الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
باب الاستقامۃ
استقامت کا بیان،
استقامت کی تاکید کا حکم۔
قَالَ اللهُ تَعَالٰى:
﴿فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ﴾
ارشاد خداوندی ہے: "(اے پیغمبر ﷺ) جیسا تم کو حکم ہوتا ہے اس پر قائم رہو۔"
لفظ”استقامت“ ایک چھوٹا سا لفظ ہے مگر اس کا مفہوم ایک عظیم الشان وسعت رکھتا ہے. استقامت، باب استفعال سے ہے، یعنی سیدھا کھڑا ہونا اس طرح سے کہ ذرا سا بھی جھکاؤ نہ ہو۔
ظاہر ہے کہ یہ کام آسان نہیں کسی چیز کو کوئی ماہر انجینئر اس طرح کھڑا کر دے کہ ہر طرف زاویہ قائمہ ہی رہے کسی طرف ادنیٰ میلان نہ ہو مگر وہ قائم رہے اور ہر حال میں وہ بالکل سیدھی رہے یہ بہت ہی دشوار ہے مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے عقائد، عبادات، معاملات، اخلاق، معاشرت، کسب معاش اور اس کی آمد و صرف کے تمام ابواب میں اللہ جل شانہ کی قائم کردہ حدود کے اندر اس کے بتلائے ہوئے راستہ پر سیدھا اس طور سے چلتا رہے کہ کسی باب کے کسی عمل اور کسی مال میں کسی ایک طرف جھکاؤ یا کمی زیادتی نہ ہونے پائے ورنہ استقامت نہیں رہے گی۔ اسی وجہ سے ابن عباسؓ سے نقل کیا گیا ہے کہ نبوت کی مدت میں اس آیت سے زیادہ سخت کوئی آیت آپ ﷺ پر نازل نہیں ہوئی۔ اسی وجہ سے ایک موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ سورۃ ہود نے مجھے بوڑھا کر دیا، اس سے مراد پوری سورۃ نہیں بلکہ صرف یہی ایک آیت ہے۔
ایک موقع پر سفیان بن عبداللہ ثقفیؓ نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے اسلام کے کوئی ایسی جامع بات بتا دیں کہ مجھے پھر کچھ پوچھنے کی ضرورت نہ رہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: "قُلْ آمَنْتُ بِاللهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ" یعنی اللہ پر ایمان لا اور پھر اس پر استقامت حاصل کرو۔
تو استقامت جو ہے، یہ بہت بڑی صلاحیت ہے اگر کسی کو نصیب ہو جائے، کہ اپنے قول اور فعل، تمام کاموں میں بالکل سیدھے راستے پر رہے جیسا کہ مطلوب ہو۔ اس سے آگے پیچھے ذرا برابر بھی نہ ہو۔
ہم لوگ واقعتاً اپنی engineering میں بھی یہ چیز ہم دیکھتے تھے کہ یہ جو deviation ہوتی تھی، یعنی صحیح result سے، اس کو کم سے کم کرنے کی کوشش میں بعض دفعہ بہت مشکل پڑتی تھی۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے کہ کسی چیز کو اتنا کاٹا جائے کہ نہ کم کاٹی جائے نہ زیادہ کاٹی جائے۔ یہ واقعتاً ایک مشکل امر ہے۔
اس طرح بالکل سیدھا راستہ۔ یہاں پر میں گیا تھا london میں greenwich، تو ان کا جو telescope لگا ہوا تھا بہت بڑا، تو اس میں انہوں نے ایک باریک لائن، یعنی اس کے ذریعے سے دکھاتے تھے، وہ باریک لائن جو تھی وہ اس سے دائیں طرف west تھا اور بائیں طرف east۔ مطلب یہ ہے کہ گویا کہ یوں سمجھ لیجیے کہ وہ longitude zero والی لائن تھی۔ تو اس کو باریک سے باریک وہ رکھنے کی وہ کوشش کرتے ہیں کہ اس کی اپنی dimension کوئی نہ ہو۔ تو چونکہ ایسا تو کوئی ہو نہیں سکتا، ضرور dimension کچھ نہ کچھ تو ہوگا۔ تو اب یہ جو سیدھا راستہ ہے، وہ مطلب اس کی جیسی بات ہے۔
تو پیغمبر جو ہوتا ہے وہ تو بالکل سیدھے راستے پر ہوتا ہے، اور پیغمبر کے پیچھے چلنے والے جو ہوتے ہیں، وہ بھی بالکل exact اگر اس کے پیچھے چلنے والے ہوں، جیسے انہوں نے کیا ہو، وہ بھی سیدھے راستے پر ہوتے ہیں، لیکن ظاہر ہے اس حد تک تو نہیں ہو سکتے۔ تو پھر ان کا ایک مقام ہوتا ہے اس کے لحاظ سے۔ جیسے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں، تو صحابہ کرام آپ ﷺ کے بالکل پیچھے تھے، لیکن تھوڑی بہت جو deviation تھی، اس کے بعد پھر باقی امت کے اولیاء ہیں، ان کے لیے وہ کچھ زیادہ deviation، کیونکہ ان جیسے تو نہیں ہو سکتے۔ اور پھر اس کے بعد اور، پھر اس کے بعد اور۔
تو مطلب یہ ہے کہ حکم تو سیدھے راستے پر چلنے کا ہے:
﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ﴾
اور یہ سیدھا راستہ معلوم کیسے ہوگا؟
﴿صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ﴾
یعنی راستہ ان لوگوں کا جن پر تو نے انعام کیا ہے۔ اور انعام کن پر ہوا ہے؟ انبیاء پر، صدیقین پر، شہداء پر، صالحین پر۔
تو انبیاء کرام کا راستہ اپنانا ہے۔ آپ ﷺ کا طریقہ موجود ہے، سنت موجود ہے، کتابوں میں۔ اور ظاہر ہے اسی کے مطابق ہم نے اپنا طریقہ رکھنا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ صدیقین جو بہت قریب تھے وہ بہت تھوڑے ہیں، شہداء کا پتہ اس وقت چلتا ہے جس وقت فوت ہو جاتے ہیں، دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ تو استقامت کا جو نمونہ ہمارے پاس رہتا ہے وہ صالحین ہیں، یعنی اس وقت موجود۔ کہ وہ صالحین جو ہدایت پر ہیں، یعنی وہ جو آپ ﷺ کے طریقے پر ہیں۔ تو ان کو دیکھ دیکھ کر پھر ہم عملی طور پر سیکھتے ہیں۔
اسی لیے کہتے ہیں کہ:
﴿وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾
اور صالحین کے ساتھ ہونا، یہ فرمایا گیا ہے کہ، یعنی حضرت تھانوی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ میں فتویٰ دیتا ہوں کہ اس وقت صالحین کی صحبت فرضِ عین ہے۔ اور یہ وجہ بتائی، فرمایا کہ میں اس لیے کہتا ہوں کہ صالحین کی صحبت کے بغیر ایمان کا بچنا بھی بہت مشکل ہے، ایمان کا بچنا بہت مشکل ہے۔ تو پھر تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ جو باقی اعمال ہیں۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اگر استقامت حاصل کرنی ہے، تو ان اہلِ استقامت جو اس وقت ہو سکتے ہیں، اس کے مطابق زندگی گزارنے والوں کے ساتھ ساتھ رہیں۔ ان کے ساتھ تعلق رکھیں۔ پھر ہمیں استقامت نصیب ہو سکتی ہے اس حال میں جتنا ہو سکتا ہے۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کو سیدھے راستے پہ قائم رکھے اور اس کے لیے جو یہ دعا ہمیں اللہ تعالیٰ نے سکھائی ہے، یعنی یہ دعا ہم سورۃ الفاتحہ میں جو کرتے ہیں:
﴿اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ۔ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّٓالِّيْنَ﴾
یہ دعا ہر نماز میں، ہر رکعت میں ہم کرتے ہیں، لیکن اس کی طرف توجہ بہت کم لوگوں کی ہوتی ہے کہ ہم کیا دعا کر رہے ہیں۔ تو اگر اس کی طرف ہم متوجہ ہو جایا کریں کہ ہم کیا مانگ رہے ہیں اللہ پاک سے، اس وقت سراپا سوالی بن جائیں، تو امید کرتے ہیں ان شاء اللہ کہ ہماری نماز کے ساتھ ساتھ ہم صراطِ مستقیم پر ہوتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔