غزوہ بدر: اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد، قدرت اور حکمتیں
درس نمبر: 327، سورۃ الانفال ، آیات: 42 تا 44
- میدانِ بدر کا نقشہ اور جنگ کے لیے اللہ کی غیبی تدبیر
- حق اور باطل کو ہمیشہ کے لیے واضح کرنے کا الٰہی فیصلہ
- نبی کریم ﷺ کا مبارک خواب اور مسلمانوں کی ہمت افزائی
- میدانِ جنگ میں دشمنوں کا کم نظر آنا اور اللہ کے فیصلے کی تکمیل
الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، اَمَّا بَعْدُ۔
فَاَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيْمِ۔
اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ ۙ وَ لٰـكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ (42) اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًا ؕ وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (43) وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ (44)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: وہ وقت یاد کرو جب تم لوگ وادی کے قریب والے کنارے پر تھے، اور وہ لوگ دُور والے کنارے پر، اور قافلہ تم سے نیچے کی طرف۔
حاشیہ: یہ میدانِ جنگ کا نقشہ بتایا جا رہا ہے۔ ”بدر“ ایک وادی کا نام ہے، اُس کا وہ کنارہ جو مدینہ منورہ سے قریب تر ہے، اس پر مسلمانوں کا لشکر فروکش تھا، اور جو کنارہ مدینہ منورہ سے نسبۃً دُور ہے، اُس پر کفار کا لشکر تھا۔ اور قافلے سے مراد ابوسفیان کا قافلہ ہے جو اس وادی کے نیچے کی جانب ساحلِ سمندر کی طرف بچ کر نکل گیا تھا۔ تفصیل اس سورت کے شروع میں بیان ہوچکی ہے۔
ترجمہ: اور اگر تم پہلے سے (لڑائی کا) وقت آپس میں طے کرتے تو وقت طے کرنے میں تمہارے درمیان ضرور اختلاف ہوجاتا، لیکن یہ واقعہ (کہ پہلے سے طے کئے بغیر لشکر ٹکرا گئے) اس لئے ہوا کہ جو کام ہوکر رہنا تھا، اللہ اُسے پورا کر دکھائے، تاکہ جسے برباد ہونا ہو، وہ واضح دلیل دیکھ کر برباد ہو، اور جسے زندہ رہنا ہو، وہ واضح دلیل دیکھ کر زندہ رہے،
حاشیہ: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسباب ایسے پیدا فرما دیئے کہ کفارِ مکہ سے باقاعدہ جنگ ٹھن گئی، ورنہ اگر دونوں فریق پہلے سے جنگ کے لئے کوئی وقت طے کرنا چاہتے تو اختلاف ہو جاتا، مسلمان چونکہ بے سرو سامان تھے، اس لئے باقاعدہ جنگ سے کتراتے، اور مشرکین کے دلوں پر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت تھی، اس لئے وہ بھی خواہش کے باوجود جنگ کو ٹلانا چاہتے۔ لیکن جب انہیں اپنا تجارتی قافلہ خطرے میں نظر آیا تو ان کے پاس جنگ کے سوا کوئی چارہ نہ رہا، اور مسلمانوں کے سامنے جب لشکر آ ہی گیا تو وہ بھی لڑنے پر مجبور ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ اسباب ہم نے اس لئے پیدا کئے کہ ایک مرتبہ فیصلہ کن معرکہ ہوجائے، اور اللہ تعالیٰ کی عطا فرمائی ہوئی فتح و نصرت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کھل کر سامنے آ جائے۔ اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص کفر کر کے بربادی کا راستہ اختیار کرے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل کے واضح ہونے کے بعد اختیار کرے، اور جو شخص اسلام لا کر باعزت زندگی اختیار کرے، وہ بھی اس واضح دلیل کی روشنی میں کرے۔
یعنی اللہ پاک نے تکوینی طور پر وہ اسباب پیدا فرما دیے کہ جس کے ذریعے سے مقابلہ ہو ہی گیا۔ اور مقابلہ ہونے کی وجہ سے جو بے سر و سامانی کی کیفیت میں مسلمانوں کی حالت تھی، وہ سب کے اوپر کھلی ہوئی تھی۔ اس کے باوجود جب وہ جنگ یہ جیتے تو پتا چل گیا کہ اللہ کی مدد ان کے ساتھ ہے۔ اور کفار اپنے زور شور سے آئے ہوئے تھے، باقاعدہ پلاننگ کر کے۔ ان کو نقصان ہوا، ان کو بہت سخت ہزیمت کا سامنا ہوا۔ تو اب یہ کہ جو مسلمان ہو گا، وہ بھی جانتا ہو گا کہ یہ کیا ہوا۔ اور جو کافر ہیں، وہ بھی جان رہے ہوں گے کہ یہ کیا ہے، تباہ ہو رہے ہیں تو خود اس کی وجہ سے تباہ ہو رہے ہیں، اپنی شامتِ اعمال کی وجہ سے۔
ترجمہ: اور اللہ ہر بات سننے والا، ہر چیز جاننے والا ہے ﴿42﴾ اور (اے پیغمبر!) وہ وقت یاد کرو جب اللہ خواب میں تمہیں اُن (دشمنوں) کی تعداد کم دکھا رہا تھا،
یعنی اللہ جل شانہ نے تکوینی طور پر ایسی صورت پیدا کی کہ خواب میں۔ وہ دشمن کم تعداد میں نظر آ رہے تھے۔
حاشیہ: آپ نے وہ خواب صحابہ کرامؓ سے بیان فرمایا، جس سے ان کے حوصلے بلند ہوئے۔ امام رازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نبی کا خواب چونکہ واقعے کے خلاف نہیں ہوسکتا، اس لئے بظاہر آپ کو لشکر کا ایک حصہ دکھایا گیا تھا، آپ نے اسی حصے کے بارے میں لوگوں کو بتایا کہ وہ تھوڑے لوگ ہیں۔ اور بعض حضرات نے یہ بھی فرمایا ہے کہ خواب میں جو چیز دکھائی جاتی ہے، وہ عالمِ مثال سے تعلق رکھتی ہے، عین وہ چیز مراد نہیں ہوتی جو خواب میں نظر آ رہی ہو، اسی لئے خواب میں تعبیر کی ضرورت پڑتی ہے۔ لہٰذا خواب میں سارے لشکر کی تعداد اگرچہ واقعی کم دکھائی گئی، لیکن اس کی اصل تعبیر یہ تھی کہ یہ سارا لشکر بے حیثیت ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس تعبیر کا علم تھا، اور آپ نے یہ خواب صحابہؓ کے سامنے اس لئے بیان فرمایا تا کہ ان کے حوصلے بڑھ جائیں۔
بہرحال اس میں جو اصل بات ہے، وہ تو یہ ہے کہ اللہ پاک نے ایسا نظام بنا دیا کہ خواب میں کم دکھا دیا۔ تاکہ مسلمانوں کا حوصلہ بڑھے۔ تو یہ بات۔
ترجمہ: اور اگر تمہیں اُن کی تعداد زیادہ دکھا دیتا تو (اے مسلمانو!) تم ہمت ہار جاتے، اور تمہارے درمیان اس معاملے میں اختلاف پیدا ہو جاتا، لیکن اللہ نے (تمہیں اس سے) بچا لیا۔ یقیناً وہ سینوں میں چھپی باتیں خوب جانتا ہے ﴿43﴾ اور وہ وقت یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے مدمقابل آئے تھے تو اللہ تمہاری نگاہوں میں اُن کی تعداد کم دکھا رہا تھا، اور اُن کی نگاہوں میں تمہیں کم کر کے دکھا رہا تھا
حاشیہ: یہ اُس خواب کے علاوہ بیداری کا واقعہ ہے جو عین اُس وقت پیش آیا جب دونوں لشکر آمنے سامنے آ گئے۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر کچھ ایسی کیفیت طاری فرما دی کہ کفار کا وہ لشکرِ جرار ان کو بہت معمولی محسوس ہوا۔
اور دوسری طرف جو کفار تھے۔ ان کو بھی کم، مطلب، تعداد مطلب، نظر آ رہے تھے تو وہ ظاہر ہے، ورنہ بھاگ جاتے۔ تو ان کو مروانا تھا۔
ترجمہ: تا کہ جو کام ہو کر رہنا تھا، اللہ اُسے پورا کر دکھائے۔ اور تمام معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں ﴿44﴾
اللہ جل شانہ ہم سب کو اللہ پاک کی یہ تمام حکمتوں کو سمجھنے کی اور جو اللہ پاک سمجھانا چاہتا ہے، اور اس کے مطابق کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّتِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔