غارِ ثور کا واقعہ: رسول اللہ ﷺ کا توکل اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مقام
درس نمبر 120، جلد نمبر 1، باب 7 : یقین اور توکل کا بیان
- ہجرتِ مدینہ اور غارِ ثور کے واقعات
- حضرت ابوبکر صدیق رضي الله عنه اور ان کے اہل خانہ کا تعارف
- رسول اللہ ﷺ کا اللہ کی ذات پر کامل توکل اور بے خوفی
- مکڑی کے جالے اور جنگلی کبوتر کے انڈوں کے ذریعے اللہ کی غیبی مدد
- غارِ ثور کے حوالے سے قرآنی آیات کا نزول
- حضرت حسان بن ثابت رضي الله عنه کے نعتیہ و منقبی اشعار
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ۔ أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔
الْحَدِيثُ الثَّامِنُ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَامِرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ كَعْبِ بْنِ سَعْدِ بْنِ تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ بْنِ كَعْبِ بْنِ لُؤَيِّ بْنِ غَالِبٍ الْقُرَشِيِّ التَّيْمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، وَهُوَ وَأَبُوهُ وَأُمُّهُ صَحَابَةٌ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ، قَالَ: نَظَرْتُ إِلَى أَقْدَامِ الْمُشْرِكِينَ وَنَحْنُ فِي الْغَارِ وَهُمْ عَلَى رُؤُوسِنَا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ نَظَرَ تَحْتَ قَدَمَيْهِ لَأَبْصَرَنَا، فَقَالَ: مَا ظَنُّكَ يَا أَبَا بَكْرٍ بِاثْنَيْنِ اللَّهُ ثَالِثُهُمَا۔ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ۔
حضرت ابو ہریرہ... حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ عبداللہ بن عثمان بن عامر عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب القرشی التیمی سے روایت ہے، آپ اور آپ کے والد، والدہ سب صحابی ہیں۔ بیان کیا کہ جب ہم غار میں تھے، تو میں نے مشرکوں کے پاؤں کو دیکھا کہ وہ ہمارے سروں پر چڑھ آئے تھے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! اگر ان میں سے کوئی انسان اپنے پاؤں کے نیچے دیکھ لے تو یقیناً ہمیں دیکھ پائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا، اے ابوبکر رضی اللہ عنہ! ان دونوں انسانوں کے بارے میں تیرا کیا گمان ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہے۔
کیونکہ اللہ پاک نے قرآن پاک میں فرمایا تھا نا کہ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا۔ مطلب یہ، تو چونکہ مطلب قرآن میں بھی ہے، تو آپ ﷺ نے بھی فرمایا کہ ان دو کے بارے میں کیا کہتے ہو، جن کا تیسرا اللہ ہے۔ تو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔
اس حدیث شریف میں جس واقعہ کو بیان کیا، اس کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ جب آپ ﷺ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرما رہے تھے۔ اس سے پہلے باقی مسلمان ہجرت کر چکے تھے۔ مشرکینِ مکہ نے آپ ﷺ کی گرفتاری پر سو اونٹوں کا انعام بھی مقرر کر دیا تھا۔ جس کے لالچ میں بہت سے لوگ آپ ﷺ کی تلاش میں سرگرداں تھے۔ حتیٰ کہ مشرکین اس غارِ ثور، جس میں آپ ﷺ، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پناہ لی ہوئی تھی، وہاں تک پہنچ گئے۔ مگر اللہ جل شانہ نے اپنی قدرت کا اظہار اس طرح فرمایا کہ ایک مکڑی کے ذریعے سے جال تنوا دیا، اور ایک جنگلی کبوتر کے ذریعے سے انڈے دلوا دیے۔ مشرکین نے جب اس منظر کو دیکھا تو انہوں نے کہا کہ پاؤں کے نشانات تو یہاں تک تو ملتے ہیں، اس کے آگے حتیٰ کہاں تشریف لے گئے... اگر اس غار میں جاتے تو یہ مکڑی کا جالا اور انڈے کیسے صحیح سالم رہ سکتے تھے۔
اندر سے مشرکین کے پاؤں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو نظر آ رہے تھے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو فکر ہوئی کہ کہیں ان کی نگاہ ہم پر نہ پڑ جائے۔ اس موقع پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ابوبکر، اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہیں۔ اس بات سے آپ ﷺ کی شجاعت اور بے خوفی اور اللہ کی ذات پر اعتماد اور توکل کا ثبوت ملتا ہے۔ اس حدیث کے واقعہ کو قرآن مجید نے بھی نقل کیا ہے۔
إِلَّا تَنْصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا ۖ فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وَأَيَّدَهُ بِجُنُودٍ لَمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَىٰ ۗ وَكَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا۔
جب کفار نے ان کو نکلنے پر مجبور کر دیا تھا، اس حالت میں کہ وہ نبی ﷺ صرف دو کا دوسرا تھا۔ جبکہ وہ اپنے رفیقِ سفر سے کہہ رہا تھا تم غم نہ کرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ تو اللہ نے ان پر اپنا خاص سکون اتارا اور فرشتوں کی فوج سے ان کی تائید فرمائی جو تم کو نظر نہیں آ رہی تھی۔ کافروں کی بات نیچی کر دی اور اللہ کی بات ہی اونچی رہتی ہے۔
اور ثَانِيَ اثْنَيْنِ... جب اس واقعہ پر حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اشعار کہتے ہیں:
وَثَانِيَ اثْنَيْنِ فِي الْغَارِ الْمُنِيفِ وَقَدْ طَافَ الْعَدُوُّ بِهِ إِذْ صَاعَدَ الْجَبَلَا وَكَانَ حِبَّ رَسُولِ اللَّهِ قَدْ عَلِمُوا مِنَ الْخَلَائِقِ لَمْ يَعْدِلْ بِهِ رَجُلَا
ان اشعار کو سن کر آپ ﷺ مسکرائے۔
صَحِيحُ الْبُخَارِيِّ، كِتَابُ التَّفْسِيرِ، بَابُ قَوْلِهِ: ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ۔ كِتَابُ فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، بَابُ مَنَاقِبِ الْمُهَاجِرِينَ وَفَضْلِهِمْ۔ وَصَحِيحُ مُسْلِمٍ، كِتَابُ فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ، بَابُ مِنْ فَضْلِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ۔ وَأَخْرَجَهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ فِي مُسْنَدِهِ، وَمُصَنَّفُ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَالْبَزَّارُ، وَابْنُ حِبَّانَ۔
اَللَّهُ جَلَّ شَأْنُهُ ہم سب کو صحابہ کرام، آپ ﷺ کے ساتھ اور صحابہ کرام کے ساتھ محبت نصیب فرمائے۔ اور ان کے فیوض و برکات سے ہم کو مکمل، وافر حصہ نصیب فرمائے۔ اور مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي پر عمل کرنے کی پوری پوری توفیق عطا فرمائے۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔