حصولِ جنت: اعمال کا کردار اور اللہ کی رحمت

درس نمبر 128، جلد نمبر 1، باب 8 : استقامت کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

•        نجات اور جنت میں داخلے کے لیے محض اعمال کا کافی نہ ہونا، بلکہ اللہ کی رحمت کا لازمی ہونا۔

•        اہل السنۃ والجماعۃ کا عقیدہ کہ دخولِ جنت صرف اللہ کے فضل و کرم سے ہوگا۔

•        قرآنی آیات اور احادیث کی تطبیق: اعمال دخولِ جنت کا ظاہری سبب ہیں مگر اصل بنیاد اللہ کا فضل اور ہدایت ہے۔

•        جنت میں درجات (منازلِ عالیہ) کا تعین انسان کے اعمال کی بنیاد پر ہونا۔

•        اعمال کی توفیق ملنا بھی اللہ ہی کے فضل کا نتیجہ ہے، لہٰذا انسان کو اپنے اعمال پر فخر کرنے کے بجائے نظر ہمیشہ اللہ کی رحمت پر رکھنی چاہیے۔

اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ:

فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

معزز خواتین و حضرات! آج کا عنوان ہے،

اللہ کی رحمت ہی پر جنت میں دخول ممکن ہے

(86) وَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه: قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَارِبُوا وَسَدِّدُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّهُ لَنْ يَنْجُوَ أَحَدٌ مِنْكُمْ بِعَمَلِهِ" قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: "وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللهُ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَفَضْلٍ" (رواه مسلم)

وَ"الْمُقَارَبَةُ":الْقَصْدُالَّذِي لَا غُلُوَّ فِيهِ وَلَا تَقْصِيرَ. وَ"السَّدَادُ": الِاسْتِقَامَةُ وَ الْإِصَابَةُ، وَ "يَتَغَمَّدَنِيْ" يُلْبِسُنِي وَ يَسْتُرُنِي. قَالَ الْعُلَمَاءُ: مَعْنَى الْإِسْتِقَامَةِ: لُزُوْمُ طَاعَةِ اللهِ تَعَالَى، قَالُوْا: وَهِيَ مِنْ جَوَامِعِ الْكَلِمِ وَهِيَ نِظَامُ الْأُمُورِ، وَ بِاللهِ التَّوْفِيقِ.

”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام پر سیدھے رہو اور مضبوطی اختیار کرو یاد رکھو! تم میں سے کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دے سکے گا، صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ کو بھی نہیں؟ فرمایا مجھے بھی نہیں مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو اپنی رحمت اور فضل کے ساتھ ڈھانپ لے۔“

آدمی اللہ ہی کی رحمت سے جنت میں داخل ہوگا

إِنَّهُ لَنْ يَنْجُوَ أَحَدٌ مِنْكُمْ بِعَمَلِهِ: تم میں سے کسی کو اس کا عمل نجات نہیں دے گا۔

اہل سنت والجماعت کا مذہب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے عمل کے بل بوتے پر جنت میں داخل نہیں ہوگا جو بھی جنت میں داخل ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے داخل ہوگا۔ یہ حدیث شریف اہل سنت والجماعت کے مذہب کی دلیل ہے کہ اعمال کی وجہ سے آدمی جنت کا مستحق نہیں ہوگا، جنت میں دخول صرف اور صرف اللہ جل شانہ کے فضل اور رحمت سے ہی ہوگا۔

سوال: قرآن میں آتا ہے کہ "اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ" کہ قیامت میں کہا جائیگا جنت میں داخل ہو جاؤ! اپنے اعمال کے سبب۔

اس آیت سے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے اعمال کے بل بوتے پر جنت میں داخل ہوگا۔

اس سوال کے کئی جوابات محدثین نے دیئے ہیں ان میں سے ایک جواب یہ ہے کہ اعمال دخول جنت کے لئے سبب بن رہے ہیں مگر اس سے پہلے ایمان، ہدایت، اخلاص وغیرہ یہ سب تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل ہی سے ہوا ہے تو گویا کہ دخول جنت بھی اسی رحمت اور فضل سے ہوا اگر اس سے پہلے یہ فضل نہ ہوتا تو ان سب چیزوں کی توفیق کیسے ملتی۔

دوسرا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ دخول تو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی رحمت وفضل سے ہوگا مگر اس کے منازلِ عالیہ اعمال کے اعتبار سے ہوگا۔

اصل میں انسان ارادہ کرتا ہے، اللہ اس کے ارادے کو جب قبول فرماتے ہیں تو اس کو توفیق دیتے ہیں۔ یہ بات ہوتی ہے۔ تو وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا۔ جو مجھ تک پہنچنے کی کوشش اور محنت کرتے ہیں، ان کو اللہ پاک فرماتے ہیں ہم ضرور بالضرور ہدایت کے راستے سجھائیں گے۔

اب ان میں سے کون سا راستہ اللہ پاک سجھاتا ہے وہ تو اس کے لیے اس کا وہ ہے۔ تو اس میں جو سب سے بڑا دروازہ ہے جس کے بعد باقی دروازے ہیں، یعنی جیسے ایمان نہ ہو، تو عمل کوئی فائدہ نہیں پہنچاتا۔ تو اس طرح اگر اللہ کا فضل نہ ہو تو کوئی عمل فائدہ نہیں پہنچاتا۔

تو اصل میں تو اللہ کا فضل ہے، پھر اس کے بعد انسان کا عمل ہے۔ انسان اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس چیز کو حاصل کر لیتا ہے کہ اعمال کی توفیق ہو جاتی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ مرتب فرماتے ہیں۔ لیکن اعمال کی توفیق اگر ہو اور اس کو انسان اپنا کمال سمجھے یہی اس نے کام اپنا خراب کر دیا کہ اعمال کرنے ضرور ہیں، لیکن اس پہ نظر نہیں رکھنی، نظر اللہ تعالیٰ کی رحمت پر رکھنی ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل پر رکھنی ہے۔

تو یہ چیزیں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ ہمیں اعمال ضرور کرنے چاہئیں کیونکہ حکم ہے اللہ تعالیٰ کا۔ لیکن فیصلہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوگا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کے فضل کو طلب کرنا چاہیے، گویا سبب اور مسبب کی رضا دونوں کو اختیار کرنا چاہیے۔ بس یہی اصل میں اس کا ان شاء اللہ نچوڑ ہے۔

اللہ جل شانہٗ ہم سب کو صحیح سمجھ عطا فرما دے۔

وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.