مسنون دعاؤں کی اہمیت اور گھر سے نکلنے کی دعا کے عملی پہلو

درس نمبر 121، جلد نمبر 1، باب 7 : یقین اور توکل کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
جامع مسجد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ - نزد گاڑہ، خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، جہانگیرہ
  • گھر سے نکلتے وقت کی مسنون دعا اور اس کا بامحاورہ ترجمہ۔
  • انبیاء علیہم السلام کا انسان ہونا اور فرشتوں کی بجائے انسانوں کو نبی بنائے جانے کی حکمت۔
  • روزمرہ زندگی کے معمولات (کھانا، سونا، لباس، بازار) میں نبی کریم ﷺ کا عملی نمونہ۔
  • دعا کے الفاظ (گمراہی، پھسلنے، ظلم اور جہالت) کی دورِ حاضر کے مطابق عملی تشریح (مثلاً گاڑی پارکنگ اور accident)۔
  • عربوں کی مسنون دعاؤں کی عادت کی تعریف اور ان کے بعض غیر مسنون ثقافتی پہلوؤں (جیسے لباس اور رومال) کی نشاندہی۔
  • کسی مخصوص قوم یا culture کی اندھی تقلید کے بجائے خالصتاً قرآن و سنت کے طریقے کو اپنانے کی تلقین۔

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ۔ الحدیث التاسع: عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أُمِّ سَلَمَةَ، وَاسْمُهَا هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ حُذَيْفَةَ الْمَخْزُومِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ قَالَ: "بِسْمِ اللَّهِ، تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أُضَلَّ، أَوْ أَزِلَّ أَوْ أُزَلَّ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ." حَدِيثٌ صَحِيحٌ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَغَيْرُهُمَا بِأَسَانِيدَ صَحِيحَةٍ. قَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهَذَا لَفْظُ أَبِي دَاوُدَ.

حضرت ام سلمہ ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب اپنے گھر سے نکلتے تو فرماتے: اللہ کے نام کے ساتھ نکلا ہوں، اللہ پر بھروسہ ہے۔ اے اللہ میں تیری اس سے پناہ چاہتا ہوں کہ گمراہ ہو جاؤں، یا گمراہ کیا جاؤں، یا پھسل جاؤں، یا پھسلایا جاؤں، یا ظلم کروں، یا مجھ پر ظلم کیا جائے، یا میں کسی پر جہالت کروں، یا مجھ سے جہالت کی جائے۔ یہ روایت صحیح ہے، اسے ابو داؤد اور ترمذی وغیرہما رحمہم اللہ نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے اور یہ الفاظ ابو داؤد کے ہیں۔

ایک بات ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ فرشتے کو پیغمبر نہیں بنایا گیا۔ انسان کو انسانوں اور جنات کے لیے پیغمبر بنایا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ فرشتوں کے ساتھ نفس نہیں ہوا کرتا۔ اس وجہ سے وہ صحیح طور پر نفس والے لوگوں کا ادراک نہیں کر سکتے۔ لہذا ان کی تربیت بھی نہیں کر سکتے، ان کو سمجھا بھی نہیں سکتے۔

تو نبی جو ہوتا ہے وہ لوگوں میں ہوتا ہے۔ اور لوگوں کے تمام حالات سے آگاہ ہوتے ہیں۔ اور جو چیزیں عام لوگ کرتے ہیں، نبی بھی وہی کرتے ہیں۔ مثلاً کھانا کھاتے ہیں، سوتے ہیں، بازاروں میں جانا ہوتا ہے، لوگوں کے ساتھ ملنا ہوتا ہے، کپڑے بدلتے ہیں، بیت الخلاء جاتے ہیں۔ یعنی گویا کہ روزمرہ کے جتنے کام ہیں وہ سارے نبی کرتے ہیں۔ اب اس وقت چونکہ وہ نمونہ بنا کر بھیجے گئے ہوتے ہیں، ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾، تو چونکہ وہ نمونہ بنا کر بھیجے گئے ہوتے ہیں، لہذا وہ ہر کام میں نمونہ ہوتے ہیں۔ اور جو بھی کام وہ کرتے ہیں، جس طریقے سے، تو امت کے لیے بہترین راستہ وہی ہوتا ہے کہ اس طریقے سے اس کام کو کریں۔

تو اگر دیکھا جائے تو آپ ﷺ کی جو دعائیں ہیں مختلف اوقات کی، بہترین... بہترین الفاظ کے ساتھ، ہر موقع کی دعا میں اگر دیکھا جائے تو ایسے بہترین الفاظ ہم سوچ بھی نہیں سکتے۔ اب دیکھیں، ہم بھی گھر سے نکلا کرتے ہیں۔ کبھی سوچا ہے ان الفاظ کو؟ کبھی خیال بھی آیا ہے؟ کبھی اس طرف ذہن گیا ہے؟ نہیں گیا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر چیز میں ہمیں رہنمائی حاصل ہے۔

اگر ہم ان احادیث شریفہ کی جو مسنون دعائیں ہیں، اگر یاد کر لیں اور اس موقع پر ان دعاؤں کو کر لیا کریں، تو بہترین الفاظ سے اللہ تعالیٰ کی مدد ہم حاصل کریں گے۔ اور ظاہر ہے جس وقت میں جو خیر ہوگا، وہ ہمیں انشاءاللہ حاصل ہوگا اور جو شر ہوگا، اس شر سے حفاظت ہوگی۔ اب دیکھیں یہاں کے الفاظ دیکھیں: "اللہ کے نام کے ساتھ نکلا ہوں، اللہ پر بھروسہ ہے۔ اے اللہ میں تیری اس سے پناہ چاہتا ہوں کہ گمراہ ہو جاؤں"۔ اب گمراہی سے ڈر ہوتا ہے، باہر جب جاتا ہے تو کچھ بھی ہو سکتا ہے نا مطلب، بازار ہوتا ہے، signboards ہوتے ہیں، غیر محرم آتے ہیں اور بہت ساری چیزیں ہوتی ہیں تو انسان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ تو فرمایا کہ "گمراہ ہو جاؤں یا گمراہ کیا جاؤں" یعنی یہ بھی ممکن ہے کہ میں خود تو گمراہ نہ ہونا چاہوں لیکن کوئی propaganda کے ذریعے سے، کوئی اور طریقے سے مجھے گمراہ کر دے۔ "یا پھسل جاؤں یا پھسلایا جاؤں"، یعنی حق کے راستے سے ہٹ جاؤں یا کسی طریقے سے ہٹا دیا جاؤں۔ "یا ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے"۔

اب دیکھیں، گاڑی ہے نا گاڑی، ہم چلاتے ہیں نا۔ اب گاڑی کسی ایسی جگہ کھڑی کرنا جہاں دوسرے لوگوں کو تکلیف ہو، تو ان پر ظلم ہے۔ اور میرے گھر کے سامنے کوئی گاڑی کھڑی کر دے اور مجھے باہر نکلنا ہو تو یہ مجھ پر ظلم ہے۔ یہ میں نے ایک مثال دی۔ میں گھر سے باہر جاؤں اپنا شاپر جس میں گند ہے گھر کا، وہ میں کسی کے گھر کے سامنے ڈال دوں، یا میرے گھر کے سامنے کوئی گند ڈال دے۔ تو آپ ﷺ نے پناہ مانگی ہے کہ میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے۔

"یا میں کسی پر جہالت کروں یا مجھ سے جہالت کی جائے"۔ جہالت کیا بات ہے دیکھیں، اکثر جو accident ہوتے ہیں نا، اس میں جو غلطی پر ہوتا ہے وہ زیادہ چیختا ہے۔ ہاں جی؟ تو یہ جہالت نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ اب اگر مجھ سے accident ہو جائے اور میں اس پر جہالت کا مظاہرہ کر لوں، یا کوئی اور میرے ساتھ اس طرح کر لے، دونوں... نقصان کی بات ہے، تکلیف کی بات ہے، مصیبت کی بات ہے۔ تو اس وجہ سے آپ ﷺ نے ہر قسم کے جو نقصان ہیں باہر جانے سے جو ہو سکتا ہے، وہ سارے کا سارا ان الفاظ کے اندر سمو لیا ہے۔

تو ہم بھی جیسے کھانا کھانے کی دعائیں ہیں، سونے کی دعائیں ہیں، یا باہر جانے کی دعائیں ہیں، کپڑے بدلنے کی دعائیں ہیں، بیت الخلاء جانے کی دعائیں ہیں، اس سے باہر آنے کی دعائیں ہیں، کسی سے ملنے کی دعائیں ہیں، یہ ساری کی ساری دعائیں اللہ کرے کہ ہمیں یاد ہوں۔ اور اس کے مفہوم کے ساتھ۔ مفہوم یاد ہو تو پھر اور بہت زیادہ اچھا ہوتا ہے۔

میں نے دیکھا کہ عرب حضرات کے اندر یہ چیز ماشاءاللہ موجود ہے کہ ان کو وقت کے لحاظ سے جو مسنون دعائیں ہیں، اکثر یاد ہوتی ہیں۔ اور جب بھی وہ کام کرتے ہیں، مثلاً کسی کو رخصت کرتے ہیں تو مسنون دعا، کسی کو welcome کرتے ہیں تو مسنون دعا، ہاں جی کھانا کھاتے ہیں تو مسنون دعا، اٹھتے ہیں تو... مطلب یہ کہ ہر چیز میں ہم دیکھتے ہیں کہ ماشاءاللہ وہ مسنون دعاؤں کے ساتھ، الحمدللہ اللہ پاک سے مانگا کرتے ہیں۔ تو یہ ایسی چیز ہے جو کہ ہمارے لیے قابل تقلید ہے اور ہمیں بھی اس طرح کرنا چاہیے۔ جہاں بھی انسان جائے تو جو بہتر بات وہاں پر ہو، اس کو لے لیا کرے۔ ﴿الْحِكْمَةُ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ﴾، اور جو غلط بات ہے وہاں کی، اس سے آدمی بچائے اپنے آپ کو۔

اب ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہے؟ عرب ممالک میں جو لوگ جاتے ہیں، تو وہاں یہ بڑی اچھی عادت ہے کہ مسجد میں جاتے ہیں تو جاتے ہی دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھتے ہیں اور بیٹھ جاتے ہیں، دنیا کی باتیں نہیں کرتے، آرام سے قرآن پاک کی تلاوت شروع کرتے ہیں۔ نماز جب کھڑی ہو جاتی ہے تو نماز میں شامل ہو جاتے ہیں۔ جب نماز پوری ہو جاتی ہے تو پھر چلے جاتے ہیں، باہر چلے جاتے ہیں۔ مطلب ان کا ایک بالکل ایک routine ہے، مطلب اس میں کوئی ایسی بات نہیں کہ ان کے لیے ایک انوکھی بات ہو۔ تو یہ ایک اچھی عادت ہے جو ہمیں ان سے لینی چاہیے۔ لیکن یہ ہمارے پاکستانی بھائی جو ادھر سے آتے ہیں، یہ عادت ان میں نہیں ہوتی۔ کم دیکھا جاتا ہے۔ وہ جو عادت ان کا جیسے بغیر ٹوپی کے نماز پڑھنا، ان کے مسلک میں جائز ہے۔ ہمارے مسلک میں تو نہیں ہے، ہمارے مسلک میں تو ادب... مطلب ظاہر ہے ٹوپی پہننا چاہیے یا جو بھی مطلب یعنی طریقہ کار ہے بزرگوں کا بہترین، اس کو استعمال کرنا چاہیے۔ یا پھر یہ ہے کہ اور مطلب جو ہمارے اس قسم کی جو ان کی سخت باتیں ہیں، ہاں، وہ ہم لیتے ہیں۔ ہاں جی، غلط بات ہے۔

مثلاً ان کا ثوب لے لیں گے، وہ ثوب کوئی مسنون لباس تو نہیں ہے، یہ تو صرف ان کا ایک culture ہے، معاشرتی culture ہے جس کا سنت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ ہاں جی، وہ کیوں لیتے ہیں؟ یا ان کا رومال سر پہ ڈال لیں گے، یہ بھی ان کا culture ہے، مطلب وہ کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ یہ کوئی مسنون طریقہ ہے۔ مسنون طریقہ تو ٹوپی ہے، عمامہ ہے، مطلب یہ اس قسم کا مطلب جو... عمامہ کی طرح کوئی رومال باندھے تو چلو کوئی بات نہیں، لیکن ان کی طرح وہ تکون بنا کر، یہ یہودیوں کا طریقہ ہے۔ انہوں نے یہودیوں سے لیا ہے۔ یہ ہمارا طریقہ نہیں ہے۔ ہم ان کا طریقہ کیوں لیتے ہیں؟

ایک دفعہ میں عرب حضرات کے ساتھ تھا جرمنی میں۔ تو اچانک میں نے کہا: "يَا إِخْوَانَ الْعَرَبِ، نَحْنُ نُحِبُّكُمْ" وہ متوجہ ہو گئے، ماشاءاللہ، ماشاءاللہ، ماشاءاللہ۔ پھر میں نے کہا کہ کیوں کیا، اللہ... آپ ﷺ نے فرمایا کہ: میں عرب ہوں، اور قرآن کی زبان عربی ہے اور... اور جو ہے نا مطلب ہے کہ اہل جنت کی زبان عربی ہوگی۔ بہت خوش ہو گئے، ماشاءاللہ، ماشاءاللہ۔ لیکن میں نے کہا ایک طرف اگر آپ ﷺ ہوں گے اور دوسری طرف تم ہو گے، تو میں آپ ﷺ کے ساتھ ہوں گا، تمہارے ساتھ نہیں ہوں گا۔ وہ حیران ہو گئے، کہتے ہیں: "كَيْفَ هَذَا مُمْكِنٌ يَا شَيْخُ؟ كَيْفَ هَذَا مُمْكِنٌ؟ أَنَا نَلْبَسُ مَا كَانَ يَلْبَسُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"۔ میں نے کہا یہ مجھے بتاؤ مسنون لباس یہ آپ لوگوں نے پہنا ہوا ہے یا یہ ثوب مسنون لباس ہے؟ ہاں جی؟ میں تو آپ لوگوں کے طریقے پہ نہیں جاؤں گا، میں تو مسنون لباس اختیار کروں گا۔ انہوں نے کہا "يَا شَيْخُ، جَزَاكَ اللَّهُ"، آپ ہمارے ساتھ ایسی باتیں کر لیا کریں، ہمیں اسی سے خوشی ہے، ہمیں اس سے فائدہ ہے۔ ان میں یہ بات ہے کہ حق بات اگر ان کو پہنچے نا، فوراً لیتے ہیں۔ یعنی یہ بات نہیں کہ وہ آپ کے ساتھ لڑیں گے یا مطلب آپ کے ساتھ بحث کریں گے، الجھیں گے۔ نہیں، قرآن و سنت کے مطابق کوئی بات ہوگی، وہ فوراً مانیں گے۔ اور "عِنْدَكَ حَقٌّ يَا شَيْخُ" بالکل صاف فرما دیں گے۔ تو یہ بات ماشاءاللہ ان کو بڑی خوشی ہوئی اور کہنے لگے کہ آپ بالکل صحیح کہتے ہیں۔

تو مقصد یہ ہے کہ ہم لوگوں کو آپ ﷺ کا طریقہ لینا ہے۔ جہاں سے بھی مل جائے۔ چاہے امریکہ والوں سے مل جائے، چاہے روس والوں سے مل جائے، چاہے سعودی عرب والوں سے مل جائے، چاہے ہندوستان والوں سے مل جائے۔ لیکن ہو حضور ﷺ کا طریقہ۔ اور اگر ہم سعودی عرب والوں سے کوئی جہالت کا طریقہ لے لیں، غلط۔ پاکستان والوں سے جہالت کا طریقہ لے لیں، غلط۔ ہندوستان والوں سے جہالت کا طریقہ لے لیں، غلط۔ کسی سے بھی جہالت کا طریقہ لیں، تو غلط ہے۔ بس اسی پہ اگر ہم چلیں گے، انشاءاللہ ہم کامیاب ہوں گے۔ اللہ ہمیں نصیب فرما دے۔