ظاہری اسباب اور توکل: اسلامی نقطہ نظر اور صحابہؓ کا طرزِ عمل

درس نمبر 103، جلد نمبر 1، باب 7 : یقین اور توکل کا بیان

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • قرآنی آیت ﴿حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ﴾ کا شانِ نزول اور پس منظر۔
    • غزوہ بدر صغریٰ اور حمراء الاسد میں صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کا توکل۔
      • اللہ کی طرف سے توکل کرنے والوں کے لیے تین عظیم انعامات (دشمن پر رعب، مالی فضل، اور اللہ کی رضا)۔
        • ظاہری اسباب کو اختیار کرنے اور ان پر بھروسہ نہ کرنے کے درمیان فرق۔
          • کامیابی کا تین نکاتی طریقہ: اللہ پر نظر، اسباب کا استعمال، اور دعا۔

            مسلمانوں کے لیے اللہ ہی کافی ہے۔

            وَقَالَ اللّٰهُ تَعَالٰی: ﴿الَّذِيْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيْمَانًا وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ ۝ فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضْلٍ لَّمْ يَمْسَسْهُمْ سُوْءٌ وَّاتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ ۗ وَاللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِيْمٍ﴾

            جب ان سے... لوگوں نے آکر بیان کیا کہ کفار نے تمہارے مقابلے کے لیے لشکرِ کثیر جمع کیا ہے، تو ان سے ڈرو۔ تو ان کا ایمان اور زیادہ ہو گیا، اور کہنے لگے کہ ہم کو خدا کافی ہے، اور وہ بہت اچھا کارساز ہے۔ پھر وہ خدا کی نعمت اور اس کے فضل کے ساتھ خوش و خرم واپس آئے، تو ان کو کسی قسم کا ضرر نہ پہنچا، اور وہ خدا کی خوشنودی کے تابع رہے، اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے۔

            تو یہاں پر فرماتے ہیں کہ یعنی اس آیت کے بارے میں مجاہد رحمۃ اللہ علیہ، عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ، مقاتل رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک منائی بن مسعود اشجعی، یہ جو ابو سفیان اور اس کے مشرک ساتھیوں کی خبر لے کر مدینہ میں اس وقت گئے جب آپ ﷺ غزوہ بدر صغریٰ کی تیاری میں مصروف تھے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں "الناس" سے مراد عبدالقیس کے وہ شتر سوار ہیں جو ابو سفیان کی طرف سے اس وقت خدمت میں آئے جب آپ ﷺ حمراء الاسد میں تھے۔

            تو یہاں پر یہ ہے کہ جو ﴿إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ﴾ اس سے مراد ابو سفیان اور اس کے ساتھی ہیں۔ اور پھر یہاں پر فرماتے ہیں ﴿قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ﴾ اس موقع پر مسلمانوں نے کہا کہ خدا کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے۔ اس سفر میں صحابہ رضوان اللہ اجمعین تمام راستہ اس کا ورد کرتے رہے۔ اللہ کے کافی ہونے سے مراد یہ نہیں کہ آدمی اسبابِ دنیا چھوڑ دے۔ اسبابِ ظاہری، یہ بھی اللہ کا انعام ہے۔ اس کی ناشکری نہیں کرنی چاہیے، بلکہ ان اسبابِ ظاہری پر اعتماد نہ کرے کہ اس سے ہوگا، بلکہ اعتماد اللہ کی ذات پر کرے کہ جو کچھ بھی ہوگا وہ ایک اللہ ہی... وہ ایک اللہ ہی کرے گا۔

            ﴿فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ﴾ اس آیت میں ﴿حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ﴾ کہنے کے فوائد اور ثمرات اور برکات کا بیان ہے کہ اس کے بدلے میں اللہ پاک نے تین انعامات دے دیے۔

            نمبر ایک: کافروں کے دل میں رعب ڈال دیا اور وہ بھاگ گئے۔ نمبر دو: ان صحابہ رضوان اللہ اجمعین کو حمراء الاسد کے بازار میں تجارت کا موقع ملا جس سے منافع بھی حاصل ہوئے، اس کو لفظِ 'فضل' سے تعبیر کیا گیا۔ اور جو یقینی انعام ہے وہ یہ کہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کو رضامندی نصیب ہوئی، ہاں، تو وہ جو ہے نا، مطلب ہے ﴿وَاتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ﴾ سے تعبیر کیا گیا ہے۔

            تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں ہر حال میں سب سے پہلے نظر کس پر رکھنی چاہیے؟ اللہ پر۔ پھر اس کے بعد اسباب اختیار کرنے چاہئیں۔ اسباب اختیار نہ کرنا، یہ سنتِ الٰہی سے، وہ جو ہے نا... وہ دور کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو اللہ پاک نے جو اسباب دیے ہیں، ان کو اختیار کرے۔ مثلاً کوئی آدمی کہے گا کہ میں آنکھ سے نہیں سننا چاہتا، میں... نہ، میں کان سے نہیں سننا، میں آنکھ سے سننا چاہتا ہوں۔ تو کیا کرے گا؟ ہاں ظاہر ہے فضول بات ہوگی۔

            تو اللہ پاک نے سننے کے لیے کون سا سبب بنایا ہے؟ کان بنایا ہے۔ تو کان سے سنے گا۔ کسی کی طرف بات سنے گا تو کیا کرے گا، آنکھ کرے گا یا کان کرے گا؟ کان کرے گا۔

            تو اب یہ بات ہے، یہ ظاہری اسباب قطعی ہیں۔ لہٰذا... لہٰذا اس کا انکار تو بہت دور لے جاتا ہے۔ بعض اسباب ایسے ہوتے ہیں جو کہ فوری طور پہ، وقتی طور پہ ضرورت پڑتی ہے۔ تو ایسی صورت میں جتنا انسان سوچ سکتا ہے بہتر، اس کے مطابق وہ اسباب اختیار کرے۔ لیکن اللہ پاک سے نظر ہٹا کر نہیں، بلکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف نظر کر کے کہ اللہ پاک ہی مجھے فائدہ پہنچائے گا۔ ﴿حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ﴾، ﴿نِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِيْرُ﴾ میں مطلب یہی ہے کہ اللہ پاک ہمارے لیے کافی ہے۔

            ہمیں جو اسباب اللہ نے دیے ہیں وہ کافی ہیں۔ ہم جو ہے نا، مطلب ہے کہ اوروں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے۔ بلکہ ہم اللہ کے دیے ہوئے اسباب کے اوپر، مطلب جو ہے نا وہ... یعنی وہ... یعنی وہ عمل کر کے، وہ جو ہے نا، اس کے مطابق کام کریں گے۔ اصل میں تو اللہ ہی کافی ہے۔ اصل میں تو اللہ ہی کافی ہے۔ وہ انہی اسباب کے ذریعے سے ہمیں کامیابی عطا فرما دے گا۔

            تو بس یہی بات طریقہ کار ہے کہ سب سے پہلے اللہ پہ نظر، پھر اس کے بعد اسباب کا اختیار کرنا، پھر اس کے لیے دعا کرنا۔ تین باتیں ہو گئیں۔ ٹھیک ہے نا؟ اللہ تعالیٰ ہم سب سے راضی ہو جائے۔ ﴿سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ ۝ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِيْنَ ۝ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ﴾ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ۔


            تجزیہ اور خلاصہ:

            بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)

            سب سے جامع اور بہترین عنوان: توکل علی اللہ اور اسباب کا صحیح استعمال (حسبنا اللہ ونعم الوکیل کی تفسیر)

            متبادل عنوان: ظاہری اسباب اور توکل: اسلامی نقطہ نظر اور صحابہؓ کا طرزِ عمل

            اہم موضوعات:

            قرآنی آیت ﴿حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ﴾ کا شانِ نزول اور پس منظر۔

            غزوہ بدر صغریٰ اور حمراء الاسد میں صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کا توکل۔

            اللہ کی طرف سے توکل کرنے والوں کے لیے تین عظیم انعامات (دشمن پر رعب، مالی فضل، اور اللہ کی رضا)۔

            ظاہری اسباب کو اختیار کرنے اور ان پر بھروسہ نہ کرنے کے درمیان فرق۔

            کامیابی کا تین نکاتی طریقہ: اللہ پر نظر، اسباب کا استعمال، اور دعا۔

            خلاصہ: اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے سورہ آل عمران کی آیات کی روشنی میں "توکل" اور "اسباب" کے درمیان توازن کو انتہائی خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے واضح کیا کہ جب صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے مشکل حالات میں ﴿حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ﴾ کا ورد کیا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دشمن پر رعب، تجارتی منافع اور اپنی ابدی رضا جیسے عظیم انعامات سے نوازا۔ آپ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسباب کو ترک کرنا سنتِ الٰہی کے خلاف ہے؛ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اللہ کے عطا کردہ اسباب کو پوری طرح اختیار کرے، مگر اس کا دل اور بھروسہ صرف اور صرف اللہ کی ذات پر ہونا چاہیے۔ بیان کے آخر میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے کامیابی کا اصول بتاتے ہوئے فرمایا کہ پہلے اللہ پر نظر رکھیں، پھر اسباب اختیار کریں اور آخر میں اللہ سے دعا مانگیں۔

            ظاہری اسباب اور توکل: اسلامی نقطہ نظر اور صحابہؓ کا طرزِ عمل - درسِ ریاضُ الصالحین - پہلا دور