت کے مطابق حق بات پہنچانا ہے؛ نتائج کی فکر اور سستی شہرت (جیسے TikTok وغیرہ کا غیر ضروری استعمال) کے پیچھے بھاگنا درست نہیں۔ آخر میں آپ نے حضرت مولانا زکریا رحمۃ اللہ علیہ کی بے لوثی کا ایمان افروز واقعہ سنایا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جب انسان میں اخلاص ہو تو اللہ تعالیٰ خود اس کا کام اور نام دنیا کے کونے کونے تک پہنچا دیتے ہیں۔ بیان کا اختتام قبولیت کی خوبصورت دعا پر کیا گیا۔