الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ، فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
اللہ ہی پر... توکل کرنا چاہیے۔
اللہ جل شانہ کا ارشاد مبارک ہے: وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ اور اس خدائے زندہ پر بھروسہ رکھو جو کبھی نہیں مرے گا۔ وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ اور اللہ ہی پر مومنوں کا بھروسہ کرنا چاہیے۔
یہ سورہ فرقان اور سورہ ابراہیم کی آیت مبارکہ کے حصے ہیں۔ اس میں ترغیب دی جا رہی ہے کہ آدمی اعتماد کرے اس ذات پر جو ہمیشہ زندہ رہے گا، کبھی اس کو موت نہیں آئے گی۔
حی... اس کو کہتے ہیں جو زندہ رہے بغیر روح کے، تمام جاندار روح کے ساتھ زندہ ہیں۔ ان کی زندگی کسی بھی وقت ختم ہو سکتی ہے۔ اگر اللہ کے سوا کسی اور پر اعتماد کیا تو وہ کسی وقت بھی بے یارومددگار چھوڑ دے گا یعنی چلا جائے گا دنیا سے۔ مگر اللہ جل شانہ کی حیات پر کسی کو... کبھی بھی موت طاری ہونے کا وہم بھی نہیں ہو سکتا، تو ایسی ذات پر اعتماد کرنے والا کبھی بھی بے یارومددگار نہیں ہو سکتا۔
یہ آرمی میں... اکثر یہ جو ہوتے ہیں مطلب... industries یعنی workshops ہوتے ہیں یا اس طرح مطلب یہ ہوتے ہیں، تو اس میں جو engineer ہوتے ہیں وہ دو سال تین سال کے لیے آتے ہیں۔ اس کے بعد چلے جاتے ہیں۔ تو آدمی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں فلاں آدمی کے ساتھ ہوں تو محفوظ ہوں۔ کیوں؟ اس کو system کے ساتھ loyal ہونا چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جا... دو تین سال کے بعد چلے جاتے ہیں، یہ تو ادھر رہتا ہے۔ foreman ہے یا جو بھی ہے، اور جو ہے مطلب وہ تو officer تو چلا جاتا ہے۔ تو ایسی صورت میں پھر کیا ہوگا؟ اب اگر ایک کو خوش کرنے کے لیے اس نے کوششیں کی ہیں اور system کے ساتھ loyal نہیں ہے، تو تین سال کے بعد وہ چلا جائے گا پھر اس کے بعد کوئی اور آ جائے گا۔ تو اور کے ساتھ ان کا کیا ہوگا؟ تو مطلب یہ ہے کہ...
اس طرح ہم دنیا میں اگر دیکھتے ہیں تو اگر ہم دنیا کی چیزوں پر بھروسہ کریں۔ تو وہ تو فانی ہیں۔ تو اگر ہم نے ان کا دل جیت بھی لیا تو کیا ہو گیا؟ وہ چلا جائے گا۔ جبکہ اللہ جل شانہ کی ذات باقی ہے۔ اور اس کے لیے جو چیز ہوگی تو... تو حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کا ایک ملفوظ ہے۔ فرماتے ہیں کہ... جو کام باقی کے لیے کیا جائے وہ باقی رہتا ہے۔ اور جو کام فانی کے لیے کیا جائے وہ فانی ہو جاتا ہے۔ ماشاءاللہ بہت ہی balance قسم کا ملفوظ ہے۔
اس آیت میں جو دوسری آیت ہے اس میں انبیاء کرام سے خطاب ہے اپنی قوم کو... قَالَتْ لَهُمْ رُسُلُهُمْ إِن نَّحْنُ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ تو آیت کا مطلب ہوا کہ ایمان... انبیاء... انبیاء نے اپنے ایمان والے ساتھیوں کو ہدایت فرمائی کہ کافروں کے مقابلے میں... کے وقت اللہ پر اعتماد اور بھروسہ کرنا چاہیے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ پر بھروسہ کرنا تقاضائے ایمان بھی ہے۔ جب مومن کا یہ پختہ عقیدہ ہو جاتا ہے کہ ہر خیر و شر پیدا کرنے والا اور نفع ضرر پہنچانے والا اللہ جل شانہ کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔ تو اس صورت میں وہ لازمی طور پر اپنے تمام معاملات اللہ کے سپرد کر دیتا ہے۔
ہمیں بھی تمام کام اللہ پاک کے سپرد کرنے چاہیے اسی کو تفویض کہتے ہیں اور توکل کہتے ہیں۔ تو... وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ جو اللہ پاک پر بھروسہ کرتا ہے اللہ اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالی ہم سب کو... ایسا قلب و جگر نصیب فرما دے... جس سے ہم اس پر عمل کر سکیں۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: توکل علی اللہ: فانی دنیا کے بجائے حیّ و قیوم رب پر بھروسہمتبادل عنوان: توکل کی حقیقت، تقاضائے ایمان اور تفویضِ معاملات
اہم موضوعات:
اللہ تعالیٰ پر توکل کی اہمیت اور قرآنی احکامات کی روشنی میں اس کی ترغیب۔
'حیّ' (ہمیشہ زندہ رہنے والی ذات) کا حقیقی مفہوم۔
دنیاوی نظام (System) اور افسران کی مثال سے فانی سہاروں کی حقیقت کی وضاحت۔
حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کا سنہری فرمان: باقی اور فانی کاموں کا فرق۔
انبیاء کرام کی تعلیمات کی روشنی میں توکل کا تقاضائے ایمان ہونا۔
نفع و نقصان کا مالک صرف اللہ کو مان کر معاملات اسی کے سپرد کرنا (تفویض)۔
خلاصہ:اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے اللہ تعالیٰ پر توکل کی اہمیت کو نہایت خوبصورت اور عام فہم انداز میں بیان کیا ہے۔ آپ نے سورہ فرقان اور سورہ ابراہیم کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ مومن کو ہمیشہ اس "حیّ" (زندہ) ذات پر بھروسہ کرنا چاہیے جسے کبھی موت نہیں۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے دنیاوی محکموں (جیسے ورکشاپس) کے افسران کی عارضی تعیناتی کی مثال دے کر سمجھایا کہ انسانوں اور فانی چیزوں پر بھروسہ کرنے والا بالآخر بے یار و مددگار رہ جاتا ہے، لہٰذا انسان کو وقتی سہاروں کے بجائے ہمیشہ قائم رہنے والے نظامِ الٰہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ اسی مناسبت سے آپ نے حضرت خواجہ باقی باللہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کیا کہ جو کام باقی (اللہ) کے لیے کیا جائے وہ باقی رہتا ہے اور جو فانی کے لیے کیا جائے وہ مٹ جاتا ہے۔ آخر میں آپ نے واضح کیا کہ نفع و نقصان کا حقیقی مالک صرف اللہ ہے، لہٰذا اپنے تمام معاملات اسی کے سپرد کر دینا (تفویض) ہی سچے ایمان کا تقاضا ہے۔